محمد
حنظلہ (درجہ خامسہ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان مدینہ، کراچی،پاکستان)
ایک
مسلمان کے لیے سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ وہ آخرت میں کامیاب ہو جائے اور آخرت کی
کامیابی کا دارومدار انسان کے عقیدہ کا درست ہونا اور درست عمل ہونے پر ہے۔ عقیدے
اور عمل میں سے عقیدہ سب سے مقدم ہے سب سے پہلا درجہ عقیدے کا ہے اگر ایک مسلمان
عقیدہ درست رکھنے والا ہوگا تو اس کے عمل بھی مقبول ہوں گے اور اگر اس کا عقیدہ
درست نہ ہوا تو اس کے عمر بھر کے کیے جانے والے نیک اعمال عبادات نماز روزہ اور دیے
جانے والے نیک اعمال میں سے زکوۃ صدقات یہ اس کے کسی کام نہیں آئیں گے۔ تو یاد
رکھیے کہ عقیدہ سب سے زیادہ اہم ہے اس وجہ سے ہم اپنے مضمون میں عقیدہ کیا ہونا
چاہیے اور عقیدے کے لیے کیے جانے والے مطالعے کی کتنی اہمیت ضروری ہے اس کے بارے میں
ہم اس مضمون میں بحث کریں گے ۔
ایک مومن
کی زندگی میں درست عقیدے کی اہمیت ایسے ہی ہے جیسا کہ درخت سے اس کے پھلوں کا حاصل
کرنا اور درخت سے پھلوں کا حصول اسی وقت ممکن ہے جب درخت کا وجود ہوگا تو اسی طرح
ایک کامل مومن کے اعمال ، نیکیوں کا ثواب آخرت میں بھی درست عقیدہ رکھنے والوں کو
اللہ تبارک و تعالی اجر عطا فرمائے گا۔"عقیدہ" عربی زبان کا لفظ ہے، جس
کے معنی ہیں: ایسا فیصلہ یا نظریہ جس کے ماننے والوں کیلئے اس میں شک و شبہ کی
گنجائش نہ ہو۔ اصطلاحی اعتبار سے عقیدہ ان دینی امور کا نام ہے جن پر دل بغیر کسی
شک و شبہ کے پختہ ہو جائے۔(حدیقہ ندیہ، 1 / 96)
مسلمان
ہونے کی حیثیت سے عقائد کا علم سیکھنا اور عقائد کو درست رکھنا ہمارے لیے انتہائی
ضروری اور بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ امام اہلسنت، مولانا شاہ امام احمد رضا خان رحمۃ
اللہ علیہ کے فرمان کا خلاصہ ہے کہ سب میں اولین و اہم ترین فرض یہ ہے کہ بنیادی
عقائد کا علم حاصل کرے جس سے آدمی صحیح العقیدہ سنی بنتا ہے اور جن کے انکار و
مخالفت سے کافر یا گمراہ ہو جاتا ہے۔ (فتاویٰ رضویہ، 23 / 623 ماخوذاً)
عقیدہ عمل
پر مقدم ہے یہی وجہ ہے کہ نیک اعمال پر اجر و ثواب کا ملنا عقیدے کی درستی پر
موقوف ہے اگر کسی کا عقیدہ خراب ہے تو اس کے بڑے بڑے نیک اعمال بھی غارت و اکارت
ہو کر آخرت میں کسی کام نہ آئیں گے جیسا کہ قرآن پاک میں ارشاد ہوتا ہے:
اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بَعْدَ اِیْمَانِهِمْ
ثُمَّ ازْدَادُوْا كُفْرًا لَّنْ تُقْبَلَ تَوْبَتُهُمْۚ-وَ اُولٰٓىٕكَ هُمُ
الضَّآلُّوْنَ(۹۰) اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ مَاتُوْا وَ هُمْ كُفَّارٌ فَلَنْ
یُّقْبَلَ مِنْ اَحَدِهِمْ مِّلْءُ الْاَرْضِ ذَهَبًا وَّ لَوِ افْتَدٰى
بِهٖؕ-اُولٰٓىٕكَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ وَّ مَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ۠(۹۱)
ترجمہ
کنزالایمان: بے شک وہ جو ایمان لا کر کافر ہوئے، پھر اور کفر میں بڑھے، ان کی توبہ
ہرگز قبول نہ ہو گی اور وہی ہیں بہکے ہوئے، وہ جو کافر ہوئے اور کافر ہی مرے، ان میں
کسی سے زمین بھر سونا ہرگز قبول نہ کیا جائے گا اگرچہ اپنی خلاصی کو دے، ان کے لئے
دردناک عذاب ہے اور ان کا کوئی یار نہیں۔ (پ 3، آل عمران: 90، 91)
حضرت
عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی: یا رسول اللہ! زمانۂ
جاہلیت میں ابن جدعان (بنو تیم کا مشہور سخی) رشتہ داروں کے ساتھ نیک سلوک کیا
کرتا تھا، مسکینوں کو کھانا کھلاتا تھا، کیا یہ اعمال اسے (آخرت میں) نفع دیں گے؟
نبی کریم صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم نے فرمایا: یہ اعمال اس کے کام نہیں آئیں گے، کیونکہ
اس نے (اللہ پر ایمان نہ رکھنے کی وجہ سے) ایک دن بھی یہ نہیں کہا کہ اے اللہ!
آخرت میں میری خطاؤں کو بخش دینا۔ (مسلم، ص 111، حدیث: 518)
ایک
مسلمان کیلئے ذات و صفاتِ باری تعالیٰ، نبی کریم صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم اور دیگر
انبیاء و مرسلین، ملائکہ مقربین، مرنے کے بعد زندہ ہونے، جنت و دوزخ، منکر نکیر کے
سوالات، حوض کوثر اور پل صراط کے حق ہونے نیز حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا
حضراتِ انبیاء کرام علیہم السلام کے بعد سب سے افضل ہونے وغیرہ عقائد کا اتنا علم
ضروری ہے کہ جس سے صحیح اور غلط عقیدے کی پہچان ہو جائے ۔ عقیدے کی مضبوطی کے لیے
آپ اعلیٰ حضرت کے کتب و رسائل سے فائدہ اٹھا سکتے کیونکہ اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ
نے اپنی مایہ ناز کتب و رسائل میں دلائل کے ذریعے بے دینوں اور بدمذہبوں کے باطل
نظریات کا رد فرما کر قرآن و سنت کی روشنی میں نہ صرف مسلمانوں کے درست عقائد ثابت
فرمائے بلکہ انہیں اپنے عقیدے کی حفاظت کا بھرپور ذہن بھی دیا ہے۔
اگر ہم
خود مختلف کتابوں سے عقیدے کا مطالعہ کریں گے تو اس کا سب سے پہلا فائدہ یہ ہوگا
کہ ہمارے عقیدے میں پختگی آئے گی اور ہم دوسرے مذاہب کہ لوگوں کی باتیں سن کر confusion کا شکار نہیں ہوں گے اور اسی طرح ہم اپنے ساتھ رہنے والے خاندان
دوست احباب کو بھی جب قرآن و سنت اور صحابہ کرام کے معاملات عقیدے کے متعلق بتائیں
گے تو اس سے ان کا بھی عقیدہ اور مضبوط ہو جائے گا اور ان کو اللہ تعالی کا قرب
حاصل ہوگا اللہ پاک ہمیں اپنے اس عقیدے پر ثابت قدم رہنے کی توفیق عطا فرمائے امین
بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علیہ وسلم۔
Dawateislami