27 رمضان المبارک بمطابق   6 مارچ 2024ء بروز ہفتہ مدنی مرکز فیضانِ مدینہ اسٹینفورڈ برمنگھم UK میں اجتماع شب قدر و ختم قرآن کی محفل کا انعقاد ہوا جس میں مقامی عاشقانِ رسول نے عقیدت و احترام کے ساتھ شرکت کی۔

اس اجتماع میں نگران ویلز یوکے سید فضیل رضا عطاری نے ”شب قدر کے فضائل و برکات“ کے موضوع پر بیان کیا اور شرکا کو نیکی اور بھلائی کے کاموں کو کرنے کی ترغیب دلائی جس پر انہوں نے بھلے جذبات کا اظہار کیا۔( کانٹینٹ:رمضان رضا عطاری)


فیضان آن لائن اکیڈمی بوائز لاہور ڈویژن  کے ذمہ داران کا رمضان المبارک کے آخری عشرے کا اعتکاف اور رمضان ڈونیشن کے تعلق سے مدنی مشورہ ہوا جس میں رکن شوریٰ حاجی یعفور رضا عطاری نےشفٹ وائز مدنی عطیات کی کارکردگی کا جائزہ لیا ۔

بعدازاں رکن شوری نے ہدف مکمل کرنے کے بارے میں تربیتی مدنی پھول دئیےاور اس موقع پر نمایاں کارکردگی والے ذمہ داران میں تحائف بھی تقسیم کئے۔(رپورٹ: محمد وقار یعقوب عطاری مدنی برانچ ناظم فیضان آن لائن اکیڈمی بوائز، کانٹینٹ:رمضان رضا عطاری)


دعوت اسلامی  کی جانب سے حافظ آباد میں رکن شوری عبدالوہاب عطاری نے بزنس مین (ملک حسنین رضا اعوان ، آنر جم خانہ مارکی ڈاکٹر محمد اویس ، چائلڈ اسپیشلسٹ FCPS ملک پھول خان اعوان ) سے ملاقات کی۔

دوران گفتگو رکن شوری نے دعوت اسلامی کی دینی و فلاحی خدمات کا تعارف کروایا اور دعوت اسلامی کی مختصر Presentation دکھائی۔ساتھ ہی دینی کاموں کے لئے اپنے ڈونیشن جمع کروانے کی ترغیب دلائی جس پر تمام شخصیات نے دعوت اسلامی کے دینی کاموں میں تعاون کرنے کی اچھی نیت کا اظہار کیا۔(رپورٹ : محمد مدثر عطاری مجلس رابطہ ڈسٹرکٹ حافظ آباد ،کانٹینٹ:رمضان رضا عطاری)


پچھلے  دنوں دعوت اسلامی کے زیرِ اہتمام رکن شوری عبدالوہاب عطاری نے حافظ آباد کے مین جناح چوک میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو چوہدری امتیاز علی بیگ ، ڈپٹی ڈسٹرکٹ اکاؤنٹ آفیسر شیخ عبدالنعیم اور و دیگر سرکاری افسران کے ہمراہ شجر کاری کی ۔

اس موقع پر رکن شوریٰ نے وہاں موجود افسران کو دعوت اسلامی کا تعارف کروایا اور بالخصوص دعوت اسلامی کے شعبہ FGRF کے فلاحی کاموں کے تعلق سے بتایا جس پر انہوں نے خوشی کاا ظہار کرتے ہوئے دعوت اسلامی کی کاوشوں کو سراہا۔(رپورٹ : محمد مدثر عطاری مجلس رابطہ ڈسٹرکٹ حافظ آباد ،کانٹینٹ:رمضان رضا عطاری)


میڈیکل ڈیپارٹمنٹ دعوت اسلامی  کے تحت ڈسٹرکٹ و ٹاؤن ذمہ داران کا مدنی مرکز فیضان مدینہ کراچی میں مدنی مشورے کا انعقاد ہوا جس میں رکن شوری حاجی اطہر عطاری اور سٹی ذمہ دار حمزہ عطاری نے رمضان اعتکاف و عطیات پر کلام کیا۔

علاوہ ازیں بڑے ہاسپٹل میں دینی کاموں کو مضبوط کرنے اور آگے بڑھانےکا ذہن دیا نیز افطار اجتماعات کرنے کے اہداف بھی دیئے۔ (رپورٹ:کارکردگی ذمہ دار محمد کامران عطاری میڈیکل ڈیپارٹمنٹ کراچی سٹی،رپورٹ:رمضان رضا عطاری)


پیارے اسلامی بھائیو! حُقُوق دو طرح کے ہوتے ہیں، ایک حُقُوقُ اللہ یعنی اللہ عَزَّوَجَلَّ کے حُقُوق اور دوسرا حُقُوقُ الْعِباد یعنی بندوں کے حُقُوق۔ حُقُوقُ اللہ تو ہم پر اس وجہ سے لازِم ہیں کہ ہم اللہ عَزَّوَجَلَّ کے بندے ہیں، اس نے ہمیں پیدا فرمایا، وہی ہمارا خالق و مالک اور پالنے والا ہے،اِسی وجہ سے اس کے اَحکامات کی بجاآوری ہم پر لازِم ہے۔لیکن بندوں کے حقوق کی ادائیگی ہم پرکیوں ضروری ہے؟ اس بات کا جواب دیتے ہوئے حُجَّۃُالْاِسْلام، حضرتِ سَیِّدُنا امام محمد بن محمد غزالی رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ اِرْشاد فرماتے ہیں: انسان یا تو اکیلا رہتا ہے یا کسی کے ساتھ اور چونکہ انسان کا اپنے ہم جنس لوگوں کے ساتھ مَیل جول رکھے بغیر زِندگی گُزارنا مُشکل ہے، لہٰذا اس پر مل جُل کر رہنے کے آداب سیکھنا ضروری ہیں۔ چُنانچہ ہر اِختِلاط (میل جَول) رکھنے والے (شخص) کے لیے مل جُل کر رہنے کے کچھ آداب (حقوق)ہیں۔ (احیاء العلوم،2/699)

معلوم ہوا بندوں کے حقوق کے لازِم ہونے کا بُنیادی سبب تمام اِنْسانوں کا مل جُل کر ایک ساتھ رہنا ہے۔

پیارے اسلامی بھائیو! مسلمان کی حق تَلَفی آخرت کیلئے بَہُت زِیادہ نُقصان دِہ ہے،حضرت سیِّدُنا شیخ ابُوطالب محمد بن علی مکی رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ قُوْتُ الْقُلوب میں فرماتے ہیں: زِیادہ تَر (اپنے نہیں بلکہ) دوسروں کے گُناہ ہی دوزخ میں داخِلے کا باعِث ہوں گے جو(حُقُوقُ العِباد تَلَف کرنے کے سبب) انسان پر ڈال دئیے جائیں گے۔ نیز بے شُمار اَفْراد (اپنی نیکیوں کے سبب نہیں بلکہ) دوسروں کی نیکیاں حاصِل کرکے جنَّت میں داخِل ہوجائیں گے۔ (قُوتُ القُلُوب ج2 ص 253) ظاہر ہے دوسروں کی نیکیاں حاصل کرنے والے وہی ہوں گے، جن کی دُنیا میں دل آزاریاں اور حق تلفیاں ہوئی ہوں گی، یُوں بروزِ قیامت مظلوم اور دُکھیارے لوگ فائدے میں رہیں گے۔ (ظلم کا انجام، ص17،18ملتقطاً)

پیارے اسلامی بھائیو! احادیثِ مبارکہ میں کئی مقامات پر مسلمانوں کے حقوق کی اَہَمیّت بیان کی گئی ہے، آئیے!ان میں سے پانچ (5) فرامینِ مُصطفٰے پڑھنے کی سعادت حاصل کرتے ہیں:

1 مُسَلمان کی سب چیزیں مُسلمان پر حرام ہیں، اس کا مال اور اس کی آبرو اور اس کا خُون۔ آدمی کی بُرائی سے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کوحقیر جانے۔(ابو داود، 4/354، حدیث:4882، غیبت کی تباہ کاریاں،101)

2 جس کے ذِمّے اپنے بھائی کا کسی بات کا ظُلم ہو، اسے لازِم ہے کہ قیامت کا دن آنے سے پہلے یہیں دنیا میں اس سے مُعافی مانگ لے،کیونکہ وہاں نہ دِینار ہوں گے اور نہ دِرْہَم، اگر اس کے پاس کچھ نیکیاں ہوں گی، تو بقَدَر اُس کے حق کے،اِس سے لے کر اُسے دی جائیں گی، ورنہ اُس (مظلوم) کے گناہ اِس (ظالم) پر رکھے جائیں گے۔(بخاری، 2/128، حدیث:2448 از غیبت کی تباہ کاریاں،294)

3 دفتر (رجسٹر) تین (3) ہیں، ایک دفتر میں اللہ تَعَالٰی کچھ نہ بخشے گا اور ایک دفتر کی اللہ تَعَالٰی کو کچھ پروا نہیں اور ایک دفتر میں اللہ تَعَالٰی کچھ نہ چھوڑے گا، وہ دفتر جس میں اَصلاً (بالکل) معافی کی جگہ نہیں،وہ توکفر ہے کہ کسی طرح نہ بخشاجائے گا اور وہ دفتر جس کی اللہ عَزَّوَجَلَّ کو کچھ پروا نہیں،وہ بندے کا گناہ ہے،خالص اپنے اور اپنے رَبّ عَزَّوَجَلَّ کے مُعاملہ میں (کہ کسی دن کا روزہ ترک کیا یا کوئی نماز چھوڑ دی، اللہ تَعَالٰی چاہے تو اسے مُعاف کر دے اور دَرْگُزر فرمائے) اور وہ دفتر جس میں سے اللہ تَعَالٰی کچھ نہ چھوڑے گا وہ بندوں کاآپس میں ایک دوسرے پرظُلم ہے کہ اس میں ضرور بدلہ ہوناہے۔ (مستدرک، 5/794، حدیث: 8757، از فتاویٰ رضویہ، 24/460)

4۔ جو مسلمان اپنے بھائی کی عزت کا بچاؤ کرے (یعنی کسی مسلم کی آبرو ریزی ہوتی تھی اس نے منع کیا) تو اللہ پاک پر حق ہے کہ قیامت کے دن اس کو جہنم کی آگ سے بچائے۔ (شرح السنۃ، 6/494، حدیث: 3422)

5 تم لوگ حُقُوق، حق والوں کے سپرد کردو گے،حتّٰی کہ بے سینگ والی کا سینگ والی بکری سے بدلہ لیا جائے گا۔ (صَحِیح مُسلِم ص1394حدیث:2582)

پیارے اسلامی بھائیو! ابھی ہم نے پانچ (5) اَحادیثِ مُبارَکہ پڑھیں، ان میں بیان کردہ آخری حدیثِ مُبارَکہ کا مطلب یہ ہے کہ اگر تم نے دُنیا میں لوگوں کے حُقُوق اَدا نہ کئے تو لَامَحالہ (یعنی ہر صورت میں) قِیامت میں اَدا کرو گے، یہاں دنیا میں مال سے اور آخِرت میں اعمال سے، لہٰذا بہتری اسی میں ہے کہ دُنیا ہی میں ادا کر دو، ورنہ پچھتانا پڑے گا۔ مِراٰۃ شَرحِ مشکوۃ میں ہے: جانور اگرچِہ شرعی احکام کے مُکلَّف نہیں ہیں، مگر حُقُوقُ العِباد جانوروں کو بھی اَدا کرنے ہوں گے۔ (مراٰۃ ج6ص674ملتقطاً،از ظلم کا انجام،ص9)

پیارے اسلامی بھائیو! مسلمانوں کے حقوق کا مُعاملہ واقعی بہت نازُک ہے، ہمیں اس بارے میں ہر وَقْت مُحتاط رہنا چاہیے۔اگر کبھی دانستہ یا نادانستہ طور پرکسی مسلمان کا حق تَلَف ہوجائے تو فوراً توبہ کرتے ہوئے صاحبِ حق سے مُعافی بھی مانگنی چاہیے۔حُقُوقُ اللہ سچی توبہ سے مُعاف ہو جاتے ہیں، جبکہ بندوں کے حقوق میں توبہ کے ساتھ ساتھ جس کا حق مارا ہے،اس سے بھی مُعافی مانگنا ضروری ہے۔ اعلیٰ حضرت،امامِ اَہْلسُنَّت،مولانا شاہ امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ ارشاد فرماتے ہیں:حق کسی قسم کا بھی ہو، جب تک صاحبِ حق مُعاف نہ کرے،مُعاف نہیں ہوتا، حُقُوقُ اللہ میں توظاہر (ہے) کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے سوا دوسرا معاف کرنے والا کون ہوسکتا ہے کہ (قرآنِ پاک میں ہے)(وَمَنْ یَّغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اللّٰہ تَرْجَمَۂ کنز الایمان:اور گناہ کون بخشے سوا اللہ کے)اور بندوں کے حقوق میں رَبّ تَعَالٰی نے یہی ضابطہ مقرَّرفرما رکھا ہے کہ جب تک وہ بندہ مُعاف نہ کرے، مُعاف نہ ہوگا۔ اگرچہ مَولیٰ تَعَالٰی ہمارا اور ہمارے جان و مال و حُقُوق سب کا مالک ہے، اگر وہ بے ہماری مرضی کے،ہمارے حُقُوق جسے چاہے مُعاف فرمادے، تو بھی عین حق اور عدل ہے کہ ہم بھی اسی کے اور ہمارے حُقُوق بھی اسی کے مُقرَّر فرمائے ہوئے ہیں، اگر وہ ہمارے خُون، مال اورعزت وغیرہا کو معصوم و محترم نہ کرتا تو ہمیں کوئی کیسا ہی آزار (تکلیف) پہنچاتا، کبھی ہمارے حق میں گرفتار نہ ہوتا۔ یُونہی اب بھی اللہ عَزَّوَجَلَّ جسے چاہے، ہمارے حُقُوق معاف فرما دے کیونکہ وہی مالکِ حقیقی ہے،مگر اس کریم،رحیم عَزَّوَجَلَّ کی رحمت (ہے) کہ ہمارے حُقُوق کا اِختیار ہمارے ہاتھ (میں) رکھا ہے، بے ہمارے بخشے مُعاف ہوجانے کی شکل نہ رکھی،تاکہ کوئی مظلوم یہ نہ کہے کہ اے میرے مالک! مجھے میرا حق نہ ملا۔ (فتاویٰ رضویہ، 24/460،بتغیر قلیل)

اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں بندوں کے حقوق کی اَہمیّت سمجھنے اور ان کو بجا لانے کی توفیق عطا فرمائے۔اٰمِین بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم۔


اسلام نے حقوق کو دو حصوں میں تقسیم کیا ہے۔ ایک کو ہم حقوق اللہ اور دوسرے کو حقوق العباد کے نام سے جانتے ہیں۔دونوں کی اہمیت وافادیت مسلّم ہے اور ان کا پاس و لحاظ رکھنا اسلام کی نگاہ میں انتہائی ضروری ہے۔آج کل لالچ اور حرص وہوس نے ہمیں اپنا اتنا گرویدہ کر دیا کہ ہم ہر ایک سے حسد، فراڈ، دھو کہ کرنے لگے اور آپس میں بغض رکھنے لگے جبکہ حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ان قلبی بیماریوں سے منع فرمایا ہے۔ہم اپنی دوکانوں کو چمکاتے ہے اپنی واہ وا کے لئے اپنے آپ کو سب سے مختلف ظاہر کرنے کے لئے دوسروں کو حقیر، گھٹیا، سمجھنے لگے تو یہ حق مسلم نہیں بلکہ ہم اپنے لئے دوزخ خرید رہے ہیں۔ ہم مسلمانوں کے تو کیا ہم اپنے حقیقی بھائی بہن دیگر رشتہ داروں کے حقوق کا خیال نہیں کرتے چھوٹی چھوٹی باتوں پہ لڑائی وجھگڑا کرتے ہیں ایک دوسرےسے قطع تعلق (رشتہ توڑ) کر دیتے ہے اور کئی کئی سال تک ایک دوسرے سے بات نہیں کرتے اور جب شب قدر یا شب براءت یا اسی طرح کا کوئی اور دن ہوں تو ہم ایک روایتی میسج کرتے ہے وہ بھی ان لوگوں کوجن سے ہمارا رشتہ بہت کم ہوتا ہے اور بعض اوقات وہ ہم سے ناراض بھی نہیں ہوتے اور جو اس میسج کے زیادہ حق دار ہوتے ہے ہم انہیں بھول جاتے ہیں جبکہ اسلام نے تو تین دن سے زیادہ دیر تک ناراض رہنے سے منع فرمایا ہے اور ان تمام چیزوں میں جو سب سے پہلے نمبر پہ ہے وہ ہماری زبان ہے کیونکہ یہ زبان ہی تو ہے کہ اس سے نکلنے والے الفاظ سے ہم کسی کے دل میں بھی اتر جاتے ہے اور کسی کے دل سے بھی۔ تو آج ہم مسلمان کے مسلمان پرجو حقوق ہے ان میں سے چند حقوق کے متعلق پڑھیں گے اور اس پہ عمل کرنے کی بھی کوشش کرے گے ان شاء اللہ۔

اللہ پاک قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے : كُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ تَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِؕ۔ ترجمہ کنزالایمان: تم بہتر ہو ان سب امتوں میں جو لوگوں میں ظاہر ہوئیں بھلائی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے منع کرتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو ۔ (پ4، آل عمرٰن:110)

خیر خواہی کا سب سے اہم تقاضا یہ ہے کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کو مطلق سچائی اور اُخروی کا میابی کی طر ف بلاتا رہے اور اس کو دوسرے افکار و نظریات اور مذاہب کے برے اثرات سے محفوظ رکھے۔دین ہرایک کے لیے نصیحت ہے۔اس لیے اللہ کے رسول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فر مایا: الدین نصیحۃ، یعنی دین سراپا نصیحت ہے۔ یہ جملہ اللہ کے رسول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے تین مر تبہ دُہرایا۔ اس کے بعد ایک صحابی نے عرض کیا کہ یہ کن کے لیے نصیحت ہے ؟۔ فر مایا: اللہ تعالیٰ،اس کی کتاب، مسلم حکمرانوں اور تمام مسلمانوں کے لیے۔(ترمذی)

’خیر‘ کے لغوی معنی فائدہ، بھلائی اور نفع کے ہیں اور اس کے اصطلاحی معنی کسی چیز کو بہتر طریقے سے اپنے کمال تک پہنچانے کے ہیں۔ امام راغب کے مطابق ’ النصح ‘ کسی ایسے قول یا فعل کا قصد کرنے کو کہتے ہیں جس میں دوسروں کی خیر خواہی ہو۔ ہر ایک کے ساتھ خیرخواہی کرنے کا مطلب یہ ہے کہ سب کے ساتھ خیر خواہی کرنا ہی حقیقتاً دین داری ہے۔ اگر مسلمان بھی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم قرآن مجید اور عام مسلمانوں کے ساتھ خیرخواہی اور وفاداری نہ کر ے تو وہ اپنے دعوے میں جھوٹاہے۔ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کے لیے وہی چاہے جو اپنے لیے اور اپنے اہل و عیال کے لیے چاہتا ہو۔حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:’’تم میں سے کوئی اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک وہ اپنے دوسرے مسلمان بھائی کے واسطے وہی بات نہ چاہے جو وہ اپنے لیے چاہتا ہو‘‘۔(بخاری،کتا ب الایمان)

ایک مو من دوسرے مومن کا خیر خواہ ہوتا ہے۔ایک مسلمان کودوسرے مسلمان بھائی کی فلاح وبہبود اور تر قی کے لیے کوشاں رہنا چاہیے۔خیر خواہی کا تقاضا یہ بھی ہے کہ ایک مسلمان اپنے مسلمان بھائی کے لیے ہدایت اور اسلام پر ثابت قدم رہنے کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا رہے۔

مسلمان کے مسلمان پہ کئی حقوق ہیں اللہ پاک کے پیارے حبيب،حبيب لبیب، سب سے آخری نبی محمد عربی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ‏ نے ایک موقع پہ ارشاد فرمایا: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: ’’مسلمان کے مسلمان پر پانچ حقوق ہیں: سلام کا جواب دینا، بیمار کی عیادت کرنا،جنازوں کے ساتھ جانا، دعوت قبول کرنا اور چھینک کا جواب دینا‘‘۔

شرح:اس حدیث میں ان حقوق میں سے کچھ کا بیان ہے جو مسلمان کے اپنے مسلمان بھائی پر واجب ہوتے ہیں۔ مسلمان کے اپنے بھائی پر بہت سے حقوق لازم ہوتے ہیں لیکن نبی بعض اوقات کچھ معین باتوں کو ان پر خصوصی توجہ دینے اور ان كو شمار کرنے کے لیے صرف انہی کا ذکر فرما دیتے ہیں۔ ان میں سے کچھ چیزیں وہ ہیں جن کا ذکر ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے روایت کرتے ہوئے کیا کہ آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: مسلمان کے مسلمان پر پانچ حقوق ہیں: سلام کا جواب دینا۔ یعنی جب آپ کو کوئی شخص سلام کرے توآپ اس کے سلام کا جواب دیں۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر چھ حقوق ہیں: ایک یہ کہ جب تم اس سے ملو تو اس سے سلام کرو۔جو شخص مسلمانوں کے سلسلے میں ان حقوق کی پاسداری کرے گا وہ دیگر حقوق کو بدرجۂ اولی پورا کرے گا۔ اس طرح سے وہ ان واجبات و حقوق کو پورا کرے گا جن میں بہت زیادہ بھلائی مضمر یعنی چھپی ہوئی ہے اور بہت بڑا اجر ہے بشرطیکہ وہ اللہ سے اجر کا امیدوار رہے۔ ان حقوق میں سے سب سے پہلا حق یہ ہے کہ جب تم دوسرے مسلمان سے ملو تو اسے سلام کرو ۔

دوسرا حق: جب کوئی شخص بیمار ہو کر اپنے گھر میں مقید ہوجائے تو اس کی تیمار داری کرنا۔ اس کا اپنے مسلمانوں بھائیوں پر یہ حق بنتا ہے کہ وہ اس کی زیارت کریں۔ اس کے صحت یابی کے لیے دعا کرے۔ اور اگر اس کے لیے آسانی ہو تو اس کی کچھ خدمت بھی کرے تاکہ اس کے لیے آسانی ہو جائے۔

تیسرا حق: جنازے کے پیچھے چلنا اور ان کے ساتھ ساتھ جانا ہے۔مسلمان کا اپنے بھائی پر یہ حق بھی ہے کہ جب وہ انتقال کر جائے تو اس کے جنازہ کے ساتھ چلے۔ اب یہ جنازہ جنازگاہ میں جارہا ہو یا پھر کسی مسجد میں ہو اور کوشش کرے کہ اسے دفن کرنے کے بعد دعا مغفرت بھی کرے اور پھر واپس آجائے ۔لیکن آج کے دور میں کوئی امیر انتقال کر جائے تو ہم ان کودیکھانے کے لیے جاتے ہے اور کافی دیر تک وہاں رکتے ہیں تاکہ انہیں پتہ چلے کہ ہمیں بہت افسوس ہے جبکہ یہی اگر کسی غریب کا گھر ہو تو ہم جاتے ہی نہیں یا پھر جاتے ہے تو بس فورا ہی واپس آجاتے ہے جبکہ وہ بھی مسلمان اور یہ بھی مسلمان۔ تو ہمیں چاہے کہ ہم ان میں اس طرح کا فرق نا کرے۔

چوتھا حق: دعوت قبول کرنا ہے۔ مسلمان کا اپنے مسلمان بھائی پر یہ حق بھی ہے کہ جب وہ اس کی دعوت کرے تو وہ اس کی دعوت کو قبول کرے مگر آج کے دور میں ہم اس چیز پہ توجہ کرتے ہے کہ اگر تو کوئی امیر ہے تو ہم اس کی دعوت کو قبول کرلیتے ہیں اور اگر وہ غریب ہے تو اس کی دعوت کو رد کر دیتے ہے جبکہ یہ صرف دعوت کو رد کرنا ہی نہیں بلکہ اس سے اس کا دل بھی یقینا دکھتا ہو گا اور مسلمان بھائی کا دل بھی نہیں دکھانا چاہے۔

پانچواں حق: چھینک کا جواب دینا ہے۔ کیونکہ چھینک آنا یہ بھی اللہ پاک کی ایک بہت بڑی نعمت ہے ہم اکثر محسوس کرتے ہیں کہ جب ہمیں چھینک آتی ہے تو چھینک کے بعد ہمارے جسم کو راحت ملتی ہے تو اس نعمت کا بھی شکر ادا کرنا چاہیئے اور جب ہمارے دینی بھائی کو آئے تو اس کا جواب بھی دینا واجب ہے ۔

ہمارا معاشرہ جو ہے وہ آج ان چیزوں کو بھولے بیٹھا ہے اور صرف دنیا کے پچھے ہی لگا ہوا ہے جبکہ وہ اپنے بھائی کے حقوق کو ضائع کر رہا ہے اور تو ہمیں چاہے کہ ہم اپنے بھائی کے حقوق کا خیال رکھے اور ان کو ادا کرنے کی بھی دل و جان سے کوشش کرتے رہیں۔

اللہ پاک سے دعا ہے کہ اللہ پاک ہمیں اپنے بھایئوں کے حقوق کا خیال رکھنے اور ان کو اچھے سے ادا کرنے کی توفيق عطإ فرمائے۔ آمین

نوٹ:اکثر ہم جب بھی کوئی تحریر پڑھتے یا کوئی بیان وغيرہ سنتے ہے تو ہمارا اس وقت تو ذہن بن جاتا ہے کہ ہم اب ان چیزوں کا خیال کرے گےے جبکہ ہم نے ابھی اپنے بھائی کے حقوق کے متعلق پڑھا تو ہمارا ذہن بنا ہوگا کہ ہم ان کو ادا کرے یا کبھی قطع تعلق کے متعلق پڑھیں جو کہ اب ہمارے معاشرہ میں بہت زیادہ ہوچکی ہے تو ہم اسی وقت ذہن بناتے ہیں کہ جو ناراض ہے اس کو منائے گئے لیکن کچھ دیر بعد پھر شیطان کے بہکاؤے میں آکر ترک کر دیتے ہے۔

تومیرے عزیز! یاد رکھ جب نیت کرے تو اسے فورا پورا کراور اسے اپنے عادت بنا تاکہ آپ اسے کرتے رہوں۔ اپنے بھائی کا خیال کرنے سے عزت کم نہیں ہوگی بلکہ عزت میں اضافہ ہی ہوگا ان شاء اللہ

یہ مضمون نئے لکھاری کا ہے ،حوالہ جات کی تفتیش و تصحیح کی ذمہ داری مؤلف کی ہے، ادارہ اس کا ذمہ دار نہیں۔


پیارے اسلامی بھائیو! الحمدللہ ہم مسلمان ہیں اور ہر مسلمان پر دوسرے مسلمان کے کچھ حقوق ہوتے ہیں آج ہم ان شاء اللہ الکریم مسلمان کے اپنے دوسرے مسلمان بھائ پر حقوق کے حوالے سے کچھ حضور صلہ اللہ علیہ والہ وسلم فرمان سنے گئے ۔مشہور صحابی رسول حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے اللہ پاک کے آخری نبی رسول ہاشمی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا حق المسلم على مسلم خمس یعنی ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر پانچ حق ہیں ۔ ( بخاری و مسلم ) اس حدیث پاک میں پانچ حقوق کا ذکر ہے بعض دیگر روایات میں سات حق بھی بیان ہوئے ہیں۔

بہرحال یہ پانچ حق کون سے ہیں ارشاد فرمایا (1) حق سلام کا جواب دینا (2)دوسرا حق عیادت کرنا (3)تیسرا حق جنازے میں شرکت کرنا (4)چوتھا حق دعوت قبول کرنا اور (5)پانچواں حق چھینک کا جواب دینا ہے۔ سبحان اللہ

پیارے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے کہ ایک مسلمان پر دوسرے مسلمان کے کس قدر حقوق ہے کہ اس کی دعوت قبول کرنا اور اس کی چھینک کا جواب دینا جنازے میں شرکت کرنا اور عیادت کرنا اگر وہ بیمار ہو لیکن ہماری اکثریت اس سے دور ہیں بلکہ ہماری اکثریت تو ایک دوسرے کو بات بات پر دھوکا دہی دینے میں اور فراڈ کرنے میں لگی ہوئی ہے اللہ پاک محفوظ رکھے بہرحال ایک اور حدیث میں ہے کہ

اللہ کے آخری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: مَثَلُ الْمُؤْمِنِينَ فِي تَوَادِّهِمْ وَتَرَاحُمِهِمْ وَتَعَاطُفِهِمْ مَثَلُ الْجَسَدِ اِذَا اشْتَكَى مِنْهُ عُضْوٌ تَدَاعَى لَهُ سَائِرُ الْجَسَدِ بِالسَّهَرِ وَالْحُمَّى یعنی ایمان والوں کی آپس میں محبت، رحم اورشفقت ومہربانی کی مثال اُس جسم جیسی ہے جس کاایک حصہ بیمار ہوتوباقی جسم بے خوابی اوربخار کی طرف ایک دوسرے کوبلاتا ہے۔ (مسلم، ص1071: 6586

رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کاانتخاب بے مثال ہوتا ہے خواہ وہ افراد ہوں یاالفاظ۔اس حدیثِ پاک میں جن الفاظ کو زبان ِ مصطفےٰ سے ادا ہونے کا اعزاز ملا ہےاُن میں مرادی معنی کے اعتبار سےفرق ہے مثلاً:

(1) تَرَاحُم کامعنی ایک دوسرے پررحم کرنا ہے، مراد یہ ہے کہ مسلمان کسی اور غرض کے بغیر صرف اور صرف اسلامی بھائی چارے کی وجہ سے ایک دوسرے پررحم کریں۔

(2) تَوادّ کامعنی ایک دوسرے سے محبت کرنا ہے، یہاں اس سے مراد یہ ہے کہ آپس کی محبت بڑھانے کے تعلقات رکھے جائیں جیسے ایک دوسرے کو تحفے دیئے جائیں، ملاقات کی جائے وغیرہ۔

(3) تعاطف کامعنی ایک دوسرے پر نرمی کرنا ہے، اس سے مراد ایک دوسرے کی مدد کرنا ہے۔

ہمارے ذہن میں یہ بات ہونی چاہئےکہ دوسروں کی تکلیف دور کرنے کی کوشش کرنا کامل مسلمان کی نشانی ہے لہٰذا ایک کامل مسلمان بننے کے لئے ہمیں دوسروں کی تکلیف دور کرنے کی قابلِ عمل صورتیں اپنانی چاہئیں، مثلاً (1) کسی کی بیمار ی کا معلوم ہو تو حسبِ حال خیر خواہی کیجئے اور عیادت کرنے کی عادت بنائیے، حدیثِ پاک میں ہے: جس نے مریض کی عیادت کی، وہ واپسی تک دریائے رحمت میں غو طے لگاتا رہتا ہے اور جب وہ بیٹھ جاتا ہے تو رحمت میں ڈوب جاتا ہے۔ (مسنداحمد5/30حدیث:14264)

(2) ہم ہرایک کی مدد نہیں کرسکتے مگر کسی ایک کی مدد تو کرسکتے ہیں، ایک شخص کی مدد کرکےہم پوری دنیا نہیں بدل سکتے مگرایک شخص کی دنیا تو بدل سکتے ہیں لہٰذا تکلیف زدہ مسلمان کادُکھ دور کرنے کی کوشش کیجئے، حدیثِ پاک میں ہے: جوکسی مسلمان کی تکلیف دور کرے اللہ پاک قِیامت کی تکلیفوں میں سے اُس کی تکلیف دُور فرمائے گا۔ (مسلم ص1069:حدیث6578)

(3) مسلمان کی عزت کے محافظ بن جائیے، حدیث پاک میں ہے: جو مسلمان اپنے بھائی کی عزت کا بچاؤ کرے (یعنی کسی مسلم کی آبرو ریزی ہوتی تھی اس نےمنع کیا) تو اللہ پاک پر حق ہے کہ قیامت کےدن اس کو جہنّم کی آگ سے بچائے۔(شرح السنہ 6/464حدیث3422)

(4) دکھی مسلمانوں کو خوش رکھنے کا اہتمام کیجئے، حدیثِ پاک میں ہے: فرائض کے بعد سب اعمال میں الله پاک کو زیادہ پیارا مسلمان کا دل خوش کرنا ہے۔(معجم الکبیر 11/59 حدیث11079)

اللہ پاک ہم سب کو مسلمانوں کے حقوق کا خیال رکھتے ہوے اچھے طرح پیش آنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بحاہ النبی الامین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

یہ مضمون نئے لکھاری کا ہے ،حوالہ جات کی تفتیش و تصحیح کی ذمہ داری مؤلف کی ہے، ادارہ اس کا ذمہ دار نہیں۔


پیارےاسلامی بھائیو! تمام مومنین آپسں میں دینی رشتے کے سبب ایک دوسرے کے معاون و مدد گار ہیں نبی پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا جس نے بلاوجہ کسی مسلمان کو ایذادی اُس نے مجھے ایذا دی اور جس نے مجھ کو ایذادی اُس نے الله عزوجل کو ایذادی حدیث پاک میں مسلمانوں کے حقوق کی عظمت، اُن کی معاونت اور ایک دوسرے سے شفقت واضح ہے۔ حقیقی مددگار اللہ عزوجل ہے اور اُس کی عطا سے اُس کے بندے بھی معاون و مددگار ہیں اللہ عزّوجل ہمیں اپنے مسلمان بھائیوں کی باہم مدد و نصرت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

(1) مسلمانوں کو تکلیف نہ دینا:حضرت ابو موسی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کے رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا، جو شخص ہماری مسجدوں اور بازاروں سے گزرے اور اُس کے پاس تیر ہو تو اُسے چاہیے کہ وہ اُسے تھام لے یا ارشاد فرمایا اُس کی نوک کو اپنے ہاتھ میں پکڑلے تاکہ کسی مسلمان کو اس سے کوئی تکلیف نہ پہنچے( بخاری شریف کتاب الفتن الحدیث (7075)

(2) مسلمانوں کے ساتھ حسن سلوک کرنا:حضرت سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا۔ مسلمانوں کی آپس میں دوستی رحمت و شفقت کی مثال ایک جسم کی طرح ہے جب جسم کا کوئی عضو تکلیف میں ہوتا ہے تو پورا جسم بخار اور بے خوابی کی کیفیت میں مبتلا ہو جاتا ہے؟

علامہ کرمانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ بخار ایک حرارت غریبہ ہے جو دل میں پیدا ہوتی ہے اور پورے بدن میں پھیل جاتی ہے جس سے پورے بدن کو تکلیف ہوتی ہے اس حدیث میں مسلمانوں کے حقوق کی تعظیم ایک دوسرے کی مدد کرنے اور ایک دوسرے کے ساتھ نرمی کرنے کا درس فرمایا ہے۔ (فیضان ریاض ا لصالحین جلد 3 ص 237)

(3) مسلمانوں کے ساتھ شفقت کرنا:قرآن پاک میں ارشاد ہے:وَاخْفِضْ جَنَاحَكَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ ترجمہ کنز الایمان:اور مسلمانوں کو اپنے رحمت کے پروں میں لے لو۔

امام فخر الدین رازی علیہ رحمۃ اللہ علیہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں: اس آیت مبارکہ میں حضور نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم فقراء مسلمانوں پر رحمت و شفقت اور تواضح کرنے کا حکم ارشاد فرمایا ہے۔(تفسیر کبیر پ 14 الحجر آیت 88)

(4) حاجت پوری کرنا:حضرت سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: کہ بندہ جب تک اپنے بھائی کی حاجت پوری کرنے میں رہتا ہے اللہ اُسکی حاجت پوری فرماتا رہتا ہے۔ (جنت میں لے جانے والے اعمال صفحہ نمبر 531)

(5) عزت کی حفاظت کرنا: حضرت انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا جس نے دنیا میں اپنے بھائی کی عزت کی حفاظت کی الله عز وجل قیامت کے دن ایک فرشتہ بھیجے گا جو جہنم سے اُس کی حفاظت فرمائے گا۔(غیبت کی تباہ کاریاں صفحہ نمبر 212)

یہ مضمون نئے لکھاری کا ہے ،حوالہ جات کی تفتیش و تصحیح کی ذمہ داری مؤلف کی ہے، ادارہ اس کا ذمہ دار نہیں۔


رسولِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمان ہے: لَیْسَ مِنَّا مَنْ لَّمْ یَرْحَمْ صَغِیْرَنَا وَیُوَقِّرْ کَبِیْرَنَا وَیَعْرِفْ لَنَا حَقَّنَا یعنی جو ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ کرے، ہمارے بڑوں کی عزت نہ کرے اور مسلمان کاحق نہ جانے وہ ہم سے نہیں (المعجم الکبیر، 11/355، حدیث: 12276)

یقیناً مسلمان کے حقوق نہایت اہم ہیں، مسلمانوں سے ہمارے کئی طرح کے تعلقات ہوتے ہیں مثلاًباپ، بیٹا، بھائی، ماموں، چچا، پڑوسی، ملازم وغیرہا۔ہر ایک کے اعتبار سے ہمیں ان کے حقوق کو ادا کرناہے، جہاں شریعتِ مُطَہَّرہ نے مسلمانوں کی عزت و عظمت اورمقام و مرتبہ بیان کیا ہے وہیں ان کے حقوق کی ادائیگی کا حکم دیااور کچھ حقوق گنوائے ہیں۔چنانچہ

مسلمانوں کے چھ حقوق: خاتَمُ الْمُرْسَلین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: مسلمان کے مسلمان پر چھ حقوق ہیں (1)جب وہ بیمار ہو تو عیادت کرے (2)جب وہ مرجائے تواس کے جنازہ پرحاضر ہو (3)جب دعوت کرے تواس کی دعوت قبول کرے (4)جب وہ ملاقات کرے تو اس کو سلام کرے (5)جب وہ چھینکے تو جواب دے (6)اس کی غیر حاضری اور موجودگی دونوں صورتوں میں اس کی خیر خواہی کرے۔(ترمذی، کتاب الأدب، باب ما جاء فی تشمیت العاطس، 4/338، حدیث: 2746)

حضرت علامہ ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ’’اِس حدیث پاک میں ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر جو حقوق بیان کئے گئے ہیں ان میں تمام مسلمان برابر ہیں، چاہے نیک ہوں یا بد لیکن اتنا ضرور ہے کہ نیک لوگ خندہ پیشانی، اچھے طریقے سے ملاقات کرنے اور مصافحہ میں پہل کرنے کے زیادہ حقدار ہیں۔ (مرقاۃ المفاتیح، کتاب الجنائز، باب عیادۃ المریض، 4/6، تحت الحدیث: 1525)

پیارے اسلامی بھائیو!مذکورہ احادیث میں ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر چھ حقوق بیان فرمائے گئے ہیں، اِن چھ حقوق کا اِجمالی بیان پیش خدمت ہے

(1)ملاقات کے وقت اپنے مسلمان بھائی کو سلام کرنا سنت ہے، اور سلام کا جواب اتنی آواز سے دینا واجب ہے کہ سلام کرنے والا سن لے۔ سلام کرنے کے بہترین الفاظ اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللہِ وَبَرَکَاتُہٗ ہیں اورجواب دینے کے بہترین الفاظ وَعَلَیْکُمُ السَّلَامُ وَرَحْمَۃُ اللہِ وَبَرَکَاتُہٗ ہیں۔

(2)اپنے مسلمان بھائی کی دعوت کو قبول کرنا اُس وقت سنت ہے جبکہ اُس میں کوئی خلافِ شرع کام نہ ہو، یا وہ دعوت دوسروں کو نیچا دکھانے، فخر اور اپنی واہ وا کے لئے نہ ہو ورنہ ایسی دعوتوں میں شرکت کرنا شرعاً ممنوع ہے۔

(3)اپنے مسلمان بھائیوں کو نصیحت اور اُن کی خیر خواہی کرنا سنت مبارکہ ہےاور جب کوئی نصیحت طلب کرے اور دوسرا اُس پر قادر ہو تو اب نصیحت کرنا واجب ہے۔

(4)چھینکنے والے کو چاہیے کہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْن کہے، جبکہ سننے والا اُس کے جواب میں یَرْحَمُکَ اللہ کہے اور اب چھینکنے والا یَغْفِرُاللہُ لَنَا وَلَکُمْ یا یَھْدِیْکُمُ اللہُ وَیُصْلِحُ بَالَکُم کہے، چھینک کا جواب ایک بار دینا واجب ہے جبکہ چھینکنے والا اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہے، ورنہ واجب نہیں۔

(5)اپنے بیمار مسلمان بھائی کی عیادت کرنا سنت مبارکہ ہے اور اَحادیث میں اِس کا بڑا اَجروثواب بیان فرمایا گیا ہے اور اگر اُس کی دیکھ بھال کرنے والا کوئی بھی نہ ہو اور یہ اُس پر قادر ہے تو اب اُس کی دیکھ بھال کرنا اِس پر واجب ہے۔

اپنے مسلمان بھائی کے جنازے میں حتی المقدور شرکت کرنی چاہیے کہ احادیث مبارکہ میں اِس کے بھی بہت فضائل بیان فرمائے گئے ہیں۔

واضح رہے کہ مذکورہ احادیث میں ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر چھ حقوق کو بیان فرمایا گیا ہے لیکن یہ حقوق فقط ان چھ میں منحصر نہیں، چنانچہ شیخ عبد الحق محدث دہلوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں: ’’مسلمانوں کے ایک دوسرے پر بہت سے حقوق ہیں، صرف اِن چھ میں اِنحصار نہیں۔ حضورِاکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے مختلف مواقع پر موقع کی مناسبت سے مختلف حقوق کو بیان کیا یا پھر حقوق المسلمین بتدریج نازل ہوئے، جو حق جب نازل ہوا آپ نے اُسی وقت اُس کو بیان فرمادیا۔

یہ مضمون نئے لکھاری کا ہے ،حوالہ جات کی تفتیش و تصحیح کی ذمہ داری مؤلف کی ہے، ادارہ اس کا ذمہ دار نہیں۔


رسولِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمان ہے: لَیْسَ مِنَّا مَنْ لَّمْ یَرْحَمْ صَغِیْرَنَا وَیُوَقِّرْ کَبِیْرَنَا وَیَعْرِفْ لَنَا حَقَّنَا یعنی جو ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ کرے، ہمارے بڑوں کی عزت نہ کرے اور مسلمان کاحق نہ جانے وہ ہم سے نہیں (المعجم الکبیر، 11/355، حدیث: 12276)

یقیناً مسلمان کے حقوق نہایت اہم ہیں، مسلمانوں سے ہمارے کئی طرح کے تعلقات ہوتے ہیں مثلاًباپ، بیٹا، بھائی، ماموں، چچا، پڑوسی، ملازم وغیرہا۔ہر ایک کے اعتبار سے ہمیں ان کے حقوق کو ادا کرناہے، جہاں شریعتِ مُطَہَّرہ نے مسلمانوں کی عزت و عظمت اورمقام و مرتبہ بیان کیا ہے وہیں ان کے حقوق کی ادائیگی کا حکم دیااور کچھ حقوق گنوائے ہیں۔چنانچہ

مسلمانوں کے چھ حقوق: خاتَمُ الْمُرْسَلین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: مسلمان کے مسلمان پر چھ حقوق ہیں (1)جب وہ بیمار ہو تو عیادت کرے (2)جب وہ مرجائے تواس کے جنازہ پرحاضر ہو (3)جب دعوت کرے تواس کی دعوت قبول کرے (4)جب وہ ملاقات کرے تو اس کو سلام کرے (5)جب وہ چھینکے تو جواب دے (6)اس کی غیر حاضری اور موجودگی دونوں صورتوں میں اس کی خیر خواہی کرے۔(ترمذی، کتاب الأدب، باب ما جاء فی تشمیت العاطس، 4/338، حدیث: 2746)

حضرت علامہ ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ’’اِس حدیث پاک میں ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر جو حقوق بیان کئے گئے ہیں ان میں تمام مسلمان برابر ہیں، چاہے نیک ہوں یا بد لیکن اتنا ضرور ہے کہ نیک لوگ خندہ پیشانی، اچھے طریقے سے ملاقات کرنے اور مصافحہ میں پہل کرنے کے زیادہ حقدار ہیں۔ (مرقاۃ المفاتیح، کتاب الجنائز، باب عیادۃ المریض، 4/6، تحت الحدیث: 1525)

پیارے اسلامی بھائیو!مذکورہ احادیث میں ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر چھ حقوق بیان فرمائے گئے ہیں، اِن چھ حقوق کا اِجمالی بیان پیش خدمت ہے

(1)ملاقات کے وقت اپنے مسلمان بھائی کو سلام کرنا سنت ہے، اور سلام کا جواب اتنی آواز سے دینا واجب ہے کہ سلام کرنے والا سن لے۔ سلام کرنے کے بہترین الفاظ اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللہِ وَبَرَکَاتُہٗ ہیں اورجواب دینے کے بہترین الفاظ وَعَلَیْکُمُ السَّلَامُ وَرَحْمَۃُ اللہِ وَبَرَکَاتُہٗ ہیں۔

(2)اپنے مسلمان بھائی کی دعوت کو قبول کرنا اُس وقت سنت ہے جبکہ اُس میں کوئی خلافِ شرع کام نہ ہو، یا وہ دعوت دوسروں کو نیچا دکھانے، فخر اور اپنی واہ وا کے لئے نہ ہو ورنہ ایسی دعوتوں میں شرکت کرنا شرعاً ممنوع ہے۔

(3)اپنے مسلمان بھائیوں کو نصیحت اور اُن کی خیر خواہی کرنا سنت مبارکہ ہےاور جب کوئی نصیحت طلب کرے اور دوسرا اُس پر قادر ہو تو اب نصیحت کرنا واجب ہے۔

(4)چھینکنے والے کو چاہیے کہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْن کہے، جبکہ سننے والا اُس کے جواب میں یَرْحَمُکَ اللہ کہے اور اب چھینکنے والا یَغْفِرُاللہُ لَنَا وَلَکُمْ یا یَھْدِیْکُمُ اللہُ وَیُصْلِحُ بَالَکُم کہے، چھینک کا جواب ایک بار دینا واجب ہے جبکہ چھینکنے والا اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہے، ورنہ واجب نہیں۔

(5)اپنے بیمار مسلمان بھائی کی عیادت کرنا سنت مبارکہ ہے اور اَحادیث میں اِس کا بڑا اَجروثواب بیان فرمایا گیا ہے اور اگر اُس کی دیکھ بھال کرنے والا کوئی بھی نہ ہو اور یہ اُس پر قادر ہے تو اب اُس کی دیکھ بھال کرنا اِس پر واجب ہے۔

اپنے مسلمان بھائی کے جنازے میں حتی المقدور شرکت کرنی چاہیے کہ احادیث مبارکہ میں اِس کے بھی بہت فضائل بیان فرمائے گئے ہیں۔

واضح رہے کہ مذکورہ احادیث میں ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر چھ حقوق کو بیان فرمایا گیا ہے لیکن یہ حقوق فقط ان چھ میں منحصر نہیں، چنانچہ شیخ عبد الحق محدث دہلوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں: ’’مسلمانوں کے ایک دوسرے پر بہت سے حقوق ہیں، صرف اِن چھ میں اِنحصار نہیں۔ حضورِاکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے مختلف مواقع پر موقع کی مناسبت سے مختلف حقوق کو بیان کیا یا پھر حقوق المسلمین بتدریج نازل ہوئے، جو حق جب نازل ہوا آپ نے اُسی وقت اُس کو بیان فرمادیا۔

یہ مضمون نئے لکھاری کا ہے ،حوالہ جات کی تفتیش و تصحیح کی ذمہ داری مؤلف کی ہے، ادارہ اس کا ذمہ دار نہیں۔


پیارے اسلامی بھائیو حقوق العباد کے معاملے میں تمام مسلمان چاہے نیک ہو یا گنہگار سب برابر ہیں۔ البتہ نیک لوگ حسن سلوک کے زیادہ حق دار ہیں۔ ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر کئی حقوق ہیں۔ البتہ ان تمام حقوق کو کسی ایک حدیث میں نہیں بلکہ وقتا فوقتاً مختلف احادیث مبارکہ میں بیان فرمایا گیا ہے۔ ایک بار آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کعبہ معظمہ کو مخاطب کر کے ارشاد فرمایا مومن کی حرمت تجھ سے زیادہ ہے۔۔ حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا سارے مسلمان ایک شخص کی طرح ہیں۔ جب اس کی آنکھ میں تکلیف ہوگی تو سارے جسم میں تکلیف ہوگی اور اگر اس کے سر میں درد ہو تو سارے جسم میں درد ہو گا۔ (مسلم، کتاب، البر والصلتہ والآداب، باب تراحم المؤمنین الخ، ص 1396، حدیث 2586

(1)ظلم سے روکنا: حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’اپنے بھائی کی مدد کر وخواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم۔ کسی نے عرض کی، یا رسولَ اللہ! صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم، اگر وہ مظلوم ہو تو مدد کروں گا لیکن ظالم ہو تو کیسے مدد کروں ؟ارشاد فرمایا ’’اس کو ظلم کرنے سے روک دے یہی (اس کی)مدد کرنا ہے۔(بخاری، کتاب الاکراہ، باب یمین الرجل لصاحبہ الخ، 4/389 الحدیث: 952)

(2)ضرورت پوری کرنا : حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسولِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا’’مسلمان،مسلمان کابھائی ہے وہ اس پرظلم کرے نہ اس کورُسواکرے،جوشخص اپنے بھائی کی ضرورت پوری کرنے میں مشغول رہتاہے اللہ تعالیٰ اس کی ضرورت پوری کرتاہے اورجوشخص کسی مسلمان سے مصیبت کودورکرتاہے تواللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے مَصائب میں سے کوئی مصیبت دُورفرمادے گااورجوشخص کسی مسلمان کاپردہ رکھتاہے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کاپردہ رکھے گا۔(بخاری، کتاب المظالم والغصب، باب لا یظلم المسلم الخ،2/126، الحدیث: 2662)

(3) پیٹھ پیچھے اس کی عزت کی حفاظت کرنا: حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا جو اپنے (مسلمان) بھائی کی پیٹھ پیچھے اس کی عزت کا تحفظ کرے تو اللہ تعالیٰ کے ذمہ کرم پر ہے کہ وہ اسے جہنم سے آزاد کر دے۔(مسند امام احمد جلد 4 ص 461)

(4)مدد کرنا :حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا جس نے کسی بندے کی ضرورت میں اس کی مدد کی الله عز وجل اسے اس دن ایسی جگہ پر ثابت قدمی عطا فرمائے گا۔ جس دن قدم پھسلیں گے۔(الترغیب والترھیب ص 263)

(5)خوشی داخل کرنا: حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا تمہارا اپنے مسلمان بھائی کے دل میں خوشی داخل کرنا مغفرت کو واجب کرنے والے اعمال میں سے ہے۔ (مجمع الزوائد ص 352)

یہ مضمون نئے لکھاری کا ہے ،حوالہ جات کی تفتیش و تصحیح کی ذمہ داری مؤلف کی ہے، ادارہ اس کا ذمہ دار نہیں۔