حضور صلَّی
اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ا رشاد فرمایا:کامل موٴمن وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان
سے لوگ مامون و محفوظ ہوں۔ نیز یہ بھی فرمایا:بہترین انسان وہ ہے جس سے دوسرے
انسانوں کو فائدہ پہنچے۔(کنز العمال)۔
مسلمان
کا حق: حضور
صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر
پانچ حق ہیں: (1) ملاقات ہونے پر سلام کرنا (2)چھینک آنے پر رحمت کی دعا دینا(3) بیماری میں عیادت کرنا(4)مرنے پر جنازے میں شرکت کرنا(5) جو اپنے کوپسند ہو، وہی اپنے مسلمان
بھائی کے لیے پسند کرنا۔ (ترمذی)۔
میٹھے میٹھے
اسلامی بھائیو ہمیں چاہیے کہ حقوق العباد سے متعلق اسلام کی عطا کردہ روشن تعلیمات
پر عمل پیرا ہوں اور حق تلفی کی اس دیمک کا خاتمہ کریں جو ہمارے معاشرے کی بنیادوں
کو بوسیدہ کر رہی ہیں مزید فرمایا کسی کی بیمار ی کا معلوم ہو تو حسبِ حال خیر
خواہی کیجئے اور عیادت کرنے کی عادت بنائیے، حدیثِ پاک میں ہے: جس نے مریض کی
عیادت کی، وہ واپسی تک دریائے رحمت میں غو طے لگاتا رہتا ہے اور جب وہ بیٹھ جاتا
ہے تو رحمت میں ڈوب جاتا ہے ہم ہرایک کی مدد نہیں کرسکتے مگر کسی ایک کی مدد تو
کرسکتے ہیں، ایک شخص کی مدد کرکےہم پوری دنیا نہیں بدل سکتے مگرایک شخص کی دنیا تو
بدل سکتے ہیں۔ لہٰذا تکلیف زدہ مسلمان کادُکھ دور کرنے کی کوشش کیجئے۔
حدیثِ پاک میں ہے: جوکسی مسلمان کی تکلیف دور
کرے اللہ پاک قِیامت کی تکلیفوں میں سے اُس کی تکلیف دُور فرمائے گا۔ مسلمان کی
عزت کے محافظ بن جائیے، حدیث پاک میں ہے: جو مسلمان اپنے بھائی کی عزت کا بچاؤ کرے
(یعنی کسی مسلم کی آبرو ریزی ہوتی تھی اس نےمنع کیا) تو اللہ پاک پر حق ہے کہ
قیامت کےدن اس کو جہنّم کی آگ سے بچائے دکھی مسلمانوں کو خوش رکھنے کا اہتمام
کیجئے، حدیثِ پاک میں ہے: فرائض کے بعد سب اعمال میں الله پاک کو زیادہ پیارا
مسلمان کا دل خوش کرنا ہے۔
تکلیف میں
مبتلا مسلمان دِل دُکھادے تو اُسے معاف کر دیجئے، حدیثِ پاک میں ہے: اللہ پاک بندے
کے معاف کرنے کی وجہ سے اس کی عزت میں اضافہ فرمادیتا ہے اور جو شخص اللہ پاک کے
لئے عاجزی اپناتا ہے اللہ پاک اسے بلندی عطا فرماتا ہے۔
کسی پر ظلم ہوتا دیکھ کر اُس کی مدد کیجئے،
حدیثِ پاک میں ہے: جس نے کسی غم زدہ مؤمن کی مشکل دورکی یا کسی مظلوم کی مدد کی
تواللہ پاک اس شخص کےلئے73 مغفرتیں لکھ دیتا ہے۔
قرض دار سے قرضہ معاف کرکے یا کم از کم اس کے
ساتھ نرمی کرکے اُس کی بےچینی کم کرنے کی کوشش کیجئے، حدیثِ پاک میں ہے: جو تنگدست
کو مہلت دےيا اس کاقرض معاف کر دے اللہ پاک اُسے جہنم کی گرمی سےمحفوظ فرمائےگا۔
اللہ کریم
ہمیں مسلمانوں کےساتھ ہمدردی کرنےاور اُن کادکھ درد دور کرنے کی توفیق عطا
فرمائے۔اٰمِیْن بِجَاہِ خَاتَمِ النَّبِیّٖن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
یہ مضمون نئے لکھاری کا ہے ،حوالہ جات کی تفتیش و
تصحیح کی ذمہ داری مؤلف کی ہے، ادارہ اس کا ذمہ دار نہیں۔
محمد عمر فاروق عطاری (درجۂ ثانیہ جامعۃُ المدینہ ٹاؤن
شپ لاہور، پاکستان)
الله پاک نے
ہم پر بہت سے احسانات فرمائے ہیں۔ انہی میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ہمیں مسلمان
بنایا۔ احسان علی الاحسان اپنے محبوب آخری نبی محمد عربی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ
وسلَّم کا امتی بنایا اور اپنی مقدس کتاب قرآنِ مجید میں بھی مسلمانوں کا تذکرہ
خیر جگہ بہ جگہ فرمایا۔
کامل
مسلمان کون؟ ایک
مرتبہ حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے صحابہ کرام علیہم الرضوان سے ارشاد
فرمایا: ’’جانتے ہو مسلمان کون ہے؟‘‘ صحابہ کرام علیہم الرضوان نے عرض کی: ’’الله
اور اس کے رسول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم بہتر جانتے ہیں۔‘‘ تو ارشاد فرمایا:
’’مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔‘‘ (نجات دلانے
والے اعمال کی معلومات،صفحہ293)
مسلمانوں
کے چند حقوق: ایک
مسلمان کے دوسرے مسلمان پر بھی مختلف حقوق ہیں جن کو ادا کرکے معاشرا امن کا
گہوارہ بن سکتا ہے۔ چند حقوق ملاحظہ ہوں:
1: سلام کا
جواب دے۔ (یاد رکھیے کہ سلام کرنا سنت اور سلام کا جواب دینا واجب ہے)
2: بیمار کی
تیمارداری کرے۔
3: (اگر وہ
فوت ہو جائے تو اُس کے) جنازے کے ساتھ جائے۔
4: کوئی
مسلمان دعوت دے (اور کوئی وجہ نہ ہو تو) اسکی دعوت کو قبول کرے۔
5: چھینک کا
جواب دے۔ (ایک مسلمان چھینک کر الحمدالله کہے تو دوسرا یرحمک الله کہہ کر اس کا
جواب دے)
6: مسلمانوں
کو امر بالمعروف (یعنی نیکی کا حکم) اور نھی عن المنکر (یعنی برائی
سے منع) کرے۔
7: جو بات
اپنے لیے پسند کرے وہی دوسرے مسلمانوں کیلئے بھی پسند کرے۔
8: دوسرے
مسلمان بھائی کے عیبوں کی پردہ پوشی کرے۔
9: کسی دوسرے
مسلمان بھائی کی غیبت نہ کرے۔
10: جب وہ آپ
سے مشورہ مانگے تو آپ اسے اچھا مشورہ دیں۔
11: ایک دوسرے
پر ظلم نہ کریں۔
12: کسی
مسلمان کو لوگوں کے سامنے ذلیل و رسوا نہ کرے۔
ان تمام تر کو
اگر ملحوظ خاطر رکھا جائے تو بے شمار فائدے حاصل ہوں گئے ۔ حقوق سے ناواقفیت کا
ایک بڑا نقصان بد امنی ہے۔ معاشرے میں بگاڑ کا ایک سبب ایک دوسرے سے کینہ، حسد اور
بغض وغیرہ کا ہونا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ علمِ دین سے دوری ہے کہ ایک دوسرے کے حقوق
سے بھی ناواقفیت ہے۔ ایک دوسرے کے حقوق بجا لانے سے معاشرے کا بگاڑ ختم ہو جائے گا
اور معاشرا خوشحال ہو جائے گا۔ دعا ہے الله عزوجل ہمیں ایک دوسرے کے حقوق بجا لانے
کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ خاتم النبیین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
یہ مضمون نئے لکھاری کا ہے ،حوالہ جات کی تفتیش و
تصحیح کی ذمہ داری مؤلف کی ہے، ادارہ اس کا ذمہ دار نہیں۔
دنیا میں کئی
مذاہب اور ان کے زیر اثر کئی قومیں آباد ہیں ہر ایک کا رہن سہن تہذیب و تمدن الگ
ہے مختلف تہذیبوں اور معاشروں میں انسانی حقوق(Rights Human)کی
حفاظت کے لئے مختلف قوانین رائج ہیں مگر دینِ اسلام کو اِنسانی حقوق کے تحفظ میں
سب پر برتری حاصل ہے۔ دین اسلام نے جس طرح ماں باپ بہن بھائی رشتہ داروں اور
پڑوسیوں کے حقوق کی تلقین کی ہے ایسے ہی دین اسلام نے اپنے ماننے والوں کے آپس میں
حقوق مقرر فرمائے ہیں۔
رحمۃ
اللعالمین خاتم النبیین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا مسلمان کے
مسلمان پر پانچ حقوق ہیں: سلام کا جواب دینا٬ بیمار کی عیادت کرنا، اس کے جنازے کے
ساتھ جانا، اس کی دعوت قبول کرنا۔ اور چھینک کا جواب دینا۔(بخاری، کتاب:الجنائز'
باب: الأمر باتباع الجنائز، ج 1، ص418، حدیث:1183)
سلام
کا جواب دینا: مسلمان
کا ایک حق یہ بھی ہے کہ جب وہ سلام کرے تو اسے جواب دیا جائے۔ آج کل ہماری اکثریت
سلام کرنے کے طریقے اور الفاظ سے ناواقف نظر آتی ہے، اسی طرح سلام کا جواب دینے
کا بھی علم نہیں ہوتا۔ سلام اور جوابِ سلام کا دُرُست تلفُّظ یاد فرما لیجئے۔ سلام
کا درست تلفظ یہ ہے: اَلسَّلامُ عَلَیکُمْ(اَسْ۔ سَلا۔ مُ۔ عَلَے۔ کُمْ) جواب کا
درست تلفظ یہ ہے: وَعَلَیْکُمُ السَّلَام (وَ۔ عَ۔ لَیکُ۔ مُسْ۔ سَلام)۔
اَلسَّلَامُ عَلَیْکُم کہنے سے 10 نیکیاں ملتی
ہیں۔ ساتھ میں وَ رَحمَۃُ اللہ بھی کہیں گے تو 20 نیکیاں ہو جائیں گی اور
وَبَرَکاتُہ شامل کریں گے تو 30 نیکیاں ہو جائیں گی۔ بعض لوگ سلام کے ساتھ جنَّتُ
المقام اور دوزخُ الحرام کے الفاظ بڑھا دیتے ہیں یہ غلط طریقہ ہے۔ بلکہ مَن چلے
تومعاذاللہ یہاں تک بَک جاتے ہیں: ’’آپ کے بچّے ہمارے غلام۔ ‘‘(فیضانِ ریاض
الصالحین ج:3،ص:296)
بہارِ شریعت
حصہ 16صفحہ 102 پر لکھے ہوئے جُزیئے کا خلاصہ ہے: ’’ سلام کرتے وَقت دل میں یہ
نیّت ہو کہ جس کو سلام کرنے لگا ہوں اِس کامال اور عزّت و آبرو سب کچھ میری حفاظت
میں ہے اور میں اُن میں سے کسی چیز میں دَخل اندازی کرنا حرام جانتا ہوں۔ ‘‘
بیمار کی عیادت کرنا: حدیث پاک میں
مؤمنین کو ایک جسم کی طرح قرار دیا ہے کہ جب جسم کے کسی حصّہ کو تکلیف ہو تو سارا
جسم اس درد میں شریک ہوتا ہے۔ (مستدرک للحاکم، ج1/ص 176، حدیث: 67)
اس احساس اور
دینی جذبے کے پیش نظر جب بھی ہمارا کوئی مسلمان بھائی بیمار ہو تو اس کی عیادت کی
جائے۔ فرمان آخری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم: جو مسلمان کسی مسلمان کی
عیادت کیلئے صبح کو جائے تو شام تک اور شام کو جائے تو صبح تک ستر ہزار فرشتے اس
کیلئے استغفار کرتے ہیں اور اس کیلئے جنت میں ایک باغ ہوگا۔ (ترمذی،ج 2،ص290،
حدیث: 971)
جنازے
کے ساتھ جانا: جس
طرح دنیاوی معاملات میں بحیثیت مسلمان ہم ایک دوسرے کے ساتھ شریک ہوتے ہیں اسی طرح
فوت شدہ مسلمان کے جنازے میں شریک ہونا اور اس کے جنازے کے ساتھ چلنا مسلمان کا حق
ہے۔فرمان آخری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم: جو مسلمان کے جنازے کے ساتھ
ایمان سے بہ نیت ثواب جائے اور اس کے ساتھ ہی رہے حتی کہ اس پرنماز پڑھ لے اور اس
کے دفن سے فارغ ہوجائے تو وہ ثواب کے دو قیراط(حصے)لےکر لوٹے گا ہرحصہ احد کے
برابر اور جو اس پر نماز پڑھ کر دفن سے پہلے لوٹ جائے وہ ایک حصہ لے کر لوٹے
گا۔(مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح، ج:2 ، ص:483 حدیث:1651)
دعوت
قبول کرنا: مسلمان
پر اپنے مسلمان بھائی کا یہ بھی حق ہے کہ ’’اُس کی دعوت کو قبول کیا جائے‘‘ چنانچہ
شیخ عبد الحق محدث دہلوی رَحْمَۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ’’مسلمان بھائی کی دعوت
قبول کرتے ہوئے اُس میں شرکت کرنا یہ اُس وقت سُنّتِ مبارکہ ہے جبکہ وہاں کوئی
خلافِ شرع کام نہ ہو اور اگر خلاف شرع کام ہورہے ہوں تو دعوت قبول نہ کرنا لازم
ہے۔ حجۃ الاسلام امام محمد غزالی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہِ نے تو یہاں تک فرمایا کہ
جو دعوت اپنے آپ کو اونچا دکھانے، فخر اور واہ واہ کے لئے ہو اس دعوت کو قبول کرنا
منع ہے۔ سلف صالحین اس طرح کی دعوتوں میں شرکت کرنے کو مکروہ فرماتے ہیں۔ ‘‘
(فیضانِ ریاض الصالحین، ج:3 ص:297،)
چھینک
کا جواب دینا: مسلمان
پر مسلمان کا ایک حق یہ بھی ہے کہ وہ اُس کی چھینک کا جواب دے۔ جب کسی کو چھینک
آئے تو اَلْحَمْدُ
لِلّٰہِ
کہے اور اس کا بھائی یا ساتھ والا یَرْحَمُکَ اللہُ کہے جب یَرْحَمُکَ اللہُ کہہ
لے تو چھینکنے والا جواب میں یہ کہے یَھْدِیْکُمُ اللہُ وَیُصْلِحُ بَالَکُمْ۔
(بخاری،کتاب الادب، ج:4، ص:163، حدیث:6224)
چھینک آنے پر
اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا سنت ہے بہتر یہ ہے کہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ
الْعٰلَمِیْن
کہے۔ سننے والے پر واجب ہے کہ فوراً یَرْحَمُکَ اللہ(یعنی اللہ پاک تجھ پر رحم
کرے)کہے اور اتنی آواز سے کہے کہ چھینکنے والا خود سن لے۔ اگر جواب میں تا خیر
کردی تو گنہگار ہوگا۔ صرف جواب دینے سے گناہ معا ف نہیں ہوگا توبہ بھی کرنا ہوگی۔
‘‘(فیضانِ ریاض الصالحین ج:3، ص298)
بعض احادیث
میں مسلمانوں کے چھ حقوق بھی بیان ہوئے جن میں ایک یہ حق بھی ہے کہ جب وہ تم سے
کوئی نصیحت طلب کرے تو تم اس کو نصیحت کرو۔
شیخ عبد الحق
محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ’’مسلمانوں کے ایک دوسرے پر بہت سے حقوق
ہیں، صرف اِن چھ میں اِنحصار نہیں۔ حضور خاتم النبیین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ
وسلَّم نے مختلف مواقع پر موقع کی مناسبت سے مختلف حقوق کو بیان کیا یا پھر حقوق
المسلمین بتدریج نازل ہوئے، جو حق جب نازل ہوا آپ نے اُسی وقت اُس کو بیان
فرمادیا۔‘‘(اشعۃ اللمعات، کتاب الصلاۃ، باب:عیادۃ المریض وثواب المرض، ج:1، ص:674)
مسلمان کے
دوسرے مسلمان پر جو حقوق بیان کئے گئے ہیں ان میں تمام مسلمان برابر ہیں، چاہے نیک
ہوں یا بد لیکن اتنا ضرور ہے کہ نیک لوگ خندہ پیشانی، اچھے طریقے سے ملاقات کرنے
اور مصافحہ میں پہل کرنے کے زیادہ حقدار ہیں۔ ‘‘(مرقاۃالمفاتیح، کتاب الجنائز،
ج:4، ص:6،تحت الحدیث:1525)
اللہ پاک سے
دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنے مسلمان بھائیوں کے حقوق کو اچھی طرح ادا کرنے کی توفیق عطا
فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّین صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
یہ مضمون نئے لکھاری کا ہے ،حوالہ جات کی تفتیش و
تصحیح کی ذمہ داری مؤلف کی ہے، ادارہ اس کا ذمہ دار نہیں۔
محمد سرور خان قادری (درجۂ
سادسہ جامعۃُ المدینہ شیرانوالہ گیٹ لاہور، پاکستان)
اللہ تعالیٰ
نے انسان کو انسان سے اس لیے پیدا کیا کہ اس میں ایک دوسرے کی خیر خواہی کا احساس
ہو۔دکھ درد میں دوسروں کے کام آئیں۔اس بات کو مسلمانوں کے حقوق کا نام دیا گیا
ہے۔چونکہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو زمین پر وسیع اختیارات دیئے ہیں۔زمین و آسمان کی
ہر چیز کو انسان کی نفع رسانی کے لیے بنایا گیا ہے۔اس لیے ہر انسان کے ذمے یہ
فریضہ عائد کر دیا گیا ہے کہ وہ اپنے ارد گرد ہر چیز اور مخلوقات کے لیے ایسا طرزِ
عمل اختیار کرے جس سے کسی کا حق تلف نہ ہو۔حقوق العباد در حقیقت بندوں کے آپس میں
وہ حقوق ہیں کہ ہر کوئی اپنے حق کے مطابق زندگی کے شب و روز گزارے جس سے کسی کو
کوئی تکلیف نہ ہوگی۔ نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے پہلے حقوق کی
ادائیگی میں لوگ انتہائی غفلت کرتے تھے۔
لوگوں کے ساتھ
زیادتی اور ظلم کا دروازہ کھلتا تھا۔سرکار صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے انسان
کے ہر رشتہ کے لحاظ سے حقوق کی حدود متعین کر دیں۔جب ہر کوئی اپنے فرائض کو شرعی
قواعد کے مطابق ادا کرے گا تو پھر کسی کی حق تلفی نہ ہوگی اور نہ کسی پر ظلم
ہوگا۔حقوق کی حفاظت کا اہتمام جتنا شریعتِ اسلامیہ میں کیا گیا ہے دنیا کے کسی اور
مذہب میں نہیں ہے۔بندوں کے حقوق اچھی طرح وہ ادا کر سکے گا جسے یہ علم ہوگا کہ
اللہ کے نبی نے ہر ایک کے حقوق کے بارے میں فرداً فرداً کیا فرمایا ہے۔
مسلمان ایک
ملت اور قوم ہے لہٰذا اسلام نے ہر مسلمان پر یہ فریضہ عائد کیا ہے کہ وہ آپس میں
اتفاق،سلوک اور پیار محبت سے رہیں کیونکہ اسلام نے ایک مسلمان کو دوسرے مسلمان کا
بھائی قرار دیا ہے۔مسلمانوں کو ایک برادری کی حیثیت حاصل ہے۔خواہ وہ دنیا کے کسی
حصے میں رہتے ہوں۔آپس میں مسلمانوں کا رشتہ نہایت ہی مضبوط رشتہ ہے۔اس رشتہ نے
مسلمانوں کو ایک جسم کی مانند قرار دیا ہے اور ان کے درمیان آپس میں رحم،شفقت،محبت
اور ایک دوسرے کی خیر خواہی کو لازم قرار دیا ہے۔جنہیں حقوق کے نام سے تعبیر کر
دیا گیا ہے۔
ان حقوق کو
ادا کرنا ہر مسلمان پر ضروری ہے کیونکہ ایک مسلمان جب دوسرے مسلمان کے حقوق ادا
کرتا رہے گا تو اسے بھی وہی سہولتیں میسر آ جائیں گی جو ہر مسلمان کے لیے ہیں۔اس
کے بارے میں حضور (صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم) کی حدیث مبارکہ سنئے: عن أبي هريرة أن النبي
صلى الله عليه وسلم قال المؤمن مألف و لا خير فيمن لا يألف ولا يؤلف
ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ (رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ نبی کریم (صلَّی اللہ علیہ
واٰلہٖ وسلَّم) نے فرمایا: مومن الفت کرنے والا ہے اور اس میں کوئی بھلائی نہیں جو
الفت نہ کرے اور اس سے الفت نہ کی جائے۔(بیہقی)
عن النعمان بن يسير قال قال رسول
الله صلى الله عليه وسلم المؤمن كرجل واحد انشتكي عينه الشتكي كله وان الشتكي رأسه
شتكي كله ترجمہ:
حضرت نعمان بن بشیر (رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ نبی کریم (صلَّی اللہ علیہ
واٰلہٖ وسلَّم) نے فرمایا: ایمان والے ایک جسم کی طرح ہیں۔اگر آنکھ کو تکلیف ہو
جائے تو سارے جسم کو تکلیف ہوتی ہے اور اگر سر کو تکلیف ہو جائے تو سارے جسم کو
تکلیف ہوتی ہے۔(مسلم)
نبی کریم
(صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم) نے مسلمانوں کو ایک جسم کی مانند فرمایا ہے کہ
اگر آنکھ کو تکلیف ہو تو سارے جسم کو تکلیف ہوتی ہے۔
اخلاقی طور پر
ایک مسلمان اگر اپنے کسی دوسرے مسلمان بھائی میں کوئی برائی یا خرابی دیکھے تو اسے
بڑی حکمت سے دور کرنے کی کوشش کرے کیونکہ بعض اوقات یوں ہوتا ہے کہ کسی کو یہ
احساس نہیں ہوتا کہ وہ برائی کر رہا ہے کیونکہ اس میں احساس برائی ختم ہو چکا ہوتا
ہے۔اس لیے کسی مسلمان میں برائی ہو تو اس میں احساس پیدا کریں کہ تمہارا فلاں عمل
برا ہے اس کی اصلاح کر لو۔
یہ مضمون نئے لکھاری کا ہے ،حوالہ جات کی تفتیش و
تصحیح کی ذمہ داری مؤلف کی ہے، ادارہ اس کا ذمہ دار نہیں۔
ضمیر احمد (درجۂ سادسہ
مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان مدینہ جوہر ٹاؤن لاہور، پاکستان)
اسلام دینِ
محبت ہے اور اس کا ہر فرد باہمی اخوت و بھائی چارے کے بندھن میں بندھا ہوا ہے یوں
اسلامی معاشرہ ایک خاندان کی مانند ہے اور ہر مسلمان اس معاشرے کا فرد ہے جس طرح
ایک خاندان والوں کے ایک دوسرے پر حقوق ہوتے ہیں اسی طرح ایک مسلمان کے بھی اپنے
مسلمان بھائی پر کچھ حقوق ہیں ان حقوق کی تعداد بہت زیادہ ہےالبتہ ان میں سے چند
کا ذکر ہم یہاں کرتے ہیں چنانچہ حدیث مبارکہ میں ہے :
حضرت ابو
ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے
ارشاد فرمایا: ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر چھ حق ہیں، جب تیری اس سے ملاقات ہو
تو اسے سلام کر، جب وہ تجھے دعوت دے تو اسے قبول کر، جب وہ تجھ سے نصیحت طلب کرے
تو اسے نصیحت کر، جب اسے چھینک آئے اور الحمد للہ کہے تو اسے جواب دے، جب وہ بیمار
ہو تو اس کی عیادت کر اور جب وہ مرجائے تو اسکے جنازے میں شریک ہو ۔(صحيح مسلم:
2162) حدیث مبارکہ میں مسلمان کے چھ بنیادی حقوق بیان کیے گئے ہیں ان کی تفصیل درج
ذیل ہے
سلام
کرنا: سلام
کرنا ایک مسلمان کے بنیادی حقوق میں سے ہے یہ آپس میں محبت بڑھانے کا ایک بہترین
زریعہ ہے چنانچہ حدیث مبارکہ میں ہے تم جنت میں داخل نہیں ہو گے یہاں تک کہ مومن
ہو جاؤ، اور تم مو من نہیں ہو سکتے یہاں تک کہ ایک دوسرے سے محبت کرو۔ کیا تمہیں
ایسی چیز نہ بتاؤں کہ جب تم اس پر عمل کرو تو ایک دوسرے کے ساتھ محبت کرنے لگو،
آپس میں سلام عام کرو۔ (صحيح مسلم،حديث 194)
سلام ایک دعا
ہے جب بندہ اپنے بھائی کو السلام علیکم کہہ کر سلامتی دعا دیتا ہےتو گویا اس سے یہ
عہد کرتا ہے کہ آپ کی جان و مال اور عزت و آبرو مجھ سے سلامت ہے لہذا جب بھی دو
مسلمان آپس میں ملیں تو ہیلو ہائے اور گڈ مارننگ گڈ ایوننگ وغیرہ کی بجائے السلام
علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ سے گفتگو کا آغاز کریں ۔
دعوت
قبول کرنا: جب
ایک مسلمان اپنے بھائی کو دعوت دیتا ہے تو اس کا حق ہے کہ اس دعوت کو قبول کیا
جائے اور اگریہ دعوت ولیمہ کی ہو تو اسے قبول کرنا تو سنت موکدہ ہے دعوت کو قبول
کرنے کی تاکید اس قدر ہے کہ اگر بندہ روزہ دار ہو پھر بھی دعوت کو قبول کرنے کا
حکم ہےچنانچہ ارشاد نبوی ہے جب تم میں سے کسی کو دعوت دی جائے تو اسے قبول کرنی
چاہیے، اگر وہ روزہ سے ہو تو اس (دعوت دینے والے) کے حق میں دعا کرے اور اگر روزہ
سےنہ ہو تو کھا لے۔ (السنن الكبرى، حدیث0132)
اچھی
نصیحت کرنا : اپنے
مسلمان بھائی کو نصیحت کرنا اور اچھا مشورہ دینا بالخصوص اس وقت کہ جب وہ آپ سے
نصیحت طلب کرے یہ بھی مسلمان کا حق ہے اللہ
تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا : وَّ ذَكِّرْ فَاِنَّ
الذِّكْرٰى تَنْفَعُ الْمُؤْمِنِیْنَ(55)ترجمہ
کنز الا یمان: اور سمجھاؤ کہ سمجھانا مسلمانوں کو فائدہ دیتا ہے ۔(پ27، الذّٰریٰت:
55)
سمجھانے اور
نصیحت کرنے کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ جس کو سمجھایا جا رہا ہے اس کے عمل کرنے کی
صورت میں انسان اجر عظیم کا حقدار ہوتا ہے اور اگر عمل نہ بھی کرے تو امر بالمعروف
اور نہی عن المنکر کا ثواب کھرا ہو جاتا ہے
چھینک
کا جواب دینا :جب
چھینک آتی ہے تو ناک کے اندر موجود بیکٹیریا اور وائرس کا اخراج ہوتا ہے اور جسم
جراثیموں سے پاک ہوتا ہے لہذا چھینک آنے پر اللہ پاک کا شکر ادا کرتے ہوئے الحمد
للہ کہا جاتا ہے تو جب مسلمان چھینک آنے پر الحمد للہ کہے تو سننے والے پر لازم ہے
کہ اس کے لیے رحم کی دعا کرتے ہوئے یرحمک اللہ کہے چنانچہ نبی کریم صلی اللہ
تعالیٰ علیہ والہ و سلم نے فرمایا: پس جب تم میں سے کسی کو چھینک آئے اور وہ الحمد
للہ کہے تو سننے والے مسلمان پر حق ہے کہ یرحمک اللہ کہے ۔(صحيح البخاري کتاب
الادب حدیث:6223)
مریض
کی عیادت : جب
انسان بیمار ہوتا ہے تو اسے کسی ایسے شخص کی حاجت ہوتی ہے جو اس کا سہارا بنے اور
اس کی ضروریات کو پورا کرے لہذا اسلام نے اپنے ماننے والوں کو تلقین کی ہے کہ وہ
مریض کی تیمارداری کریں اور اس کی ضروریات کو حتی الامکان پورا کرنے کی کوشش کریں
حدیث مبارکہ میں ہے کہ مسلمان جب اپنے مسلمان بھائی کی عیادت کو گیا تو واپس ہونے
تک جنت کے پھل چننے میں رہا۔ (مسلم، ص1065، حدیث:6551)
تجہیز
و تکفین :جب
ایک شخص اس دار فنا سے دار بقا کی طرف چلا جاتا ہے تو وہ اپنے لیے کسی نفع و نقصان
کا مالک نہیں رہتا اب اس کو سپرد خاک کرنا ہی اس کی سب سے بڑی تعظیم و توقیر ہے اس
کے قرب و جوار میں بسنے والوں پر لازم ہے کہ اس کے غسل و کفن اور جنازے میں شرکت
کریں اس کے لیے دعائے مغفرت کریں اور اہل خانہ سے تعزیت کریں تجہیز و تکفین میں
شرکت کی ترغیب پر متعدد احادیث ہیں جن میں سے ایک یہ ہےابوہریرہ رضی اللہ عنہ
فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: جس نے نماز
جنازہ پڑھی، اس کو ایک قیراط ثواب ہے، اور جو دفن سے فراغت تک انتظار کرتا رہا،
اسے دو قیراط ثواب ہے لوگوں نے عرض کیا: دو قیراط کیا ہے؟ آپ صلَّی اللہ علیہ
واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: دو پہاڑ کے برابر۔(سنن ابن ماجہ، كتاب الجنائز،حدیث:
1539)
ان کے علاوہ
بھی دیگر کئی حقوق ہیں جیسے مظلوم کی مدد، یتیم اور بے سہارا لوگوں کی معاونت
مسلمان کے حق میں سچی گوہی دینا ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم حتی الامکان ان حقوق کی
ادائیگی کا خیال رکھیں اور جس قدر ممکن ہو دوسروں سے بھلائی کرتے رہیں
اللہ تعالیٰ
ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے آمین بجاہ خاتم النبیین صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ و
سلم
یہ مضمون نئے لکھاری کا ہے ،حوالہ جات کی تفتیش و
تصحیح کی ذمہ داری مؤلف کی ہے، ادارہ اس کا ذمہ دار نہیں۔
عبدالنبی شاہ (درجۂ ثانیہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق
اعظم سادھوکی لاہور،پاکستان)
اللہ پاک نے
انسانوں کو پیدا کیا تاکہ ان کو دیکھ سکے کہ کون ان میں سے اچھے اعمال کرتا ہے پھر
نیک اعمال پرجنت رکھ دی اور بوڑھے اعمال پر دوزخ رکھ دی جنت کے نیک اعمال میں سے ہمیں
مسلمانوں کے حقوق بھی دیئے اسلام میں مسلمانوں کے بہت زیادہ حقوق ہیں جس کو ہم پر
پورا کرنا لازمی ہے آئیں ہم مسلمانوں کے کچھ حقوق سنتے ہیں:
(1)مسلمانوں
پر ظلم نہ کریں: حضرت
عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلَّی اللہ علیہ
واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا مسلمان مسلمان کا بھائی ہے وہ اس پر ظلم نہ کرے اس
کو رسوا نہ کرے جو شخص اپنے بھائی کی ضرورت پوری کرنے میں مشغول رہتا ہے اللہ
تعالی اس کی ضرورت پوری کرتا ہے اور جو شخص کسی مسلمان سے مصیبت کو دور کرتا ہے تو
اللہ تعالی قیامت کے دن اس کے مصائب میں سے کوئی مصیبت دور فرما دے گا اور جو شخص
کسی مسلمان کا پردہ رکھتا ہے قیامت کے دن اللہ تعالی اس کا پردہ رکھے گا۔(بخاری،
کتاب المظالم و الغضب،باب لا یظلم المسلم،حدیث 2442)
(2)
مسلمان ایک جسم کی طرح: حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے
کہ رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا سارے مسلمان ایک شخص
کی طرح ہیں جب اس کی آنکھ میں تکلیف ہوگی تو سارے جسم میں تکلیف ہوگی اور اگر اس
کے سر میں درد ہو تو سارے جسم میں درد ہوگا۔(مسلم، حدیث 2586)
(3)
مسلمان ایک کی طرح: حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت
ہے کہ سید المرسلین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا ایک مسلمان
دوسرے مسلمان کے لیے عمارت ہے جس کی ایک اینٹ دوسری اینٹ کو مضبوط کرتی ہے۔(مسلم،
حدیث2585)
(4)مسلمان
کی عیادت کرنا: رسول
اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا جو مسلمان کسی مسلمان بھائی
کی عیادت کے لیے صبح کو جائے تو شام تک اس کے لیے 70 ہزار فرشتے استغفار کرتے ہیں
اور شام کو جائے تو صبح تک 70 ہزار فرشتے استغفار کرتے ہیں اس کے لیے جنت میں ایک
باغ ہوگا۔(مسلم،حدیث 2568)
(5)
مسلمان کے جنازے میں شرکت کرنا: حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے
ارشاد فرمایا جو نماز ادا کرنے تک جنازے میں شریک رہا اس کے لیے ایک قیراط ثواب ہے
اور تدفین تک شریک رہا اس کے لیے دو قیراط ثواب ہے پوچھا گیا دو قیراط کیا ہیں؟
فرمایا دو عظیم پہاڑوں کی مثل۔(بخاری ،حدیث1325)
اللہ تعالی
مسلمانوں کو باہمی تعلقات سمجھنے اور اس کے تقاضوں کو پورا کرنے کی توفیق عطا
فرمائے امین بجاہ خاتم النبیین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
یہ مضمون نئے لکھاری کا ہے ،حوالہ جات کی تفتیش و
تصحیح کی ذمہ داری مؤلف کی ہے، ادارہ اس کا ذمہ دار نہیں۔
دانش قادری (درجہ اولی ٰ جامعۃُ المدینہ فیض عالم ہجویری
اسکیم لاہور، پاکستان)
صحت مند
اسلامی معاشرے کے قیام کے لیے ہر مسلمان کے حقوق کی ادائیگی کا اور انکی پامالی نہ
ہو اس چیز کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ اللہ عزّوجل نے جو حقوق ہم پر فرض فرمائے ہیں
وہ نہ صرف مسلمان بلکہ تمام انسانیت کی نفسانی اور نفسیاتی طبیعت کے عین مطابق ہے۔
حقوق کے معنٰی : حقوق کے معنٰی
ہیں واجب۔ بعض جگہ اس سے مراد سچ ہوتا ہے جیسے حق بات۔
حقوق کی اقسام : حقوق کی دو
اقسام ہیں۔ 1۔حقوق اللہ یعنی اللہ کے حقوق جیسے نماز روزہ حج زکوٰة المختصر
عبادات۔ 2۔حقوق العباد یعنی بندوں کے حقوق۔
اسلام نے ہر
چھوٹے بڑے کو اس کا حق دیا۔ بادشاہ سے رعایا تک آقا سے غلام تک سب کو منصفانہ حقوق
دیئے ہیں، آئیے جانیں کہ اسلام نے مسلمان کو کیا حقوق دیئے ہیں۔ حضرت ابو ہریرہ
رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلّم نے فرمایا؛ مسلمان کے
مسلمان پر پانچ حقوق ہیں۔ 1۔سلام کا جواب دینا۔ 2۔مریض کی بیمار پرسی کرنا۔
3۔جنازے کے ساتھ جانا۔ 4۔اسکی دعوت قبول کرنا۔ 5۔چھینک کا جواب دینا۔ (بخاری،
حدیث:1240) اس حدیث پاک کے تحت چند باتوں کی طرف توجّہ دلائی گئی ہے
1۔ بیمار کی
مزاج پرسی بیمار کے لیے باعثِ ایذا نہ ہو۔
2۔جنازے میں
جاتے وقت کوئی کام خلافِ سنّت نہ ہو تب ہی حق ادا ہو گا۔
3۔ دعوت کے
معاملے میں خلاف شریعت ہونے والی دعوت کو منع کرنے میں حرج نہیں ۔
4۔چھینکنے
والا اونچی آواز سے الحمدللہ کہے تو ہم پر لازم ہے کہ یرحمک اللہ یعنی اللہ تم پر رحم کرے یہ کہیں
مسلمان کا حق
یہ ہے کہ اسے گناہوں سے بچنے کی تلقین کرتے ہوئے نیکی کی دعوت دی جائےایک قول کے
مطابق جب گنہگار کو جہنم کی سزا سنائی جائے گی وہ کہے گا اے اللہ میرے ساتھ میرے
ارد گرد رہنے والوں کو بھی جہنم میں ڈال کیونکہ جب میں گناہ کرتا تھا تو وہ مجھے
منع نہیں کرتے تھے یاد رہےکہ نیکی کی دعوت دیتے ہوئے انتہائی، حکیمانہ،تدبرانہ
انداز اختیار کرنا چاہیے نرمی کے ساتھ غصے تشدد سخت انداز سے بچتے ہوئے اللہ اور
اس کے رسول کی طرف بلایا جائے۔
تربیت: صرف اپنے بلکہ معاشرے کے ہر بچے
کی اچھی تربیت ان کا حق ہے جہاں تک ہو سکے بچوں کو آقاعلیہ الصلوٰۃ والسلام کی
سنتیں سکھائیں ۔
برابری: مسلمان کا یہ حق ہے کہ اسے کسی
سے کمتر نہ سمجھا جائے بلکہ سب کے برابر حقوق ہونے چاہیے اونچ نیچ کے فرق کی اسلام
نفی کرتا ہے۔
گناہوں پر پردہ: یوں ہی ہر
مسلمان کا حق ہے کہ اس کے گناہوں پر پردہ ڈالا جائے جب بھی کوئی کمزور بات کسی
مسلمان بھائی کے متعلق علم میں آئے تو اسے چھپا کر پردہ ڈالنا چاہیے۔
یہ مضمون نئے لکھاری کا ہے ،حوالہ جات کی تفتیش و
تصحیح کی ذمہ داری مؤلف کی ہے، ادارہ اس کا ذمہ دار نہیں۔
محمد سلطان عطّاری (درجۂ ثانیہ جامعۃُ المدینہ فیضان فیض
عالم ہجویری ہاؤسنگ سکیم لاہور، پاکستان)
پیارے اسلامی
بھائیو ہم اکثر سنتے رہتے حقوق اللہ اور حقوق العباد۔یعنی بندوں کے حقوق کے بارے
میں احادیث کی روشنی میں قرآنی آیات میں بھی اکثر مقامات پر مسلمانوں کے حقوق بیان
کئے جاتے ہیں ہمیں اس بات کا علم ہونا چاہئے کہ میرے ایک مسلمان بھائی کے دوسرے
مسلمان پر کیا حقوق ہیں مسلمان کے مسلمان پر حقوق بہت زیادہ ہیں، ان میں سے کچھ
عینی طور پر واجب ہیں کہ ہر شخص انہیں ادا کرے گا، اگر کوئی چھوڑ دے گا تو گناہ
گار ہو گا۔ اور کچھ حقوق واجب کفایہ ہیں، یعنی اگر کچھ لوگ اس حق کو ادا کر دیں تو
بقیہ سب پر ادا کرنا لازم نہیں ہو گا، کچھ حقوق مستحب ہیں واجب نہیں ہیں اگر ان
میں سے کوئی حق رہ جائے تو مسلمان کو گناہ نہیں ہو گا۔
سیدنا ابو
ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّمکو
فرماتے ہوئے سنا: مسلمان کے مسلمان پر 5 حقوق ہیں: سلام کا جواب دینا، مریض کی
عیادت کرنا، تدفین کے لیے جنازے کے ساتھ چلنا، دعوت قبول کرنا، اور چھینک لینے
والے کو الحمد للہ کہنے پر یرحمک اللہ کہنا۔( بخاری:حدیث:1240۔ مسلم، حدیث:2162)
حضرت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:مسلمان کے مسلمان پر چھ حقوق
ہیں، کہا گیا: وہ کون سے ہیں؟ اللہ کے رسول! تو آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
نے فرمایا:جب آپ مسلمان سے ملیں تو اسے سلام کہیں، جب وہ آپ کو دعوت دے تو اس کی
دعوت قبول کریں، اور جب وہ آپ سے مشورہ طلب کرے تو اسے اچھا مشورہ دیں، اور جب اسے
چھینک آئے اور وہ الحمدللہ کہے تو یرحمک اللہ کے ساتھ جواب دے، اور جب وہ بیمار ہو
تو اس کی عیادت کرے اور جب فوت ہو جائے تو تدفین کے لیے ساتھ جائے۔
1۔ اگر سلام
ایک فرد کو کیا جائے تو سلام کا جواب دینا فرض ہے اور اگر پوری جماعت کو سلام کہا
جائے تو یہ فرض کفایہ ہے۔ جبکہ سلام میں پہل کرنے کے حوالے سے اصل یہ ہے کہ یہ سنت
ہے۔ کیونکہ رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ
واٰلہٖ وسلَّم کا فرمان ہے: آپس میں سلام عام کرو اگر سلام ایک شخص کو کیا جائے تو
سلام کا جواب دینا واجب ہے، اور اگر سلام پورے گروپ کو کیا جائے تو سلام کا جواب
دینا فرض کفایہ ہے، چنانچہ اگر کوئی ایک شخص سلام کا جواب دے دے تو بقیہ پر جواب
نہ دینے کی وجہ سے کوئی حرج نہیں ہے، اور اگر سب کے سب جواب دیں تو سب ہی فرض ادا
کر دیں گے چاہے اکٹھے جواب دیں یا آگے پیچھے جواب دیں، اور اگر کوئی بھی جواب نہ
دے تو سب کو گناہ ہو گا کیونکہ رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمان
ہے: مسلمان کے مسلمان پر پانچ حقوق ہیں: سلام کا جواب دینا۔
2۔جنازے کے
ہمراہ چلنا بھی فرض کفایہ ہے۔
3۔دعوت قبول
کرنے کے حوالے سے یہ ہے کہ اگر ولیمے کی دعوت ہو تو جمہور اس دعوت کو قبول کرنا
واجب کہتے ہیں، ہاں اگر کوئی شرعی عذر ہو تو ان کے ہاں بھی عدم شرکت کی گنجائش ہے۔
لیکن اگر دعوت ولیمے کی نہیں ہے تو جمہور ایسی دعوت قبول کرنے کو مستحب کہتے ہیں۔
یہ مضمون نئے لکھاری کا ہے ،حوالہ جات کی تفتیش و
تصحیح کی ذمہ داری مؤلف کی ہے، ادارہ اس کا ذمہ دار نہیں۔
ابو ہریرہ رضی
اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد
فرمایا مسلمان کے مسلمان پر پانچ حقوق ہیں پہلا سلام کا جواب دینا دوسرا بیمار کی
عیادت کرنا تیسرا جنازوں کے ساتھ جانا چوتھا دعوت کو قبول کرنا پانچواں چھینک کا
جواب دینا ۔
اس حدیث میں
ان حقوق میں سے کچھ کا بیان ہے جو مسلمان کے اپنے مسلمان بھائی پر واجب ہوتے ہیں
مسلمان کے اپنے بھائی پر بہت سے حقوق لازم ہوتے ہیں لیکن نبی کریم صلَّی اللہ علیہ
واٰلہٖ وسلَّم نے بعض اوقات کو شمار کرنے کے لیے صرف ان کا ذکر فرمایا ان میں سے
کچھ چیزیں وہ ہیں جن کا ذکر ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ رسول پاک صلَّی اللہ
علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے روایت کرتے ہوئے بیان کیا کہ آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ
وسلَّم نے فرمایا :
مسلمان کے
مسلمان پر پانچ حقوق ہیں سلام کا جواب دینا یعنی جب آپ کو کوئی شخص سلام کرے تو
آپ اس کا سلام کا جواب دیں جو شخص مسلمان کے سلسلے میں ان حقوق کی پاسداری کرے گا
وہ دیگر حقوق کو بدرجہ اولی پورا کرے گا اسی طرح سے وہ ان واجبات حقوق کو پورا کرے
گا جن میں بہت زیادہ بھلائی معزر ہے اور بہت بڑا اجر ہے بشرط یہ کہ وہ اللہ سے اجر
کا امیدوار ہے ان حقوق میں سے سب سے پہلا حق یہ ہے کہ جب تم دوسرے مسلمان سے ملو
تو اسے سلام کرو تیسرا حق جنازے کے پیچھے چلنا اور ان کے ساتھ ساتھ جانا ہے مسلمان
کا اپنے بھائی پر یہ حق ہے کہ وہ اس کے گھر سے لے کر جنازہ گاہ تک اس کے جنازے کے
ساتھ ساتھ چلے ۔
چوتھا حق دعوت
قبول کرنا مسلمان کا اپنے بھائی پر یہ حق ہے کہ جب وہ اسے دعوت دے تو وہ اس کی
دعوت کو قبول کرے پانچواں حق چھینک کا جواب دینا کیونکہ چھینک آنا اللہ تعالی کی
نعمت ہے اور اس لیے کہ اس سے انسان کے اجزاءبدن میں جمع شدہ ہوا خارج ہوتی ہے اور
یوں چھینکنے والے کو راحت حاصل ہوتی ہے چاہیے کہ اس کے لیے مشروع ہے کہ وہ اس نعمت
پر اللہ کا شکر ادا کرے اور اس کے بھائی کے لیے یہ مشروع ہے کہ وہ اس کے جواب میں
یرحمک اللہ کہے ۔
یہ مضمون نئے لکھاری کا ہے ،حوالہ جات کی تفتیش و
تصحیح کی ذمہ داری مؤلف کی ہے، ادارہ اس کا ذمہ دار نہیں۔
ہائے افسوس!
آج مسلمان ان حقوق کی ادائیگی سے غافل ہیں شاید! ایسا علم دین کی کمی کی وجہ سے
ہے۔ شریعت مطہرہ نے ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر بہت سے حقوق ضروری قرار دیئے
ہیں لیکن مشاہدات، تجربات اور بزرگان دین کی تعلیمات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ان
سب حقوق کا ایک مقصد مسلمانوں کی حرمت (عزت) کا خیال رکھنا اور ان کی دل آزاری سے
بچنا ہے۔
جیسا کہ الله
پاک قران پاک میں فرماتا ہے:ترجمہ کنز الایمان: اور جو ایمان والے مردوں اور
عورتوں کو بے کیے ستاتے ہیں انہوں نے بہتان اور کھلا گناہ سر لیا۔(پ:22،
الاحزاب:58) ایک اور جگہ الله پاک ارشاد فرماتا ہے: ترجمہ کنز الایمان: اور عیب نہ
ڈھونڈو اور ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو۔(پ:26، الحجرات:12) اور ارشاد فرماتا ہے:
ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو نہ مرد مردوں سے ہنسیں عجب نہیں کہ وہ ان ہنسنے
والوں سے بہتر ہوں اور نہ عورتیں عورتوں سے دور نہیں کہ وہ ان ہنسنے والیوں سے
بہتر ہوں اور آپس میں طعنہ نہ کرو اور ایک دوسرے کے برے نام نہ رکھو کیا ہی برا
نام ہے مسلمان ہو کر فاسق کہلانا اور جو توبہ نہ کریں تو وہی ظالم ہے۔(پ:26،
الحجرات:11)
احادیث میں بھی حضور پاک علیہ الصلاۃ والسلام نے
اس کے متعلق فرمایا ہے: جیسا کہ حضرت ابو موسی رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں:
لوگوں نے پوچھا: یا رسول الله! کون سا اسلام افضل ہے؟ تو نبی کریم صلَّی اللہ علیہ
واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: وہ جس کے ماننے والے مسلمان کی زبان اور ہاتھ سے سارے
مسلمان سلامتی میں رہیں۔(صحیح البخاری، کتاب الایمان، حدیث: 11)
اور فرمایا:
الله کے بندوں! بے شک الله نے حرج کو اٹھا دیا ہے مگر وہ شخص جو اپنے بھائی کی
آبرو ریزی کے در پہ ہو تو ایسا شخص ہلاک ہوا۔(ابی داؤد،کتاب المناسک، 305، حدیث:
2015)
اور دعوت
اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی کتاب غیبت کی تباہ کاریاں'' صفحہ 28 پر
بھی نقل ہے: چنانچہ حضرت سیدنا امام احمد بن حجر مکی شافعی نقل کرتے ہیں: کسی
(مسلمان) کی برائی بیان کرنے میں خواہ کوئی سچا ہی کیوں نہ ہو پھر بھی اس (مسلمان)
کی غیبت کو حرام قرار دینے میں حکمت مومن کی عزت کی حفاظت میں مبالغہ کرنا ہے اور
اس میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ انسان کی عزت و حرمت اور اس کے حقوق کی بہت زیادہ
تاکید ہے (الزواجر عن افتراف الکبائر،ج2،ص10)
خلاصہ
کلام: اس
گفتگو میں مقصود یہ ہے کہ ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر حقوق جیسا کہ اس کی غیبت
نہ کی جائے،اسے ناحق ستایا نہ جائے، اسے جسمانی اذیت نہ پہنچائی جائے، اس کے ساتھ
کسی بھی قسم کی زیادتی نہ کی جائے، اس کا مذاق نہ اُڑایا جائے وغیرہ کا بنیادی
مقصد یہ ہے کہ ہر لحاظ سے ایک مسلمان کی دل آزاری سے بچا جائے۔ یہی وہ اہم ترین حق
ہے جس کا ہر شوہر، بیوی، اولاد، والدین، بھائی،وغیرہ ہر رشتہ دار سے، دوستوں
سے،پڑوسی سے، بلکہ تمام مسلمانوں کے ساتھ مختلف انداز میں ادا کرنے کا حکم ہے۔
ہم سب کو کوشش کرنی چاہیے کہ دوسرے مسلمانوں کے
اس حق کو ضرور ادا کریں اور ان کی حرمت کا خیال رکھیں۔ہماری وجہ سے ہرگز کسی
مسلمان کو تکلیف نہیں پہنچنی چاہیئے ۔ الله پاک سے دعا ہے کہ جو کچھ پڑھا ہے اس پر
عمل کی توفیق عطا فرمائے۔
ایسے بہت سے
ضروری احکام سیکھنے اور علم دین حاصل کرنے کا ایک ذریعہ دعوت اسلامی کا مدنی ماحول
بھی ہے اس لیے ہر جمعرات ہونے والے سنتوں بھرے اجتماع میں شرکت کی اور ہر ہفتہ
مدنی چینل پر ہونے والے مدنی مذاکرہ کو دیکھنے کی اور ہر ماہ کے مدنی قافلوں میں
عاشقان رسول کے ساتھ شرکت کی مدنی التجا ہے۔
یہ مضمون نئے لکھاری کا ہے ،حوالہ جات کی تفتیش و
تصحیح کی ذمہ داری مؤلف کی ہے، ادارہ اس کا ذمہ دار نہیں۔
محمد وقاص عطاری (درجہ
ثانیہ جامعۃ المدینہ شاہ عالم مارکیٹ لاہور، پاکستان)
اللہ تعالیٰ
نے انسان کو انسان سے اس لیے پیدا کیا کہ اس میں ایک دوسرے کی خیر خواہی کا احساس
ہو۔دکھ درد میں دوسروں کے کام آئیں۔اس بات کو مسلمانوں کے حقوق کا نام دیا گیا
ہے۔چونکہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو زمین پر وسیع اختیارات دیئے ہیں۔زمین و آسمان کی
ہر چیز کو انسان کی نفع رسانی کے لیے بنایا گیا ہے۔اس لیے ہر انسان کے ذمے یہ
فریضہ عائد کر دیا گیا ہے کہ وہ اپنے ارد گرد ہر چیز اور مخلوقات کے لیے ایسا طرزِ
عمل اختیار کرے جس سے کسی کا حق تلف نہ ہو۔حقوق العباد در حقیقت بندوں کے آپس میں
وہ حقوق ہیں کہ ہر کوئی اپنے حق کے مطابق زندگی کے شب و روز گزارے جس سے کسی کو
کوئی تکلیف نہ ہوگی۔
نبیِّ کریم
صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے پہلے حقوق کی ادائیگی میں لوگ انتہائی غفلت کرتے
تھے۔ لوگوں کے ساتھ زیادتی اور ظلم کا دروازہ کھلتا تھا۔سرکار صلَّی اللہ علیہ
واٰلہٖ وسلَّم نے انسان کے ہر رشتہ کے لحاظ سے حقوق کی حدود متعین کر دیں۔جب ہر
کوئی اپنے فرائض کو شرعی قواعد کے مطابق ادا کرے گا تو پھر کسی کی حق تلفی نہ ہوگی
اور نہ کسی پر ظلم ہوگا۔حقوق کی حفاظت کا اہتمام جتنا شریعتِ اسلامیہ میں کیا گیا
ہے دنیا کے کسی اور مذہب میں نہیں ہے۔
بندوں کے حقوق
اچھی طرح وہ ادا کر سکے گا جسے یہ علم ہوگا کہ اللہ کے نبی نے ہر ایک کے حقوق کے
بارے میں فرداً فرداً کیا فرمایا ہے۔ مسلمان ایک ملت اور قوم ہے لہٰذا اسلام نے ہر
مسلمان پر یہ فریضہ عائد کیا ہے کہ وہ آپس میں اتفاق،سلوک اور پیار محبت سے رہیں
کیونکہ اسلام نے ایک مسلمان کو دوسرے مسلمان کا بھائی قرار دیا ہے۔مسلمانوں کو ایک
برادری کی حیثیت حاصل ہے۔خواہ وہ دنیا کے کسی حصے میں رہتے ہوں۔آپس میں مسلمانوں
کا رشتہ نہایت ہی مضبوط رشتہ ہے۔اس رشتہ نے مسلمانوں کو ایک جسم کی مانند قرار دیا
ہے اور ان کے درمیان آپس میں رحم،شفقت،محبت اور ایک دوسرے کی خیر خواہی کو لازم
قرار دیا ہے۔جنہیں حقوق کے نام سے تعبیر کر دیا گیا ہے۔ان حقوق کو ادا کرنا ہر
مسلمان پر ضروری ہے کیونکہ ایک مسلمان جب دوسرے مسلمان کے حقوق ادا کرتا رہے گا تو
اسے بھی وہی سہولتیں میسر آ جائیں گی جو ہر مسلمان کے لیے ہیں۔
اس کے بارے
میں حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی حدیث مبارکہ سنئے: عن أبي هريرة أن النبي
صلى الله عليه وسلم قال المؤمن مألف و لا خير فيمن لا يألف ولا يؤلف ترجمہ:
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ
وسلَّم نے فرمایا: مومن الفت کرنے والا ہے اور اس میں کوئی بھلائی نہیں جو الفت نہ
کرے اور اس سے الفت نہ کی جائے۔(بیہقی)
عن النعمان بن يسير قال قال رسول
الله صلى الله عليه وسلم المؤمن كرجل واحد انشتكي عينه الشتكي كله وان الشتكي رأسه
شتكي كله ترجمہ:
حضرت نعمان بن بشیر (رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ نبی کریم صلَّی اللہ علیہ
واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: ایمان والے ایک جسم کی طرح ہیں۔اگر آنکھ کو تکلیف ہو
جائے تو سارے جسم کو تکلیف ہوتی ہے اور اگر سر کو تکلیف ہو جائے تو سارے جسم کو
تکلیف ہوتی ہے۔(مسلم)
نبیِّ کریم
صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے مسلمانوں کو ایک جسم کی مانند فرمایا ہے کہ اگر
آنکھ کو تکلیف ہو تو سارے جسم کو تکلیف ہوتی ہے۔
اخلاقی طور پر
ایک مسلمان اگر اپنے کسی دوسرے مسلمان بھائی میں کوئی برائی یا خرابی دیکھے تو اسے
بڑی حکمت سے دور کرنے کی کوشش کرے کیونکہ بعض اوقات یوں ہوتا ہے کہ کسی کو یہ
احساس نہیں ہوتا کہ وہ برائی کر رہا ہے کیونکہ اس میں احساس برائی ختم ہو چکا ہوتا
ہے۔اس لیے کسی مسلمان میں برائی ہو تو اس میں احساس پیدا کریں کہ تمہارا فلاں عمل
برا ہے اس کی اصلاح کر لو۔
یہ مضمون نئے لکھاری کا ہے ،حوالہ جات کی تفتیش و
تصحیح کی ذمہ داری مؤلف کی ہے، ادارہ اس کا ذمہ دار نہیں۔
محمد عامر (درجۂ خامسہ
جامعۃ المدینہ گلزار حبیب سبزہ زار لاہور، پاکستان)
وَ
اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ لَا تُشْرِكُوْا بِهٖ شَیْــٴًـا وَّ بِالْوَالِدَیْنِ
اِحْسَانًا وَّ بِذِی الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ الْجَارِ ذِی
الْقُرْبٰى وَ الْجَارِ الْجُنُبِ وَ الصَّاحِبِ بِالْجَنْۢبِ وَ ابْنِ
السَّبِیْلِۙ۔وَ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْؕ۔اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ
كَانَ مُخْتَالًا فَخُوْرَاۙﰳ (36)
ترجمہ
کنزالایمان:اور اللہ کی بندگی کرو اور اس کا شریک کسی کو نہ ٹھہراؤ اور ماں باپ سے
بھلائی کرو اور رشتہ داروں اور یتیموں اور محتاجوں اور پاس کے ہمسائے اور دور کے
ہمسائے اور کروٹ کے ساتھی اور راہ گیر اور اپنی باندی غلام سے بے شک اللہ کو خوش
نہیں آتا کوئی اترانے والا بڑائی مارنے والا۔(پ5، النسآء: 36)
موضوعِ آیت:اس
آیتِ کریمہ میں بندوں کے حقوق کی تعلیم دی گئی ہے۔ بندوں کے حقوق میں بنیادی اصول*
دوسروں کو تکلیف سے بچانا اور سہولت و راحت پہنچانا ہے۔ اپنی زبان اور ہاتھ سے کسی
کو تکلیف نہ پہنچائیں، بدکلامی اور بدگمانی سے بچیں، کسی کا عیب نہ بیان کریں، کسی
پر الزام تراشی نہ کریں، تلخ کلامی سے بچیں، نرمی سے گفتگو کریں، مسکراہٹیں
بکھیریں، جو اپنے لئے پسند کریں وہی دوسروں کےلئے پسند کریں، دوسروں کو اپنے شر سے
بچائیں اور ان کے لئے باعثِ خیر بنیں۔
پھر بندوں کے حقوق میں درجہ بدرجہ تفصیل ہے مثلا
ًماں باپ کا حق سب سے مقدم ہے اور کسی اجنبی کا حق سب سے آخر میں ہے۔ آیتِ کریمہ
میں کثیر افراد کا احاطہ کیا گیا ہے جن میں والدین، رشتے دار، یتیم، محتاج، قریب
اور دور کے پڑوسی، ساتھ بیٹھنے والے، مسافر، اجنبی لوگ، اپنے خادمین وغیرہ سب شامل
ہیں۔ ان کے جدا جدا حقوق یہ ہیں: اور اب اس میں سے کچھ کے حقوق کو حدیث پاک سے
بیان کرنے کی کوشش کرتا ہوں
(1)رشتہ
داروں سے حسنِ سلوک کرنا: ان سے حسن سلوک یہ ہے کہ رشتہ داروں کے
ساتھ صلۂ رحمی کرے اور قطع تعلقی سے بچے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،
نبیِّ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: جسے یہ پسند ہو کہ اس
کے رزق میں وسعت ہو اور اس کی عمر لمبی ہو تو اسے چاہئے کہ اپنے رشتے داروں کے
ساتھ اچھا سلوک کرے۔ (بخاری، 2/10، حدیث: 2067)
صلہ رحمی کا
مطلب بیان کرتے ہوئے صدرُالشریعہ مولانا امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے
ہیں: صلۂ رحم کے معنی رشتہ کو جوڑنا ہے، یعنی رشتہ والوں کے ساتھ نیکی اور سلوک
کرنا، ساری امت کا اس پر اتفاق ہے کہ صلہ رحم واجب ہے اور قطع رحم (یعنی رشتہ
کاٹنا) حرام ہے۔(بہارِ شریعت، حصہ 16، 3/588)
اور اسی طرح
ہمسایوں سے بھی حسن سلوک کا حکم دیا گیا ہے اس میں قریب کے ہمسایوں سے بھی حسن
سلوک کا حکم دیا گیا ہے اور اسی طرح دور کے ہمسایوں سے بھی حسن سلوک کا حکم دیا
گیا ہے اور قریب کے ہمسایوں سے مراد وہ جن کا گھر آپ کے گھر سے ملا ہوا ہو یا وہ
جو آپ کے رشتے دار ہو ان کو بھی قریب کے ہمسائے کہا جاتا ہے اور وہ جو جن کا گھر
آپ کے گھر سے تو نہ ملا ہو پر وہ مسلمان ہو اسے بھی قریب کا ہمسایہ کہا جاتا ہے
اور دور کے ہمسائے وہ جن کا گھر آپ کے گھر سے ملا ہوا نہ ہو پر وہ آپ کی گلی میں
رہتا ہوں ان سب سے حسن سلوک کا حکم دیا گیا ہے ۔ اُمُّ المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ
رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، تاجدارِ رسالت صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد
فرمایا: جبرئیل عَلَیْہِ السَّلَام مجھے پڑوسی کے متعلق برابر وصیت کرتے رہے، یہاں
تک کہ مجھے گمان ہوا کہ پڑوسی کو وارث بنا دیں گے۔ (بخاری، 4/104، حدیث: 6014)
یتیموں سے بھی حسن سلوک : یتیموں کے
ساتھ حسن سلوک یہ ہے کہ ان کی پرورش کرے ان کے سر پر نرمی کا ہاتھ رکھے اور اس کے
مال کو ناحق نا کھاے جیسا کہ حدیث پاک میں ہے کہ حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے
مروی ہے، رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: جو شخص یتیم
کی کفالت کرے میں اور وہ جنت میں اس طرح ہوں گے۔ حضور سیدُ المرسلین صلَّی اللہ
علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے کلمہ کی انگلی اور بیچ کی انگلی سے اشارہ کیا اور دونوں
انگلیوں کے درمیان تھوڑا سا فاصلہ کیا۔(بخاری، 3/497، حدیث: 5304 )
مسکینوں
سے بھی حسن سلوک کا حکم : اور ان کے ساتھ حسن سلوک یہ ہے کہ ان
کی مدد کرے اور جب کوئی مانگنے آئے تو اسے کھالی ہاتھ نہ جانے دے اور اس کو برا
بھلا نہ کہے جیسا حدیث پاک میں ہے کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،
رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: بیوہ اور مسکین کی
امداد و خبر گیری کرنے والا راہ ِخدا عَزَّوَجَلَّ میں جہاد کرنے والے کی طرح ہے۔
(بخاری، 3/511، الحدیث: 5353
اللہ پاک سے
دعا ہے کہ ہمیں ایک دوسرے کی مدر کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین اور کسی کا حق
کھانے اور کسی کو تکلیف پہنچائے سے بچائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النّبیِّ الْاَمِیْن
صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
یہ مضمون نئے لکھاری کا ہے ،حوالہ جات کی تفتیش و
تصحیح کی ذمہ داری مؤلف کی ہے، ادارہ اس کا ذمہ دار نہیں۔
Dawateislami