انسان فطری طور پر سماجی مخلوق ہے، جو دوسرے انسانوں کے ساتھ تعلقات قائم کر کے زندگی گزارتا ہے۔ اگر ان تعلقات میں محبت، ایثار اور اعتماد ہو تو معاشرہ ترقی کرتا ہے، لیکن اگر تعلقات نفرت، حسد اور دشمنی کی بنیاد پر قائم ہوں تو معاشرہ زوال کا شکار ہو جاتا ہے۔ انہی برائیوں میں سے ایک برائی جھگڑا کروانا ہے، جو نہ صرف افراد کے دلوں کو آپس میں جدا کر دیتا ہے بلکہ پورے معاشرے کے امن کو بھی برباد کر دیتا ہے۔

جھگڑا کروانے کی حقیقت: جھگڑا کروانا ایک ایسا عمل ہے جس میں کوئی شخص دوسروں کے درمیان شرارت یا فتنہ ڈال کر ان کے دلوں میں بدگمانی اور نفرت پیدا کرتا ہے۔ یہ عمل عام طور پر چغلی، غیبت یا بات کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ بظاہر یہ ایک چھوٹی بات لگتی ہے لیکن اس کے نتائج بڑے تباہ کن ہوتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں کئی مقامات پر فساد پھیلانے والوں کی مذمت فرمائی ہے۔ جیسا کہ ارشاد فرمایا: وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِۙ-قَالُوْۤا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ(۱۱) اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَ لٰكِنْ لَّا یَشْعُرُوْنَ(۱۲) (پ 1، البقرۃ: 11، 12) ترجمہ: جب ان سے کہا جاتا ہے کہ زمین میں فساد نہ پھیلاؤ تو وہ کہتے ہیں کہ ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں، یاد رکھو! حقیقت میں یہی لوگ فساد پھیلانے والے ہیں لیکن شعور نہیں رکھتے۔

جھگڑا کروانے والے بھی بظاہر کہتے ہیں کہ ہم مذاق یا خیرخواہی کر رہے ہیں، لیکن حقیقت میں وہ معاشرے میں فساد پھیلا رہے ہوتے ہیں۔

سورۃ الحجرات میں ارشاد ہے: اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَةٌ فَاَصْلِحُوْا بَیْنَ اَخَوَیْكُمْ (پ 26، الحجرات: 10) ترجمہ: مؤمن تو آپس میں بھائی بھائی ہیں، لہٰذا اپنے بھائیوں کے درمیان صلح کرا دیا کرو۔

اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ مسلمان کو صلح کرانی چاہیے، نہ کہ جھگڑا کروانا۔

احادیث مبارکہ:

(1) نبی کریم ﷺ نے فرمایا:اللہ پاک کے ہاں سب سے ناپسندیدہ شخص وہ ہے، جو بہت زیادہ جھگڑالو ہو۔ (بخاری، 2/193، حدیث:2457)

(2) فرمایا: جوشخص بےجاجھگڑتاہے،وہ ہمیشہ اللہپاک کی ناراضی میں ہوتاہے،یہاں تک کہ اسے چھوڑ دے۔ (موسوعۃ لابن ابی الدنیا، 7/111، حدیث: 153)

(3)فرمایا: کوئی قوم ہدایت پر رہنے کےبعد گمراہ نہیں ہوئی مگرجھگڑوں کے سبب۔ (ترمذی، 5/170، حدیث:3264)

(4) فرمایا: بندہ ایمان کی حقیقت میں اس وقت تک کمال کو نہیں پہنچ سکتا، جب تک کہ وہ حق پر ہونے کے باوجود جھگڑا نہ چھوڑ دے۔ (موسوعة لابن ابی الدنیا، 7/101، حدیث: 139)