بے حیائی (فحاشی یا اخلاقی بدکاری) ایک ایسا مسئلہ ہے جو معاشرتی اور اخلاقی زوال کا باعث بنتی ہے۔ یہ وہ رویے اور اعمال ہیں جو اخلاقی اقدار، تہذیبی روایات اور دینی اصولوں کے خلاف ہوتے ہیں۔ بے حیائی کی کئی شکلیں ہوتی ہیں، جیسے نازیبا لباس، غیر اخلاقی گفتگو، فحش مواد دیکھنا یا پھیلانا، اور بے پردگی۔

معاشرتی اثرات: بے حیائی کے معاشرتی اثرات انتہائی نقصان دہ ہوتے ہیں۔ اس سے خاندان کا نظام کمزور ہوتا ہے، لوگوں کے درمیان اعتماد کا فقدان پیدا ہوتا ہے، اور معاشرے میں جرائم کی شرح بڑھتی ہے۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں بے حیائی عام ہو، وہاں رشتوں میں بگاڑ، عزت و احترام کی کمی اور خواتین کی عزت کے تحفظ میں کمی ہوتی ہے۔

مذہبی نقطہ نظر: اسلام میں بے حیائی کو سختی سے منع کیا گیا ہے۔ قرآن و حدیث میں بار بار پردہ اور عفت کے احکامات دیئے گئے ہیں۔ اسلام میں شرم و حیا کو ایمان کا حصہ قرار دیا گیا ہے، نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: حیا ایمان کا ایک حصہ ہے۔ (ترمذی، 3/406، حدیث: 2016)

اسباب: بے حیائی کے پھیلنے کے کئی اسباب ہوتے ہیں، جن میں جدید میڈیا، فحش مواد کی آسان دستیابی، مغربی ثقافت کی اندھی تقلید، اور مذہبی تعلیمات سے دوری شامل ہیں۔ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے دور میں بےحیائی کو فروغ دینا اور بھی آسان ہو گیا ہے، جہاں نوجوان نسل غیر مناسب مواد تک بآسانی رسائی حاصل کر سکتی ہے۔

حل: بے حیائی کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ اس پر فتن دور میں جس قدر ہو سکا معاشرے میں دینی تعلیمات کا فروغ کیا جائے، خاندان کے نظام کو مضبوط بنایا جائے، اور والدین بچوں کی تربیت پر خصوصی توجہ دیں۔ ساتھ ہی ساتھ حکومت کو چاہیے کہ وہ ایسے قوانین بنائے جو فحش مواد کے پھیلاؤ کو روکے اور بے حیائی کے خلاف سخت اقدامات کرے۔

بے حیائی کے خلاف سب سے اہم ہتھیار شعور اور تعلیم ہے۔ جب لوگ اپنے دین اور اخلاقیات کی اہمیت کو سمجھیں گے، تو معاشرے میں فحاشی اور بدکاری کا خاتمہ ممکن ہوگا۔ الغرض ہر وہ کام جو بے حیائی کی طرف لے جائے اس سے دور رہیے۔

اللہ کا فرمان ہے: وَ لَا تَقْرَبُوا الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَ مَا بَطَنَۚ- (پ 8، الانعام: 151) ترجمہ: اور بے حیائی کے قریب بھی نہ جاؤ، چاہے وہ کھلی ہو یا چھپی ہوئی۔

وہ قوم جو کل کھیلتی تھی شمشيروں کے ساتھ                      سینما دیکھتی ہے آج وہ ہمشیروں کے ساتھ

مسلمانوں کی تاريخ تابناک ہے کہ جب تک مسلمانوں میں پردہ اور حیاء کا دور دورہ رہا مسلمان غالب رہے بہت سی فتوحات کیں اور غیر مسلموں کا غرور خاک میں ملاتےرہے مگر افسوس صد افسوس کہ سوچ نے ایسا پلٹا کھایاکہ حیاءاور پردہ کو آگے بڑھنے اور ترقی کی راہ میں رکاوٹ کہا جانے لگا۔ حیاء اور پردہ کی اہميت کو فراموش کرکے براؤٹ مائنڈڈ بننےکا ذہن دینےوالوں نے بے حیائی کو عام کرنے میں کردار ادا کرنا شروع کردیا۔

تاريخ گواہ ہے کہ حیا دار ماؤں نے ایسے ایسے جرنیل پیدا کئے جنہوں نے اندھیروں کو دور کرنے میں شمع جلانے کا ایسا لوہا منوایا کہ نا قابل فراموش ہے۔ مگر اس کےمقابلے میں آجکل کی بے حیا عورتوں نے ایسا ماحول پیدا کر دیا کہ ان جرنیلوں کی جگہ ایسے مردوں نے لے لی جو بے حیائی پرراضی ہو گئے اور اسی کو تنگ نظری کا نام دیا جانے لگا جبکہ حیا تو وہ عنصر ہے جو بعض جانوروں میں بھی پایا جاتا ہے تو ایک مسلمان بلکہ ایک انسان بھی اس وصف کو پیچھے چھوڑ کر آگے نہیں بڑھ سکتا۔ مگر ہائے افسوس! کہ مسلمان نے اس حیا کو پس پشت ڈال کر اللہ اور پیارے آقا ﷺ کے احکام کی نافرمانی کر کے اللہ کی ناراضگی کو مول لیا قرآن مجید میں بےحیائی کی مذمت سورۃ بنی اسرائیل کی آیت نمبر 32 میں فرمایا گیا: وَ لَا تَقْرَبُوا الزِّنٰۤى اِنَّهٗ كَانَ فَاحِشَةًؕ-وَ سَآءَ سَبِیْلًا(۳۲) (پ 15، بنی اسرائیل: 32) ترجمہ کنز الایمان: اور بدکاری کے پاس نہ جاؤ بےشک وہ بےحیائی ہے اور بہت ہی بری راہ۔

اسی طرح سورہ نور کی آیت نمبر 19میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: اِنَّ الَّذِیْنَ یُحِبُّوْنَ اَنْ تَشِیْعَ الْفَاحِشَةُ فِی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌۙ-فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِؕ-وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ(۱۹) (پ 18، النور: 19) ترجمہ کنز الایمان: وہ لوگ جو چاہتے ہیں کہ مسلمانوں میں بُرا چرچا پھیلے ان کے لیے دردناک عذاب ہے دنیا اور آخرت میں اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔

سورہ نور کی آیت نمبر 21 فرمایا گیا: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِؕ-وَ مَنْ یَّتَّبِـعْ خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ فَاِنَّهٗ یَاْمُرُ بِالْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْكَرِؕ- (پ 18، النور: 21) ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو شیطان کے قدموں پر نہ چلو اور جو شیطان کے قدموں پر چلے تو وہ تو بے حیائی اور بُری ہی بات بتائے گا۔

حدیث مبارکہ کی روشنی میں: نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: سابقہ انبیاء کے کلام سے جو چیز لوگوں نے پائی ہے ان میں سے ایک یہ بات ہے جب تمہیں حیا نہ آئے تو جو تم چاہو کرلو۔ (بخاری، 4/131، حدیث: 6125)

اللہ پاک سے دعا ہے کہ وہ باحیا مسلمانوں کے صدقےسے امت مسلمہ کو اس بے حیائی جیسی آفت سے چھٹکارا نصيب فرمائے۔ آمین

دین اسلام ایک کامل و مکمل دین ہے۔ جس طرح دین اسلام نے ہماری دیگر شعبہ جات کے اندر رہنمائی کی ہے اسی طرح اس نے ہمیں حیا کا بھی درس دیا ہے اور عورت کو عزت دی اور ایک مقام عطا فرماکر باپردہ رہنے کا حکم دیا ہے۔ حیا اللہ تبارک و تعالی کا محبوب وصف ہے گناہوں سے بچنے میں حیا بہت ہی مؤثر ہے۔ حیا سے مراد وہ وصف ہے جو ان چیزوں سے روک دے جو اللہ تعالی اور مخلوق کے نزدیک ناپسندیدہ ہوں۔

بے حیائی کے متعلق اللہ تبارک و تعالی قرآن پاک میں کچھ یوں ارشاد فرماتا ہے: قُلْ اِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّیَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَ مَا بَطَنَ (پ 8، الاعراف: 33) ترجمہ کنز الایمان: تم فرماؤ میرے رب نے تو بے حیائیاں حرام فرمائی ہیں (ف۴۹) جو ان میں کھلی ہیں اور جو چھپی۔

اسلام میں حیا کو بہت اہمیت دی گئی ہے چنانچہ حدیث شریف میں ہے: بے شک ہر دین کا ایک خلق ہوتا ہے اور اسلام کا خلق حیا ہے۔ (ابن ماجہ، 4/460، حدیث: 4181) یعنی ہر امت کی کوئی نہ کوئی خاص خصلت ہوتی ہے جو دیگر خصلتوں پر غالب ہوتی ہے اور اسلام کی وہ خصلت حیا ہے اس لیے کہ حیا ایک ایسا خلق ہے جو اخلاقی اچھائیوں کی تکمیل اور ایمان کی مضبوطی کا باعث اور اس کی علامات میں سے ہے۔

بے حیائی کا ماحول سے تعلق: حیا کی نشوونما میں ماحول اور تربیت کا بہت عمل دخل ہے حیادار ماحول میسر آنے کی صورت میں حیا کو خوب نکھار ملتا ہے۔ جبکہ بے حیا لوگوں کی صحبت قلب و نگاہ کی پاکیزگی سلب کرکے بےحیائی کے دہانے پر لے جاکر کھڑا کر دیتی اور بندہ بے شمار غیر اخلاقی اور ناجائز کاموں میں مبتلا ہو جاتا ہے اس لیے کہ حیا ہی تو ہے جو برائیوں اور گناہوں سے روکتی ہے۔ جب حیا ہی نہ رہی تو اب برائی سے کون روکے؟ بہت سے لوگ ایسے ہوتے ہیں جو بدنامی کے خوف سے شرما کر برائیاں نہیں کرتے مگر جنہیں نیک نامی اور بدنامی کی پرواہ نہیں ہوتی ایسے بے حیا لوگ ہر گناہ کر گزرتے، اخلاقیات کی حدود توڑ کر بداخلاقی کے میدان میں اتر آتے اور انسانیت سے گرے ہوئے کام کرنے میں بھی شرم محسوس نہیں کرتے۔

جنت حرام ہے: تاجدار مدینہ ﷺ کا فرمان باقرینہ ہے: اس شخص پر جنت حرام ہے جو فحش گوئی (یعنی بے حیائی کی بات) سے کام لیتا ہے۔ (جامع صغیر للسیوطی، ص 221، حدیث: 3648)

ایمان کے دو شعبے: سرکار مدینہ ﷺ کا فرمان عالیشان ہے: حیا اور کم گوئی ایمان کے دو شعبے ہیں اور فحش بکنا اور زیادہ باتیں کرنا نفاق کے دو شعبے ہیں۔ (ترمذی، 3/414، حدیث: 2034)

بد نگاہی کا عذاب: منقول ہے جو شخص اپنی آنکھ کو حرام سے پر کرتا ہے اللہ پاک بروز قیامت اس کی آنکھ میں جہنم کی آگ بھر دے گا۔ (مکاشفۃ القلوب، ص 10)

افسوس صد کروڑ افسوس! ایک طرف گلیوں بازاروں اور تقریبوں میں مردوں اور عورتوں کا اختلاط بدنگاہیاں اور بے تکلفیاں ہیں تو دوسری طرف گھر گھر میں ایک طرح سے سینما گھر کھل گیا ہے مسلمانوں کی اکثریت ٹی وی وغیرہ کے ذریعے بدنگاہی میں مبتلا ہیں اے کاش! ہم سب کو آنکھوں کا قفل مدینہ نصیب ہو جائے۔ کاش! ہم سب حیا سے نگاہیں جھکانے والیاں بن جائیں۔

بے حیائی کی تعریف: بے حیائی اس وصف کو کہتے ہیں جو بندے کو ہر اس چیز سے نہ روک دے جو اللہ پاک اور اس کی مخلوق کے نزدیک ناپسندیدہ ہو یعنی وہ وصف جو انسان کو اس کام یا اس چیز سے نہ بچائے جیسے اللہ پاک اور اس کی مخلوق ناپسند کرتے ہوں اسے بےحیائی کا نام دیا جاتا ہے۔

بےحیائی کی چند مثالیں: بے پردہ اجنبی عورتوں کو دیکھنا، پردہ دار عورت کو شہوت کے ساتھ دیکھنا، ایسا چست لباس پہنانا جس سے کسی عضو کی ہیئت(یعنی شکل و صورت یا ابھار وغیرہ) ظاہر ہو یا دوپٹہ اتنا باریک اوڑھنا کہ بالوں کی سیاہی چمکے یہ سب بھی بے حیائی و بے پردگی ہے، اسی طرح راہ چلتی عورت کو دیکھنا وغیرہ وغیرہ۔

بے حیائی کے متعلق مختلف احکام: بے حیائی حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔سرے سے پردے کی فرضیت کا انکار کفر ہے۔عورت کا ہر اجنبی مرد سے پردہ ہے چاہے اس میں استاد وغیرہ عالم پیر سب برابر ہیں۔امرد(یعنی خوبصورت مرد)لڑکے کو شہوت سے دیکھنا حرام ہے واضح رہے کہ جس کو دیکھنا حرام ہے اس پر قصداً (یعنی جان بوجھ کر) ڈالی جانے والی پہلی نظر بھی حرام ہے اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔

اللہ پاک سورۃ النور آیت نمبر 19میں بے حیائی کے متعلق ارشاد فرماتا ہے: اِنَّ الَّذِیْنَ یُحِبُّوْنَ اَنْ تَشِیْعَ الْفَاحِشَةُ فِی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌۙ-فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِؕ-وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ(۱۹) (پ 18، النور: 19) ترجمہ کنز الایمان: وہ لوگ جو چاہتے ہیں کہ مسلمانوں میں بُرا چرچا پھیلے ان کے لیے دردناک عذاب ہے دنیا اور آخرت میں اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔

فرامین مصطفیٰ:

آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جہنمیوں کی دو قسمیں ایسی ہیں جنہیں میں نے (اپنے زمانے میں) نہیں دیکھا (بلکہ وہ میرے بعد والے زمانے میں ہوں گے): 1۔وہ لوگ جن کے پاس گائے کی دم کی طرح کوڑے ہوں گے جن سے وہ لوگوں کو (ناحق) ماریں گے۔ 2۔وہ عورتیں جو لباس پہننے کے باوجود ننگی ہونگی، مائل کرنے والی یا مائل ہونے والی ہوں گی،ان کے سر بختی اونٹنیوں کے کوہانوں کی طرح ہوں گے (یعنی راہ چلتے وقت شرم سے سر نیچا نہ کریں گی،اونٹ کی کوہان کی طرح ان کے سر بے حیائی سے اونچے رہا کریں گے)یہ جنت میں نہ جائیں گی اور نہ اس کی خوشبو پائیں گی حالانکہ اس کی خوشبو بہت دور آتی ہوگی۔

بے حیائی کی آفت میں مبتلا ہونے کے بعض اسباب: علم دین سے دوری (بعض لوگ اسی وجہ سے بھی بے حیائی کرنے کے گناہ میں مبتلا ہو جاتے ہیں کہ انہیں معلومات نہیں ہوتی)۔فیشن ایبل اور دین بیزار لوگوں کے ساتھ میل جول اور ان کے پاس اٹھنا بیٹھنا (اس وجہ سے آدمی بے عملی کا شکار ہوتا ہے وہیں ان دین بیزار لوگوں کے پاس اٹھنے بیٹھنے کی نحوست سے عقائد بگڑنے کا بھی شدید خطرہ رہتا ہے)۔ مخلوط تعلیم تفریح گاہوں میں گھومنا (عام طور پر ایسی جگہوں میں بے پردہ عورتوں کی کثرت ہوتی ہے جس کی وجہ سے نظر کی حفاظت مشکل ہو جاتی ہے) انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کا استعمال۔ فلمیں ڈرامے دیکھنا۔ ڈانس کلب اور سوئمنگ پول وغیرہ میں جانا۔ جدید فیشن اور مغربی تہذیب کو پسند کرنا وغیرہ وغیرہ۔

بے حیائی کی آفت سے بچنے کے لیے: علم دین حاصل کیجئے۔ اکثر نگاہیں نیچی رکھیں۔ راہ چلتے وقت اور دوران سفر جب ڈرائیونگ نہ کر رہے ہوں تو بلا ضرورت ادھر ادھر جھانکنے وغیرہ سے پرہیز کریں۔ آنکھوں کی حفاظت کے فضائل اور بے حیائی کے عذابات کا مطالعہ کیجیئے۔ موبائل اور انٹرنیٹ کا استعمال ضرورت کے مطابق کیجیے اور شریعت کے دائرے میں رہ کر کیجئےنیز ان کے استعمال کے متعلق شرعی احتیاطیں بھی سیکھئے۔ گناہوں بھرے چینلز دیکھنے اور فلموں ڈراموں کے ذریعے آنکھوں کو حرام سے پر کرنے سے ہمیشہ بچتے رہیں۔ اگر آنکھ بہک جائے اور بے حیائی کر بیٹھیں تو فوراً سچے دل سے توبہ کرلیجیئے۔ بری صحبت سے کنارہ کشی اختیار کیجئے۔

اللہ پاک کی بارگاہ میں دعا ہے کہ ہمیں حضور اکرم ﷺ کے مبارک فرامین پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں بے حیائی جیسی گندی بیماری سے نجات حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ہمیں شرم وحیاء کا پیکر بنائے اور نبی کریم کی سنتوں کے مطابق زندگی گزارنے کی سعادت نصیب فرمائے۔ آمین

جوں جوں وقت گزرتا جا رہا ہے۔بے حیائی بہت زیادہ بڑھتی جا رہی ہے۔افسوس! صد کروڑ افسوس! جوان لڑکی اب چادر اور چار دیواری سے نکل کر مخلوط تعلیم کی نحوست میں گرفتار، بوائے فرینڈ کے چکر میں پھنس گئی، اسے جب تک چادر اور چار دیواری میں رہنے کی سعادت حاصل تھی وہ شرمیلی تھی اور اب بھی جو چادر و چار دیواری میں ہوگی وہ انشاء اللہ باحیا ہی ہوگی۔ افسوس! حالات بلکل بدل چکے ہیں، اب تو اکثر کنواری لڑکیاں شادیوں میں خوب ناچتیں اور مہندی و مائیوں کی رسموں وغیرہ میں بے با کانہ بے حیائی کے مظاہرے کرتی ہیں، بعض قوموں میں یہ بھی رواج ہے کہ دولہا نکاح کے بعد رخصتی سے قبل نامحرمات کہ جن سے پردہ ضروری ہے ان جوان لڑکیوں کے جھرمٹ میں جاتا ہے اور وہ دولھا کے ساتھ کھینچا تانی و ہنسی مزاق کرتی ہیں یہ سراسر ناجائز و حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔ الغرض آج کی فیشن ایبل و بے پردہ لڑکیاں افعال و اقول ہر لحاظ سے چادر حیاء کو تار تار کر رہی ہیں۔ پارہ 22 سورة الا حزاب کی آیت نمبر 33 میں پردے کا حکم دیتے ہوئے اللہ پاک کا ارشاد ہے: وَ قَرْنَ فِیْ بُیُوْتِكُنَّ وَ لَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِیَّةِ الْاُوْلٰى (پ 22، الاحزاب: ) ترجمہ کنز الا یمان: اور اپنے گھروں میں ٹھہری رہو اوربے پردہ نہ رہو جیسے اگلی جاہلیت کی بے پردگی۔

حضور ﷺ کی شرم و حیاء: ہر قبیح قول و فعل اور قابل مذمت حرکات و سکنات سے عمر بھر ہمیشہ آپ ﷺ کا دامن عصمت پاک و صاف ہی رہا۔ آپ ﷺ کی شان حیاء کی تصویر کھینچتے ہوئے ایک معزز صحابی حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: آپ ﷺ کنواری پردہ نشین عورت سے بھی کہیں زیادہ حیادار تھے۔ (ابن ماجہ، 4/460، حدیث:4180)

نیچی آنکھوں کی شرم و حیا پر درود اونچی بینی کی رفعت پہ لاکھوں سلام

سب سے بڑا با حیا امتی: آقائے دو جہاں ﷺ نے فرمایا: حیا ایمان سے ہے اور عثمان میری امّت میں سب سے بڑھ کر حیا کرنے والے ہیں۔ (جامع صغیر للسیوطی، ص 235، حدیث: 3869)

یاالٰہی! دے ہمیں بھی دولت شرم و حیا حضرت عثماں غنی با حیا کے واسطے

بد نگاہی کا عذاب: میٹھی میٹھی اسلامی بہنو! خدا کی قسم! بد نگاہی کا عذاب برداشت نہیں ہو سکے گا، منقول ہے: جوشخص اپنی آنکھ کو حرام سے پر کرتا ہے اللہ تعالیٰ بروز قیامت اسکی آنکھ میں جہنم کی آگ بھر دے گا۔ (مکاشفۃ القلوب، ص 10)

کثرت حیاء سے منع مت کرو: اگر کوئی بچی پردہ کرے تو اسکا مذاق اڑیا جاتا اور اسے کہا جاتا ہے ابھی کیوں پردہ شروع کردیا ابھی تو تم چھوٹی ہو۔ اور ماں باپ کو بھی منع کیا جاتا ہے کہ اسے پردہ نہ کرائیں بچی پر سختی ہے۔ کزنز ہیں بھائیوں کی طرح ہیں مل بیٹھنے دو حالانکہ یہی تربیت کا وقت ہے۔ جب یہی بچی بڑی ہو جاتی ہے تو پھر سنبھالنا مشکل ہو جاتا ہے۔ کیوں کہ اسکی تربیت تو خراب ہو جاتی ہے۔ اب یہ ماں باپ کی عزت کا جنازہ نکال دیتی ہے۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سرکار نامدار مدینے کے تاجدار ﷺ نے ایک انصاری عورت کو ملاحظہ فرمایا: جو اپنے بھائی کو شرم و حیاء کے متعلق نصیحت کر رہے تھے (یعنی کثرت حیاء سے منع کر رہے تھے) تو فرمایا اسے چھوڑ دو، بے شک حیاء ایمان سے ہے۔ (ابو داود، 4/331، حدیث: 4795)

میٹھی میٹھی اسلامی بہنو! معلوم ہوا حیا جتنی زیادہ ہو اتنی ہی اچھی ہے۔ جو حیا کمزوری اور احساس کمتری کی وجہ سے نہ ہو بلکہ خوف خدا کے سبب ہو اس میں یقیناً بھلائی ہی بھلائی ہے۔

ہر حال میں پردہ: حضرت امّ خلاد رضی اللہ عنہا کا بیٹا جنگ میں شہید ہوگیا۔ آپ ان کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لئے نقاب ڈالے با پردہ بارگاہ رسالت ﷺ میں حاضر ہوئیں، اس پر کسی نے حیرت سے کہا: اس وقت بھی آپ نے نقاب ڈال رکھا ہے! کہنے لگیں: میں نے بیٹا ضرور کھویا ہے، حیا نہیں کھوئی۔ (ابو داود، 3/9، حدیث: 2488)

کلمہ کفر: فقہائے کرام فرماتے ہیں: کسی سے کہا گیا اللہ سے حیا کر اس نے کہا: میں نہیں کرتا۔ ایسا کہنا کفر ہے۔ (فتاویٰ تاتارخانیہ، 5/470)


بہاولپور شادراں میں عالمی سطح کی دینی تحریک دعوتِ اسلامی کے زیرِ اہتمام  19 فروری 2025ء کو اسلامی بہنوں کے ہفتہ وار سنتوں بھرے اجتماع کا انعقاد کیا گیا جس میں مقامی اسلامی بہنوں نے شرکت کی۔

مبلغۂ دعوتِ اسلامی نے تلاوت و نعت کے بعد سنتوں بھرا بیان کیا جس میں انہوں نے حاضرین کو نمازوں کی پابندی کرنے اور نیک اعمال کرتے رہنے کی ترغیب دلائی جس پر انہوں نے اچھی اچھی نیتیں کیں۔اجتماع کے اختتام پر نگرانِ عالمی مجلسِ مشاورت اسلامی بہن نے دعا کروائی جبکہ اسلامی بہنوں نے اُن سے ملاقات بھی کی۔

بعدِ اجتماع نگرانِ عالمی مجلسِ مشاورت نے دیگر ذمہ دار اسلامی بہنوں کے ہمراہ دینی کاموں کے سلسلے میں فنانس ڈیپارٹمنٹ کی ذمہ دار اسلامی بہن سے اُن کی رہائش گاہ پر جاکر ملاقات کی۔ 

بہاولپور، پنجاب واقع خیابان علی ہاؤسنگ اسکیم DHA کے قریب فیز 2 میں 19 فروری 2025ء کو دینی کاموں کے حوالے سے ذمہ داران کا مدنی مشورہ ہوا جس میں ڈویژن، ڈسٹرکٹ اور تحصیل نگران اسلامی بہنوں نے شرکت کی۔

نگرانِ عالمی مجلسِ مشاورت اسلامی بہن نے حکمتِ عملی کے ساتھ کس انداز میں ڈونیشن کیا جائے اس پر شرکا کی ذہن سازی کی اور انہیں سفر شیڈول بنانے، اسلامی بہنوں سے رابطہ مضبوط کرنے، نرمی کے ساتھ دینی کام کرنے، اجتماعات کی تعداد بڑھانے نیز ڈونیشن اہداف مکمل کرنے کا ذہن دیا جس پر انہوں نے اچھی اچھی نیتیں کیں۔


صوبہ پنجاب کے ڈویژن ڈیرہ غازی خان میں قائم اسلامی بہنوں کے مدنی مرکز فیضانِ صحابیات میں 18 فروری 2025ء کو میٹنگ ہوئی جس میں ڈویژن، ٹاؤن اور یوسی سطح کی ذمہ دار اسلامی بہنوں نے شرکت کی۔

دعوتِ اسلامی کی نگرانِ عالمی مجلسِ مشاورت اسلامی بہن نے دینی کاموں کے متعلق کلام کرتے ہوئے اسلامی بہنوں کی تربیت و رہنمائی کی اور دیگر اہم امور پر تبادلۂ خیال کیا جن میں سے بعض درج ذیل ہیں:

٭مدرسۃالمدینہ گرلز٭جامعۃالمدینہ گرلز کے تعمیراتی کام٭احساسِ ذمہ داری کرتے ہوئے وقت کی پابندی کے ساتھ کارکردگی جمع کروانا۔

آخر میں نگرانِ عالمی مجلسِ مشاورت اسلامی بہن نے ڈونیشن کی ضرورت و اہمیت پر بیان کرتے ہوئے ذمہ دار اسلامی بہنوں کو دعوتِ اسلامی کے لئے بھرپور انداز میں ڈونیشن جمع کروانے کی ترغیب دلائی اور اُن کی حوصلہ افزائی کے لئے تحائف بھی تقسیم کئے۔


عاشقانِ رسول کی دینی تحریک دعوتِ اسلامی کے تحت 17 فروری 2025ء کو دینی کاموں کے سلسلے میں نگرانِ عالمی مجلسِ مشاورت اسلامی بہن نے واپڈا ٹاؤن ملتان میں ایک ذمہ دار اسلامی بہن سے اُن کی رہائش گاہ پر ملاقات کی۔

اس موقع پر نگرانِ عالمی مجلسِ مشاورت اسلامی بہن نے وہاں موجود تمام اسلامی بہنوں کو نیکی کی دعوت دیتے ہوئے انہیں اپنے اپنے علاقوں میں ہونے اسلامی بہنوں کے ہفتہ وار سنتوں بھرے اجتماع میں شرکت کرنے اور مدنی مذاکرہ دیکھنے کی ترغیب دلائی۔


17 فروری 2025ء کو ملتان کے علاقے واپڈا کالونی میں دعوتِ اسلامی کے تحت ایک شخصیت اسلامی بہن کی رہائش گاہ پر سیکھنے سکھانے کا حلقہ لگایا گیا جس میں شخصیات اسلامی بہنوں کی شرکت ہوئی۔

تلاوت و نعت سے حلقے کا آغاز کرنے کے بعد عالمی مجلسِ مشاورت کی نگران اسلامی بہن نے ”آخرت کی تیاری“ کے موضوع پر بیان کیا اور شخصیات کو اپنے گھروں میں ماہانہ اجتماعات منعقد کروانے کا ذہن دیا۔

اسی دوران عالمی مجلسِ مشاورت کی نگران نے زکوٰۃ کی ادائیگی کا طریقۂ کار بتاتے ہوئے دعوتِ اسلامی کو ڈونیشن دینے کی اہمیت و ضرورت کو بیان کیا اور اختتام پر اسلامی بہنوں سے ملاقات بھی کی۔


کینیڈا کے شہر Toronto Downtown میں 5 فروری 2025ء کو دعوتِ اسلامی کے تحت خواتین کے درمیان ہونے والے دینی کاموں کے سلسلے میں ذمہ دار اسلامی بہنوں کا مدنی مشورہ منعقد کیا گیا۔

ذمہ دار اسلامی بہن نے مدنی مشورے کے دوران گفتگو کرتے ہوئے دینی کاموں کی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے اُن کی حوصلہ افزائی کی اور انہیں آئندہ کے اہداف دیئے۔

اس کے علاوہ دیگر مدنی پھولوں پر بھی کلام کیا گیا جن میں سے بعض درج ذیل ہیں:

٭مقامی زبان میں مختلف سیشنز کروانا٭مدرسۃالمدینہ بالغات کو مضبوط کرنا٭ڈونیشن جمع کرنا٭آئندہ کے اہداف٭گھریلو صدقہ بکس لگوانا۔

کینیڈا کے شہر Calgaryمیں دعوتِ اسلامی کے تحت اسلامی بہنوں کے درمیان ہونے والے دینی کاموں کے سلسلے میں 5 فروری 2025ء کو مدنی مشورے کا انعقاد کیا گیا جس میں مقامی ذمہ دار اسلامی بہنوں نے شرکت کی۔

اس مدنی مشورے میں ذمہ داران کی انفرادی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا نیز اسلامی بہنوں کو ڈونیشن کی ترغیب دلانے، زیادہ سے زیادہ ڈونیشن کرنے، اسلامی بہنوں کے سنتوں بھرے اجتماعات کو کو مضبوط کرنے اور دیگر اسلامی بہنوں کو بھی ان میں شرکت کروانے کے حوالے سے مشاورت کی گئی۔

بعدازاں مدنی مشورے میں شریک تمام ذمہ دار اسلامی بہنوں نے دعوتِ اسلامی کے دینی کاموں میں ترقی کے لئے اچھی اچھی نیتیں کیں۔