عبدالرافع
(درجہ سادسہ مرکز ی جامعۃ المدینہ فیضانِ مدینہ، کراچی،پاکستان)
تمام کے
تمام اعمال کا دارومدار عقائد پر ہوتا ہے عقیدہ یہ بنیاد ہوتا ہے اگر کسی شخص کے
عقائد میں خرابی ہے تو چاہےوہ ہزاروں نیکیاں کرلے تو وہ قابل قبول نہیں کیونکہ اگر
عقیدہ صحیح نہیں تو وہ مومن کیسے ہو سکتا ہے اور اگر وہ مومن نہیں تو اسکا ہر عمل
برباد ہے چاہے وہ ایمان لاۓ بغیر حج
بھی کیوں نہ کرلے اس کا حج بھی قابل قبول نہیں اسی وجہ سے ہمیں پتہ ہونا چاہیے کے
ہمارے عقائد کیا ہیں تاکہ ہم شرک بدعت وغیرہ جیسے گناہوں سے بچے۔اللہ تعالیٰ ارشاد
فرماتا ہے:لَىٕنْ اَشْرَكْتَ لَیَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ ترجمہ کنز
الایمان: اگر تو نے اللہ کا شریک کیا تو ضرور تیرا سب کیا
دھرا اَکارت جائے گا ۔(پارہ 24 آیت 65)
اس آیت میں خطاب اگرچہ حضورِ اَقدس صَلَّی اللہ
تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے ہے لیکن مراد سننے والے ہیں کیونکہ اللہ
تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو (اور
تمام انبیاء ِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو) شرک سے معصوم فرمایا
ہے۔(خازن، الزّمر، تحت الآیۃ: ۶۵، ۴ / ۶۲، جلالین، الزّمر، تحت الآیۃ: ۶۵، ص۳۹۰،
ملتقطاً)
وَ لَوْ اَشْرَكُوْا لَحَبِطَ عَنْهُمْ مَّا
كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ(۸۸) ترجمہ کنزالعرفان: اور اگر وہ (بھی بالفرض) شرک کرتے تو ضرور ان کے
تمام اعمال ضائع ہوجاتے۔ ( پارہ 6 انعام 88)
أَي: لبطل عَنْهُم، والحبوط: البطولاس تفسیر سے یہ بات سمجھ آئی وہ یہ
ہے کے "شرک کرنے سے عمل اکارت ہو جاتے ہیں اور ثواب ضائع ہو جاتا ہے۔"(مسار
الصفحۃ الحاليۃ:فهرس الكتاب الأنعام ٨٨)
وَ لَوْ اَشْرَكُوْا: اور اگر وہ(بھی بالفرض) شرک کرتے۔اس
آیت میں عوام و خواص سب لوگوں کو ڈرایا گیا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی خفیہ تدبیر
سے بے خوف نہ ہوں کیونکہ جب فضیلت اور بلند مقام رکھنے والے انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرما دیا ہے کہ اگر وہ (بھی
بالفرض) شرک کرتے تو ضرور ان کے تمام اعمال ضائع ہوجاتے۔ تو ان کے مقابلے میں اور
لوگوں کا حال کیا ہو گا ۔(روح البیان، الانعام، تحت الآیۃ: ۸۸، ۳ / ۶۲)
تمام
گفتگو سے یہ بات سمجھ آتی ہے کے اگر خواہ بندہ کتنے ہی مقام کتنےہی مرتبے والا ہو
اگر اس کا عقیدہ رب تعالی اور جناب رحمت للعمین ﷺ کی بارگاہ کے بارے میں درست نہ
ہو تو اسکے عمل کا کوئی فائدہ نہیں اسی وجہ سے ہمیں ہمارے عقائد کی حفاظت کرنی چاہیے
اور انہیں بغور مطالعہ کرنا چاہیے تاکہ کہیں ہم خدا نخواستہ اپنے اعمال اور ایمان
سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
Dawateislami