اسلامی زندگی کی عمارت جس بنیاد پر قائم ہے، اسے 'عقیدہ' کہا جاتا ہے۔ عقیدہ انسانی وجود میں اس روح کی مانند ہے جس کے بغیر جسم محض ایک بے جان ڈھانچہ رہ جاتا ہے۔ مطالعہ عقائد کا اصل مقصد یہ ہے کہ انسان اپنے خالق، مالک اور کائنات کے اصل حقائق کو دل کی گہرائیوں سے پہچان لے اور اپنی زندگی کو ان نظریات کے سانچے میں ڈھال لے۔ جب تک انسان کا نظریہ اور سوچ درست نہیں ہوتی، اس کے اعمال میں پختگی اور اخلاص پیدا نہیں ہو سکتا۔ اہل سنت و جماعت کا عقیدہ درحقیقت وہی روشن راستہ ہے جو صحابہ کرام، تابعین اور بزرگانِ دین سے تواتر کے ساتھ ہم تک پہنچا ہے۔ دورِ حاضر میں، جہاں طرح طرح کے نئے نظریات جنم لے رہے ہیں، ان کا مطالعہ ہر مسلمان کے لیے ایک مضبوط قلعہ ہے جو اسے فکری انتشار سے بچا کر ایمانِ کامل کی مٹھاس عطا کرتا ہے۔

اہل سنت و جماعت کے بنیادی عقائد کا محور اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور نبی کریم ﷺ کی بے مثال عظمت و محبت ہے۔ قرآنِ پاک میں اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کو یہ ذہن دیا ہے کہ محض اللہ کو مان لینا کافی نہیں جب تک کہ اس کے رسول ﷺ کی کماحقہ تعظیم نہ کی جائے۔

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:لِّتُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ تُعَزِّرُوْهُ وَ تُوَقِّرُوْهُ

ترجمہ کنز الایمان: تاکہ اے لوگو تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور رسول کی تعظیم و توقیرکرو ۔ (سورۃ الفتح، آیت: 9)

اس آیتِ مبارکہ سے واضح ہوتا ہے کہ اللہ پر ایمان لانے کے ساتھ ساتھ رسول اللہ ﷺ کی تعظیم و توقیر کرنا ایمان کا لازمی جزو ہے۔ اہل سنت کا یہ امتیازی وصف ہے کہ وہ شانِ رسالت میں معمولی ادنیٰ سی گستاخی کو بھی ایمان کی بربادی سمجھتے ہیں۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کے ولیوں اور پیاروں کی شان و عظمت کو پہچاننا بھی عقائدِ اہل سنت کا اہم حصہ ہے۔

عقائد کا صحیح مطالعہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ اولیاء اللہ سے محبت کرنا دراصل اللہ ہی سے محبت کرنا ہے، کیونکہ یہ حضرات اللہ کی رضا کے مظہر ہوتے ہیں۔ اہل سنت کا یہ نظریہ کہ اللہ کے پیارے بندے اس کی عطا سے مخلوق کی فریاد رسی کرتے ہیں، اسی قرآنی تصور کی عملی تشریح ہے۔ احادیثِ مبارکہ میں بھی اس جماعت کی پیروی کی سخت تاکید کی گئی ہے جو حق پر قائم ہو اور جس کی تعداد سب سے زیادہ ہو۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:عَلَیْكُمْ بِالسَّوَادِ الْأَعْظَمِ ترجمہ:"تم پر بڑی جماعت (سوادِ اعظم) کی پیروی لازم ہے"۔(سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر: 3950)

تاریخِ اسلام گواہ ہے کہ سوادِ اعظم سے مراد ہمیشہ اہل سنت و جماعت ہی رہے ہیں۔ اسی طرح اہل سنت کے اس عقیدے کی اصل کہ اللہ تعالیٰ اپنے مقرب بندوں کو خاص قوتیں عطا فرماتا ہے، جس کی دلیل اس حدیثِ قدسی میں ملتی ہے:فَإِذَا أَحْبَبْتُهُ كُنْتُ سَمْعَهُ الَّذِي يَسْمَعُ بِهِ، وَبَصَرَهُ الَّذِي يُبْصِرُ بِهِ ترجمہ:"پھر جب میں اس (بندے) سے محبت کرتا ہوں تو میں اس کا کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے، اس کی آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے"۔(صحیح بخاری، حدیث نمبر: 6502)

یہ حدیثِ مبارکہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ اللہ کے محبوب بندوں کی سماعت اور بصارت عام انسانوں جیسی نہیں رہتی بلکہ وہ اللہ کی عطا کردہ نورانی طاقت سے کائنات کے اسرار و رموز کا مشاہدہ فرماتے ہیں۔ مطالعہ عقائد سے یہ حقیقت کھل کر سامنے آتی ہے کہ انبیاء و اولیاء کو اللہ کی عطا سے صاحبِ اختیار ماننا عین توحید ہے اور یہی وہ عقیدہ ہے جو دل میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی حقیقی تڑپ پیدا کرتا ہے۔

عقیدہ اہل سنت و جماعت درحقیقت اسلام کی روح اور بندگی کا جوہر ہے۔ اس کے مطالعے کی ضرورت اس لیے ہے کہ ہم اپنے ایمان کی بنیادوں کو ٹھوس دلائل پر استوار کر سکیں اور کسی بھی گمراہ کن نظریے کا شکار نہ ہوں۔ یہ عقیدہ ہمیں اعتدال سکھاتا ہے، یعنی نہ تو ہم اللہ کی توحید میں کسی کو شریک ٹھہراتے ہیں اور نہ ہی اللہ کے پیاروں کی شان میں تنقیص کے مرتکب ہوتے ہیں۔ عام عوام کے لیے ان عقائد کو سمجھنا اس لیے ضروری ہے تاکہ وہ اولیاء و صالحین کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے دنیا میں بھی فلاح پائیں اور آخرت میں بھی حضورِ اکرم ﷺ کی شفاعتِ کبریٰ کے حقدار ٹھہریں۔ یہی وہ صراطِ مستقیم ہے جس پر چلنے کی دعا ہم ہر نماز میں مانگتے ہیں۔ اپنے ایمان کی حفاظت اور نسلوں کی صحیح فکری تربیت کے لیے ان بنیادی عقائد کا علم حاصل کرنا وقت کی اہم ترین پکار ہے۔