الحدیث
الاول: حضرت
ابو ھریرہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد
فرمایا ہرمسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے اس پرواجب ہے کہ وہ اس پر کوئی ظلم
وزیادتی نہ کرے اسے(مدد کی ضرورت ہوتو) بے یارو مددگار نہ چھوڑے اور نہ اسے حقیر
جانے اور نہ اس سے حقارت کا برتاؤ کرےپھر آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے تین
مرتبہ اپنے سینے کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ تقوی یہاں ہوتا ہے آدمی کے برا ہونے
کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر سمجھے اور اس کے ساتھ حقارت
سے پیش آئے مسلمان کی ہر چیز دوسرے مسلمان کے لیے قابل احترام ہےاسکا خون بھی اسکا
مال بھی اور اسکی آبرو بھی ۔(صحیح مسلم)
اس حدیث میں
آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ہر مسلمان کو دوسرے مسلمان کا بھائی قرار
دیکر کچھ معاشرتی حقوق بیان فرماے جن کی وضاحت کرتے ہیں :
پہلا
حق :ان
میں سب سے پہلا حق یہ ہے کہ ان پر کسی قسم کا ظلم نہ کیا جائے اس میں ہر قسم کاظلم
داخل ہے خواہ جسمانی ہو یا مالی ہو زبانی ہو یا نفسیاتی ہو ۔
الحدیث
الثانی :چنانچہ
ایک اور حدیث میں آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا جو مسلمان کسی
مسلمان کو ایسی جگہ بےیار مدد گار چھوڑے گا اللہ تعالٰی اس کو ایسی جگہ بے یار مدد
گار چھوڑے گا جہاں مدد کی ضرورت ہو گی۔ (ابو داؤد)
تیسرا حق:رسول
اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے تیسرا حق یہ بیان فرمایا کہ کوئی مسلمان
کسی دوسرے مسلمان کو نہ حقیر سمجھے اور نہ اس کے ساتھ حقارت کا برتاؤ کرے ۔
رسول اللہ
صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے آخر میں ایک اصولی ہدایت یہ عطا فرمائی کہ
مسلمان کی ہر چیز دوسرے مسلمان کے لیے قابل احترام ہے اس کی جان بھی مال بھی اور
آبرو بھی ۔
یہ مضمون نئے لکھاری کا ہے ،حوالہ جات کی تفتیش و
تصحیح کی ذمہ داری مؤلف کی ہے، ادارہ اس کا ذمہ دار نہیں۔
پیارے پیارے
اسلامی بھائیوں حقوق دو طرح کے ہوتے ہیں ایک حقوق الله یعنی الله کے حقوق اور
دوسرا حقوق العباد یعنی بندوں کے حقوق تو ہم پر اس وجہ سے لازم ہے کہ ہم اللہ کے
بندے اس نے ہمیں پیدا فرمایا وہی ہمارا خالق مالک اور پالنے والا ہے اس وجہ سے ہم
پر اس کے احکامات کی بجا آوری ہم پر لازم ہے ۔
پیارے اسلامی
بھائیو اسلام میں ایک مسلمان کو دوسرے مسلمان کا بھائی کہا گیا ہے چنانچہ اپنے
بھائی کی اصلاح کی فکر کرنا بھی نہایت ضروری ہے اس کا تقاضہ یہ بھی ہے کہ آپس میں
ہمدرد غمگسار اور شفیق حلیم بن کر رہیں اللہ کے رسول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ
وسلَّم نے اس کی مزید وضاحت اس طرح فرمائی مسلمان مسلمان کا بھائی ہے وہ نہ اس
پر ظلم کرتا ہے اور نہ اس کو کسی ہلاکت میں ڈالتا ہے جو شخص اپنے کسی مسلمان بھائی
کی ضرورت پوری کرتا ہے تو اللہ اس کی ضرورت پوری فرماتا ہے اور جو شخص اپنے کسی
مسلمان بھائی سے مصیبت دور کرے تو قیامت کے دن اللہ تعالی اس کی مصیبت میں سے کوئی
مصیبت دور کرے گا ۔
جو شخص کسی مسلمان بھائی کی پردہ پوشی کرے گا تو
اللہ تعالی قیامت کے دن اس کی پردہ پوشی فرمائے گا ۔(البخاری)
نبی کریم
صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے مسلمانوں کو ایک جسم کی مانند فرمایا ہے کہ اگر
آنکھ کو تکلیف ہو تو سارے جسم کو تکلیف ہوتی ہےاخلاقی طور پر ایک مسلمان اگر اپنے
کسی دوسرے مسلمان بھائی میں کوئی برائی یا خرابی دیکھے تو اسے بڑی حکمت سے دور
کرنے کی کوشش کریں کیونکہ بعض اوقات یوں ہوتا ہے کہ کسی کو یہ احساس نہیں ہوتا کہ
وہ برائی کر رہا ہے کیونکہ اس میں احساس برائی ختم ہو چکا ہوتا ہے اس لیے کسی
مسلمان میں برائی ہو تو اس میں احساس پیدا کریں کہ تمہارا فلاں عمل برا ہے اس کی
اصلاح کر لو ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر پانچ حقوق ہیں سلام کا جواب دینا مریض
کی عیادت کرنا جنازے کے ساتھ جانا دعوت کا قبول کرنا اور چھینک کا جواب دینا ۔
حدیث مبارکہ:
ایک مسلمان کے
دوسرے مسلمان پر چھ حقوق ہیں جب تو اسے ملے تو اسے سلام کرے جب وہ تجھے دعوت دے تو
تو اس کی دعوت قبول کرے جب وہ تجھ سے مشورہ مانگے تو تو اسے اچھا مشورہ دے جب وہ
بیمار ہو تو اس کی عیادت کرے اور جب وہ مر جائے تو اس کے جنازے کے ساتھ جائے حضرت
ابو موسی رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ صلَّی اللہ
علیہ واٰلہٖ وسلَّم کون سا اسلام افضل ہے تو نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ
وسلَّم نے فرمایا وہ جس کے ماننے والے مسلمان کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان
سلامتی میں رہیں۔ (صحیح البخاری کتاب الایمان حدیث نمبر 11)
یہ مضمون نئے لکھاری کا ہے ،حوالہ جات کی تفتیش و
تصحیح کی ذمہ داری مؤلف کی ہے، ادارہ اس کا ذمہ دار نہیں۔
اسلام نے
معاشرے میں مؤمن کی شان کو واضح کرنے کےلئے حقوق مقرر کئے ہیں تاکہ ان حقوق پر عمل
پیرا ہوکر مسلمان ایک دوسرے سے محبت کریں، ان میں اتحاد و اتفاق اور محبت و الفت بڑھے،
کہیں بھی بَدْ اَمْنی نظر نہ آئے، ان کے دلوں سے کینہ و نفرت نکل جائے اور ان میں حقیقی
بھائی چارا کی فضا قائم ہوجائے۔ آئیے! ان میں سے چند حقوق کا مطالعہ کرتے ہیں:
(1)معاف
کرنا: حقوقُ
العباد میں سے یہ بھی ہے کہ مسلمان بھائی کی غلطی و خطا سے درگزر کیا جائے اگر
کوئی بُرا فعل یا قول سنے تو معاف کر دیا جائے۔ جیسا کہ حضورِ اکرم صلَّی اللہ
علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: جس نے کسی مسلمان بھائی کی لغزش کو معاف کیا
تو اللہ پاک اسے قیامت کے دن معاف فرمادے
گا۔(شعب الایمان، 6/314،حدیث: 8310)
(2)حُسنِ
اَخلاق:
ہمیں چاہئے کہ اپنے مسلمان بھائیوں کے ساتھ حسنِ اخلاق سے پیش آئیں اور ان کے ساتھ
گالی گلوچ سے پرہیزکریں۔
(3)حاجت
روائی کرنا:مسلمان
بھائی کی حاجت روائی کرنے کا عظیم ثواب ہے،
حضرت عبداللہ بن عمر اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہُ عنہما فرماتے ہیں: جو اپنے کسی
مسلمان بھائی کی حاجت روائی کے لئے جاتا ہے اللہ پاک اس پر پچھتر ہزار فرشتوں کے
ذریعے سایہ فرماتا ہے وہ فرشتے اس کے لئے دعا کرتے رہتے ہیں اور فارغ ہونے تک رحمت
میں غوطہ زن رہتا ہے اور جب وہ اس کام سے فارغ ہو جاتا ہے تو اللہ پاک اس کے لئے
ایک حج اورایک عمرے کا ثواب لکھتا ہے۔ (الترغيب والترہيب، 4/163، حدیث: 5337)
(4)عیادت
کرنا: ہمیں
مسلمان بھائیوں کی عیادت بھی کرنی چاہئے، عیادت کرنے سے مریض کا دل خوش اور اسے
سکون بھی حاصل ہوتا ہے، اس کی فضیلت کے حوالے سے حضور علیہ السّلام نے فرمایا: جس
شخص نے مریض کی عیادت کی وہ ہمیشہ خُرْفَۂ جنّت میں رہے گا۔ آپ سے پوچھا گیا: یا
رسولَ اللہ! خرفۂ جنت کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: جنت کا باغ۔(مسلم، ص1066، حدیث: 6554)
(5)چھ
متفرق حقوق:
رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:ایک ایمان والے کے
دوسرے ایمان والے پر چھ حقوق ہیں: (1)جب بیمار ہو تو اس کی عیادت کرے(2)مر جائے تو
جنازے میں شریک ہو(3)بلائے تو اس کی دعوت قبول کرے (4)جب ملے تو سلام کرے (5)چھینکے
تو اس کا جواب دے (6)اس کے لئے وہی پسند کرے جو اپنے لئے کرے۔(مشکاۃ،
2/164،حدیث:4643)
اس کے علاوہ
اور بھی مسلمانوں کے بہت سارے حقوق ہیں مثلاً کمزوروں کی مدد کرنا، غریبوں اور محتاجوں
کی حاجت روائی، مظلوم کی داد رسی، ناراض مسلمانوں کی صلح کروانا، غیبت نہ کرنا، عیوب
کی پردہ پوشی کرنا، نیکی کا حکم دینا، بُرائی سے منع کرنا وغیرہ وغیرہ۔
اللہ پاک ہمیں
مسلمانوں کے حقوق کی پاسداری کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔اٰمِیْن بِجَاہِ خَاتَمِ
النَّبِیّٖن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
یہ مضمون نئے لکھاری کا ہے ،حوالہ جات کی تفتیش و
تصحیح کی ذمہ داری مؤلف کی ہے، ادارہ اس کا ذمہ دار نہیں۔
گل شیر علی عطّاری
درجہ سابعہ جامعۃُ المدینہ فیضانِ مدینہ عطار ٹاؤن میر پور خاص، پاکستان)
پیارے اسلامی
بھائیو اللہ پاک نے قران مجید فرقان حمید میں والدین کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ
ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو اور اس کے علاوہ نبی کریم رؤف الرحیم صلَّی اللہ
علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی کئی احادیث طیبہ والدین کی فرمانبرداری کے بارے میں بھی
آئی ہیں اور ان کے علاوہ نبی پاک علیہ الصلوٰۃ والسلام کے کئی فرامین والدین کے
نافرمان کی وعیدوں پر مشتمل ہیں چنانچہ اللہ تعالیٰ پارہ 15 سورہ بنی اسرائیل کی
آیت نمبر 23 میں ارشاد فرماتا ہے: وَ قَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّاۤ
اِیَّاهُ وَ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًاؕ۔اِمَّا یَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ
اَحَدُهُمَاۤ اَوْ كِلٰهُمَا فَلَا تَقُلْ لَّهُمَاۤ اُفٍّ وَّ لَا تَنْهَرْهُمَا
وَ قُلْ لَّهُمَا قَوْلًا كَرِیْمًا(23)
ترجمہ کنزالایمان: اور
تمہارے رب نے حکم فرمایا کہ اس کے سوا کسی کو نہ پوجو اور ماں باپ کے ساتھ اچھا
سلوک کرو اگر تیرے سامنے ان میں ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان سے
ہُوں(اُف تک)نہ کہنا اور انہیں نہ جھڑکنا اور ان سے تعظیم کی بات کہنا۔ (پ 15، بنی
اسرائیل: 23)
اللہ تعالیٰ
نے اپنی عبادت کا حکم دینے کے بعد اس کے ساتھ ہی ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرنے
کا حکم دیا،اس میں حکمت یہ ہے کہ انسان کے وجود کا حقیقی
سبب اللہ تعالیٰ کی تخلیق اور اِیجاد ہے جبکہ ظاہری سبب اس کے ماں باپ
ہیں ا س لئے اللہ تعالیٰ نے پہلے انسانی وجود کے حقیقی سبب کی تعظیم کا
حکم دیا،پھر اس کے ساتھ ظاہری سبب کی تعظیم کا حکم دیا۔ ا ٓیت کا معنی یہ ہے کہ
تمہارے رب عَزَّوَجَلَّ نے حکم فرمایا کہ تم اپنے والدین کے ساتھ
انتہائی اچھے طریقے سے نیک سلوک کرو کیونکہ جس طرح والدین کا تم پر احسان بہت عظیم
ہے تو تم پر لازم ہے کہ تم بھی ان کے ساتھ اسی طرح نیک سلوک کرو۔(تفسیرکبیر،
الاسراء، تحت الآیۃ: 23، 7/321،323) اور نبی پاک صاحب لولاک صلَّی اللہ
علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی احادیث مبارکہ پیش کی جاتی ہیں۔
(1)حضرت
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہ ایک شخص نے عرض کی، یا رسولَ
اللہ! صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم، سب سے زیادہ حسنِ صحبت (یعنی احسان) کا
مستحق کون ہے؟ ارشاد فرمایا: ’’تمہاری ماں (یعنی ماں کا حق سب سے زیادہ ہے۔) انہوں
نے پوچھا، پھر کون؟ ارشاد فرمایا:’’تمہاری ماں۔ انہوں نے پوچھا، پھر کون؟ حضورِ
اقدس صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے پھر ماں کو بتایا۔ انہوں نے پھر پوچھا
کہ پھر کون؟ ارشاد فرمایا: تمہارا والد۔(بخاری، کتاب الادب، باب من احقّ الناس
بحسن الصحبۃ، 4/93، الحدیث:5971)
(2)ام
المومنین حضرت سیدنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ
صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے عرض کی کہ یا رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ
وسلَّم عورت پر سب سے بڑا حق کس کا ہے ؟ تو نبی کریم روف الرحیم صلَّی اللہ علیہ
واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا شوہر کا پھر میں عرض کی یا رسول اللہ صلَّی اللہ
علیہ واٰلہٖ وسلَّم اور مرد پر سب سے بڑا حق کس کا ہے ؟ تو نبی کریم روف الرحیم
صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا اس کی ماں کا۔(المستدرک۔ کتاب البر
والصلۃ۔ باب بر امک ثم اباک ثم الاقرب فالاقرب۔الحدیث 7326۔ ج 5۔ ص 208۔)
(3)حضرت اسماء
رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہافرماتی ہیں ’’جس زمانہ میں قریش نے نبی کریم صلَّی
اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے معاہدہ کیا تھا،میری ماں جو مشرکہ تھی میرے پاس
آئی، میں نے عرض کی، یا رسولَ اللہ!صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم، میری
ماں آئی ہے اور وہ اسلام کی طرف راغب ہے یا وہ اسلام سے اِعراض کیے ہوئے ہے، کیا
میں اس کے ساتھ سلوک کروں ؟ ارشاد فرمایا: ’’اس کے ساتھ سلوک کرو۔(بخاری، کتاب
الادب، باب صلۃ الوالد المشرک، 4/96، الحدیث: 5978)یعنی کافرہ ماں کے ساتھ بھی اچھا سلوک
کیا جائے گا۔
(4)حضرت عائشہ
صدیقہ رَضِیَ اللہ عَنْہا سے روایت ہے، رسولُ اللہ صلَّی اللہ
علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: میں جنت میں گیا اس میں قرآن پڑھنے کی
آواز سنی، میں نے پوچھا:یہ کون پڑھتا ہے؟ فرشتوں نے کہا، حارثہ بن
نعمان رَضِیَ اللہ عَنْہُ ہیں۔ حضورِ اقدس صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ
وسلَّم نے فرمایا: ’’یہی حال ہے احسان کا، یہی حال ہے احسان کا۔(شرح السنّۃ،
کتاب البرّ والصلۃ، باب برّ الوالدین، 6/426، الحدیث: 3312)اور شعب الایمان کی روایت میں مزید یہ
بھی ہے کہ ’’ حارثہ رَضِیَ اللہ عَنْہُ اپنی ماں کے ساتھ بہت بھلائی کرتے
تھے۔(شعب الایمان، الخامس والخمسون من شعب الایمان۔۔۔ الخ، 6/184، الحدیث: 7851)
(5)… حضرت ابو
ہریرہ رَضِیَ اللہ عَنْہُ سے روایت ہے، رسولِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ
وسلَّم نے ارشاد فرمایا ’’اس شخص کی ناک خاک آلود ہو، پھر اس شخص کی ناک خاک
آلود ہو، پھر اس شخص کی ناک خاک آلود ہو۔ صحابۂ کرام رَضِیَ اللہ
عَنْہُمْ نے عرض کی: یارسولَ اللہ!صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم، کس کی
ناک خاک آلود ہو؟ ارشاد فرمایا ’’جس نے اپنے ماں باپ دونوں یا ان میں سے کسی ایک
کو بڑھاپے کی حالت میں پایا، پھر وہ شخص جنت میں داخل نہ ہوا۔(مسلم، کتاب البر
والصلۃ والآداب، باب رغم من ادرک ابویہ او احدہما عند الکبر۔۔۔ الخ، ص1381، الحدیث:9(2551)
مذکورہ آیت
مبارکہ اور احادیث مبارکہ سے والدین خصوصاً ماں کی فرمانبرداری کی اہمیت پتا چل
گئی ہوگی ان احادیث طیبہ اور آیت مبارکہ سے ہمیں سبق حاصل کرنا چاہئے اگر ہم آیت
پاک اور حدیث پاک پر عمل کریں گے تو دنیا میں بھی کامیاب اور آخرت میں بھی کامیاب
۔
اللہ
عَزَّوَجَلَّ ہمیں والدین کے ساتھ نیک سلوک کرنے اور ان کے حقوق ادا کرنے کی
توفیق عطا فرمائے اور والدین کی نافرمانی سے بچائے۔ والدین کے ساتھ نیک سلوک کرنے
اور ان کے حقوق سے متعلق مزید معلومات کے لئے فتاویٰ رضویہ کی جلد
نمبر 24 سے رسالہ ”اَلْحُقُوْقْ لِطَرْحِ الْعُقُوقْ‘‘(نافرمانی
کو ختم کرنے کے لئے حقوق کی تفصیل کا بیان)اور بہار شریعت حصہ 16 سے ’’سلوک
کا بیان‘‘ مطالعہ کیجئے۔
یہ مضمون نئے لکھاری کا ہے ،حوالہ جات کی تفتیش و
تصحیح کی ذمہ داری مؤلف کی ہے، ادارہ اس کا ذمہ دار نہیں۔
محمد دانش عطّاری
(درجۂ ثالثہ جامعۃ المدینہ فیضان غوث اعظم ساندہ لاہور، پاکستان)
اللہ عزوجل کا
لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اس نے ہمیں انسان پیدا کیا اور اس سے بھی بڑا فضل یہ ہے کہ اس
نے ہمیں مسلمانوں کے گھر میں پیدا کیا اور ہماری خوش نصیبی ہے کہ اللہ تعالی نے
ہمیں اپنےپیارےآخری نبی محمدمصطفٰےصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا اُمتی بنایا۔
اسلامی تعلیمات میں حقوق العباد کوخاص اہمیت حاصل ہے اور حقوق العباد میں سے بھی
حقوق والدین اور حقوق والدین میں سے والدہ کے حقوق کو بہت فوقیت حاصل ہے یہ ایسے
حقوق ہے جن کی ادائیگی بندہ پوری زندگی ادا نہیں کر سکتا تو آئیے ہم احادیث کی
روشنی میں والدہ کے حقوق بیان کرتیں ہیں!
(1)جنت
ماں کے قدموں کے نیچے ہے! حضرت جاہمہ رضی اللہ عنہ نبی کریم
صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی بارگاہِ اقدس میں حاضر ہو کر عرض کی: یار سول
الله صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم! میں راہِ خدا میں لڑنا چاہتا ہوں اور آپ کی
بارگاہ میں مشورہ کرنے کے لیے حاضر ہوا ہوں۔ رسولِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ
وسلَّم نے ارشاد فرمایا: کیا تمہاری ماں ہے؟عرض کی: جی ہاں۔ ارشاد فرمایا: فَالْزَمْهَا فَاِنَّ
الْجَنَّةَ تَحْتَ رِجْلَيْهَا اس کی خدمت کو اپنے اوپر لازم کر لو،
کیونکہ جنت اس کے قدموں کے نیچے ہے۔(نسائی، كتاب الجهاد الرخصة فى التخلف لمن له
والدة، ص 504، حدیث: 3101)سبحان
اللہ والدہ کا حق کس قدر مقدم ہے کہ جہاد میں جانے سے روک دیا اور والدہ کی خدمت
کا حکم فرمایا
(2)نبی
پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے
چادر بچھادی! حضرت
ابوطفیل رضی اللہُ عنہ فرماتے ہیں:
ایک بی بی صاحبہ آئیں یہاں تک کہ وہ حضورِ انور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے
قریب پہنچ گئیں۔ نبی پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ان کے لئے (کھڑے ہو گئے
اور) اپنی چادر مبارک بچھادی۔ چنانچہ وہ بی بی صاحبہ اس پر بیٹھ گئیں۔ میں نے
پوچھا: یہ کون ہیں؟ لوگوں نے کہا: یہ رسول اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی
وہ ماں ہیں جنہوں نے آپ کو دودھ پلایا ہے۔ (ابوداود، کتاب الادب، باب فی بر
الوالدین، 4/434، حدیث: 5144)
(3)
حسن سلوک کا زیادہ مستحق کون؟ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں
کہ ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم بہتر سلوک کا
سب سے زیادہ مستحق کون ہے؟ فرمایا تمہاری ماں، اس آدمی نے دوبارہ پھر پوچھا، تو
نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے دوسری مرتبہ پھر فرمایا تمہاری ماں، تو
اس نے تیسری بار پھر پوچھا؛تونبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے تیسری
مرتبہ پھر فرمایا تمہاری ماں، پھر تمہارا باپ، پھر جو تم سے رشتہ داری میں قریب
ہو۔ (تحفۃ المنعم، ج: 7، ص: 574، ط: مکتبہ ایمان ویقین)
(4)جنت
کی چوکھٹ چومنا :
نبی كريم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: جس نے اپنی والدہ کا
پاؤں چوما، تو ایسا ہے جیسے جنت کی چوکھٹ (یعنی دروازے) کو بوسہ دیا۔ (در مختار،ج 9 ص 202 دار
المعرفۃ بيروت)
(5)والدہ کے حقوق میں سے چند حقوق ملاحظہ
فرمائیں :(1)احترام
کرنا۔زبان سے اُف تک نہ کہے(2)محبت کرنا۔ہاتھ پاؤں چومنا(3)اطاعت: ان کی فرماں
برداری کرنا (4)خدمت: ان کے کام کرنا۔حکم بجا لانا (5)ان کو آرام پہنچانا (6)ان کی
ضروریات کو پوری کرنا۔(7)قرض ادا کرنا (8)جب فوت ہوجائے تو دعائے مغفرت کرنا (9)ان
کی جائز وصیت پر عمل کرنا (10)گاہ گاہ ان کی قبر کی زیارت کرنا۔
(نوٹ)اب
دیکھیں کہ والدہ کا ادب و احترام کس قدر اہم ہے کہ حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ
وسلَّم ان کہ ادب و احترام کیلئے کھڑے ہو گئے اور اپنی مزمل والی چادر ان کیلئے
بچھا دی جنہوں نے حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو دودھ پلایا اور وہ حضور
صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی سگی والدہ نہیں تھی پھر بھی آپ صلَّی اللہ علیہ
واٰلہٖ وسلَّم ان کے ادب کیلئے کھڑے ہو گئے تو ہمیں بھی اپنی والدہ کا اسی طرح ادب
و احترام کرنا چاہئے۔
لہٰذا ہمیں
چاہئے کہ ہم بھی اپنی والدہ چاہے وہ سگی ہو یا، سوتیلی ہو یا رضاعی والدہ ہوں اس
کا دل و جان سے ادب کریں، اس کی ضروریات کا خیال رکھیں، اس سے اچھے لہجے میں بات
کریں، اس کے جذبات کا خیال رکھیں، اس کو تکلیف دینے سے بچیں، اس کی اُمیدوں پر
پورا اترنے کی کوشش کریں، ان کے ساتھ اچھا سلوک کرتے رہیں، اس کی بات توجہ سے
سنیں، اس کا ہر جائز حکم مانیں ۔ الغرض جب تک کوئی مانع شرعی نہ ہو ماں باپ کے
حقوق ادا کریں، یوں اللہ پاک کی رضا پانے والے حق داروں میں شامل ہو جائیں۔ اللہ
تعالیٰ ہمیں اپنے والدین کی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین۔
یہ مضمون نئے لکھاری کا ہے ،حوالہ جات کی تفتیش و
تصحیح کی ذمہ داری مؤلف کی ہے، ادارہ اس کا ذمہ دار نہیں۔
محمد عمر ریاض (درجۂ ثالثہ جامعۃ المدینہ فیضان
فاروق اعظم سادھوکی لاہور،پاکستان)
اللہ تبارک و
تعالیٰ نے انسان کو مختلف بیشمار نعمتوں سے نوازا ہے۔انہی نعمتوں میں سے ایک نعمت
والدہ بھی ہے۔والدہ کم و بیش نو مہینے تک مختلف تکالیف اور صعوبتیں برداشت کر کے
اپنے بچے کو پیدا کرتی ہے، اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی عبادت کا حکم دینے کے بعد
اس کے ساتھ ہی ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کا حکم ارشاد فرمایا، انسان کے وجود
کا حقیقی سبب اللہ تبارک و تعالیٰ کی تخلیق ہے جبکہ ظاہری سبب اس کے ماں باپ
ہے،نبی پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے بھی ماں باپ کی فرمانبرداری میں بہت
سی احادیث ارشاد فرمائی ہے۔
(1)
زیادہ حسن سلوک کا مستحق کون: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے
مروی ہے کہ نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی بارگاہ میں ایک شخص حاضر
ہوا اور عرض کیا لوگوں میں میرے حسن سلوک کا سب سے زیادہ مستحق کون ہے؟حضور پاک
صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: تمہاری والدہ اس شخص نے عرض کیا پھر
کون؟حضور پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: تمہاری والدہ اس شخص نے
عرض کیا پھر کون؟ حضور پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: تمہاری
والدہ،اس شخص نے عرض کیا پھر کون؟حضور پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے
فرمایا: تمہارا باپ۔ (بحوالہ:بخاری شریف جلد 2٫ صفحہ 303)
(2)قدموں
کے تلے جنت: ایک
شخص بارگاہ اقدس صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم میں جہاد میں شرکت سے متعلق مشورہ
لینے حاضر ہوا، تو نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اس سے استفسار
فرمایا:کیا تمہاری والدہ زندہ ہے؟اس شخص نے عرض کی:جی ہاں!تو آپ صلَّی اللہ علیہ
واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ماں کی خدمت کرو جنت والدہ کے قدموں کے نیچے۔
(بحوالہ:سنن النسائی کتاب الجھاد صفحہ 301)
(3)
والدہ کی آنکھوں کو بوسہ دینا: تاجدار رسالت صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ
وسلَّم نے ارشاد فرمایا:جو آدمی اپنی والدہ کی آنکھوں کو بوسہ دیتا ہے تو اس کا یہ
بوسہ لینا بروز قیامت اس کے اور جہنم کے درمیان پردہ بن جائے گا ۔(بحوالہ: شعب
الایمان٫حدیث 7861)
(4)ماں
کی خدمت کا ثواب: نبی
اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:بِرُّ الوَالِدَۃِ عَلَی
الْوَلَدِ ضِعْفَانِ:ترجمہ:ماں کے ساتھ نیکی کرنے کا ثواب باپ کے
مقابلے میں دوگنا ہے۔(بحوالہ: احیاء العلوم جلد 2 ٫صفحہ 783)
(5)ماں
کی دعا جلد قبول ہوتی ہے: ماں کی دعا جلد قبول ہوتی ہےعرض کی گئی
یا رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اس کی کیا وجہ ہے؟آپ صلَّی اللہ علیہ
واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:ماں باپ کے مقابلے میں زیادہ مہربان ہوتی ہے اور
ماں کی دعا رد نہیں ہوتی ۔ (بحوالہ: طبقات الشافیتہ الکبری للسبکی٫صفحہ 315)
(6)
مقبول حج کا ثواب: حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی
ہے کہ جو مسلمان اپنے ماں باپ کے چہرے کی طرف محبت کی نظر سے دیکھتا ہے اللہ
تعالیٰ اس کو مقبول حج کا ثواب عطا فرماتا ہے ۔(بحوالہ: کنزالعمال جلد٫16صفحہ 476)
والدہ کا ادب
واحترام کرنا حدیث مبارکہ سے بھی ثابت ہے اللہ تبارک و تعالیٰ ہمیں والدہ کی
فرمانبرداری کرنے اور ان کے حقوق ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین بجاہ النبی
الامین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
یہ مضمون نئے لکھاری کا ہے ،حوالہ جات کی تفتیش و
تصحیح کی ذمہ داری مؤلف کی ہے، ادارہ اس کا ذمہ دار نہیں۔
راشد علی عطاری (درجۂ
سادسہ جامعۃ المدینہ شاہ عالم مارکیٹ لاہور، پاکستان)
ماں کی شان کے
کیا کہنے وہ ایک ماں ہی کی ہستی تھی کہ بھوک پیاس کی شدت سےجس کا دودھ خشک ہو گیا
اور اپنے خشک حلق کے ساتھ بچے کےلیےپانی کی تلاش میں صفا و مروہ کی پہاڑیوں پر
دوڑتی ہے اور اللہ تعالیٰ کو ایک ماں کی ادا اس طرح پسند آئی کہ اللہ تعالیٰ نے
قیامت تک کے لیے حاجیوں کے لیے صفا و مروہ میں اسی طرح دوڑنا اپنی عبادت قرار دے
دیا تاکہ جب وہ دوڑیں تو انہیں ماں کی محبت کا احساس ہو اور ماں کے مقام کا پتا
چلے ماں کی عظمت ان پر آشکار ہو جائے ماں کی فرمانبرداری میں چند ایک احادیث
مبارکہ پیش خدمت ہیں:
گناہوں کا کفارہ : ماں سے محبت و
حسن سلوک سے پیش آنا گزشتہ گناہوں کےلئے بطور کفارہ بھی ہے۔حضرت عبداللہ رضی اللہ
تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں ایک شخص نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی خدمت
میں حاضر ہوا اور عرض کی یارسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم مجھ سے ایک
بہت بڑا گناہ سرزد ہو گیا ہے کیا میرے لیے توبہ ہے ؟حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ
وسلَّم نے فرمایا کیا تیری ماں زندہ ہے ؟اس نے عرض کی نہیں!فرمایا کیا تیری خالہ
ہے ؟عرض کی جی ہاں! نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا اپنی خالہ
سے حسن سلوک کرو۔(الجامع ترمذی،صفحہ:772،حدیث1904)
جنت کی چوکھٹ : ماں کے قدموں
کے نیچے جنت ہے ماں کی خدمت کرنا جہاد سے بھی افضل عبادت ہے۔حضرت طلحہ رضی اللہ
تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں ایک شخص حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی خدمت میں
حاضر ہوا اور عرض کی یا رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم میں جہاد میں
شریک ہونا چاہتا ہوں اور میں اس سلسلے میں آپکی اجازت لینے آیا ہوا ہوں نبی کریم
صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا کیا تیری والدہ زندہ ہے ؟عرض کی:جی ہاں!
فرمایا ہمیشہ اسکے قدموں سے چمٹے رہو کیونکہ اس کے قدموں میں جنت ہے اس شخص نے تین
بار عرض کی تو آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ویسے ہی جواب دیا۔(مجمع
الزوائد،جلد8،صفحہ137)
جنت میں تلاوت قرآن کا شرف : سبحان
اللہ عزوجل ماں باپ کی خدمت کیسی عظیم نیکی ہےجس کا اجر جنت میں قرآن پاک کی تلاوت
کا شرف ہے۔حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور صلَّی اللہ علیہ
واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا میں جنت میں داخل ہوا تو میں نے قرآن پاک کی تلاوت کی
آواز سنی میں نے پوچھا یہ کون ہے؟فرشتوں نے عرض کی حارثہ بن نعمان رضی اللہ تعالیٰ
عنہ رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا نیکی کا اجر ایسے ہی ہوا
کرتا ہے نیکی کا اجر ایسے ہی ہوا کرتا ہے۔(المستدرک علی الصحیحین،جلد3،صفحہ208) اس
کی وجہ یہ تھی کہ حارثہ بن نعمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ دیگر لوگوں کی نسبت اپنی ماں
کے زیادہ خدمت گزار تھے۔
جہنم کی آگ سے حجاب : ماں کو بوسہ
دینا جہنم کی آگ سے بچنے کا بھی ایک ذریعہ ہے۔حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما
سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا جس
شخص نے اپنی ماں کی آنکھوں کے درمیان بوسہ دیاوہ بوسہ اس کے لیے جہنم کی آگ سے
حجاب ہوگا۔(کنزالعمال،جلد16،صفحہ462)
ہر مسلمان یہ
چاہتا ہے کہ مجھ سے جو گناہ سرزد ہوگئے ہیں اللہ تعالیٰ ان کو معاف فرما دےمیری
بخشش ہو جائے ان احادیث مبارکہ سے پتہ چلا کہ اگر بتقاضائے بشریت گناہ سرزد ہو
جائے تو اسے چاہئے کہ سچے دل سے توبہ کرے اور خلوص دل سے ماں باپ کی خدمت کرتا رہے
ان شاءاللہ عزوجل ماں باپ کی خدمت کی وجہ سے بخشش کی امید ہے۔
اللہ تعالیٰ
ہمیں والدین سے حسن سلوک کرنے اور انکی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ثم
آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
یہ مضمون نئے لکھاری کا ہے ،حوالہ جات کی تفتیش و
تصحیح کی ذمہ داری مؤلف کی ہے، ادارہ اس کا ذمہ دار نہیں۔
محمد مبشر حسین (درجۂ
رابعہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور،پاکستان)
والدہ کا مقام
و مرتبہ بہت بلند و بالا ہے اس لیے ہمیں چاہیے کہ والدہ کی فرمانبرداری اور احترام
کا خیال رکھیں۔ اورانہیں کبھی ناراض نہ کریں تاکہ ہم اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کے
ساتھ جنت کے حقدار بن سکیں۔
1
۔ حالت نماز میں ماں کے بلانے پر چلے جاؤ: حضرت جابر سے روایت ہے نماز کی
حالت میں تمہیں ماں باپ بلائیں تو ماں کے بلانے پر چلے جاؤ اور باپ کے بلانے پر نہ
جاو۔ (کنزالعمال ج470،16)
2۔ماں
کے پیڑوں سے چمٹے رہو وہی جنت ہے: حضرت طلحہ بن معاویہ سلمی رضی اللہ
تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی پاک صل اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا
میں نے عرض کیا یا رسول الله!میں جہاد فی سبیل اللہ کا ارادہ رکھتا ہوں آپ نے
فرمایا تمہاری ماں زندہ ہے۔ میں نے کہا جی آپ نے فرمایا اس سے پیروں کے ساتھ چمٹے
رہو وہی جنت ہے۔( شرح صحیح مسلم، کتاب کتاب البر والصلتہ و الادب ج 7 ص45)
3۔جہنم
کی آگ سے حجاب ہوگا: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ جس
شخص نے اپنی ماں کی آنکھوں کے درمیان بوسہ دیا وہ بوسہ اس کے لیے جہنم کی آگ سے
حجاب ہوگا ۔ (کنزالعمال،ج16ص462)
4۔
اپنی ماں سے صلح رحمی کرو: حضرت سیدتنا اسماء بنت ابو کر رضی اللہ
عنھما سے روایت ہے فرماتی ہیں رسول کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے زمانے
میں میرے پاس آئی اور وہ اس وقت مشرکہ تھی تو میں نے رسول اللہ صلی علیہ وسلم سے
سوال کرتے ہوئے عرض کی میری ماں میری پاس آئی ہے اور اسے کچھ طمع ہے، کیا میں اپنی
ماں سے صلح رحمی کروں ؟ فرمایا۔ ہاں اپنی ماں سے صلح رحمی کرو۔( بخاری، کتاب
الھبتہ وفضلھا۔۔۔۔۔الخ باب الھدیتہ للمشرکین،2/،182حدیث2620)
5۔سب
سے زیادہ حسن سلوک کا حقدار: حضرت سیدنا ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ سے
مروی ہے کہ ایک شخص نے بارگاہ رسالت میں حاضر ہو کر عرض کی لوگوں میں سے سب سے
زیادہ میرے حسن سلوک کا حقدار کون ہے؟حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے
فرمایا تیری ماں عرض کی پھر کون ارشاد فرمایا پھر تیری ماں عرض کی پھر کون ارشاد
فرمایا پھر تیری ماں۔(مسلم،البر والصلتہ والادب،باب والدین انھما احق بہ، ص 1378،
حدیث 2548)
یہ مضمون نئے لکھاری کا ہے ،حوالہ جات کی تفتیش و
تصحیح کی ذمہ داری مؤلف کی ہے، ادارہ اس کا ذمہ دار نہیں۔
اسلام میں ماں
کی بہت زیادہ اہمیت ہے اس بات کا اندازہ حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کے
فرمان” جنت ماں کے قدموں تلے ہے “ سے لگایا جا سکتا ہے۔ اللہ تعالٰی نے بھی اُن کو
اُف تک کہنے سے منع فرمایا ہے۔ ماں کی عظمت کے متعلق چند فرامین مصطفی صلی اللہ
تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم درج ذیل ہیں:
(1)
حسن سلوک کا سب سے زیادہ حقدار: حضرت سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے
روایت ہے ایک شخص نے بارگاہ نبوی میں حاضر ہو کر عرض کی لوگوں میں سب سے زیادہ
میرے حسن سلوں کا حقدار کون ہے حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا تیری
ماں پھر عرض کی کون ؟ ارشاد فرمایا تیری ماں۔ پھر عرض کی کون؟ ارشاد فرمایا: تیری
ماں۔ (مسلم، کتاب البر والصلۃ والادب، ص1378 احدیث2527)
(2)
باپ کے حکم سے فضلیت والا حکم: حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نماز کی حالت میں ماں باپ تمہیں بلائیں تو ماں کے بلانے پر چلے جاؤ اور باپ کے
بلانے پر نہ جاؤ۔ (کنز العمال، ج16ص470)
(3)
صلہ رحمی کرنا: حضرت
سیدتنا اسماء بنت ابو بکر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے فرماتی ہیں رسول کریم صلَّی
اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے زمانے میں میرے پاس میری ماں آئی اور اس وقت وہ مشرکہ
تھی تو میں نے رسول الله صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے سوال کرتے ہوئے عرض کی
میری ماں میرے پاس آئی ہے اور اسے کچھ طمع ہے کیا میں اپنی ماں سے صلہ رحمی کروں
ارشاد فرمایا ہاں اپنی ماں سے صلہ رحمی کرو۔ (بخاری۔ کتاب الهبۃ وفضلها جلد 2 صفحہ
182 حدیث۔2625)
(4)جہاد
فی سبیل اللہ سے افضل: حضرت طلحہ بن معاویہ رضی اللہ عنہ
فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی خدمت میں حاضر ہو
کر عرض کی یارسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم میں جہاد فی سبیل اللہ کا
ارادہ رکھتا ہوں حضور نے فرمایا تمہاری ماں زندہ ہے میں نے عرض کی جی آپ صلَّی
اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا اس کے پاؤں سے چمٹے رہو وہی جنت ہے۔ (مجمع
الزوائد ج 8 ص 138)
(5)جہنم
سے حجاب: حضرت
ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے جس شخص نے اپنی ماں کی آنکھوں کےدرمیان بوسہ
دیا وہ بوسہ اس کیلے جہنم سے حجاب ہے ۔ (کنز العمال جلد 16 صفحہ 462)
آج کل ہمارے معاشر میں ماں کی نافرمانی عام ہوتی
جا رہی ہے۔ اللہ تعالٰی سے دعا ہے کہ وہ ہم سب کو ماں کی نافرمانی سے بچتے ہوئے
اطاعت و فرمانبرداری کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
یہ مضمون نئے لکھاری کا ہے ،حوالہ جات کی تفتیش و
تصحیح کی ذمہ داری مؤلف کی ہے، ادارہ اس کا ذمہ دار نہیں۔
ابو ثوبان عبدالرحمن
عطاری سابعہ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان مدینہ جوہر ٹاؤن لاہور، پاکستان)
اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت کا حکم
دینے کے بعد اس کے ساتھ ہی ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کا حکم دیا،ارشاد
باری تعالٰی ہے:وَ
قَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّاۤ اِیَّاهُ وَ بِالْوَالِدَیْنِ
اِحْسَانًاؕ۔اِمَّا یَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ اَحَدُهُمَاۤ اَوْ كِلٰهُمَا
فَلَا تَقُلْ لَّهُمَاۤ اُفٍّ وَّ لَا تَنْهَرْهُمَا وَ قُلْ لَّهُمَا قَوْلًا
كَرِیْمًا(23)ترجمہ کنزالایمان: اور تمہارے رب نے حکم فرمایا کہ اس کے
سوا کسی کو نہ پوجو اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو اگر تیرے سامنے ان میں ایک
یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان سے ہُوں(اُف تک)نہ کہنا اور انہیں نہ جھڑکنا
اور ان سے تعظیم کی بات کہنا۔(پ 15، بنی اسرائیل: 23)
تفسیر کبیر میں ہے کہ اس میں حکمت یہ ہے کہ انسان کے وجود کا
حقیقی سبب اللہ تعالیٰ کی تخلیق اور اِیجاد ہے جبکہ ظاہری سبب اس
کے ماں باپ ہیں ا س لئے اللہ تعالیٰ نے پہلے انسانی وجود کے حقیقی سبب کی تعظیم
کا حکم دیا،پھر اس کے ساتھ ظاہری سبب کی تعظیم کا حکم دیا۔ ا ٓیت کا معنی یہ ہے کہ
تمہارے رب عَزَّوَجَلَّ نے حکم فرمایا کہ تم اپنے والدین کے ساتھ انتہائی
اچھے طریقے سے نیک سلوک کرو کیونکہ جس طرح والدین کا تم پر احسان بہت عظیم ہے تو
تم پر لازم ہے کہ تم بھی ان کے ساتھ اسی طرح نیک سلوک کرو ۔ (تفسیرکبیر، الاسراء،
تحت الآیۃ: 23، 7/321،323)
والدہ کی فرمانبرداری احادیث کی روشنی میں
آپ بھی پڑھئے اور علم میں اضافہ کیجئے:
حضرت ابوہریرہ
رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہ ایک شخص نے عرض کی، یا رسولَ
اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم،
سب سے زیادہ حسنِ صحبت (یعنی احسان) کا مستحق کون ہے؟ ارشاد فرمایا: ’’تمہاری ماں
(یعنی ماں کا حق سب سے زیادہ ہے۔) انہوں نے پوچھا، پھر کون؟ ارشاد فرمایا:’’تمہاری
ماں۔ انہوں نے پوچھا، پھر کون؟ حضورِ اقدس صلَّی
اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے پھر ماں کو بتایا۔ انہوں نے پھر پوچھا کہ پھر
کون؟ ارشاد فرمایا: تمہارا والد۔(بخاری، کتاب الادب، باب من احقّ الناس بحسن
الصحبۃ، 4/93، الحدیث: 5971)
حضرت اسماء رضی اللہ
عنھافرماتی ہیں’’جس زمانہ میں قریش نے نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
سے معاہدہ کیا تھا،میری ماں جو مشرکہ تھی میرے پاس آئی، میں نے عرض کی، یا رسولَ
اللہ! صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم میری ماں آئی ہے اور وہ اسلام کی طرف راغب
ہے یا وہ اسلام سے اِعراض کیے ہوئے ہے، کیا میں اس کے ساتھ سلوک کروں ؟ ارشاد
فرمایا: ’’اس کے ساتھ سلوک کرو۔(بخاری، کتاب الادب، باب صلۃ الوالد المشرک، 4/96، الحدیث: 5978)یعنی
کافرہ ماں کے ساتھ بھی اچھا سلوک کیا جائے گا۔
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہاسے روایت
ہے، رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے
ارشاد فرمایا: میں جنت میں گیا اس میں قرآن پڑھنے کی آواز سنی، میں نے پوچھا:یہ
کون پڑھتا ہے؟ فرشتوں نے کہا، حارثہ بن نعمان رضی اللہ عنہ ہیں۔ حضورِ اقدس
صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: یہی حال ہے احسان کا، یہی حال ہے احسان
کا۔(شرح السنّۃ، کتاب البرّ والصلۃ، باب برّ الوالدین، 6/426،
الحدیث :3312 ،
اور شعب الایمان کی روایت میں مزید یہ بھی ہے کہ ’’ حارثہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اپنی ماں کے
ساتھ بہت بھلائی کرتے تھے۔(شعب الایمان، الخامس والخمسون من شعب الایمان۔۔۔ الخ، 6/184، الحدیث: 7851)
حضرت ابو اسید بن مالک رضی
اللہ عنہ سے روایت ہے، رسولُ
اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا ’’ ماں باپ کے
ساتھ نیک سلوک سے یہ بات ہے کہ اولاد ان کے انتقال کے بعد ان کے لئے دعائے مغفرت
کرے۔(کنز العمال، حرف النون، کتاب النکاح، قسم الاقوال، الباب الثامن فی برّ
الوالدین، 8/192، الحدیث: 45441، الجزء
السادس عشر)
حضرت عبد
اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ
واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا ’’تین شخص جنت میں نہ جائیں گے (1)ماں باپ
کا نافرمان (2)دیّوث (3)مَردوں کی وضع بنانے والی عورت۔(معجم الاوسط، باب
الالف، من اسمہ: ابراہیم، 2/43، الحدیث: 2443)
یہ مضمون نئے لکھاری کا ہے ،حوالہ جات کی تفتیش و
تصحیح کی ذمہ داری مؤلف کی ہے، ادارہ اس کا ذمہ دار نہیں۔
خرم شہزاد (درجۂ ثالثہ جامعۃ المدینہ فیضان غوث
اعظم ساندہ لاہور، پاکستان)
والدین اللہ
پاک کی ایک عظیم نعمت ہے۔اسلام میں والدین کے حقوق کو اولین درجہ دیا گیا ہے۔
اولاد کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ ماں باپ کو ہر ممکن طریقے سے خوش رکھے۔ ان کے
ساتھ نیک سلوک کرے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں اپنی وحدانیت کے ساتھ والدین کی
فرمانبرداری کا حکم ارشاد فرمایا اور متعدد احادیث میں حضور صلَّی اللہ علیہ
واٰلہٖ وسلَّم نے والدین کی فرمانبرداری کا حکم فرمایا ہے: والدین کی رضا رب العزت
کی رضا حضور اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے والدین کی رضا کو رب تعالیٰ کی
رضا قرار دیا ہے۔
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی
ہے رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی رضا والدین
کی رضا میں ہے اور اللہ تعالیٰ کی ناراضگی والدین کی ناراضگی میں ہے۔ (صلہ رحمی
اور قطع تعلقی کے احکام،مکتبہ اشاعت الاسلام لاہور، ص:58)
والدہ
کی طرف پیار سے دیکھنا: والدہ کی طرف رحمت کی نظر کرنا عبادت ہے۔ حضرت ابن
عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے مروی ہے رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے
فرمایا: جو بیٹا والدہ کی طرف پیار بھری نظر کرے تو ہر نظر پر اسے ایک مقبول حج کا
ثواب ملے گا ۔ صحابہ کرام علیہم الرضوان نے عرض کی اگرچہ وہ دن میں سو(100) مرتبہ
نظر کریں؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا: ہاں اللہ عزوجل بڑا اور پاک ہے۔ (صلہ رحمی
اور قطع تعلقی کے احکام،مکتبہ اشاعت الاسلام لاہور، ص:59) یعنی اللہ رب العزت کے
ہاں اجر کی کوئی کمی نہیں ہے۔ اگر بیٹا سو (100) مرتبہ دیکھے گا تو سو 100 حج کا
ثواب ملے گا۔
جہنم
کی آگ سے حفاظت : حضرت
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے
فرمایا: جس نے اپنی والدہ کی دونوں آنکھوں کے درمیان بوسہ دیا وہ بوسہ اس کے لیے
جہنم کی آڑ بن جائے گا۔(صلہ رحمی اور قطع تعلقی کے احکام،مکتبہ اشاعت الاسلام
لاہور، ص:60)
والدہ
کے پاؤں تلے جنت: جنت
کو ماں کے پاؤں کے نیچے قرار دیا یعنی ماں کی خدمت پر جنت کی بشارت ہے، چنانچہ ایک
صحابی نے رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی بارگاہ میں حاضر ہو کر عرض
کی: میں جہاد کا ارادہ رکھتا ہوں اور آپ سے اجازت لینے آیا ہوں آپ علیہ السلام نے
فرمایا: کیا تمہاری والدہ ہے؟ اس نے عرض کی ہاں۔ فرمایا: چلا جا اور اس کی خدمت کر
بے شک جنت اس کے پاؤں کے نیچے ہے۔(صلہ رحمی اور قطع تعلقی کے احکام،مکتبہ اشاعت
الاسلام لاہور، ص:60)
ایک
جھٹکے کا بدلہ :اولاد
کے لیے والدہ کے حقوق کی مکمل ادائیگی ناممکن ہے۔ حدیث پاک میں ہے کہ ایک صحابی
رضی اللہ عنہ نے حاضر ہو کر عرض کی: یا رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
ایک راہ میں ایسے گرم پتھروں پر کہ اگر گوشت ان پر ڈالا جاتا کباب ہو جاتا میں میل
تک اپنی والدہ کو گردن پر سوار کر کے لے گیا ہوں کیا میں اب اس کے حق سے بری ہو
گیا؟ رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: تیرے پیدا ہونے میں جس
قدر دردوں کے جھٹکے اس نے اٹھائے ہیں شاید ان میں سے ایک جھٹکے کا بدلہ ہوسکے۔
(صلہ رحمی اور قطع تعلقی کے احکام،مکتبہ اشاعت الاسلام لاہور، ص:62)
اس حدیث
مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ کس قدر والدہ کی فرمانبرداری کا حکم ہوا ہے اور دیگر
احادیث مبارکہ کے اندر والدین کے نافرمان کی مغفرت نہ ہوگی۔ اللہ عزوجل ہمیں اپنے
ماں باپ کا فرمانبردار بنائے اور ان کی عزت وتکریم کرنے کی توفیق عطا
فرمائے۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ
واٰلہٖ وَسَلَّمَ
یہ مضمون نئے لکھاری کا ہے ،حوالہ جات کی تفتیش و
تصحیح کی ذمہ داری مؤلف کی ہے، ادارہ اس کا ذمہ دار نہیں۔
ظہیر احمد بن ظہور (درجۂ ثالثہ جامعۃ المدینہ
فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور،پاکستان)
آج ہمارے
معاشرے میں بہت سے گناہ عام ہو چکے ہیں جس کی وجہ سے انسان خسارے میں پڑتا جا رہا
ہے اس میں سے ایک گناہ والدہ کی نافرمانی بھی عام ہو چکی ہے جس کو لوگ عام سمجھتے
ہیں قرآن کریم اور احادیث مبارکہ میں کئی مقامات پر فرمایا گیا کہ ان کے ساتھ
حُسنِ سلوک کرو میں کچھ احادیث کریمہ والدہ کی فرمابرداری کے بارے میں آپ کی نظر
کرتا ہوں۔
(1)والدہ
کی خدمت کرنا: حضرت
معاویہ بن جاہمہ فرماتے ہیں کہ میرے والد حضرت سیدنا جاہمہ نے حضور صلَّی اللہ
علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے عرض کی یا رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم میں
جہاد کرنے کا ارادہ ہوا تو میں مشورہ لینے آپ کی بارگاہ میں چلا آیا تو نبی کریم
صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا کہ تیری ماں ہے عرض کی جی ہاں! حضور
صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا تم اس کی خدمت کو اپنے اوپر لازم کر لو
کیوں کہ جنت اس کے قدم کے پاس ہے (حوالہ نمبر: سنن النسائی کتاب الجہاد٬باب فضل من
یجاھد فی سبیل اللہ٬ج٬6ص11)
(2)زیادہ
مستحق کون:حضرت
ابو ہریرہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی بارگاہ
میں حاضر ہوا اس نے عرض کی کہ میری اچھی خدمت کا سب سے زیادہ مستحق کون ہے حضور
صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا تمہاری ماں۔ اس نے عرض کی پھر کون حضور
صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: تمہاری ماں اس نے دوبارہ عرض کی پھر کون
حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا تمہاری ماں: اس نے دوبارہ عرض کی
پھر کون! حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا تمہارا باپ۔(صحیح بخاری
کتاب الآداب ٬باب من احق الناس بحسن الصبح193/4٬الحدیث5971)
(3)کاش
میری ماں زندہ ہوتی: حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: کاش
میری ماں زندہ ہوتی اور میں عشاء کی نماز کے لیےمصلے پر کھڑا ہوتا اور سورۃ فاتحہ
شروع کر چکا ہوتا٬اُدھر سے میرے گھر کا دروازہ کھلتا اور میری پکارتی محمد تو میں
ان کے لیے نماز توڑ دیتا اور میں کہتا لبیک اے ماں۔ (شعب الایمان)284/10)
(4)جنت
ماں کے قدموں تلے: حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جنت ماں کے
قدموں کے نیچے ہے ۔( صفحہ نمبر 45 جلد نمبر ٬7 شرح صیحح مسلم)
(5)قدموں
میں چمٹے رہو: حضرت
فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ اپنی ماں کے پیروں ساتھ چمٹے رہو وہیں
جنت ہے ۔ (حوالہ نمبر: صفحہ نمبر ٬45 جلد نمبر ٬7 شرح صحیح مسلم)
ان احادیث
کریمہ کو ہمیں غور سے پڑھنا چاہیے اوراس پر عمل کرنا چاہیے اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے
والدین کی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین!
یہ مضمون نئے لکھاری کا ہے ،حوالہ جات کی تفتیش و
تصحیح کی ذمہ داری مؤلف کی ہے، ادارہ اس کا ذمہ دار نہیں۔
Dawateislami