جھگڑا دراصل اختلاف رائے کو دشمنی اور فساد میں بدل دینا ہے، جس سے دلوں میں نفرت پیدا ہو اور تعلقات خراب ہو جائیں۔ اسلام امن، محبت اور بھائی چارے کا دین ہے۔ لوگوں میں صلح کرانا نیکی ہے اور جھگڑا کروانا یا فتنہ پیدا کرنا بہت بڑا گناہ ہے۔ جو شخص دو آدمیوں یا دو گروہوں کے درمیان نفرت، حسد اور دشمنی پیدا کرے وہ اللہ تعالیٰ کے غضب کا مستحق ہوتا ہے۔

جھگڑا عام طور پر ضد، غصے اور انا کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ یہ دو افراد، خاندانوں یا گروہوں کے درمیان ہو سکتا ہے۔ اسلام میں بلاوجہ جھگڑنے سے منع کیا گیا ہے اور صلح کرنے کو نیکی قرار دیا گیا ہے۔

ارشاد ربانی ہے: وَ اِنْ طَآىٕفَتٰنِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اقْتَتَلُوْا فَاَصْلِحُوْا بَیْنَهُمَاۚ-فَاِنْۢ بَغَتْ اِحْدٰىهُمَا عَلَى الْاُخْرٰى فَقَاتِلُوا الَّتِیْ تَبْغِیْ حَتّٰى تَفِیْٓءَ اِلٰۤى اَمْرِ اللّٰهِۚ-فَاِنْ فَآءَتْ فَاَصْلِحُوْا بَیْنَهُمَا بِالْعَدْلِ وَ اَقْسِطُوْاؕ-اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ(۹) (پ 26، الحجرات: 9) ترجمہ کنز العرفان: اور اگر مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں لڑپڑیں تو تم ان میں صلح کرادوپھر اگران میں سے ایک دوسرے پر زیادتی کرے تو اس زیادتی کرنے والے سے لڑو یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف پلٹ آئے پھر اگر وہ پلٹ آئے تو انصاف کے ساتھ ان میں صلح کروادو اور عدل کرو، بیشک اللہ عدل کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے۔

اس کا شا ن نزول کچھ یوں بیان کیا گیا ہے: ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ دراز گوش پر سوار ہو کر تشریف لے جارہے تھے،اس دوران انصار کی مجلس کے پاس سے گزرہوا تووہاں تھوڑی دیر ٹھہرے، اس جگہ دراز گوش نے پیشاب کیا تو عبداللہ بن ابی نے ناک بند کرلی۔یہ دیکھ کر حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا حضور اکرم ﷺ کے دراز گوش کا پیشاب تیرے مشک سے بہتر خوشبو رکھتا ہے۔ حضور تو تشریف لے گئے لیکن ان دونوں میں بات بڑھ گئی اور ان دونوں کی قومیں آپس میں لڑپڑیں اور ہاتھا پائی تک نوبت پہنچ گئی، صورت حال معلوم ہونے پر سرکار دو عالم ﷺ واپس تشریف لائے اور ان میں صلح کرادی، اس معاملے کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی اور ارشاد فرمایا گیا اے ایمان والو!اگر مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں لڑپڑیں تو تم سمجھا کر ان میں صلح کرادو،پھر اگران میں سے ایک دوسرے پر ظلم اور زیادتی کرے اور صلح کرنے سے انکار کر دے تو مظلوم کی حمایت میں اس زیادتی کرنے والے سے لڑو یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی طرف پلٹ آئے،پھر اگر وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی طرف پلٹ آئے تو انصاف کے ساتھ دونوں گروہوں میں صلح کروادو اور دونوں میں سے کسی پر زیادتی نہ کرو (کیونکہ اس جماعت کو ہلاک کرنا مقصود نہیں بلکہ سختی کے ساتھ راہ راست پر لانا مقصود ہے) اور صرف اس معاملے میں ہی نہیں بلکہ ہر چیز میں عدل کرو، بیشک اللہ تعالیٰ عدل کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے تو وہ انہیں عدل کی اچھی جزادے گا۔ (جلالین، 5/1992، 1993)

جھگڑا کروانے کے نقصانات: دلوں میں نفرت اور دشمنی پیدا ہوتی ہے۔ رشتے ٹوٹ جاتے ہیں اور گھر برباد ہو جاتے ہیں۔معاشرتی سکون اور محبت ختم ہو جاتی ہے۔ اللہ کی رحمت اور برکت ختم ہو جاتی ہے۔

ہمیں کبھی بھی جھگڑا کروانے یا چغلی کرنے کا کام نہیں کرنا چاہیے۔ بلکہ اگر کہیں جھگڑا ہو تو صلح کرانے کی کوشش کرنی چاہیے، کیونکہ قرآن میں صلح کرانے کو نیکی قرار دیا گیا ہے۔

اللہ پاک ہمیں شریعت کے دائرے میں رہتے ہوئے مسلمانوں کے درمیان صلح کرانے کی سعادت نصیب فرمائے۔ آمین