اللہ پاک نے قرآن پاک میں بہت سے انبیاء کرام کا تذکرہ ارشاد فرمایا، آج ہم ان میں سے ایک نبی حضرت اسحاق علیہ السلام کا تعارف پڑھنے کی سعادت حاصل کرتے ہیں، حضرت اسحاق علیہ السلام اپنے بڑے بھائی حضرت اسماعیل علیہ السلام کے چودہ سال بعد پیدا ہوئے اور بڑھاپے کی اس عمر میں اللہ تعالیٰ نے حضرت اسحاق کی پیدائش کی خوشخبری سنائی۔

(1) ارشاد خداوندی ہے: وَ بَشَّرْنٰهُ بِاِسْحٰقَ نَبِیًّا مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ(112) وَ بٰرَكْنَا عَلَیْهِ وَ عَلٰۤى اِسْحٰقَؕ- ترجمہ کنزالایمان: اور ہم نے اسے خوشخبری دی اسحٰق کی کہ غیب کی خبریں بتانے والا ہمارے قربِ خاص کے سزاواروں میں۔ اور ہم نے برکت اتاری اس پر اور اسحٰق پر۔(الصافات آیت112، 113)

(2)وَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَؕ-وَ كُلًّا جَعَلْنَا نَبِیًّا(49) ترجمہ کنزالایمان: اور ہم نے اسے (ابراہیم علیہ السلام کو) اسحٰق اور یعقوب عطا کیے اور ہر ایک کو غیب کی خبریں بےبتانے والا کیا۔(پارہ 16سورہ مریم آیت49)

(3) وَ وَهَبْنَا لَهُمْ مِّنْ رَّحْمَتِنَا وَ جَعَلْنَا لَهُمْ لِسَانَ صِدْقٍ عَلِیًّا۠(50)ترجمہ کنزالایمان: اور ہم نے انہیں اپنی رحمت عطا کی اور ان کے لیے سچی بلند ناموری رکھی۔(پارہ 16سورہ مریم آیت50)اس میں اشارہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی عمر شریف اتنی لمبی ہوئی کہ آپ نے اپنے پوتے حضرت یعقوب علیہ السلام کو دیکھا اور اس آیت سے یہ بھی سمجھ آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے لیے ہجرت کرنے اور اپنے گھر بار کو چھوڑنے کی یہ جزا ملی کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بیٹے، پوتے اور مال و دولت سے نوازا۔

فَبَشَّرْنٰهَا بِاِسْحٰقَۙ-وَ مِنْ وَّرَآءِ اِسْحٰقَ یَعْقُوْبَ(71) ترجمہ کنزالایمان:تو ہم نے اُسے (حضرت سارہ کو) اسحٰق کی خوشخبری دی اور اسحٰق کے پیچھے یعقوب کی۔(پارہ 12سورہ ھودآیت 71)

حضرت سارہ کو بشارت دینے کی وجہ یہ تھی کہ اولاد کی خوشی عورتوں کو بنسبت مردوں کے زیادہ ہوتی ہے۔ اور دوسری وجہ یہ تھی کہ حضرت یعقوب علیہ السلام کی بشارت دینے سے اس طرف اشارہ تھا کہ سارہ کی عمر اتنی بڑی ہوگی کہ یہ اپنے اسحاق کے بیٹے یعقوب کو بھی دیکھا دیکھیں گی۔ (ماخوذ خزائن العرفان)

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ وَهَبَ لِیْ عَلَى الْكِبَرِ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَؕ- اِنَّ رَبِّیْ لَسَمِیْعُ الدُّعَآءِ(39) ترجمہ کنزالایمان: سب خوبیاں اللہ کو جس نے مجھے بوڑھاپے میں اسماعیل و اسحٰق دئیے بےشک میرا رب دعا سننے والا ہے۔ (ابراھیم: آیت 39)

حضرت ابراہیم علیہ الصلوة و السلام نے ایک اور فرزند کی دعا کی تھی اللہ تعالیٰ نے قبول فرمائی تو آپ علیہ السلام نے اس کا شکر ادا کیا اور بارگاہ الٰہی میں عرض کیا تمام تعریفیں اس اللہ تعالیٰ کیلئے ہیں جس نے مجھے حضرت اسماعیل اور حضرت اسحاق علیہ السلام دیے بیشک میرا رب عزوجل میری دعا قبول فرمانے والا ہے۔

یہ مضمون نئے لکھاری کا ہے ،حوالہ جات کی تفتیش و تصحیح کی ذمہ داری مؤلف کی ہے، ادارہ اس کا ذمہ دار نہیں۔