نوجوان
نسل کی تباہی میں میڈیا کا کردار از بنت سکندر خاور، لطیف آباد نمبر 8 حیدرآباد
آج کے دور میں
میڈیا کا استعمال نوجوانوں کی زندگی کا اہم ترین حصہ بن گیا ہے جہاں میڈیا کے بہت
سے فائدے ہیں وہی سوشل میڈیا کے بے جا اور کثرت سے استعمال کے سبب نوجوان نسل
انتہائی تيزی سے تباہی کی طرف جا رہی ہے۔ ریسرچ کے مطابق آج میڈیا کے ضرورت سے
زیادہ استعمال کی وجہ سے دنیا کی مینٹل ہیلتھ بہت بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ بغیر
کسی مقصد کے سوشل میڈیا کا استعمال جسمانی اور نفسیاتی صحت کے لیے بہت نقصان دہ ہے۔
سب سے اہم چیز
وقت کا ضیاع ہے۔ نوجوان نسل گھنٹوں سوشل میڈیا پر ویڈیوز دیکھنے، چیٹنگ کرنے اور
فضول سرگرمیوں میں وقت کو ضائع کر رہے ہوتے ہیں۔ نوجوان نسل کی تمام تر صلاحیتوں
اور قابلیتوں کو زنگ لگتا محسوس ہوتا ہے دماغی صحت بری طرح متاثر ہو رہی ہے فوکس
ختم ہوتا جا رہا ہے حافظے انتہائی کمزور ہو رہے ہیں سوچیں محدود ہوگئی ہیں۔ سوشل
میڈیا کے استعمال سے تعلیم معیار، عبادات، فرائض و واجبات اور زندگی کے اہم ترین
کام اور معاملات بُری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔
حدیثِ نبوی ہے:
دو نعمتیں ایسی ہیں جن میں اکثر لوگ دھوکے میں ہیں: صحت اور فارغ وقت۔ (بخاری،
4/222، حدیث: 6412)
سوشل میڈیا پر
غیر اخلاقی مواد فحاشی اور بے حیائی عام ہے جو نوجوان نسل کے کردار شخصیت سوچ اور
ارادوں کو خراب تر خراب کر رہی ہے جس کی بدولت نوجوان نسل میں شرم و حیاء، تمیز و
تہذیب، اخلاقیات، احساس سب ختم ہوتا جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر دیکھا دیکھی نوجوان
نسل ہر غلط اور صحیح کا فرق کیے بغیر ہر چیز فالو کر رہی ہے والدین گھر والوں کی
اہمیت و محبت ختم ہوتی جا رہی ہے رشتے محض موبائل فون تک ہی رہ گئے ہیں نوجوان نسل
طرح طرح کے گناہوں میں مبتلا نظر آتی ہے حرام و حلال میں کوئی فرق نہیں پڑتا
نوجوان نسل اپنا قیمتی وقت پیسہ اور صحت سب کچھ سوشل میڈیا کے ذریعے اپنے ہی
ہاتھوں تباہ و برباد کر رہی ہے۔
دوسروں کی
زندگیوں سے متاثر ہو کر احساسِ محرومی کا شکار ہو رہی ہے۔ سوشل میڈیا کی اس دوڑ نے
نوجوان نسل کو ذہنی دباؤ میں مبتلا کر دیا ہے۔ سوشل میڈیا کے سبب دینی فرائض میں
غفلت و کوتاہی کی نوبت تو یہ آ گئی ہے کہ ایمان و عقیدے میں بھی خرابی پیدا ہو رہی
ہیں۔
اس کے ذریعے
جھوٹ اور دکھاوے میں مبتلا ہو رہے ہیں زندگی کا معیار صرف پستیوں کی طرف جا رہا ہے۔
سوشل میڈیا کے ذریعے غیر ضروری دوستیاں اور ناجائز تعلقات کو مزید فروغ مل رہا ہے
جو نوجوان نسل کو گناہوں کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ یاد رہے قیا مت کے دن ہر انسان کو
اپنے ہر عمل کا جواب دینا ہوگا۔
لہٰذا سوشل
میڈیا کے استعمال سے بچا جائے اچھے کاموں مفید معلومات کے لیے استعمال کیا جائے۔
غیر ضروری استعمال سے بچتے ہوئے اِس کا عادی نہ بنا جائے۔
اللہ کریم سب
کو فتنوں سے محفوظ فرمائے اور دونوں جہان کی بھلائی نصیب فرمائے۔ آمین
نوجوان
نسل کی تباہی میں میڈیا کا کردار از بنت ڈاکٹر محمد شہباز عطاری،فیصل آباد پنجاب
اللہ پاک نے
انسان کو عقل و شعور عطا فرمایا اور زندگی گزارنے کے لیے پاکیزہ اصول بھی عطا
فرمائے۔ نوجوان کسی بھی قوم کا قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں۔ اگر نوجوان نیک، باعمل اور
باکردار ہوں تو قوم ترقی کرتی ہے، لیکن اگر نوجوان بگڑ جائیں تو معاشرہ تباہی کی
طرف چلا جاتا ہے۔ آج کے دور میں نوجوان نسل کی تباہی کے اسباب میں ایک بڑا سبب غیر
محتاط میڈیا بھی ہے۔
میڈیا بذاتِ
خود ایک ذریعہ ہے، اگر اسے اچھے کاموں میں استعمال کیا جائے تو فائدہ مند ہے، لیکن
جب یہی میڈیا بے حیائی، فحاشی، جھوٹ، فضولیات اور گناہوں کے فروغ کا سبب بن جائے
تو یہ نوجوان نسل کے لیے زہرِ قاتل بن جاتا ہے۔ ٹی وی ڈرامے، فحش فلمیں، بے مقصد
ویڈیوز، گانے باجے، سوشل میڈیا پر ناجائز دوستیاں اور وقت ضائع کرنے والی مصروفیات
نوجوانوں کے ایمان، اخلاق اور کردار کو نقصان پہنچاتی ہیں۔
اللہ تعالیٰ
قرآنِ پاک میں ارشاد فرماتا ہے: قُلْ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ یَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِهِمْ
وَ یَحْفَظُوْا فُرُوْجَهُمْؕ- (پ18،
النور:30) ترجمہ: مسلمان مردوں سے کہو اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں اور اپنی
شرمگاہوں کی حفاظت کریں۔
اس آیتِ
مبارکہ سے معلوم ہوا کہ اسلام نگاہوں کی حفاظت اور پاکدامنی کا درس دیتا ہے، جبکہ سوشل
میڈیا اس کے برعکس راستہ دکھاتا ہے۔
آج بہت سے
نوجوان راتوں رات موبائل استعمال کرتے رہتے ہیں، نمازیں قضا ہو جاتی ہیں، والدین
سے بدتمیزی کرتے ہیں، پڑھائی میں کمزور ہو جاتے ہیں اور ذہنی پریشانیوں میں مبتلا
رہتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر دوسروں کی جھوٹی چمک دمک دیکھ کر احساسِ کمتری بھی پیدا
ہوتا ہے۔
امیرِ اہلِ
سنت دامت برکاتہم العالیہ فرماتے ہیں: فضول موبائل استعمال، وقت کی بربادی اور
گناہوں کے دروازے کھول دیتا ہے، لہٰذا موبائل کو نیکی کے کاموں میں استعمال کیجئے۔
میڈیا اگر
دعوتِ اسلام، علمِ دین، اچھی تربیت، اسلامی بیانات اور مفید معلومات کے لیے
استعمال ہو تو رحمت بن سکتا ہے۔ دعوتِ اسلامی نے بھی مختلف ذرائع ابلاغ کے ذریعے
لاکھوں مسلمانوں تک سنتوں بھرا پیغام پہنچایا ہے۔
لہٰذا
نوجوانوں کو چاہیے کہ میڈیا کا استعمال محدود اور محتاط انداز میں کریں، گناہوں
والے چینلز، صفحات اور ویڈیوز سے بچیں، نماز کی پابندی کریں، اچھے دوست اختیار
کریں اور دعوتِ اسلامی کے دینی ماحول سے وابستہ رہیں۔
اللہ پاک
ہماری نوجوان نسل کو بے راہ روی سے بچائے، نیکی کی راہ پر چلائے اور میڈیا کو خیر
کے کاموں کے لیے استعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
نوجوان
نسل کی تباہی میں میڈیا کا کردار از بنت اجمل عطاریہ، جامعۃ المدینہ چاچڑاں
میری پیاری
پیاری اسلامی بہنو! آج مجھے سوشل میڈیا کے حوالے سے بات کرنی ہے۔
آج کا دور
میڈیا کا دور کہلاتا ہے۔ میڈیا ہماری زندگی کا ایک لازمی حصہ بن چکا ہے، جس کے
بغیر زندگی کا تصور بھی مشکل ہے۔ ٹیلی ویژن، انٹرنیٹ، سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع
ابلاغ نے دنیا کو ایک گلوبل گاؤں بنا دیا ہے۔ خاص طور پر نوجوان نسل میڈیا سے سب
سے زیادہ متاثر ہو رہی ہے۔ اگرچہ میڈیا علم و آگاہی کا ایک اہم ذریعہ ہے، لیکن اس
کے منفی اثرات بھی نمایاں ہیں جنھوں نے نوجوان نسل کی زندگی پر بڑا اثر کیا ہے
نوجوان نسل کو کس طرح سے کھوکھلا کردیا ہے۔میں اپنی بات سمجھانے کے لیے آپکو 100
سال پہلے کی تاریخ میں لے چلوں گی۔
اگر آج سے صرف
100سال پہلے چلے جائیں تو ہمیں یہ بات نہیں ملتی یا ملے گی تو بھی کم، کہ کسی نے
خود کشی کی ہو ڈپریشن کی وجہ سے، یا کسی نے بے روزگاری کی وجہ سے اپنی اولاد کو آگ
میں جھلسا دیا ہو، یا روزگار کے حصول میں اپنا ملک ترک کر کے بیرون ممالک سفر کیا
ہو مزدوری کرنے کے لیے،تو پھر آج ایسا کیوں ہورہا ہے۔ آج نوجوان نسل میں کیوں
ڈیپریشن ہے؟ آج نوجوان نسل کیوں عشق مجازی میں مبتلا ہوکر نشہ میں غرق ہورہی ہے؟ آج
کیوں نوجوان نسل خود کشی کرکے اپنی اور اپنے والدین کی زندگی کو تباہ کررہی ہے؟
ہم نے بزرگوں
سے یہ مقولہ کئی مرتبہ سنا ہوگا کہ ”پہلے ایک کماتا تھا پورا گھر کھاتا تھا“، جبکہ
آج پورے گھر کی کمائی سے کسی کا پیٹ ہی نہیں بھرتا۔
میری اسلامی
بہنو! اگر اس پر غور کیا جائے تو یہی بات سامنے آتی ہے کہ جب سے t.v
آیا سکون گیا،جب سے mobile آیا والدین کی قدر گئی، بے روزگاری آگئی،
مہنگائی آگئی، ذہنی تناؤ آگیا، خود کشی آگئی۔
اگر آپ سوال
کرو کہ وہ کیسے؟ تو سیدھی سی بات ہے کہ پہلے TikTok
نہیں تھا پر بڑوں ادب ضرور تھا۔ پہلے Facebook نہیں تھالیکن خواتین کے لیے چادروچاردیواری
کا تصور ضرور تھا۔ پہلے Whatsapp نہیں تھا لیکن مردوں سے بات
کرتے ہوئے عورتوں کو موت آجاتی تھی، اتنی سوچ پاکیزہ تھی۔ پہلے YouTube
نہیں تھا لیکن پردہ بہت تھا۔ آج ہر کوئی YouTube
پر فیملی ویڈیو اپلوڈ کررہا ہے تو کوئی ڈانس کرکے اپنے جسم کی نمائش کر رہا ہے،
فالوورز کے چکر میں اپنی عزت و ناموس کو کچھ اہمیت نہیں دے رہا۔ اچھا اس سے آگے
چلیں تو یہ بتائیں کہ یہ نعرہ پہلے تو ہمارے بزرگوں نے نہیں سنا تھا کہ ”میرا جسم
میری مرضی!“ اب کیوں اسلامی معاشرے میں یہ نعرہ سنائی دے رہا ہے؟ کس نے یہ سوچ
پیدا کردی ہے کہ عورتوں کو مردوں کے شانہ بشانہ کام کرنا چاہیے؟ کس نے یہ سوچ پیدا
کردی ہے کہ اسلام نے عورت کو گھر میں بند کر کے رکھ دیا ہے اسے باہر نکلنے کی
اجازت نہیں، اسے کاروبار کرنے کی اجازت نہیں، اسے بازار میں جانے کی اجازت نہیں! یہ
سوچ کس نے پیدا کی، اس کا صرف ایک ہی جواب ہے اور وہ ہے ”سوشل میڈیا“۔
اگر اسلامی
تعلیمات کا گہری و عمیق نظر سے مطالعہ کیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ اسلام
نے تو یہاں تک عورت کو عزت دی ہے کہ اگر کسی مرد سے بات بھی کرنی ہے تو کرخت لہجے
میں کرے تاکہ سامنے والا اپنے دل میں لالچ نہ رکھے۔
ایک مرتبہ آقا
کریم ﷺ اپنی دو بیویوں کے ساتھ تشریف فرما تھے کہ ایک نابینا صحابی رضی اللہ عنہ
آئے تو آقا کریم ﷺ نے اپنی بیویوں کو پردہ کرنے حکم دیا اور فرمایا کہ وہ نابینا
ہیں کیا تم بھی نابینا ہو۔
ایک صحابی گھر
واپس آرہے تھے کہ انہوں نے اپنی زوجہ کو گھر سے باہر دیکھا تو غصے میں تلوار نکال
لی پتا چلا کہ گھر میں سانپ گھس گیا تھا تو وہ صحابی اپنی عزت کی خاطر سانپ سے
لڑتے لڑتے شہید ہوگئے۔
یہ ہے اسلامی
تعلیمات کہ عورت کو اسلام نے عزت کتنی دی ہے۔ آج divorce
اتنی زیادہ کیوں ہو رہی ہیں۔ کیوں گھر میں ناچاقیاں ہیں۔کیوں ساس بہو کا جھگڑا
ٹھنا ہوا ہے۔کیوں old
house بنائے جارہے ہیں،کیوں نوجوان لڑکیاں بغیر
شادی کے بوڑھی ہوئی جارہی ہیں، کیوں آخر کیوں؟؟؟
یہ ساری تباہی
اسی موبائل کی اسی سوشل میڈیا کی ہی ہے کہ آج عورت کی کوئی عزت ہی نہیں کہ کسی
کمپنی کا اشتہار ہو تو اس میں عورت کی تصویر، شاپنگ مال ہو تو عورت کی تصاویر،عورت
کے بینرز،عورتوں کے پتلے! میرا عندیہ بس یہی ہے کہ سوشل میڈیا کو اگر صرف ضرورت کے
تحت ہی استعمال کیا جائے اور سچے دل سے اسلامی تعلیمات کو Follow
کیا جائے تو یہ یقین ہے کہ معاشرے میں وہی پرانی روح آجائے گی۔ کیونکہ جب ماں صبح
تلاوت قرآن کرنے والی ہوگی، نعتیں پڑھ کر اپنی اولاد کو سلانے والی ہوگی، پانچوں
وقت نماز کی پابند ہوگی، اپنے شوہر کی خدمت کرنے والی ہوگی،علم دین سے آراستہ ہوگی۔اپنے
ساس سسر کا ادب واحترام کرنے والی ہوگی،اپنے بچوں کی اچھی طرح تربیت کرنے والی
ہوگی،اپنے شوہر کو زیادہ خرچے میں اتار کر مال حرام کی طرف قدم بڑھانے سے روکنے
والی ہوگی تو آپ بتائیں کہ گھر کا ماحول پھر کیسا ہوگا۔ ساس بہو کا جھگڑا پھر کیوں
ہوگا۔ شوہر روزگار حاصل کرنے کے لیے وطن اور اولاد چھوڑ کر بیرون ممالک کیوں جائے
گا۔ عورت جب اپنے بوڑھے ساس سسر کی خدمت کو حصولِ جنت کا ذریعہ سمجھے گی تو پھر old
house کی ضرورت کیوں پیش آئے گی۔ گھریلو ناچاقیاں
پھر کیوں ہوں گی۔ جادو و جنات کا تصور پھر کس لیے ہوگا، جب گھر میں تلاوت ہوگی، جب
گھر میں اچھی اچھی باتیں ہونگی،جب گھر میں سنجیدگی ہوگی تو پھر اولاد بھی نیک بنے
گی بلکہ کئی نسلوں تک نیکی ہی نیکی کا سماں ہوگا۔
آئیے اب سوشل
میڈیا کے نوجوان نسل کی تباہی کے حوالے سے اجمالی خاکہ پوائنٹس کی صورت میں پڑھتے
ہیں۔
سوشل میڈیا کے
اثرات نوجوان نسل پر:1. ذہنی دباؤ 2. نیند کی کمی 3. وقت کا ضیاع 4. اخلاقی بگاڑ 5. تشدد اور جرائم کا رجحان 6. ثقافتی یلغار۔
یہ ایک دل کا
درد تھا جو میں نے پیش کیا۔خدا کرے کہ ہمارے معاشرے میں آقا کریم ﷺ کی پیاری پیاری
ازواج و اولاد کی سیرت پر عمل پیرا ہونے کا جذبہ پروان چڑھے۔ کاش ہم تمام ازواج
مطہرات و سیدہ خاتونِ جنت کے نقشِ قدم پر چلنے والیاں بن جائیں اور جنت کی تیاری
میں مشغول ہوجائیں۔
اللہ
کرم ایسا کرے تجھ پہ جہاں میں اے دعوت
اسلامی تیری دھوم مچی ہو
Dawateislami