جھگڑے
کی تعریف: جھگڑا
ایسے اختلاف یا تنازع کو کہتے ہیں جس میں دو یا دو سے زیادہ افراد بات، رائے، حق
یا مفاد کے بارے میں آپس میں لڑائی، تکرار یا سخت کلامی کریں۔ یہ زبانی بھی ہو
سکتا ہے اور عملی بھی۔
اللہ تعالیٰ
نے فرمایا: اِنَّمَا یُرِیْدُ
الشَّیْطٰنُ اَنْ یُّوْقِعَ بَیْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَ الْبَغْضَآءَ (پ 7،
المائدۃ: 91) ترجمہ: شیطان یہی چاہتا ہے کہ تمہارے درمیان دشمنی اور بغض ڈال دے۔
اس آیت سے
واضح ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے درمیان دشمنی اور جھگڑا ڈالنا شیطان کا مقصد ہے، اور
جو شخص جھگڑا کرواتا ہے وہ شیطان کے منصوبے کو پورا کرتا ہے۔
احادیث
مبارکہ:
نبی کریم ﷺ نے
فرمایا: اللہ پاک کے ہاں سب سے ناپسندیدہ شخص وہ ہے، جو بہت زیادہ جھگڑالو ہو۔ (بخاری،
2/193، حدیث:2457)
جوشخص
بےجاجھگڑتاہے،وہ ہمیشہ اللہ پاک کی ناراضی میں ہوتا ہے، یہاں تک کہ اسے چھوڑ دے۔ (موسوعۃ
لابن ابی الدنیا، 7/111، حدیث: 153)
کوئی قوم
ہدایت پر رہنے کے بعد گمراہ نہیں ہوئی مگر جھگڑوں کے سبب۔ (ترمذی، 5/170، حدیث:3264)
بندہ ایمان کی
حقیقت میں اس وقت تک کمال کو نہیں پہنچ سکتا، جب تک کہ وہ حق پر ہونے کے باوجود
جھگڑا نہ چھوڑ دے۔ (موسوعۃ لابن ابی الدنیا، 7/101، حدیث: 139)
کوئی
دھتکارے یا جھاڑے بلکہ مارے صبر کر!
مت
جھگڑ،مت بڑبڑا، پا اجر ربّ سے صبر کر!
بیان کردہ
احادیث مبارکہ سے معلوم ہوا کہ جھگڑالو شخص کو اللہ پاک پسندنہیں فرماتا، جھگڑا
کرنےوالااللہ پاک کی ناراضی مول لیتاہے،جھگڑا کرنا گمراہی کے گہرے گڑھے میں دھکیل
دیتا ہے اور حق پر ہونے کے باوجودجھگڑا کرنے والا اس وقت تک ایمان کی حقیقت میں
کامل نہیں ہوسکتا جب تک کہ جھگڑا نہ چھوڑدے۔لڑائی جھگڑا کرنا اس قدر برا ہے کہ
ہمارے بزرگان دین نے بھی اس کی تباہ کاریوں کو بیان فرمایا۔
حضرت امام ابن
حجر مکی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: جھگڑے اگرچہ حق بات پر ہوں پھر بھی ان کی کثرت
ناجائز کاموں میں مبتلا کردیتی ہے۔ (جہنم میں لے جانے والے اعمال، 2/674) (جھگڑوں کی) چھوٹی آفت یہ ہے کہ
جھگڑالو شخص نماز میں ہوتا ہے لیکن اس کا دل لڑائی جھگڑوں میں مشغول ہوتا ہے۔ (جہنم
میں لے جانے والے اعمال،2/706 ملخصاً)
علمائے کرام کے اقوال:
حضرت عمر بن
عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: جو اپنے دین کو جھگڑوں کے لئے نشانہ بناتا
ہےوہ اکثر بدلتا رہتاہے۔
حضرت مسلم بن
یسار رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: جھگڑا کرنے سے بچو کیونکہ یہ عالم کی جہالت کا
وقت ہے اوراس وقت شیطان اس کی لغزش کے درپے ہوتا ہے۔
حضرت
سیدناامام مالک بن انس رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:جھگڑے کا دین سے کچھ تعلق نہیں
ہے۔ آپ نے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ جھگڑا دلوں کو سخت کردیتا ہے اور کینہ پیدا
کرتاہے۔
حضرت لقمان
حکیم رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے کو فرمایا:علما سے مت جھگڑنا ورنہ ان کے دلوں میں
تمہارے لئے نفرت پیدا ہو جا ئے گی۔
جھگڑا
کروانے کے نقصانات: دلوں میں نفرت اور دشمنی پیدا ہوتی ہے اور گھر
برباد ہو جاتے ہیں معاشرتی سکون اور محبت ختم ہو جاتی ہے۔
اللہ پاک سے
دعا ہے کہ ہمیں صلح کروانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
Dawateislami