جھگڑا کروانا از
بنت سید جاوید اقبال، جامعۃ المدینہ لطیف آباد نمبر 8 حیدرآباد
اسلام ایک
ایسا دین ہے جو محبت، امن، بھائی چارے اور صلح صفائی کی تعلیم دیتا ہے۔ قرآن و
سنت میں مسلمانوں کو باہم الفت و محبت سے رہنے، ایک دوسرے کی مدد کرنے اور صلح
کرانے کی ترغیب دی گئی ہے۔ اس کے برعکس لوگوں کے درمیان جھگڑا کروانا، فتنہ پروری
کرنا، چغلی اور جھوٹ کے ذریعے نفرت پھیلانا سخت گناہ اور شیطانی عمل ہے۔ اس مضمون
میں ہم جھگڑا کروانے کے مختلف پہلوؤں کو قرآن و حدیث اور اسلامی تعلیمات کی روشنی میں
بیان کریں گے۔
امن قائم کرنے
والا معاشرے کا ہیرو ہے، جبکہ جھگڑا کروانے والا معاشرے کا دشمن ہے۔
قرآن پاک میں
اللہ پاک فرماتا ہے: لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِۙ- (پ 1، البقرۃ: 11) ترجمہ: زمین
میں فساد نہ پھیلاؤ۔
اور مزید
فرمایا: وَ الَّذِیْنَ
اتَّخَذُوْا مَسْجِدًا ضِرَارًا وَّ كُفْرًا وَّ تَفْرِیْقًۢا بَیْنَ
الْمُؤْمِنِیْنَ (پ
11، التوبۃ: 107) ترجمہ: اور وہ جنہوں نے مسجد بنائی نقصان پہنچانے کو اور کفر کے
سبب اور مسلمانوں میں تفرقہ ڈالنے کو۔
مدینہ میں
منافقین اکثر مسلمانوں کے درمیان اختلاف ڈالتے اور جھوٹے پروپگنڈے کرتے تھے۔ انہوں
نے ایک الگ مسجد بنائی جسے قرآن نے مسجد ضرار کہا، مقصد یہی تھا کہ مسلمانوں کو
تقسیم کریں اور جھگڑوں میں ڈالیں۔ غزوۂ احد اور غزوۂ احزاب میں بھی منافقین نے یہی
کیا: مسلمانوں کو کمزور کرنے اور ان کے درمیان بداعتمادی پیدا کرنے کی کوشش کی۔ اس
سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مسلمانوں میں تفریق ڈالنے کی کوشش کرنا ان میں جھگڑا
کروانا منافقین کا طریقہ ہے۔
حضرت جابر رضی
اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ابلیس اپنا تخت پانی پر بچھاتا ہے،
پھر اپنے لشکروں کو (فتنہ پھیلانے کے لیے) بھیجتا ہے۔ اس کے نزدیک مرتبہ میں سب سے
زیادہ وہ ہوتا ہے جو سب سے بڑا فتنہ برپا کرے۔ ان میں سے کوئی آ کر کہتا ہے: میں
نے فلاں کام کیا، شیطان کہتا ہے: تم نے کچھ خاص نہیں کیا۔ پھر ان میں سے ایک آ کر
کہتا ہے: میں نے فلاں شخص کو اس کی بیوی سے جدا کر دیا۔ تو شیطان اسے اپنے قریب کر
لیتا ہے اور کہتا ہے: تو نے کمال کر دیا۔ (مسلم، ص 1158، حدیث: 7106)
فتنہ
پروری کرنے والوں کا انجام: فتنہ ڈالنے والوں کا انجام دنیا میں
ذلت اور آخرت میں سخت عذاب ہے۔ ایسے لوگ سب کے دشمن بن جاتے ہیں اور اللہ کی رحمت
سے محروم رہتے ہیں۔
جھگڑا
کروانے کے نقصانات: گھریلو سکون ختم ہو جاتا ہے۔ میاں بیوی کے تعلقات
خراب ہو جاتے ہیں۔ بچوں کی تربیت متاثر ہوتی ہے۔ اس پر اعتماد ختم ہو جاتا ہے۔
دوست اور رشتہ دار اس سے دور ہو جاتے ہیں۔ معاشرے میں نفرت اور بداعتمادی پھیلتی
ہے۔
اکثر جھگڑا
کروانے والے کے دل میں حسد، کینہ اور خود غرضی ہوتی ہے۔ یہ ایک اخلاقی بیماری ہے
جس کا علاج صبر، تقویٰ اور مثبت سوچ ہےـ
جھوٹ اور چغلی
جھگڑا کروانے کے بھی بڑے ہتھیار ہیں۔ ایک کی بات دوسری جگہ بڑھا کر لے جانا نفرت
پیدا کرتا ہے۔ حدیث شریف میں ارشاد ہوا: چغلی کھانے والا جنت میں داخل نہ ہوگا۔ (مسلم،
ص 62، حدیث: 105)
اسلام نے واضح
طور پر بتایا ہے کہ فساد، جھوٹ اور چغلی کے ذریعے جھگڑا کروانا شیطانی عمل ہے اور
اس کے کرنے والے دنیا و آخرت دونوں میں ذلیل ہوں گے۔ جبکہ صلح کروانا، امن قائم
کرنا اور محبت بڑھانا صدقہ ہے۔ اور اللہ کی خوشنودی کا ذریعہ ہے۔ لہٰذا ہمیں چاہیے
کہ ہم کبھی جھگڑا نہ کروائیں بلکہ جہاں بھی ممکن ہو، صلح کرانے والے بنیں۔
Dawateislami