میری پیاری پیاری اسلامی بہنو! آج مجھے سوشل میڈیا کے حوالے سے بات کرنی ہے۔

آج کا دور میڈیا کا دور کہلاتا ہے۔ میڈیا ہماری زندگی کا ایک لازمی حصہ بن چکا ہے، جس کے بغیر زندگی کا تصور بھی مشکل ہے۔ ٹیلی ویژن، انٹرنیٹ، سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع ابلاغ نے دنیا کو ایک گلوبل گاؤں بنا دیا ہے۔ خاص طور پر نوجوان نسل میڈیا سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہی ہے۔ اگرچہ میڈیا علم و آگاہی کا ایک اہم ذریعہ ہے، لیکن اس کے منفی اثرات بھی نمایاں ہیں جنھوں نے نوجوان نسل کی زندگی پر بڑا اثر کیا ہے نوجوان نسل کو کس طرح سے کھوکھلا کردیا ہے۔میں اپنی بات سمجھانے کے لیے آپکو 100 سال پہلے کی تاریخ میں لے چلوں گی۔

اگر آج سے صرف 100سال پہلے چلے جائیں تو ہمیں یہ بات نہیں ملتی یا ملے گی تو بھی کم، کہ کسی نے خود کشی کی ہو ڈپریشن کی وجہ سے، یا کسی نے بے روزگاری کی وجہ سے اپنی اولاد کو آگ میں جھلسا دیا ہو، یا روزگار کے حصول میں اپنا ملک ترک کر کے بیرون ممالک سفر کیا ہو مزدوری کرنے کے لیے،تو پھر آج ایسا کیوں ہورہا ہے۔ آج نوجوان نسل میں کیوں ڈیپریشن ہے؟ آج نوجوان نسل کیوں عشق مجازی میں مبتلا ہوکر نشہ میں غرق ہورہی ہے؟ آج کیوں نوجوان نسل خود کشی کرکے اپنی اور اپنے والدین کی زندگی کو تباہ کررہی ہے؟

ہم نے بزرگوں سے یہ مقولہ کئی مرتبہ سنا ہوگا کہ ”پہلے ایک کماتا تھا پورا گھر کھاتا تھا“، جبکہ آج پورے گھر کی کمائی سے کسی کا پیٹ ہی نہیں بھرتا۔

میری اسلامی بہنو! اگر اس پر غور کیا جائے تو یہی بات سامنے آتی ہے کہ جب سے t.v آیا سکون گیا،جب سے mobile آیا والدین کی قدر گئی، بے روزگاری آگئی، مہنگائی آگئی، ذہنی تناؤ آگیا، خود کشی آگئی۔

اگر آپ سوال کرو کہ وہ کیسے؟ تو سیدھی سی بات ہے کہ پہلے TikTok نہیں تھا پر بڑوں ادب ضرور تھا۔ پہلے Facebook نہیں تھالیکن خواتین کے لیے چادروچاردیواری کا تصور ضرور تھا۔ پہلے Whatsapp نہیں تھا لیکن مردوں سے بات کرتے ہوئے عورتوں کو موت آجاتی تھی، اتنی سوچ پاکیزہ تھی۔ پہلے YouTube نہیں تھا لیکن پردہ بہت تھا۔ آج ہر کوئی YouTube پر فیملی ویڈیو اپلوڈ کررہا ہے تو کوئی ڈانس کرکے اپنے جسم کی نمائش کر رہا ہے، فالوورز کے چکر میں اپنی عزت و ناموس کو کچھ اہمیت نہیں دے رہا۔ اچھا اس سے آگے چلیں تو یہ بتائیں کہ یہ نعرہ پہلے تو ہمارے بزرگوں نے نہیں سنا تھا کہ ”میرا جسم میری مرضی!“ اب کیوں اسلامی معاشرے میں یہ نعرہ سنائی دے رہا ہے؟ کس نے یہ سوچ پیدا کردی ہے کہ عورتوں کو مردوں کے شانہ بشانہ کام کرنا چاہیے؟ کس نے یہ سوچ پیدا کردی ہے کہ اسلام نے عورت کو گھر میں بند کر کے رکھ دیا ہے اسے باہر نکلنے کی اجازت نہیں، اسے کاروبار کرنے کی اجازت نہیں، اسے بازار میں جانے کی اجازت نہیں! یہ سوچ کس نے پیدا کی، اس کا صرف ایک ہی جواب ہے اور وہ ہے ”سوشل میڈیا“۔

اگر اسلامی تعلیمات کا گہری و عمیق نظر سے مطالعہ کیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ اسلام نے تو یہاں تک عورت کو عزت دی ہے کہ اگر کسی مرد سے بات بھی کرنی ہے تو کرخت لہجے میں کرے تاکہ سامنے والا اپنے دل میں لالچ نہ رکھے۔

ایک مرتبہ آقا کریم ﷺ اپنی دو بیویوں کے ساتھ تشریف فرما تھے کہ ایک نابینا صحابی رضی اللہ عنہ آئے تو آقا کریم ﷺ نے اپنی بیویوں کو پردہ کرنے حکم دیا اور فرمایا کہ وہ نابینا ہیں کیا تم بھی نابینا ہو۔

ایک صحابی گھر واپس آرہے تھے کہ انہوں نے اپنی زوجہ کو گھر سے باہر دیکھا تو غصے میں تلوار نکال لی پتا چلا کہ گھر میں سانپ گھس گیا تھا تو وہ صحابی اپنی عزت کی خاطر سانپ سے لڑتے لڑتے شہید ہوگئے۔

یہ ہے اسلامی تعلیمات کہ عورت کو اسلام نے عزت کتنی دی ہے۔ آج divorce اتنی زیادہ کیوں ہو رہی ہیں۔ کیوں گھر میں ناچاقیاں ہیں۔کیوں ساس بہو کا جھگڑا ٹھنا ہوا ہے۔کیوں old house بنائے جارہے ہیں،کیوں نوجوان لڑکیاں بغیر شادی کے بوڑھی ہوئی جارہی ہیں، کیوں آخر کیوں؟؟؟

یہ ساری تباہی اسی موبائل کی اسی سوشل میڈیا کی ہی ہے کہ آج عورت کی کوئی عزت ہی نہیں کہ کسی کمپنی کا اشتہار ہو تو اس میں عورت کی تصویر، شاپنگ مال ہو تو عورت کی تصاویر،عورت کے بینرز،عورتوں کے پتلے! میرا عندیہ بس یہی ہے کہ سوشل میڈیا کو اگر صرف ضرورت کے تحت ہی استعمال کیا جائے اور سچے دل سے اسلامی تعلیمات کو Follow کیا جائے تو یہ یقین ہے کہ معاشرے میں وہی پرانی روح آجائے گی۔ کیونکہ جب ماں صبح تلاوت قرآن کرنے والی ہوگی، نعتیں پڑھ کر اپنی اولاد کو سلانے والی ہوگی، پانچوں وقت نماز کی پابند ہوگی، اپنے شوہر کی خدمت کرنے والی ہوگی،علم دین سے آراستہ ہوگی۔اپنے ساس سسر کا ادب واحترام کرنے والی ہوگی،اپنے بچوں کی اچھی طرح تربیت کرنے والی ہوگی،اپنے شوہر کو زیادہ خرچے میں اتار کر مال حرام کی طرف قدم بڑھانے سے روکنے والی ہوگی تو آپ بتائیں کہ گھر کا ماحول پھر کیسا ہوگا۔ ساس بہو کا جھگڑا پھر کیوں ہوگا۔ شوہر روزگار حاصل کرنے کے لیے وطن اور اولاد چھوڑ کر بیرون ممالک کیوں جائے گا۔ عورت جب اپنے بوڑھے ساس سسر کی خدمت کو حصولِ جنت کا ذریعہ سمجھے گی تو پھر old house کی ضرورت کیوں پیش آئے گی۔ گھریلو ناچاقیاں پھر کیوں ہوں گی۔ جادو و جنات کا تصور پھر کس لیے ہوگا، جب گھر میں تلاوت ہوگی، جب گھر میں اچھی اچھی باتیں ہونگی،جب گھر میں سنجیدگی ہوگی تو پھر اولاد بھی نیک بنے گی بلکہ کئی نسلوں تک نیکی ہی نیکی کا سماں ہوگا۔

آئیے اب سوشل میڈیا کے نوجوان نسل کی تباہی کے حوالے سے اجمالی خاکہ پوائنٹس کی صورت میں پڑھتے ہیں۔

سوشل میڈیا کے اثرات نوجوان نسل پر:1. ذہنی دباؤ 2. نیند کی کمی 3. وقت کا ضیاع 4. اخلاقی بگاڑ 5. تشدد اور جرائم کا رجحان 6. ثقافتی یلغار۔

یہ ایک دل کا درد تھا جو میں نے پیش کیا۔خدا کرے کہ ہمارے معاشرے میں آقا کریم ﷺ کی پیاری پیاری ازواج و اولاد کی سیرت پر عمل پیرا ہونے کا جذبہ پروان چڑھے۔ کاش ہم تمام ازواج مطہرات و سیدہ خاتونِ جنت کے نقشِ قدم پر چلنے والیاں بن جائیں اور جنت کی تیاری میں مشغول ہوجائیں۔

اللہ کرم ایسا کرے تجھ پہ جہاں میں اے دعوت اسلامی تیری دھوم مچی ہو