انسان کی
زندگی کا دارومدار اس کے عقیدے پر ہے۔ عقیدہ دل کا یقین ہے جو انسان کے تمام اعمال
کی بنیاد بنتا ہے۔ اگر عقیدہ درست ہو تو عمل بھی درست ہوتا ہے، اور اگر عقیدہ بگڑ
جائے تو پوری زندگی بے مقصد ہو جاتی ہے۔ اسی لیے اسلام میں عقیدے کی درستگی کو سب
سے پہلے رکھا گیا ہے۔
عقیدہ کیا
ہے؟ عقیدہ عربی لفظ "عقد" سے نکلا ہے جس کا مطلب ہے گرہ لگانا، باندھنا۔
اصطلاح میں وہ پختہ یقین جو دل میں راسخ ہو جائے اور جس میں شک کا شائبہ تک نہ ہو،
اسے عقیدہ کہتے ہیں۔ مسلمان کے بنیادی عقائد ہیں: اللہ کی ذات و صفات پر ایمان،
فرشتوں، آسمانی کتابوں، رسولوں، قیامت کے دن اور اچھی بری تقدیر پر ایمان۔
مطالعہ
عقائد کی ضرورت کیوں؟
(1)نجات کا انحصار عقیدے پر ہے: رسول اللہ
ﷺ نے فرمایا: مَنْ مَاتَ وَهُوَ يَعْلَمُ
أَنَّهُ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ دَخَلَ الْجَنَّةَ "جو اس حال میں مرا
کہ وہ جانتا ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ جنت میں داخل ہوگا۔" (صحیح
مسلم: 26)
صرف کلمہ پڑھ لینا کافی نہیں، اس کے معنی اور
تقاضوں کا علم ہونا ضروری ہے۔ یہ علم مطالعے سے ہی آئے گا۔
(2)باطل فرقوں سے حفاظت: آج امت
73 فرقوں میں بٹ چکی ہے، جیسا کہ حدیث میں آیا ہے۔ ان میں سے صرف ایک فرقہ ناجی ہے
جو نبی ﷺ اور صحابہ کے طریقے پر ہوگا۔ مَا أَنَا
عَلَيْهِ وَأَصْحَابِي ۔ (ترمذی: 2641)
جب تک ہم صحیح عقائد کا مطالعہ نہیں کریں گے، ہم
پہچان نہیں سکیں گے کہ حق پر کون ہے۔ بدعتی، خارجی، معتزلہ، قادیانی، منکرین حدیث
جیسے گمراہ فرقے عام مسلمان کو اپنے جال میں پھنسا لیتے ہیں۔
(3) عمل کی قبولیت عقیدے سے مشروط
ہے: قرآن کہتا ہے: وَ مَنْ یَّكْفُرْ بِالْاِیْمَانِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُهٗ٘
ترجمہ کنز
الایمان: اور جو
مسلمان سے کافر ہو اس کا کیا دھرا سب اکارت(ضائع) گیا ۔(المائدۃ: 5)
اگر کوئی شخص ساری زندگی نماز پڑھتا رہے لیکن اس
کا عقیدہ شرکیہ ہو، یا وہ ختم نبوت کا منکر ہو، تو اس کی نمازیں کسی کام کی نہیں۔
(4)شک و شبہ کا ازالہ: موجودہ
دور سوشل میڈیا اور یوٹیوب کا دور ہے۔ ہر شخص دین پر بات کر رہا ہے۔ ملحدین،
مستشرقین اور اسلام دشمن قوتیں سادہ لوح مسلمانوں کے دل میں وسوسے ڈالتی ہیں۔
"تقدیر کا مسئلہ کیا ہے؟"، "عذاب قبر حق ہے یا نہیں؟"،
"اللہ کہاں ہے؟" جیسے سوالات اٹھائے جاتے ہیں۔ ان کا جواب صرف وہی دے
سکتا ہے جس نے علماء اہلسنت کی کتابوں سے عقائد کا مطالعہ کیا ہو۔
مطالعہ
عقائد کی اہمیت:(1) دل کو اطمینان ملتا ہے : جب انسان کو اپنے رب کی معرفت حاصل ہو
جائے، اس کی صفات کا علم ہو جائے، تو دل سے بے چینی ختم ہو جاتی ہے۔
(2) اولاد کی تربیت ممکن ہوتی ہے: بچہ سب
سے پہلے گھر سے سیکھتا ہے۔ اگر والدین کو خود ہی توحید، رسالت، آخرت کا صحیح علم
نہیں ہوگا تو وہ اپنی اولاد کو کیا سکھائیں گے؟ اسی وجہ سے آج کی نسل ملحد ہو رہی
ہے۔
(3)دعوت کا کام مؤثر ہوتا ہے: غیر مسلم
سے بات کرتے وقت سب سے پہلے عقیدہ توحید ہی پیش کیا جاتا ہے۔ اگر ہمیں خود دلائل
نہیں آتے تو ہم کسی کو کیا دعوت دیں گے؟
کن کتابوں کا مطالعہ کریں؟عوام کے لیے
آسان کتابیں: بہار شریعت جلد 1، عقائد اہلسنت از صدر الشریعہ، شرح عقائد نسفی،
اسلامی عقائد از مفتی احمد یار خان نعیمی۔ علماء سے رہنمائی لے کر پڑھیں تاکہ غلط
فہمی نہ ہو۔
یاد رکھیں،
اعمال کی عمارت عقیدے کی بنیاد پر کھڑی ہے۔ بنیاد کمزور ہو تو عمارت گر جاتی ہے۔
لہٰذا نماز، روزے سے پہلے اپنے عقائد درست کریں۔ روزانہ 10 منٹ ہی سہی، مگر مستند
علماء کی کتابوں سے عقائد کا مطالعہ ضرور کریں۔ یہی دنیا و آخرت کی کامیابی کی کنجی
ہے۔
Dawateislami