اسلام ایک
مکمل دین ہے جو انسان کی ظاہری و باطنی زندگی کی رہنمائی کرتا ہے۔ اس میں "عقیدہ"
بنیادی حیثیت رکھتا ہے، کیونکہ اعمال کی قبولیت کا دار و مدار درست عقیدے پر ہے۔
اگر عقیدہ درست نہ ہو تو نیک اعمال بھی بارگاہِ الٰہی میں مقبول نہیں ہوتے۔ اسی لیے
"مطالعۂ عقائد" یعنی اسلامی عقائد کو سیکھنا، سمجھنا اور ان پر یقین
رکھنا ہر مسلمان کے لیے نہایت ضروری ہے ۔
عقیدہ کا
مفہوم:"عقیدہ” عربی لفظ “عقد” سے نکلا ہے، جس کے معنی ہیں "گرہ باندھنا"۔
اصطلاح میں عقیدہ سے مراد وہ پختہ ایمان اور یقین ہے جو دل میں راسخ ہو جائے، جیسے:
اللہ تعالیٰ کی وحدانیت، انبیاء علیہم السلام پر ایمان، فرشتوں، کتابوں اور یومِ
آخرت پر ایمان، تقدیر پر ایمان یہ تمام عقائد ایمان کی بنیاد ہیں۔
خود قرآن
کریم ایمان کی بنیاد بیان کرنے پر ناطق ہے چنانچہ ارشاد ہوا ۔
اٰمَنَ الرَّسُوْلُ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِ مِنْ
رَّبِّهٖ وَ الْمُؤْمِنُوْنَؕ-كُلٌّ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ مَلٰٓىٕكَتِهٖ وَ
كُتُبِهٖ وَ رُسُلِه۔
ترجمۂ کنز العرفان:رسول اس پر ایمان لایا جو اس
کے رب کی طرف سے اس کی طرف نازل کیا گیا اور مسلمان بھی۔ (البقرۃ:۲۸۵)
كسی چیز کی
اصل ہی اُسکی بقا کا ضامن ہوتا ہے یہ آیت واضح کرتی ہے کہ ایمان (عقیدہ) دین کی
اصل بنیاد ہے۔
عقیدہ کے بغیر اعمال بے فائدہ:لَىٕنْ اَشْرَكْتَ لَیَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَ
لَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ(۶۵)
ترجمۂ کنز العرفان: اگر تو نے شرک کیا تو ضرور
تیراہر عمل برباد ہوجائے گا اور ضرور توخسارہ پانے والوں میں سے ہوجائے گا۔(الزمر:۶۵)
یہ آیت
بتاتی ہے کہ غلط عقیدہ (شرک) تمام اعمال کو برباد کر دیتا ہے۔بندہ جتنی بھی ریاضتیں
کر لے بندگی بجا لائے اگر ذرہ برابر بھی شرک کا مادہ پایا جائے تو تمام اعمال
اکارت میں پڑھ جائینگے ۔
علمِ دین حاصل کرنے کا حکم:فَاعْلَمْ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ ترجمۂ
کنز العرفان:تو جان لو کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔(محمد:۱۹)
ایمان کی تعریف:نبی کریم ﷺ
نے فرمایا:ایمان یہ ہے کہ تم اللہ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں، یومِ
آخرت اور تقدیر پر ایمان لاؤ…۔(صحیح مسلم: 8)
یہ حدیث
عقائدِ اسلام کی مکمل بنیاد بیان کرتی ہے۔
مطالعۂ عقائد کی ضرورت:صحیح عقیدہ
انسان کو کفر، شرک اور بدعت سے محفوظ رکھتا ہےآج کے دور میں مختلف فتنوں اور نظریات
کے باعث عقیدہ کا سیکھنا انتہائی ضروری ہے۔کیونکہ درست عقیدہ ہی اعمال کی قبولیت کی
بنیاد ہے۔بغیر اسکے آدمی لَیَحْبَطَنَّ عَمَلُك کا مصداق
ٹھہرتا ہے۔عقیدہ کی درستگی ہی انسان کو سکون اور یقین عطا کرتا ہے۔
مطالعۂ عقائد کی اہمیت: دین کی
صحیح سمجھ پیدا ہوتی ہے، اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل ہوتی ہے، عبادات میں اخلاص پیدا
ہوتا ہے، معاشرے میں اتحاد پیدا ہوتا ہے، بدعات اور خرافات کا خاتمہ ہوتا ہے۔
موجودہ دور میں عقیدہ کی اہمیت:آج کے دور
میں الحاد، دہریت، اور مختلف گمراہ کن نظریات عام ہو چکے ہیں۔ ایسے میں صحیح عقیدہ
کا علم حاصل کرنا اور اس پر قائم رہنا نہایت ضروری ہے، تاکہ انسان اپنے ایمان کی
حفاظت کر سکے۔مطالعۂ عقائد ہر مسلمان کے لیے بنیادی ضرورت ہے، کیونکہ یہی ایمان کی
بنیاد اور نجات کا ذریعہ ہے۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں یہ بات واضح ہے کہ صحیح عقیدہ
کے بغیر نہ اعمال مقبول ہوتے ہیں اور نہ ہی آخرت میں کامیابی ممکن ہے۔ لہٰذا اگر
ہم فلاح دارین کی حصول کا کڑھن رکھتے ہیں تو ہمیں چاہیے کہ ہم عقائدِ اسلامیہ کو سیکھیں،
سمجھیں اور اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔خدائے رب الانام ہمارے اعمال کے ساتھ عقائد
کو درست کرنے کی سعی کرتے رہنے کی توفیق عمل عطا فرمائے آمین یارب الکریم۔
Dawateislami