احمد
رضا(درجہ خامسہ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضانِ مدینہ، کراچی،پاکستان)
مطالعۂ
عقائد اسلام کی بنیاد ہے، کیونکہ عقیدہ درست ہوگا تو ایمان مضبوط ہوگا اور اعمال
بھی درست ہوں گے۔ ایک مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے بنیادی عقائد، جیسے توحید،
رسالت اور آخرت پر پختہ یقین رکھے اور ان کو صحیح طور پر سمجھے۔آج کے دور میں
مختلف گمراہ کن نظریات اور شکوک و شبہات عام ہو چکے ہیں، اس لیے عقائد کا علم حاصل
کرنا بے حد ضروری ہے تاکہ انسان اپنے ایمان کی حفاظت کر سکے اور باطل افکار سے بچ
سکے۔مطالعۂ عقائد انسان کے دل میں یقین، سکون اور اللہ تعالیٰ پر بھروسہ پیدا
کرتا ہے، جو اس کی عملی زندگی کو بہتر بناتا ہے۔ یہی علم اسے حق و باطل میں فرق
کرنے کی صلاحیت بھی دیتا ہے۔لہٰذا ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ عقائد کا علم حاصل
کرے، کیونکہ یہی اس کے ایمان کی مضبوطی اور نجات کا ذریعہ ہے۔
مسلمان
ہونے کی حیثیت سے عقائد کا علم سیکھنا اور عقائد کو درست رکھنا ہمارے لیے انتہائی
ضروری اور بڑی اہمیت کا حامل ہے امام اہل سنت مولانا شاہ امام احمد رضا خان بریلوی
رحمۃ اللہ علیہ کے فرمان کا خلاصہ ہے کہ سب میں اولین اہم ترین فرض یہ ہے کہ بنیادی
عقائد کا علم حاصل کریں جس سے آدمی صحیح العقیدہ سنی بنتا ہے اور جن کے انکار و
مخالفت سے کافر یا گمراہ ہو جاتا ہے۔( فتاوی رضویہ جلد23 صفحہ 623)
عقیدہ عمل
پر مقدم ہے یہی وجہ ہے کہ نیک اعمال پر اجر و ثواب کا ملنا عقیدے کی درستگی پر
موقوف ہے اگر کسی کا عقیدہ خراب ہے تو اس کے بڑے بڑے نیک اعمال بھی غارت و اکارت
ہو کر آخرت میں کسی کام نہ آئیں گے چنانچہ قرآن پاک میں ارشاد ہوتا :
اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بَعْدَ اِیْمَانِهِمْ
ثُمَّ ازْدَادُوْا كُفْرًا لَّنْ تُقْبَلَ تَوْبَتُهُمْۚ-وَ اُولٰٓىٕكَ هُمُ
الضَّآلُّوْنَ(۹۰)
ترجمۂ کنز الایمان:بے
شک وہ جو ایمان لا کر کافر ہوئے پھر اور کفر میں بڑھے ان کی توبہ ہر گز قبول نہ ہوگی
اور وہی ہیں بہکے ہوئے۔(سورۃآل عمران:90)
تفسیر صراط الجنان:اِنَّ
الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بَعْدَ اِیْمَانِهِمْ: بیشک وہ لوگ جو ایمان لانے کے بعد
کافر ہوگئے۔ یہ آیت ان یہودیوں کے بارے میں نازل ہوئی جنہوں نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر ایمان لانے کے بعد حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام اور انجیل کے ساتھ کفر کیا ،پھر کفر میں اور بڑھے اور سیدُ الانبیاء
محمد مصطفٰی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ اور قرآن کے ساتھ
کفر کیا۔ اور ایک قول یہ ہے کہ یہ آیت یہود و نصاریٰ کے بارے میں نازل ہوئی
جورسولِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی بعثت سے پہلے
تو اپنی کتابوں میں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی نعت و
صفت دیکھ کر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ پر ایمان رکھتے
تھے اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے ظہور کے بعد کافر
ہوگئے اور پھر کفر میں اور شدید ہوگئے۔(خازن، اٰل عمران، تحت الآیۃ: ۹۰، ۱
/ ۲۷۰)
ایمان و
کفر میں شدت کی کیفیت کے اعتبار سے کمی زیادتی ہوتی ہے، جیسے قرآن پاک میں بکثرت
ایمان میں اضافہ ہونے کی آیات ہیں ، اسی طرح کفر میں شدت کی آیات بھی ہیں۔ یہ آیات
اس معنیٰ میں ہے کہ کسی کا ایمان زیادہ قوی اور مضبوط ہوتا ہے جبکہ کسی کا ایمان
کمزور ہوتا ہے یونہی کسی کا کفرزیادہ شدید ہوتا ہے اورکسی کا کم شدت والا ہوتا ہے۔
آیت میں فرمایا کہ’’جو کفر کرے اور اس میں بڑھتا جائے اس کی توبہ ہرگز قبول نہ
ہوگی‘‘ اس کا یاتو یہ معنیٰ ہے کہ ’’ان کی معافی نہیں ،کیونکہ یہ توبہ ہی نہیں
کرتے یا یہ معنیٰ ہے کہ’’ان کی توبہ مقبول نہیں ، کیونکہ ان کی توبہ دل سے نہیں
بلکہ منافقانہ ہوتی ہے ، دل میں کفر بھرا ہوتا ہے اور زبان سے توبہ کررہے ہوتے ہیں
ایسی توبہ ہرگز قبول نہیں۔ البتہ جو توبہ دل سے کی جائے وہ ضرور مقبول ہے۔
حدیث پاک
میں کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا نے بارگاہ رسالت میں عرض کی یا رسول
اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم زمانہ جاہلیت میں ابن جدعان یعنی بنو تمیم کا مشہور
سخی رشتہ داروں کے ساتھ نیک سلوک کیا کرتا تھا مسکینوں کو کھانا کھلاتا تھا کیا یہ
اعمال اسے آخرت میں نفع دیں گے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا یہ
اعمال اس کے کام نہیں آئیں گے کیونکہ اس نے اللہ پاک پر ایمان نہ رکھنے کی وجہ سے
ایک دن بھی یہ نہیں کہا کہ اے اللہ آخرت میں میری خطاؤں کو بخش دینا۔(مسلم شریف
صفحہ 111 حدیث نمبر 518)
لہٰذا ہمیں
چاہیے کہ ہم مطالعۂ عقائد کو اپنی زندگی کا لازمی حصہ بنائیں تاکہ ہمارا ایمان
مضبوط ہو اور ہم صحیح اسلامی راستے پر قائم رہ سکیں۔ یہی علم ہمیں دنیا و آخرت میں
کامیابی کی طرف لے جاتا ہے۔
Dawateislami