غلطی پر اڑے رہنے کی تعریف: غلطی پر اڑے رہنا ایک ایسا رویہ ہے جس میں انسان اپنی غلطی کو تسلیم کرنے سے انکار کرتا ہے، حالانکہ اسے اس غلطی کے نقصان دہ اثرات کا علم ہوتا ہے۔ یہ ضدی طرز عمل نہ صرف ذاتی نقصان کا باعث بنتا ہے بلکہ آس پاس کے لوگوں اور معاشرتی تعلقات پر بھی منفی اثر ڈالتا ہے۔ اکثر افراد اپنی غلطیوں کو اس لیے نہیں مانتے کیونکہ وہ اسے اپنی شخصیت پر حملہ سمجھتے ہیں۔ اس رویے کا بنیادی مقصد خود کو محفوظ رکھنا اور خود اعتمادی کو برقرار رکھنا ہوتا ہے، مگر درحقیقت یہ خود فریبی اور نفسیاتی دباؤ کا سبب بن سکتا ہے۔

نفسیاتی اثرات: غلطیوں کو تسلیم نہ کرنا انسان کی نفسیات پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔ یہ رویہ اکثر خود فریبی، کم خود اعتمادی، اور بار بار کی ناکامیوں کی بنیاد بنتا ہے۔ ماہرین نفسیات کے مطابق، اپنی غلطیوں پر اصرار کرنا ایک دفاعی طرز عمل ہے، جو انسان کو حقیقت کا سامنا کرنے سے روکتا ہے۔ یہ رویہ انسان کی شخصیت کو نقصان پہنچاتا ہے اور اس کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بن جاتا ہے۔

اسلام میں غلطیوں کا اعتراف: اسلام میں غلطیوں کا اعتراف اور ان سے سیکھنے کی بہت زیادہ ترغیب دی گئی ہے۔ قرآن مجید اور احادیث میں بار بار معافی، توبہ، اور اصلاح کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے۔

حضور ﷺ نے فرمایا: جو شخص اپنے بھائی کے عیب چھپائے گا، اللہ قیامت کے دن اس کے عیب چھپائے گا۔ (مسلم، ص 1069، حدیث: 6578) اس سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ دوسروں کی غلطیوں کو معاف کرنا اور ان کی اصلاح میں مدد کرنا ضروری ہے۔

سماجی اثرات: تاریخی اور موجودہ معاشرتی واقعات میں بھی ہمیں غلطیوں پر اڑے رہنے کی متعدد مثالیں ملتی ہیں۔ سیاست، معاشرت اور کاروباری دنیا میں غلط فیصلے صرف افراد کے لیے نہیں بلکہ پورے معاشرے کے لیے نقصاندہ ثابت ہوتے ہیں۔ ان واقعات نے بارہا یہ ثابت کیا کہ اپنی غلطیوں کو تسلیم نہ کرنا نہ صرف ذاتی بلکہ اجتماعی سطح پر بھی نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔

نتیجہ: غلطی پر اڑے رہنا انسان کے لیے ذاتی اور معاشرتی سطح پر مضر ثابت ہوتا ہے۔ بہتر فیصلے اور آگے بڑھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی غلطیوں کو تسلیم کریں، ان سے سیکھیں اور اپنے تعلقات کو بہتر بنائیں۔ ہر غلطی ایک سبق ہے اور ان سے سیکھنے کا عمل ہمیں زندگی میں کامیاب اور خوشحال بنا سکتا ہے۔

غلطی پر اڑ جانے کا مطلب ہے کہ جب کسی کو معلوم ہو کہ وہ غلط ہے یا اس کی رائے عمل یا موقف غلط ہے لیکن پھر بھی وہ اپنی غلطی کو قبول کرنے کے بجائے اس پر ضد کرتا رہے اور اپنی غلطی سے پیچھے نہ ہٹے۔

وجوہات: غلطی پر اڑنے کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں جن میں سے چند اہم یہ ہیں انا ضد خوف علم کی کمی سماجی دباؤ مایوسی ناکامی کا خوف نقصان کا اندیشہ اور عدم برداشت وغیرہ یہ تمام عوامل افراد کو اپنے غلطی پر قائم رہنے کی طرف مائل کرتے ہیں اور ان سے بچنے کے لیے خود آگاہی اور عاجزی ضروری ہوتی ہے۔

نقصانات: غلطی پر اڑ جانے کے کئی نقصانات ہو سکتے ہیں جن میں سے چند اہم یہ ہیں علمی و فکری ترقی میں رکاوٹ رشتوں میں کشیدگی اعتماد کی کمی ذہنی سکون کی کمی ترقی کے مواقع کا نقصان اور حقیقت سے دوری وغیرہ ہیں۔

آج کا ماحول: آج کل کے ماحول میں غلطی پر اڑ جانے کا رجحان عام طور پر زیادہ ہوتا جا رہا ہے اس میں کئی عوامل شامل ہیں جن میں سے چند اہم عوامل یہ ہیں سوشل میڈیا کا دباؤ سیاسی اور سماجی پولرائزیشن ناکامی کا خوف فوری رد عمل اور تنقیدی لیکچر وغیرہ ان عوامل کی وجہ سے اج کے ماحول میں غلطی پر اڑے رہنے کا رجحان بڑھ گیا ہے اور لوگ اپنی انا ساکھ اور سماجی دباؤ کے تحت اپنی غلطیوں کو قبول کرنے سے گریز کرتے ہیں۔

بچنے کا طریقہ: غلطی پر اڑ جانے سے بچنے کے لیے درج ذیل طریقے اپنائے جا سکتے ہیں جیسے خود احتسابی نرمی اور عاجزی کا مظاہرہ کرنا دوسروں کی رائے سننا سیکھنے کا جذبہ احترام اختلاف مثبت سوچ اپنانا اور مخلص لوگوں سے مشورہ لینا وغیرہ یہ طریقے اپنانے سے آپ غلطی پر اڑنے سے بچ سکتے ہیں اور اپنی زندگی میں بہتری لا سکتے ہیں۔

اس سے ہمیں یہ سیکھنے کو ملتا ہے کہ ہمیں اپنی غلطیوں کو تسلیم کر کے اصلاح کی کوشش کرنی چاہیے نہ کہ ضد اور ہٹ دھرمی کے ساتھ غلطی پر قائم رہنا چاہیے۔

غلطی پر اڑ جانا ایک پرامن زندگی کو بے امن بنانے کا سبب بنتا ہے کیونکہ یہ رویہ تنازعات اور اختلافات کو بڑھاتا ہے جب کوئی شخص اپنی غلطی کو تسلیم کرنے سے انکار کرتا ہے اور ضد پر قائم رہتا ہے تو یہ دوسروں کے ساتھ تعلقات میں تناؤ پیدا کر دیتا ہے۔


پچھلے دنوں مرکزی  مجلس شوریٰ کے رکن حاجی محمد امین عطاری نے کراچی میں موجود فریئرہال کا دورہ کیا اور وہاں مقامی پولیس افسران کے ہمراہ شعبہ ایف جی آر ایف کے تعاون سے شجرکاری کی۔

اس موقع پر رکن شوریٰ نے وہاں موجود شخصیات کو دعوت اسلامی کا تعارف کروایا اور انہیں مدنی مرکز فیضان مدینہ کا وزٹ کرنے کی دعوت دی جس پر انہوں نے اچھے خیالات کا اظہار کیا۔(کانٹینٹ:رمضان رضا عطاری)


عاشقانِ رسول کی دینی  تحریک دعوت اسلامی کی طرف سے برہانی مسجد لیاقت آباد کراچی میں یومِ علی کَرَّمَ اللہ تعالٰی وجہَہُ الکریم کے موقع پر افطار اجتماع کا سلسلہ ہوا جس میں اہل علاقہ نے شرکت کی ۔

اس موقع پر مرکزی مجلس شوریٰ کے رکن حاجی محمد امین عطاری نے ”فضائلِ علی رضی اللہ عنہکے موضوع پر بیان کیا اور اپنے ڈونیشن کے ذریعے دعوت اسلامی کے دینی کاموں میں حصہ ملانے کا ذہن دیا جس پر انہوں نے اچھی اچھی نیتیں کیں۔(کانٹینٹ:رمضان رضا عطاری)


عاشقانِ رسول کی   دینی تحریک دعوت اسلامی کی جانب سے 5 اپریل 2024ء کو گلشن اقبال ۱ میں قائم فیضان علی مسجد میں کفن دفن کورس ہوا جس میں یوسی نگران عمران عطاری سمیت معتکفین و مقامی عاشقان رسول نے شرکت کی ۔

مبلغ دعوت اسلامی عزیر عطاری نے اسلامی بھائیوں کو ابتداءً مسلمان کو غسل میت دینے کی فضیلت بتائی پھر غسل میت دینے اور کفن کاٹنے و پہنانے کا طریقہ سکھایا ۔آخر میں مسلم فیونرل اپلیکیشن کا تعارف کروایا اور ڈاؤن لوڈ بھی کروائی۔(کانٹینٹ:رمضان رضا عطاری)


5اپریل 2024 ء  بروز جمعہ مدنی مرکز فیضان مدینہ جڑانوالہ میں آخری عشرےکے معتکفین کے درمیان مدنی حلقے کا اہتمام ہوا جس میں نگران فیصل آباد ڈویژن مشاورت حاجی محمد سلیم عطاری نے بیان کیا۔

معلومات کے مطابق نگران ڈویژن مشاورت نے معتکفین کو مسجد کے آداب کو ملحوظ نظر رکھنے کی ترغیب دلائی اور انہیں دعوت اسلامی کے 12دینی کاموں کا تعارف کروایا۔

علاوہ ازیں ہر ہفتے ہفتہ وار اجتماع میں شرکت کرنے اور مدنی مذاکرہ دیکھنے کا ذہن دیا نیز عید کے بعد فیصل آباد میں نگران پاکستان مشاورت حاجی محمد شاہد عطاری کے ساتھ 7دن کے فیضان نماز کورس میں شرکت کرنے کی دعوت دی۔(رپورٹ: محمد عبدالرزاق عطاری شعبہ ہفتہ وار اجتماع ومدنی مذاکرہ، فیصل آباد ڈویژن، کانٹینٹ:رمضان رضا عطاری)


27 رمضان المبارک بمطابق   6 مارچ 2024ء بروز ہفتہ مدنی مرکز فیضانِ مدینہ اسٹینفورڈ برمنگھم UK میں اجتماع شب قدر و ختم قرآن کی محفل کا انعقاد ہوا جس میں مقامی عاشقانِ رسول نے عقیدت و احترام کے ساتھ شرکت کی۔

اس اجتماع میں نگران ویلز یوکے سید فضیل رضا عطاری نے ”شب قدر کے فضائل و برکات“ کے موضوع پر بیان کیا اور شرکا کو نیکی اور بھلائی کے کاموں کو کرنے کی ترغیب دلائی جس پر انہوں نے بھلے جذبات کا اظہار کیا۔( کانٹینٹ:رمضان رضا عطاری)


فیضان آن لائن اکیڈمی بوائز لاہور ڈویژن  کے ذمہ داران کا رمضان المبارک کے آخری عشرے کا اعتکاف اور رمضان ڈونیشن کے تعلق سے مدنی مشورہ ہوا جس میں رکن شوریٰ حاجی یعفور رضا عطاری نےشفٹ وائز مدنی عطیات کی کارکردگی کا جائزہ لیا ۔

بعدازاں رکن شوری نے ہدف مکمل کرنے کے بارے میں تربیتی مدنی پھول دئیےاور اس موقع پر نمایاں کارکردگی والے ذمہ داران میں تحائف بھی تقسیم کئے۔(رپورٹ: محمد وقار یعقوب عطاری مدنی برانچ ناظم فیضان آن لائن اکیڈمی بوائز، کانٹینٹ:رمضان رضا عطاری)


دعوت اسلامی  کی جانب سے حافظ آباد میں رکن شوری عبدالوہاب عطاری نے بزنس مین (ملک حسنین رضا اعوان ، آنر جم خانہ مارکی ڈاکٹر محمد اویس ، چائلڈ اسپیشلسٹ FCPS ملک پھول خان اعوان ) سے ملاقات کی۔

دوران گفتگو رکن شوری نے دعوت اسلامی کی دینی و فلاحی خدمات کا تعارف کروایا اور دعوت اسلامی کی مختصر Presentation دکھائی۔ساتھ ہی دینی کاموں کے لئے اپنے ڈونیشن جمع کروانے کی ترغیب دلائی جس پر تمام شخصیات نے دعوت اسلامی کے دینی کاموں میں تعاون کرنے کی اچھی نیت کا اظہار کیا۔(رپورٹ : محمد مدثر عطاری مجلس رابطہ ڈسٹرکٹ حافظ آباد ،کانٹینٹ:رمضان رضا عطاری)


پچھلے  دنوں دعوت اسلامی کے زیرِ اہتمام رکن شوری عبدالوہاب عطاری نے حافظ آباد کے مین جناح چوک میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو چوہدری امتیاز علی بیگ ، ڈپٹی ڈسٹرکٹ اکاؤنٹ آفیسر شیخ عبدالنعیم اور و دیگر سرکاری افسران کے ہمراہ شجر کاری کی ۔

اس موقع پر رکن شوریٰ نے وہاں موجود افسران کو دعوت اسلامی کا تعارف کروایا اور بالخصوص دعوت اسلامی کے شعبہ FGRF کے فلاحی کاموں کے تعلق سے بتایا جس پر انہوں نے خوشی کاا ظہار کرتے ہوئے دعوت اسلامی کی کاوشوں کو سراہا۔(رپورٹ : محمد مدثر عطاری مجلس رابطہ ڈسٹرکٹ حافظ آباد ،کانٹینٹ:رمضان رضا عطاری)


میڈیکل ڈیپارٹمنٹ دعوت اسلامی  کے تحت ڈسٹرکٹ و ٹاؤن ذمہ داران کا مدنی مرکز فیضان مدینہ کراچی میں مدنی مشورے کا انعقاد ہوا جس میں رکن شوری حاجی اطہر عطاری اور سٹی ذمہ دار حمزہ عطاری نے رمضان اعتکاف و عطیات پر کلام کیا۔

علاوہ ازیں بڑے ہاسپٹل میں دینی کاموں کو مضبوط کرنے اور آگے بڑھانےکا ذہن دیا نیز افطار اجتماعات کرنے کے اہداف بھی دیئے۔ (رپورٹ:کارکردگی ذمہ دار محمد کامران عطاری میڈیکل ڈیپارٹمنٹ کراچی سٹی،رپورٹ:رمضان رضا عطاری)


پیارے اسلامی بھائیو! حُقُوق دو طرح کے ہوتے ہیں، ایک حُقُوقُ اللہ یعنی اللہ عَزَّوَجَلَّ کے حُقُوق اور دوسرا حُقُوقُ الْعِباد یعنی بندوں کے حُقُوق۔ حُقُوقُ اللہ تو ہم پر اس وجہ سے لازِم ہیں کہ ہم اللہ عَزَّوَجَلَّ کے بندے ہیں، اس نے ہمیں پیدا فرمایا، وہی ہمارا خالق و مالک اور پالنے والا ہے،اِسی وجہ سے اس کے اَحکامات کی بجاآوری ہم پر لازِم ہے۔لیکن بندوں کے حقوق کی ادائیگی ہم پرکیوں ضروری ہے؟ اس بات کا جواب دیتے ہوئے حُجَّۃُالْاِسْلام، حضرتِ سَیِّدُنا امام محمد بن محمد غزالی رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ اِرْشاد فرماتے ہیں: انسان یا تو اکیلا رہتا ہے یا کسی کے ساتھ اور چونکہ انسان کا اپنے ہم جنس لوگوں کے ساتھ مَیل جول رکھے بغیر زِندگی گُزارنا مُشکل ہے، لہٰذا اس پر مل جُل کر رہنے کے آداب سیکھنا ضروری ہیں۔ چُنانچہ ہر اِختِلاط (میل جَول) رکھنے والے (شخص) کے لیے مل جُل کر رہنے کے کچھ آداب (حقوق)ہیں۔ (احیاء العلوم،2/699)

معلوم ہوا بندوں کے حقوق کے لازِم ہونے کا بُنیادی سبب تمام اِنْسانوں کا مل جُل کر ایک ساتھ رہنا ہے۔

پیارے اسلامی بھائیو! مسلمان کی حق تَلَفی آخرت کیلئے بَہُت زِیادہ نُقصان دِہ ہے،حضرت سیِّدُنا شیخ ابُوطالب محمد بن علی مکی رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ قُوْتُ الْقُلوب میں فرماتے ہیں: زِیادہ تَر (اپنے نہیں بلکہ) دوسروں کے گُناہ ہی دوزخ میں داخِلے کا باعِث ہوں گے جو(حُقُوقُ العِباد تَلَف کرنے کے سبب) انسان پر ڈال دئیے جائیں گے۔ نیز بے شُمار اَفْراد (اپنی نیکیوں کے سبب نہیں بلکہ) دوسروں کی نیکیاں حاصِل کرکے جنَّت میں داخِل ہوجائیں گے۔ (قُوتُ القُلُوب ج2 ص 253) ظاہر ہے دوسروں کی نیکیاں حاصل کرنے والے وہی ہوں گے، جن کی دُنیا میں دل آزاریاں اور حق تلفیاں ہوئی ہوں گی، یُوں بروزِ قیامت مظلوم اور دُکھیارے لوگ فائدے میں رہیں گے۔ (ظلم کا انجام، ص17،18ملتقطاً)

پیارے اسلامی بھائیو! احادیثِ مبارکہ میں کئی مقامات پر مسلمانوں کے حقوق کی اَہَمیّت بیان کی گئی ہے، آئیے!ان میں سے پانچ (5) فرامینِ مُصطفٰے پڑھنے کی سعادت حاصل کرتے ہیں:

1 مُسَلمان کی سب چیزیں مُسلمان پر حرام ہیں، اس کا مال اور اس کی آبرو اور اس کا خُون۔ آدمی کی بُرائی سے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کوحقیر جانے۔(ابو داود، 4/354، حدیث:4882، غیبت کی تباہ کاریاں،101)

2 جس کے ذِمّے اپنے بھائی کا کسی بات کا ظُلم ہو، اسے لازِم ہے کہ قیامت کا دن آنے سے پہلے یہیں دنیا میں اس سے مُعافی مانگ لے،کیونکہ وہاں نہ دِینار ہوں گے اور نہ دِرْہَم، اگر اس کے پاس کچھ نیکیاں ہوں گی، تو بقَدَر اُس کے حق کے،اِس سے لے کر اُسے دی جائیں گی، ورنہ اُس (مظلوم) کے گناہ اِس (ظالم) پر رکھے جائیں گے۔(بخاری، 2/128، حدیث:2448 از غیبت کی تباہ کاریاں،294)

3 دفتر (رجسٹر) تین (3) ہیں، ایک دفتر میں اللہ تَعَالٰی کچھ نہ بخشے گا اور ایک دفتر کی اللہ تَعَالٰی کو کچھ پروا نہیں اور ایک دفتر میں اللہ تَعَالٰی کچھ نہ چھوڑے گا، وہ دفتر جس میں اَصلاً (بالکل) معافی کی جگہ نہیں،وہ توکفر ہے کہ کسی طرح نہ بخشاجائے گا اور وہ دفتر جس کی اللہ عَزَّوَجَلَّ کو کچھ پروا نہیں،وہ بندے کا گناہ ہے،خالص اپنے اور اپنے رَبّ عَزَّوَجَلَّ کے مُعاملہ میں (کہ کسی دن کا روزہ ترک کیا یا کوئی نماز چھوڑ دی، اللہ تَعَالٰی چاہے تو اسے مُعاف کر دے اور دَرْگُزر فرمائے) اور وہ دفتر جس میں سے اللہ تَعَالٰی کچھ نہ چھوڑے گا وہ بندوں کاآپس میں ایک دوسرے پرظُلم ہے کہ اس میں ضرور بدلہ ہوناہے۔ (مستدرک، 5/794، حدیث: 8757، از فتاویٰ رضویہ، 24/460)

4۔ جو مسلمان اپنے بھائی کی عزت کا بچاؤ کرے (یعنی کسی مسلم کی آبرو ریزی ہوتی تھی اس نے منع کیا) تو اللہ پاک پر حق ہے کہ قیامت کے دن اس کو جہنم کی آگ سے بچائے۔ (شرح السنۃ، 6/494، حدیث: 3422)

5 تم لوگ حُقُوق، حق والوں کے سپرد کردو گے،حتّٰی کہ بے سینگ والی کا سینگ والی بکری سے بدلہ لیا جائے گا۔ (صَحِیح مُسلِم ص1394حدیث:2582)

پیارے اسلامی بھائیو! ابھی ہم نے پانچ (5) اَحادیثِ مُبارَکہ پڑھیں، ان میں بیان کردہ آخری حدیثِ مُبارَکہ کا مطلب یہ ہے کہ اگر تم نے دُنیا میں لوگوں کے حُقُوق اَدا نہ کئے تو لَامَحالہ (یعنی ہر صورت میں) قِیامت میں اَدا کرو گے، یہاں دنیا میں مال سے اور آخِرت میں اعمال سے، لہٰذا بہتری اسی میں ہے کہ دُنیا ہی میں ادا کر دو، ورنہ پچھتانا پڑے گا۔ مِراٰۃ شَرحِ مشکوۃ میں ہے: جانور اگرچِہ شرعی احکام کے مُکلَّف نہیں ہیں، مگر حُقُوقُ العِباد جانوروں کو بھی اَدا کرنے ہوں گے۔ (مراٰۃ ج6ص674ملتقطاً،از ظلم کا انجام،ص9)

پیارے اسلامی بھائیو! مسلمانوں کے حقوق کا مُعاملہ واقعی بہت نازُک ہے، ہمیں اس بارے میں ہر وَقْت مُحتاط رہنا چاہیے۔اگر کبھی دانستہ یا نادانستہ طور پرکسی مسلمان کا حق تَلَف ہوجائے تو فوراً توبہ کرتے ہوئے صاحبِ حق سے مُعافی بھی مانگنی چاہیے۔حُقُوقُ اللہ سچی توبہ سے مُعاف ہو جاتے ہیں، جبکہ بندوں کے حقوق میں توبہ کے ساتھ ساتھ جس کا حق مارا ہے،اس سے بھی مُعافی مانگنا ضروری ہے۔ اعلیٰ حضرت،امامِ اَہْلسُنَّت،مولانا شاہ امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ ارشاد فرماتے ہیں:حق کسی قسم کا بھی ہو، جب تک صاحبِ حق مُعاف نہ کرے،مُعاف نہیں ہوتا، حُقُوقُ اللہ میں توظاہر (ہے) کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے سوا دوسرا معاف کرنے والا کون ہوسکتا ہے کہ (قرآنِ پاک میں ہے)(وَمَنْ یَّغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اللّٰہ تَرْجَمَۂ کنز الایمان:اور گناہ کون بخشے سوا اللہ کے)اور بندوں کے حقوق میں رَبّ تَعَالٰی نے یہی ضابطہ مقرَّرفرما رکھا ہے کہ جب تک وہ بندہ مُعاف نہ کرے، مُعاف نہ ہوگا۔ اگرچہ مَولیٰ تَعَالٰی ہمارا اور ہمارے جان و مال و حُقُوق سب کا مالک ہے، اگر وہ بے ہماری مرضی کے،ہمارے حُقُوق جسے چاہے مُعاف فرمادے، تو بھی عین حق اور عدل ہے کہ ہم بھی اسی کے اور ہمارے حُقُوق بھی اسی کے مُقرَّر فرمائے ہوئے ہیں، اگر وہ ہمارے خُون، مال اورعزت وغیرہا کو معصوم و محترم نہ کرتا تو ہمیں کوئی کیسا ہی آزار (تکلیف) پہنچاتا، کبھی ہمارے حق میں گرفتار نہ ہوتا۔ یُونہی اب بھی اللہ عَزَّوَجَلَّ جسے چاہے، ہمارے حُقُوق معاف فرما دے کیونکہ وہی مالکِ حقیقی ہے،مگر اس کریم،رحیم عَزَّوَجَلَّ کی رحمت (ہے) کہ ہمارے حُقُوق کا اِختیار ہمارے ہاتھ (میں) رکھا ہے، بے ہمارے بخشے مُعاف ہوجانے کی شکل نہ رکھی،تاکہ کوئی مظلوم یہ نہ کہے کہ اے میرے مالک! مجھے میرا حق نہ ملا۔ (فتاویٰ رضویہ، 24/460،بتغیر قلیل)

اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں بندوں کے حقوق کی اَہمیّت سمجھنے اور ان کو بجا لانے کی توفیق عطا فرمائے۔اٰمِین بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم۔