تمام تعریفیں اس اللہ پاک کے لیے جس نے ہماری رہنمائی کے لیے قرآن نازل فرمایا اور درود اس ذات پر جس پر اللہ پاک نے قرآن کو نازل فرمایا اور جن کے فرمامین و تعلیمات کو اور ان کی مقدس ذات کو ہمارے لیے مثل نمونہ بنایاحمد و صلاۃ کے بعدہمارے لیے اس بات کی معلومات حاصل کرنا بہت اہم ہے کہ ہمیں اس پاک ذات یعنی ذات باری تعالیٰ اور اس کے محبوب نبی ﷺ اور ان کی بتائی ہوئی شریعت میں کن باتوں پہ اعتقاد رکھنا ضروری ہے۔تو سب سے پہلے عقائد کی تعریف کو جانتے ہیں ۔

عقیدہ کی لغوی و اصطلاحی تعریف:عقائد عربی زبان کے لفظ عقیدہ کی جمع ہے جس کے معنی ہیں:ایسا فیصلہ یا نظریہ جس کے ماننے والوں کے لیے اس میں شک و شبہ کی گنجائش نہ ہواصطلاحی اعتبار سے عقیدہ ان دینی امور کا نام ہے جن پہ دل بغیر شک و شبہ کے پختہ ہوجائے ۔(دس اسلامی عقیدے صفحہ7)

جیسے ذات و صفات باری تعالیٰ، نبی کریم ﷺ اور دیگر انبیاء و مرسلین، ملائکہ مقربین، جنت دوزخ، بعثت (مرنے کے بعد زندہ ہونا) وغیرہ کے متعلق ہمارا عقیدہ کیا ہونا چاہیے۔

عقیدہ کی ضرورت:بحیثیت مسلمان ہونے کے ایک مسلمان کو مذکورہ عقائد کے متعلق اتنا علم حاصل کرنا ضروری ہے جس سے وہ حق و باطل میں امتیاز کرسکے بدمذہبوں اور بدعقیدہ لوگوں کی پہچان کرسکے ورنہ کس طرح اس کا عقیدہ بگڑے اس کو بھی معلوم نا ہوپائے گابالخصوص آج کے اس جدید ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا سے بھرپور دور میں جس طرح ایک سیدھے سادھے مسلمان کے عقیدہ کو قرآن و حدیث بیان کرتے ہوئے خراب کیا جارہا ہے۔ الامان و الحفیظ اللہ پاک تمام مسلمانوں کو دینِ اسلام کے باغیوں سے محفوظ فرمائے۔

عقیدہ کی اہمیت:عقائد کا علم سیکھنا اور درست عقیدہ رکھنا ہمارے لیے بہت اہمیت کا حامل ہے ۔اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان کے فرمان کا خلاصہ ہے کہ سب میں اولین و اہم ترین فرض بنیادی عقائد کا علم حاصل کرنا ہے۔(فتاویٰ رضویہ، 23(623ماخوذا)

جی ہاں پیارے اسلامی بھائیوں عمل پر عقیدہ مقدم ہے یہی وجہ ہے کہ نیک اعمال پہ اجر و ثواب کا ملنا اور ان کا شرف قبولیت پانا عقیدے کی درستی پہ موقوف ہے جس کے عقیدے میں بگاڑ ہو اس کے بڑے بڑے نیک اعمال بھی غارت و اکارت ہوکر آخرت میں بے فائدہ و بے کار ہوجائیں گے۔اپنی اس بات کی تصدیق میں کلام الہی عز وجل کو ملحوظ خاطر رکھتا چلوں۔اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بَعْدَ اِیْمَانِهِمْ ثُمَّ ازْدَادُوْا كُفْرًا لَّنْ تُقْبَلَ تَوْبَتُهُمْۚ-وَ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الضَّآلُّوْنَ(۹۰)

ترجمۂ کنز الایمان:بے شک وہ جو ایمان لا کر کافر ہوئے پھر اور کفر میں بڑھے ان کی توبہ ہر گز قبول نہ ہوگی اور وہی ہیں بہکے ہوئے۔ (پارہ 3 سورۃ آل عمران،آیت 90)

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ مَاتُوْا وَ هُمْ كُفَّارٌ فَلَنْ یُّقْبَلَ مِنْ اَحَدِهِمْ مِّلْءُ الْاَرْضِ ذَهَبًا وَّ لَوِ افْتَدٰى بِهٖؕ-اُولٰٓىٕكَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ وَّ مَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ۠(۹۱) ترجمۂ کنز الایمان: وہ جو کافر ہوئے اور کافر ہی مرے، ان میں کسی سے زمین بھر سونا ہرگز قبول نہ کیا جائے گا اگرچہ اپنی خلاصی کو دے، ان کے لئے دردناک عذاب ہے اور ان کا کوئی یار نہیں۔ (پارہ 3 سورۃ آل عمران،آیت91)

تفسیر صراط الجنان میں ہے :اس سے معلوم ہوا کہ نجات کا دارومدار ایمان پر خاتمہ ہونے پر ہے۔ اگر کوئی شخص تمام عمر مومن رہا اورمرتے وقت کافر ہو گیا تو اس آیت میں شامل ہےاسی لئے صالحین سب سے زیادہ فکر ایمان پر خاتمے ہی کی کرتے تھےچنانچہ حضرتِ یوسف بن اَسباط رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : میں ایک مرتبہ حضرتِ سفیان ثَوری رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے پاس حاضر ہوا۔ آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ ساری رات روتے رہے ۔ میں نے دریافت کیا : کیا آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ گناہوں کے خوف سے رو رہے ہیں ؟ تو آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے ایک تنکا اٹھایا اور فرمایا کہ گناہ تواللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اِس تنکے سے بھی کم حیثیت رکھتے ہیں ، مجھے تو اس بات کا خوف ہے کہ کہیں ایمان کی دولت نہ چھن جائے۔ (منہاج العابدین، العقبۃ الخامسۃ، اصول سلوک طریق الخوف والرجاء، الاصل الثالث، ص۱۶۹)

مذکورہ آیات کریمہ اورواقعات اسلاف سے ہمیں یہ بات سیکھنےکو ملتی ہے کہ ہم نے اس دنیا سے اپنے ایمان کو سلامت لے جانا ہے اور ایمان سلامت اس وقت ہی جائے گا جب ہمارا عقیدہ درست ہوگا اور جس کے عقیدے میں ہی بگاڑ ہو تو وہ کیسے ایمان سلامت لے جائے گایوں سمجھیے کہ لا الہ الا الله محمد الرسول اللہ ﷺ کو پڑھ لینا ایمان ہے اور اس کے تقاضے کو پورا کرنا ہمارا عقیدہ تو ذرا اپنے دل سے پوچھیے جو بندہ فقط زبان سے یہ کلمات ادا کرے اور اس کے تقاضوں کو پورا نا کرے یعنی دل سے اقرار ہی نا کرے تو کیا وہ مسلمان کہلائے گا۔۔۔؟ ہر گز نہیں چونکہ دل سے اقرار کرنا اور اس بات پہ ایسا پختہ فیصلہ کرلینا ضروری ہے جس کے بعد کوئی شک و شبہ باقی ہی نہ رہے اور یہی تو عقیدہ کہلاتا ہے۔لہذا ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی صحبت کو ان لوگوں تک ہی منحصر رکھیں جن کے عقائد درست ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم صحیح العقیدہ سنی عالم دین کی صحبت میں رہیں تاکہ وقتاً فوقتاً عقیدے کی اصلاح کے لیے کچھ نا کچھ سیکھتے رہیں بالخصوص آج کے دور میں ہمیں سوشل میڈیا کے استعمال سے جتنی قدر ممکن ہو بچنا چاہیےکیونکہ یہ ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جس پہ ہر بندہ اپنی بات کو با آسانی تمام لوگوں تک پہنچا سکتا ہے چاہے وہ درست ہو یا غلط اور یہ سوشل میڈیا دشمنانِ اسلام کا بہت بڑا پروپیگنڈہ ہے جس کے ذریعے وہ مسلمانوں کو تعلیمات محمدیہ ﷺ سے بیزار کرتے ہوئے ان کے دلوں میں اپنی بیہودہ تعلیمات کو راسخ کرنے کی بھرپور کوشش کررہے ہیں تاکہ مسلمان اپنے عقیدے و تعلیم سے ہٹ جائے تو ہم اسے نیست ونابود کردیں حالانکہ مسلمان گناہگار ہوسکتا ہے نبی ﷺ کا غدار نہیں تو اگر ہمیں دشمنانِ اسلام کا منہ کالا کرنا ہے تو سب سے پہلے عقائد و تعلیمات اسلام کو مضبوطی سے تھامنا ہوگااللہ کریم سے دعا ہے کہ وہ امت محمدیہ ﷺ کو اپنے حفظ و امان میں رکھے اور انہیں دشمنانِ اسلام پہ غلبہ و فتوحات نصیب فرمائےآمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ۔