محمد
عفان (درجہ ثانیہ جامعۃ المدینہ فیضان عثمان غنی ،کراچی،پاکستان)
علمِ
عقائد ایک اہم علم ہے جس میں یہ بیان ہوتا ہے کہ ذات و صفاتِ باری تعالیٰ کے بارے
میں مسلمانوں کو کیا عقیدہ رکھنا چاہئے، انبیاءِکرام علیہم الصلاۃ والسلام، حضراتِ
صحابہ اور اولیاء رِضْوَانُ اللہِ عَلَیْھِمْ اَجْمَعِیْن کے متعلق کیا عقیدہ ہونا
چاہئے، قیامت و احوالِ قیامت کیا ہیں، جنّت و دوزخ کسے کہتے ہیں اور ان کے متعلق کیا
عقیدہ رکھنا چاہئے، کن کن چیزوں پر ایمان لانا ضروری ہے اور کن چیزوں کا انکار آدمی
کو کفر و گمراہی کے گھڑے میں پھینک دیتا ہے اور کون سے ایسے افعال ہیں جن کے
کرنے سے آدمی دائرہ اسلام سے خارج ہوجاتا ہے۔مسلمان کے لیے جس طرح ذات و صفات کا
جاننا ضروری ہے، کہ کسی ضروری کا انکار یا محال کا اثبات اسے کافر نہ کر دے، اسی
طرح یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ نبی کے لیے کیاجائز ہے اور کیا واجب اور کیا محال،
کہ واجب کا انکار اور محال کا اقرار موجب کُفر ہے اور بہت ممکن ہے کہ آدمی نادانی
سے خلاف عقیدہ رکھے یا خلاف بات زبان سے نکالے اور ہلاک ہو جائے۔
مطالعۂ عقائد (یعنی اسلامی عقائد کو سیکھنا اور سمجھنا) کی بہت زیادہ
ضرورت اور اہمیت ہے، کیونکہ یہ انسان کے ایمان اور زندگی کی بنیاد ہے۔ اس کی اہمیت
کو مختصر نکات میں یوں بیان کیا جا سکتا ہے:
(1) ایمان کی درستگی:مطالعۂ عقائد انسان کو صحیح ایمان سکھاتا ہے اور غلط عقائد سے بچاتا ہے۔
(2) اللہ کی پہچان:اس کے ذریعے انسان اللہ تعالیٰ کی صفات اور اس کی وحدانیت کو بہتر طریقے سے
سمجھتا ہے۔
(3) اعمال کی درستگی:جب عقیدہ درست ہو تو عبادات اور اعمال بھی صحیح ہوتے ہیں۔
(4) شکوک و شبہات کا ازالہ:عقائد کا علم انسان کو دین کے بارے میں پیدا ہونے والے سوالات اور شبہات کا
جواب دینے کے قابل بناتا ہے۔
(5) آخرت کی تیاری:یہ انسان کو آخرت کی کامیابی کے لیے تیار کرتا ہے اور نجات کا راستہ دکھاتا
ہے۔
(6) دین پر استقامت:صحیح عقیدہ انسان کو دین پر مضبوطی سے قائم رکھتا ہے، چاہے حالات جیسے بھی
ہوں۔
مطالعۂ عقائد ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے کیونکہ یہ ایمان کو مضبوط، زندگی
کو درست اور آخرت کو کامیاب بناتا ہے۔مطالعۂ عقائد کی مزید وضاحت اس طرح کی جا
سکتی ہے کہ یہ صرف معلومات حاصل کرنا نہیں بلکہ اپنے ایمان کو مضبوط بنیادوں پر
قائم کرنا ہے۔
(1) عقیدہ کیا ہے؟عقیدہ ان بنیادی باتوں کو کہتے ہیں جن پر ایک مسلمان کا ایمان ہوتا ہے، جیسے:اللہ تعالیٰ کی وحدانیت (ایک ہونا)،فرشتوں پر ایمان،آسمانی کتابوں پر ایمان،انبیاء علیہم السلام پر
ایمان،قیامت کے دن پر ایمان،تقدیر پر ایمان،یہی چیزیں دین کی بنیاد ہیں، اس لیے ان کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔
(2) مطالعۂ عقائد کیوں ضروری ہے؟ ایمان کو مضبوط بناتا ہے:جب انسان دلائل کے
ساتھ اپنے عقائد کو سمجھتا ہے تو اس کا ایمان مضبوط اور پختہ ہو جاتا ہے، وہ
دوسروں کے اثر میں نہیں آتا۔
گمراہی سے بچاؤ:دنیا میں بہت سے غلط نظریات
اور فرقے موجود ہیں۔ صحیح عقائد کا علم انسان کو ان سے بچاتا ہے۔
صحیح اور غلط میں فرق:مطالعۂ عقائد سے انسان
کو معلوم ہوتا ہے کہ کون سی بات اسلامی تعلیمات کے مطابق ہے اور کون سی نہیں۔
دین پر اعتماد پیدا ہوتا ہے:جب عقائد کو سمجھ لیا
جائے تو انسان کو اپنے دین پر مکمل یقین اور اطمینان حاصل ہوتا ہے۔
دعوتِ دین میں مدد:جو شخص عقائد کو اچھی
طرح سمجھتا ہے، وہ دوسروں کو بھی دین کی صحیح بات سمجھا سکتا ہے۔
(3) عملی زندگی میں اہمیت:مطالعۂ عقائد کا اثر صرف ذہن تک محدود نہیں رہتا بلکہ زندگی پر بھی پڑتا
ہے:
انسان اللہ سے ڈرنے اور اس پر بھروسہ کرنے لگتا ہے،مشکل حالات میں صبر آتا
ہے،نیکی کرنے کا جذبہ بڑھتا ہے،برائی سے بچنے کی قوت پیدا
ہوتی ہے۔
(4) آخرت کے لحاظ سے اہمیت:اسلام میں نجات کا دارومدار سب سے پہلے درست عقیدے پر ہے۔ اگر عقیدہ درست
نہ ہو تو اعمال بھی قبول نہیں ہوتے۔
مطالعۂ عقائد انسان کو صحیح ایمان، مضبوط یقین، اور درست طرزِ زندگی عطا
کرتا ہے۔ یہ دنیا میں کامیابی اور آخرت میں نجات کا بنیادی ذریعہ ہے۔
Dawateislami