دین اسلام میں ایک مسلمان کی عزت و حرمت کی بہت زیادہ اہمیت ہے اس لیے دین اسلام میں ان تمام افعال سے بچنے کا درس ملتا ہے جس کی وجہ سے مسلمان کی عزت و قدر کم ہوتی ہے آج کل عام شکایت ہے کہ مسلمانوں میں نہ اتفاقی ہے تو دین اسلام نے ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر حقوق رکھے ہیں ان حقوق میں سے چند حقوق ہم یہاں ذکر کرتے ہیں:

(1)مسلمان بھائی پر رحم کرنا: حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت مروی ہے کہ نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: میری امت کے ابدال جنت میں محض اپنے اعمال کی بنا پر داخل نہ ہوں گے بلکہ وہ اللہ تعالی کی رحمت، نفس کی سخاوت، دل کی پاکیزگی اور تمام مسلمانوں پر رحیم ہونے کی وجہ سے جنت میں داخل ہوں گے۔(کنز العمال، کتاب الفضائل ،جلد 12، صفحہ 85)

(2)مسلمان بھائی کا قرض ادا کرنا: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے ایک شخص نے سوال کیا یا رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کون سا عمل افضل ہے سرکار دو عالم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا تمہارا اپنے بھائی سے خوش ہو کر ملنا یا اس کا قرض ادا کر دینا یا اسے کھانا کھلانا۔(سنن ابو داؤد، کتاب الادب، جلد 4، صفحہ 365)

(3)مسلمان کو تکلیف سے بچانا: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ آقا علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا مومن مومن کا آئینہ ہے مومن مومن کا بھائی ہے جہاں بھی ملے وہ اس کو نقصان سے بچاتا ہے اور پیٹھ پیچھے اس کی حفاظت کرتا ہے ۔(سنن ابو داؤد،ص،365)

(4)مسلمان بھائی کی حاجت روائی کرنا: حضرت سیدنا انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا جس نے مسلمان بھائی کی حاجت روائی کی وہ ایسا ہے جیسے اس نے ساری عمر اللہ عزوجل کی عبادت کی۔(کنز العمال،کتاب الزکوۃ،جلد 6، صفحہ 189)

(5)مسلمان کو کپڑا پہنانا : حضرت ابو سعید سے روایت ہے کہ نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا جو مسلمان کسی ننگے مسلمان کو کپڑے پہنائے اللہ تعالی اسے جنت کے سبز جوڑے پہنائے گا۔(مراۃ المناجیح،جلد 3،صفحہ 116)

یہ مضمون نئے لکھاری کا ہے ،حوالہ جات کی تفتیش و تصحیح کی ذمہ داری مؤلف کی ہے، ادارہ اس کا ذمہ دار نہیں۔


اسلام نے ایک مسلمان کو دوسرے مسلمان کا بھائی قرار دیا ہے۔جس طرح سے ایک حقیقی بھائی اپنے بھائی کے جان و مال اور اس کی عزت و آبرو کامحافظ اور ضامن ہو تا ہے، اور ہرضرورت وحاجت کو ملحوظ خاطر رکھتا ہے بالکل اسی طرح اس کے لیے نہ صرف نگہبان ہوتا ہے بلکہ اس کی ہر ضرورت کو پورا کر نے کے ساتھ ساتھ اس کے جذبات و احساسات کی بھی قدر کرنا اپنی ذمہ دار ی سمجھتا ہے۔ جس طرح سے خونی رشتے مضبوط ہو تے ہیں اسی طرح ایک مسلمان کو دوسرے مسلمان سے جو ایمانی رشتہ ہوتا ہے وہ بھی اسی طرح مضبوط ہونا چاہئے۔

حدیث پاک کی روشنی میں ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر 5 حقوق ہیں: سلام کا جواب دینا۔ بیمار کی عیادت کرنا۔ جنازے کے پیچھے چلنا۔ دعوت قبول کرنا۔ اور چھینک کا جواب دینا۔ جن کی تفصیل درج ذیل ہے۔

1۔سلام کا جواب دینا: یعنی اپنے گھروں میں داخل ہوتے وقت اہل خانہ اور گھر میں موجود دیگر افراد کو سلام کرو۔ حضرت سید نا قتادہ رضی اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں: جب تو اپنے گھر میں داخل ہو تو اپنے اہل و عیال کوسلام کرو کہ وہ تیرے سلام کے زیادہ حق دار ہیں اور جب تو کسی ایسے گھر میں جائے جہاں کوئی موجود نہ ہو تو یوں کہہ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَ عَلَى عِبَادِ اللهِ الصَّالِحِينَ السَّلَامُ عَلَى أَهْلِ الْبَيْتِ وَ رَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ (ترجمہ: ہم پر اور الله عزوجل کے نیک بندوں پر سلامتی ہو، اور گھر والوں پر سلامتی اور اللہ عزوجل کی رحمت و برکت ہو) تو جو اس طرح سلام کرے فرشتے اسے جواب دیتے ہیں۔(تفسیر خازن، پ 18، النور، تحت الآية: 364/3،61)

2۔ بیمار کی عیادت کرنا: حضرت سیدنا علی المرتضیٰ شیر خدا رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول الله صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو مسلمان کسی مسلمان کی صبح کے وقت عیادت کرتا ہے تو ستر ہزار فرشتے شام تک اس کے لیے دعائے مغفرت کرتے رہتے ہیں اور اگر شام کو عیادت کرے تو ستر ہزار فرشتے صبح تک اس کے لیے دعائے مغفرت کرتے رہتے ہیں اور عیادت کرنے والے کے لیے جنت میں ایک باغ ہو گا۔ (ترمذی، کتاب الجنائز، باب ماجاء في عيادة المريض، 2/290، حدیث: 971)

3۔ جنازے کے ساتھ چلنا: حضرت سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: جو شخص ایمان اور ثواب کی نیت سے کسی مسلمان کے جنازہ کے ساتھ جائے اور اس کے ساتھ ہی رہے یہاں تک کہ اس کی نماز جنازہ پڑھ لے اور اس کی تدفین سے فارغ ہو جائے تو وہ دو قیراط ثواب کے ساتھ واپس لوٹے گا۔ ہر قیراط اُحد پہاڑ کے برابر ہو گا اور جو صرف نماز جنازہ پڑھ کر میت کی تدفین سے پہلے واپس آگیا تو وہ ایک قیراط ثواب کے ساتھ لوٹے گا۔ (بخاری، کتاب الایمان، باب اتباع الجنائز من الایمان، 1/29 ،حدیث: 47)

4۔ دعوت قبول کرنا:چنانچہ شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں: مسلمان بھائی کی دعوت قبول کرتے ہوئے اُس میں شرکت کرنا یہ اُس وقت سنت مبارکہ ہے جبکہ وہاں کوئی خلاف شرع کام نہ ہو اور اگر خلاف شرع کام ہو رہے ہوں تو دعوت قبول نہ کرنا لازم ہے۔ حجۃ الاسلام امام محمد غزالی رحمۃُ اللہِ علیہ نے تو یہاں تک فرمایا کہ جو دعوت اپنے آپ کو اونچا دکھانے، فخر اور واہ واہ کے لئے ہو اس دعوت کو قبول کرنا منع ہے۔ سلف صالحین اس طرح کی دعوتوں میں شرکت کرنے کو مکر وہ فرماتے ہیں۔(اشعۃ اللمعات، كتاب الصلوة، باب عيادة المريض وثواب المرض،673/1)

5۔ چھینک کا جواب دینا: حضرت سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم، رؤوف رحیم صلى الله تعال عَلَیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم میں سے کسی کو چھینک آئے تو اسے چاہیے کہ الْحَمْدُ للہ کہے اور اس کا بھائی یا اس کا ساتھی يَرْحَمُكَ اللهُ کہے، جب وہ يَرْحَمُكَ الله کہہ لے تو پھر چھیکنے والا) يَهْدِيكُمُ اللهُ وَيُصْلِحُ بالكم کہے یعنی اللہ تمہیں ہدایت عطا فرمائے اور تمہارے حال کو درست فرمائے۔ (بخاری، کتاب الآداب، باب اذا عطس كيف يشمت، 4/162، حدیث: 6224)

اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیں تمام مسلمانوں کے حقوق ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین

یہ مضمون نئے لکھاری کا ہے ،حوالہ جات کی تفتیش و تصحیح کی ذمہ داری مؤلف کی ہے، ادارہ اس کا ذمہ دار نہیں۔


محترم قارئین مسلمانوں کے حقوق ایک بڑی وسعت والا موضوع ہے اس میں آگے پھر اقسام ہیں جن میں سے ہر ایک پر مکمل کتابیں لکھیں جا چکی ہیں، مسلمانوں کے چند حقوق یہ ہیں:

1۔ والدین کے حقوق 2۔ اولاد کے حقوق 3۔ بیوی کے حقوق 4۔ شوہر کے حقوق 5۔ رشتےداروں کے حقوق 6۔ پڑوسیوں کے حقوق وغیرہ بہت اقسام ہیں اس کے بارے میں اسلام نے ہمیں آگاہ کیا ہے قرآن وحدیث میں بھی اس کی اہمیت کو بیان کیا گیا ہے

اسلام میں حقوق العباد کی اہمیت: دینِ اسلام میں حقوق العباد کی بہت زیادہ اہمیت ہے، بلکہ احادیث میں یہاں تک ہے کہ حقوقُ اللہ پورا کرنے کے باوجود بہت سے لوگ حقوق العباد میں کمی کی وجہ سے جہنم کے مستحق ہوں گے، جیسا کہ صحیح مسلم میں ہے۔

(1) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، حضور اقدس صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا’’ کیا تم جانتے ہو کہ مُفلِس کون ہے؟صحابۂ کرام رضی اللہ عنہ نے عرض کی:ہم میں مفلس وہ ہے جس کے پاس درہم اور سازو سامان نہ ہو۔ آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’میری امت میں مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن نماز، روزہ اور زکوٰۃ (وغیرہ اعمال) لے کر آئے اور ا س کا حال یہ ہو کہ ا س نے(دنیا میں) کسی کو گالی دی تھی، کسی پر تہمت لگائی تھی، کسی کا مال کھایا تھا، کسی کا خون بہایا تھا اور کسی کو مارا تھا تو اِن میں سے ہر ایک کو اُس کی نیکیاں دے دی جائیں گی اور اُن کے حقوق پورے ہونے سے پہلے اگر ا س کی نیکیاں (اس کے پاس سے) ختم ہوگئیں تو اُن کے گناہ اِس پر ڈال دئیے جائیں گے،پھر اسے جہنم میں ڈال دیاجائے گا۔ (صحیح مسلم کتاب البر والصلة باب تحريم الظلم قدیمی کتب خانہ کراچی2/320۔فتاویٰ رضویہ جلد 24 صفحہ 463 رضا فائونڈیشن لاہور)

(2) حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے، تاجدارِ رسالت صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا’’ مسلمانوں کو جس والی کی رعایا بنایا جائے، پھر وہ والی ایسی حالت میں مرے کہ اس نے مسلمانوں کے حقوق غصب کئے ہوں تو اللہ تعالیٰ اس پر جنت حرام فرما دیتا ہے۔(بخاری، کتاب الاحکام، باب من استرعی رعیۃ فلم ینصح، 4/56، الحدیث: 7151)

(3) ایک دن حضور پر نور سید العالمین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم تشریف فرماتھے ناگاہ خندہ فرمایا کہ اگلے دندان مبارک ظاہر ہوئے، امیر المومنین فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ نے عرض کی یارسول اللہ میرے ماں باپ حضور پر قربان کس بات پر ہنسی آئی ؟ دو مرد میری امت سے رب العزت جل جلالہ کے حضور زانووں پر کھڑے ہوئے، ایک نے عرض کی: اے رب میرے! میرے اس بھائی نے جو ظلم مجھ پر کیا ہے اس کا عوض میرے لئے لے۔ رب تعالیٰ نے فرمایا: اپنے بھائی کے ساتھ کیا کرے گا اس کی نیکیاں تو سب ہو چلیں، مدعی نے عرض کی: اے رب میرے! تو میرے گناہ وہ اٹھا لے۔ یہ فرما کر حضور رحمت عالم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی آنکھیں گریہ سے بہہ رہی تھیں، پھر فرمایا بیشک وہ دن بڑا سخت ہے لوگ اس کے محتاج ہوں گے کہ ان کے گناہوں کا کچھ بوجھ اور لوگ اٹھائیں۔ مولی عزوجل نے مدعی سے فرمایا: نظر اٹھا کر دیکھے۔ اس نے نگاہ اٹھائی کہا اے رب میرے! میں کچھ شہر دیکھتا ہوں سونے اور محل سونے کے سراپا موتیوں سے جڑے ہوئے یہ کسی نبی کے ہیں یا کسی صدیق یا کسی شہید کے۔ مولیٰ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: اس کے ہیں جو قیمت دے کہا: اے رب میرے! بھلا ان کی قیمت کون دے سکتا ہے؟ فرمایا: تو۔ عرض کی: کیوں کر؟فرمایا: یوں کہ اپنے بھائی کو معاف کر دے۔ کہا: اے رب میرے! یہ بات ہے تو میں نے معاف کیا۔ مولیٰ جل مجدہ نے فرمایا: اپنے بھائی کا ہاتھ پکڑلے اور جنت میں لے جا۔ حضور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اسے بیان کر کے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور آپس میں صلح کرو کہ مولیٰ عزوجل قیامت کے دن مسلمانوں میں صلح کرائے گا۔ (مسند احمد بن حنبل حدیث 25500 دار احیاء التراث العربي بيروت 342/7۔المستدرك للحاكم كتاب الاهوال باب جعل الله القصاص بين الدواب المكتب الاسلامی بیروت 76/4۔ 475۔فتاویٰ رضویہ جلد 24 صفحہ 465٫464 رضا فاؤنڈیشن لاہور)

(5) یہاں تک حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا بیشک روز قیامت تمہیں اہل حقوق کو ان کے حق ادا کرنے ہوں گے یہاں تک کہ منڈی بکری کا بدلہ سینگ والی بکری سے لیا جائے گا کہ اسے سینگ مارے۔ (صحیح مسلم کتاب البروالصلۃ باب نصرالاخ ظالماًاومظلوماً قدیمی کتب خانہ کراچی 320/2۔مسند امام احمد بن حنبل عن ابی ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ المکتب الاسلامی بیروت 301/2۔فتاویٰ رضویہ جلد 24 صفحہ461 رضا فائونڈیشن لاہور)

(6) ایک روایت میں فرمایا یہاں تک کہ چیونٹی سے چیونٹی کا عوض لیا جائے گا۔ (اسے امام احمد نے صحیح سند کے ساتھ روایت کیا ہے)(مسند امام احمد بن حنبل عن ابی ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ المکتب الاسلامی بیروت 363/2)(فتاویٰ رضویہ جلد 24 صفحہ461 رضا فائونڈیشن لاہور)

ان تمام احادیث کو پڑھنے کے بعد ہمیں پتہ چلا کہ مسلمانوں کے حقوق کی اہمیت بہت زیادہ ہے اس لیے ہمیں پر حقوق العباد کا خیال رکھنا ضروری ہے

مسلمانوں کے حقوق کا خیال رکھنے سے بہت زیادہ دینی و دنیاوی فوائد حاصل ہوتے ہیں * ایمان میں مظبوطی حاصل ہوتی ہے * سکونِ قلبی حاصل ہوتا ہے * اتفاق کی دولت میسر آتی ہے * آپس میں محبت بڑھتی ہے * لڑائی جھگڑے میں کمی واقع ہوتی ہے * گھریلو ناچاقیاں دور ہوتی ہے * معاشرے میں امن پیدا ہوتا ہے ۔

اس طرح حقوق کا خیال نہ رکھا جائے تو بہت زیادہ نقصان پیدا ہوتے ہیں*گناہ کی کثرت * غیبت * دھوکہ * وعدہ خلافی * جھوٹ * لڑائی جھگڑے * چوریاں * ڈکیتیاں * نفرتیں * تعلقات کا ٹوٹنا * معاشرے کے ماحول میں بے سکونی * پریشانیاں پیدا ہوتی ہیں

محترم قارئین جب حقوق کا خیال نہ رکھا جائے تو بہت زیادہ معاملات بھی خراب ہو جاتے ہیں اس لیے ہمیں چاہیے کہ مسلمانوں کے حقوق کا خیال رکھیں جس سے اللہ کی رضا حاصل ہو گی اور اس کے ساتھ ساتھ معاشرہ میں امن قائم ہو جائے گا ۔ ہمارے معاشرے جو حقوق تلف کیے جاتے ہیں ان میں سے چند حقوق درج ذیل ہیں:

غیبت * ناپ تول میں کمی * مال کا غصب * جگہ پر ناجائز قبضے * رشتوں کے ذریعے دوسروں کا حق مارنا * سفارش کے ذریعے بینکوں عدالتوں دفاتر میں بعد میں آنا پہلے کام کروانا وغیرہ یہ کام عام ہیں ،بنی اسرائیل کی جو حالت بیان کی گئی افسوس کہ فی زمانہ مسلمانوں کی حالت بھی اس سے کچھ مختلف نہیں۔ کاش کہ ہم بھی غور کریں کہ مسلمان ہونے کی حیثیت سے کلمہ پڑھ کر ہم نے نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج، اطاعت ِ الہٰی، اطاعت ِ رسول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ، حقوقُ اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی کی پابندی کا جو عہد اللہ تعالیٰ کے ساتھ کیا ہوا ہے کیا ہم بھی اسے پورا کرتے ہیں یا نہیں ؟

یقیناً ہم اپنے مسلمان بھائیوں کے حقوق کا خیال نہیں رکھتے پہلے کی امتیں ان ہی برائیوں کی وجہ سے ہلاک ہو گئیں تھی اور ہمارا معاشرہ بھی ان برائیوں میں ملوث ہے اگر ہم مسلمانوں کے حقوق کا خیال رکھیں تو بہت سارے گناہ اور نقصانات سے بچ سکتے ہیں اور فوائد بھی حاصل ہوں گے معاشرے میں امن قائم ہو جائے گا ۔

مزید معلومات کے لیے امام اہلسنت مجدد دین و ملت الشاہ امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کی تصنیفِ لطیف فتاویٰ رضویہ جلد 24 میں نہایت تحقیقی کتاب ’’اَعْجَبُ الْاِمْدَاد فِیْ مُکَفِّرَاتِ حُقُوْقِ الْعِبَاد‘‘(بندوں کے حقوق کے معاف کروانے کے طریقے) کا مطالعہ فرمائیں۔

اللہ پاک سے دعا ہے ہمیں مسلمانوں کے حقوق ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین یا رب العالمین

یہ مضمون نئے لکھاری کا ہے ،حوالہ جات کی تفتیش و تصحیح کی ذمہ داری مؤلف کی ہے، ادارہ اس کا ذمہ دار نہیں۔


دین اسلام ایک خوبصورت جامع دین ہے جس میں تمام لوگوں کو مساوی حیثیت حاصل ہے ہر مسلمان پر دوسرے مسلمان کے کچھ حقوق لازم ہیں چاہے وہ امیر ہو یا غریب مالک ہو یا ملازم والدین کے حقوق ہوں یا پڑوسیوں کے حقوق ہوں ہر ایک کے حقوق کو واضح طور پر بیان کیا گیا ہے اسی طرح کچھ حقوق ایسے ہیں جو بحیثیت مسلمان ہم پر ضروری ہیں مثال کے طور پر کسی مسلمان کی مشکل میں مدد کرنا کسی بھوکے مسلمان کو کھانا کھلانا وغیرہ اور اس طرح کے بہت سے ایسے حقوق کہ جنکو بروئے کار لانے سے ہم اپنی زندگی یا معاشرے کو مہذب اور مستحکم بنا سکتے ہیں۔

حضور خاتم النبیین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے بارہا مرتبہ ان کو بیان فرمایا ہے تاکہ مسلمانوں کی آپس میں محبت اور بھائی چارہ قائم ہو ۔جیساکہ بخاری شریف کی حدیث مبارکہ ہے کہ حضور خاتم النبیین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا کہ: مسلمان کے مسلمان پر پانچ حقوق ہیں: سلام کا جواب دینا،بیمار کی عیادت کرنا،جنازوں کے ساتھ جانا،دعوت قبول کرنا اور چھینک کا جواب دینا (بخاری:1240)

ذرا سوچئے اگر ہم حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی ان باتوں پر عمل پیرا ہوں تو ہماری آپس کی محبت کیوں نہیں بڑھ سکتی؟بیشک ہماری تمام رنجشیں ختم ہو سکتیں ہیں اسی طرح اگر کوئی مسلمان مشکل میں ہو یا تکلیف میں مبتلا ہو اور دوسرا مسلمان اسکی تکلیف کو دور کرنے پر قادر بھی ہو تو اسے چاہیے کہ اس مسلمان کی اس تکلیف کو دور کرے ہم ہر کسی کی تکلیف کو دور نہیں کر سکتے اور نہ ہی پوری دنیا کو بدل سکتے ہیں مگر کسی ایک مسلمان کی کسی تکلیف یا مصیبت کو دور کرکے ہم اسکی دنیا اور اپنی آخرت ضرور سنوار سکتے ہیں اسی لئے ہمیں اپنے ارد گرد کے لوگوں کا خیال رکھنا چاہئے انکی تکالیف کا احساس کرنا چاہیے اگر کوئی مسلمان غمزدہ ہو تو اسکی مدد کرنی چاہیے اسی حوالے سے ایک حدیث مبارکہ ہے کہ حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: جس کسی نے کسی غمزدہ مؤمن کی مشکل دور کی یہ کسی مظلوم کی مدد کی تو اللہ تبارک و تعالیٰ اس شخص کے لیے 73 مغفرتیں لکھ دیتا ہے (شعب الایمان: 7076)

اور جب ہم کسی مظلوم یا غمزدہ مؤمن کی مشکل دور کریں گے یا اسکی مدد کریں گے تو اسکا دل ضرور خوش ہوگا اور کسی مسلمان کا دل خوش کرنا اس بارے میں حضور نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا کہ فرائض کے بعد سب اعمال میں اللہ تعالیٰ کو زیادہ پیارا مسلمان کا دل خوش کرنا ہے (معجم کبیر طبرانی:11079) اسی لئے مسلمانوں کو دکھ دینے کی بجائے انکی خوشیوں کا خیال رکھئے۔

اسی طرح مسلمانوں کے حقوق میں سے ایک اہم حق کسی بیمار مسلمان کی تیمار داری کرنا بھی ہے اگر اگر کوئی بیمار مسلمان آپکے علم میں ہو تو ضرور اسکی تیمار داری کیجیے کہ اس سے اسکا دل بھی ہلکا ہوگا اور اسکی تکلیف میں بھی کمی آئے گی اور اگر وہ ضرورت مند ہو تو کچھ پیسوں سے اسکی مدد کردیجیئے مسلم شریف کی حدیث مبارکہ ہے کہ حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا جس نے کسی مریض کی عیادت کی وہ واپسی تک دریائے رحمت میں غوطے لگاتا رہتا ہے اور جب وہ بیٹھ جاتا تو دریائے رحمت میں ڈوب جاتا ہے ۔ (صحیح مسلم:6586)

اور اسی طرح اپنے مسلمان بھائی کی عزت کے محافظ بن جائیے ایک دوسرے کا مذاق اڑانے کی بجائے ایک دوسرے کی عزت کے پہرے دار بن جائیں کیونکہ حضور خاتم النبیین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا ارشاد گرامی ہے کہ جو مسلمان اپنے بھائی کی عزت کا بچاؤ کرے۔(یعنی کسی مسلمان کی آبرو ریزی بے عزتی ہوئی تھی تو اس نے روکا) تو اللہ تبارک وتعالی پر حق ہے کہ قیامت کے دن اسکو جہنم کی آگ سے بچائے اسطرح کے معمولات زندگی میں اور بہت سے چھوٹے چھوٹے حقوق ہیں کہ جن سے مسلمانوں کی آپس کی محبت بھی بڑھے گی رنجشیں بھی کم ہونگی حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا ارشاد گرامی ہے کہ ایمان والوں کی آپس میں محبت رحم اور شفقت و مہربانی کی مثال اس جسم کی طرح ہے جس کا ایک حصہ بیمار ہو تو باقی جسم بے خوابی اور بخار کی طرف ایک دوسرے کو بلاتا ہے۔

اللہ تبارک و تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمارے دلوں میں دوسرے مسلمان بہن بھائیوں کا احساس پیدا ہو اور اللہ عزوجل ہمیں تمام حقوق پورے کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین!

یہ مضمون نئے لکھاری کا ہے ،حوالہ جات کی تفتیش و تصحیح کی ذمہ داری مؤلف کی ہے، ادارہ اس کا ذمہ دار نہیں۔


اسلام نے حقوق کو دو حصوں میں تقسیم کیا ہے ایک کو ہم حقوق اللہ کہتے اور دوسرے کو حقوق العباد۔ ان دونوں کی اسلام میں بہت اہمیت ہے حقوق اللہ، اللہ کے حقوق یعنی اس کی فرمانبرداری کرنا اور حقوق العباد سے مراد لوگوں کے حقوق ۔ اسلام نے ایک مسلمان کو دوسرے مسلمان کا بھائی قرار دیا ہے جس طرح سے ایک حقیقی بھائی اپنے بھائی کی جان ومال اور اس کی عزت کی حفاظت کرتا ہے اس کی ہر ضرورت کا خیال رکھتا ہے۔ اسی طرح اپنے مسلمان بھائی کی ہر ضرورت کو پورا کرنےکی کوشش کرنی چاہئے جس طرح سے خونی رشتے مضبوط ہوتے ہیں اسی طرح ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان سے جو ایمانی رشتہ ہے اسے بھی مضبوط بنانا چاہیے۔ اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے ۔انَّمَا الْمُؤْمِنُونَ اخْوَةٌ (الحجرات 10) ترجمہ کنز العرفان۔ مسلمان بھائی بھائی ہیں۔ مسلمانوں کو آپس میں بھائی قرار دیا: ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر جو حقوق ہیں ان میں سے چند پیش کرتا ہوں:

(1) اچھی گفتگو کرنا : ایک مسلمان کو دوسرے مسلمان سے اچھی گفتگو کرنی چاہیے آپس میں ایسی گفتگو سے پر ہیز کرنا چاہیے۔ جس سے مسلمان بھائی کی دل آزاری ہو اللہ تعالٰی ارشاد فرماتا ہے وَ قُوْلُوْا لِلنَّاسِ حُسْنًا ترجمہ کنز الایمان: اور لوگوں سے اچھی بات کہو۔ (پ1، البقرۃ: 83) اس کی تفسیر کے تحت صراط الجنان میں ہے اچھی بات سے مراد نیکی کی دعوت دینا اور برائیوں سے روکنا ہے۔ حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی شان اور اولیاء کرام رحمۃ اللہ علیہم کے مقام و مرتبہ کا بیان اور نیکیوں اور برائیوں کے متعلق سمجھانا شامل ہے۔

(2) ایک دوسرے کی خیر خواہی کرنا: حضرت جریر بن عبد الله رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے بیعت کی کہ ہمیشہ نماز پڑھتا رہوں گا زکوة دیتا رہوں گا اور ہر مسلمان کی خیر خواہی کروں گا۔ اور خیر خواہی کا تقاضا یہ ہے کہ اپنے بھائی کے لیے ہر وہ چیز پسند کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے اور ہر وہ چیز ناپسند کرے جو اپنے لیے نا پسند کرتا ہے ۔

(3) مظلوم کی مدد کرنا: حضرت سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور سرور کونین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ہمیں مظلوم کی مدد کرنے کا حکم دیا (ترمذی جلد 4 ص 369)

(4) چغلی نہ کرنا:چاہئے کہ ایک دوسرے کے خلاف باتیں نہ سنے اور نہ ہی کسی کی بات سن کر دوسروں تک پہنچائے حضور سید عالم نور مجسم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا ارشاد معظم ہے لا يَدخُلُ الْجَنَّةَ قتات یعنی چغل خور جنت میں داخل نہیں ہوگا۔(بخاری حدیث 605)

خلیل بن احمد نحوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں جو شخص تیرے پاس کسی کی چغلی کرے گا وہ دوسروں کے پاس تیری چغلی بھی کرے گا اور جو تجھے کسی کے بارے خبر دے گا وہ تیری خبر بھی دوسروں تک پہنچائے گا۔

(5) صلح کرانا:الله تعالی ارشاد فرماتا ہے: وَ اِنْ طَآىٕفَتٰنِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اقْتَتَلُوْا فَاَصْلِحُوْا بَیْنَهُمَاۚ۔ترجمہ کنز العرفان: اور اگر مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں لڑیں تو ان میں صلح کراؤ۔(پ26، الحجرات:9)

اس کی تفسیر میں مفتی صاحب صراط الجنان میں فرماتے ہیں۔ مسلمانوں میں صلح کرانا حضور اقدس صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی سنت اور اعلی درجہ کی عبادت ہے البتہ مسلمانوں میں وہی صلح کروانا جائز ہے جو شریعت کے دائرے میں ہو جبکہ ایسی صلح جو حرام کو حلال اور حلال کو حرام کر دے وہ جائز نہیں (صراط الجنان جلد 9 ص 315٫316)

اللہ عزوجل سے دعا ہے کہ وہ ہمیں حقوق اللہ کے ساتھ ساتھ حقوق العباد بھی پورے کرنے کی توفیق عطا فرمائے: آمین

یہ مضمون نئے لکھاری کا ہے ،حوالہ جات کی تفتیش و تصحیح کی ذمہ داری مؤلف کی ہے، ادارہ اس کا ذمہ دار نہیں۔


اللہ کے آخری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: مَثَلُ الْمُؤْمِنِينَ فِي تَوَادِّهِمْ وَتَرَاحُمِهِمْ وَتَعَاطُفِهِمْ مَثَلُ الْجَسَدِ اِذَا اشْتَكَى مِنْهُ عُضْوٌ تَدَاعَى لَهُ سَائِرُ الْجَسَدِ بِالسَّهَرِ وَالْحُمَّى یعنی ایمان والوں کی آپس میں محبت، رحم اورشفقت ومہربانی کی مثال اُس جسم جیسی ہے جس کاایک حصہ بیمار ہوتوباقی جسم بے خوابی اوربخار کی طرف ایک دوسرے کوبلاتا ہے۔

رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کاانتخاب بے مثال ہوتا ہے خواہ وہ افراد ہوں یاالفاظ۔اس حدیثِ پاک میں جن الفاظ کو زبان ِ مصطفےٰ سے ادا ہونے کا اعزاز ملا ہےاُن میں مرادی معنی کے اعتبار سےفرق ہے مثلاً:

(1) تَرَاحُم کامعنی ایک دوسرے پررحم کرنا ہے، مراد یہ ہے کہ مسلمان کسی اور غرض کے بغیر صرف اور صرف اسلامی بھائی چارے کی وجہ سے ایک دوسرے پررحم کریں۔

(2) تَوادّ کامعنی ایک دوسرے سے محبت کرنا ہے، یہاں اس سے مراد یہ ہے کہ آپس کی محبت بڑھانے کے تعلقات رکھے جائیں جیسے ایک دوسرے کو تحفے دیئے جائیں، ملاقات کی جائے وغیرہ۔

(3) تعاطف کامعنی ایک دوسرے پر نرمی کرنا ہے، اس سے مراد ایک دوسرے کی مدد کرنا ہے۔ شارحینِ حدیث نے اِس حدیثِ پاک کی جو شرح فرمائی ہے اُس کا خلاصہ (Summary) یہ ہے:

رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نےاس فرمان کے ذریعے مسلمانوں کے حقوق کاخیال رکھنے، ایک دوسرے کی مدد کرنے اور نرمی سے پیش آنے کو ایک مثال کے ذریعے سمجھایا ہے۔ جسم کے ہر حصے کانام بھی الگ ہے، شکل بھی الگ اور کام بھی الگ لیکن روح ایک ہے لہٰذاجسم کے ایک حصے کادرد دوسرے حصے کو بےقرار کردیتا ہےاوروہ ایک دوسرے کواس درد میں شریک ہونے کی دعوت دیتا ہے اورجب تک وہ حصہ پُرسکون نہیں ہوجاتاپورا جسم بےچینی و بےقراری میں مبتلا رہتا ہےیہی معاملہ کامل مسلمانوں کا بھی ہےکہ اگرچہ اُن کے نام، محلے، شہر، ملک، براعظم، زبان، ثقافت، رہن سہن وغیرہ الگ الگ ہیں مگراُن تمام میں روحِ اسلام موجود ہے لہٰذاکسی ایک مسلمان پر آنےوالی آزمائش کامل مسلمانوں کو بےقرارکردیتی ہے اور وہ مل کر اِسے ختم کرنے کی پوری کوشش کرتے ہیں۔

ایک شخص کو معلوم ہوا کہ اُس کے دو دوست پیٹ کے درد میں مبتلا ہیں لہٰذا وہ اُن میں سےایک دوست کے پاس گیاجو بہت غریب تھا اور اکیلا رہتا تھا، سلام کےبعد اُس نےپیٹ میں درد کی وجہ پوچھی تو اُس کا غریب دوست کہنے لگا: کئی دن سے بھوکا رہنے کی وجہ سےمیری یہ حالت ہوئی ہے۔یہ سُن کر اُس نےاپنے غریب دوست کے لئے کھانے کاانتظام کیا۔وہاں سےفارغ ہونے کے بعد وہ دوسرے دوست کے پاس گیا، وہ بہت امیرتھا، سلام کےبعد اُس نےپیٹ میں درد کی وجہ پوچھی تو اُس کا امیردوست کہنے لگا: بہت زیادہ کھانے کی وجہ سےاِس حال کوپہنچاہوں۔

دونوں دوستوں کی عیادت کرنے کے بعد وہ اِس نتیجے پرپہنچا کہ یہ دونوں آپس میں مل بانٹ کرکھالیتے تو شاید دونوں کی یہ حالت نہ ہوتی، زیادہ کھانے کی وجہ سے پیٹ درد کی پریشانی میں مبتلا ہونے والے شخص کو اگر اپنی بھوک کے ساتھ ساتھ غریبوں کی بھوک کا بھی احساس ہوتا اور وہ اپنی بھوک سے زائد کھانا کسی دوسرے بھوکے کا احساس کرتے ہوئے اسے کھلا دیتا تو یہ احساس شاید اسے زیادہ کھانے کی بنا پر ہونے والے پیٹ درد سے بچالیتا۔

تکلیف دور کرنےکی چند قابلِ عمل صورتیں: ہمارے ذہن میں یہ بات ہونی چاہئےکہ دوسروں کی تکلیف دور کرنے کی کوشش کرنا کامل مسلمان کی نشانی ہے لہٰذا ایک کامل مسلمان بننے کے لئے ہمیں دوسروں کی تکلیف دور کرنے کی قابلِ عمل صورتیں اپنانی چاہئیں، مثلاً (1) کسی کی بیمار ی کا معلوم ہو تو حسبِ حال خیر خواہی کیجئے اور عیادت کرنے کی عادت بنائیے، حدیثِ پاک میں ہے: جس نے مریض کی عیادت کی، وہ واپسی تک دریائے رحمت میں غو طے لگاتا رہتا ہے اور جب وہ بیٹھ جاتا ہے تو رحمت میں ڈوب جاتا ہے۔

(2) ہم ہرایک کی مدد نہیں کرسکتے مگر کسی ایک کی مدد تو کرسکتے ہیں، ایک شخص کی مدد کرکےہم پوری دنیا نہیں بدل سکتے مگرایک شخص کی دنیا تو بدل سکتے ہیں لہٰذا تکلیف زدہ مسلمان کادُکھ دور کرنے کی کوشش کیجئے، حدیثِ پاک میں ہے: جوکسی مسلمان کی تکلیف دور کرے اللہ پاک قِیامت کی تکلیفوں میں سے اُس کی تکلیف دُور فرمائے گا۔

(3) مسلمان کی عزت کے محافظ بن جائیے، حدیث پاک میں ہے: جو مسلمان اپنے بھائی کی عزت کا بچاؤ کرے (یعنی کسی مسلم کی آبرو ریزی ہوتی تھی اس نےمنع کیا) تو اللہ پاک پر حق ہے کہ قیامت کےدن اس کو جہنّم کی آگ سے بچائے۔

(4) دکھی مسلمانوں کو خوش رکھنے کا اہتمام کیجئے، حدیثِ پاک میں ہے: فرائض کے بعد سب اعمال میں الله پاک کو زیادہ پیارا مسلمان کا دل خوش کرنا ہے۔

(5) تکلیف میں مبتلا مسلمان دِل دُکھادے تو اُسے معاف کر دیجئے، حدیثِ پاک میں ہے: اللہ پاک بندے کے معاف کرنے کی وجہ سے اس کی عزت میں اضافہ فرمادیتا ہے اور جو شخص اللہ پاک کے لئے عاجزی اپناتا ہے اللہ پاک اسے بلندی عطا فرماتا ہے۔

(6) کسی پر ظلم ہوتا دیکھ کر اُس کی مدد کیجئے، حدیثِ پاک میں ہے: جس نے کسی غم زدہ مؤمن کی مشکل دورکی یا کسی مظلوم کی مدد کی تواللہ پاک اس شخص کےلئے73 مغفرتیں لکھ دیتا ہے۔

(7) قرض دار سے قرضہ معاف کرکے یا کم از کم اس کے ساتھ نرمی کرکے اُس کی بےچینی کم کرنے کی کوشش کیجئے، حدیثِ پاک میں ہے: جو تنگدست کو مہلت دےيا اس کاقرض معاف کر دے اللہ پاک اُسے جہنم کی گرمی سےمحفوظ فرمائےگا۔

اللہ کریم ہمیں مسلمانوں کےساتھ ہمدردی کرنےاور اُن کادکھ درد دور کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔اٰمِیْن بِجَاہِ خَاتَمِ النَّبِیّٖن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

یہ مضمون نئے لکھاری کا ہے ،حوالہ جات کی تفتیش و تصحیح کی ذمہ داری مؤلف کی ہے، ادارہ اس کا ذمہ دار نہیں۔


اسلامی تعلیمات میں تمام مسلمان ایک ملت قوم کی طرح ہیں سارے مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں، شریعت اسلامیہ نے اخوت وھمدردی کو قائم کرنے کے لئے ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر کئی حقوق عائد کئے ہیں، جن کا ادا کرنا انتہائی ضروری ہے جن حقوق میں حقوق اللہ اور حقوق العباد ہے آج ہم جس حقوق کی بات کریں گے وہ حقوق العباد ہے ۔

مسلمان کے مسلمان پر چھ حقوق ہیں:

(1)جب اس سے ملو تو سلام کرو! حضرت عبد اللہ بن سلام رَضِیَ اللہُ عَنْہ فرماتے ہیں: میں نے مدینہ منورہ میں آخری نبی، رسولِ ہاشمی صَلّی اللہُ عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم کی مبارک زبان سے سب سے پہلا جو کلام سُنا وہ یہ تھا: یَا اَیُّہَا النَّاسُ! اے لوگو! اَفْشُوا السَّلَامَ سلام کو عام کرو!وَ اَطْعِمُوا الطَّعَامَ کھانا کھلاؤ! وَ صَلُّوْا بِالَّیْلِ وَالنَّاسُ نِیَامٌ اور رات كو جس وقت لوگ سو رہے ہوں، اس وقت نماز پڑھو تَدْخُلُوا الْجَنَّۃَ بِسَلَامٍ (تم یہ تین کام کرو گے تو)سلامتی کے ساتھ جنّت میں داخِل ہو جاؤ گے۔(اِبْنِ ماجہ، کتابُ اِقَامۃِ الصلوٰۃ، جلد: 1، صفحہ: 423، حدیث: 1334)

(2)جب وہ دعوت دے تو اسے قبول کرو! حضرت عبدا ﷲ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وسلَّم نے فرمایا: جس کو دعوت دی گئی اور اس نے قبول نہ کی اس نے اﷲ و رسول کی نافرمانی کی اور جو بغیر بلائے گیا وہ چور ہوکر گُھسا اور لٹیرا بن کر نکلا۔(سنن ابی داود،باب ماجاء فی اجابۃ الدعوۃ،ج5،ص569، دارالرسالۃ العالمیہ)

میرے پیارے اسلامی بھائیو! مسلمان کا مسلمان پر جو دوسرا حقوق ہے کہ جب وہ دعوت دے تو اسے قبول کریں اگر قبول نہ کریں تو اس کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ اس نے اللہ و رسول کی نافرمانی کی لہذہ ہمیں چاہیے کہ جب بھی ہمیں کوئی مسلمان دعوت دے تو اسے قبول کرنی چاہیے ۔

(3) جب وہ بیمار ہو تو اس کی عیادت کو جانا! جو مسلمان کسی مسلمان کی عیادت کیلئے صبح کو جائے تو شام تک اور شام کو جائے تو صبح تک ستر ہزار فرشتے اس کیلئے استغفار کرتے ہیں اور اس کیلئے جنت میں ایک باغ ہوگا۔ (ترمذی،ج 2،ص290، حدیث: 971)

(4) جب کسی مسلمان کو نصیحت کی حاجت ہو تو اس کو اچھی نصیحت کرو۔ (اصلاح کے مدنی پھول۔ جلد نمبر 1۔صفحہ نمبر 209)

(5)مسلمان کی چھینک کا جواب دینا! حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ‏ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص چھینکے تو (الحمد للہ) کہے اور اسکا بھائی یا ساتھی (یَرْحَمُکَ اللہ)کہے،پھر جب وہ یرحمک اللہ کہے تو چھینکنے والا (یَھْدِیْکُمُ اللہ وَ یُصْلِحُ بَالَکُمْ)کہے۔ (صحیح بخاری/6624)

میرے پیارے اسلامی بھائیو ! یہاں پر مسلمان کی چھینک کا جواب دینے کا فرمایا گیا ہے کہ مسلمان کی چھینک کا جواب دو اور جواب دینے سے مراد یہی ہے کہ مسلمان پر رحمت کی دعا کرنا لہذا ہمیں بھی چاہیے کہ مسلمان کی چھینک کا جواب دیں ۔

(6)مسلمان کے جنازے میں شرکت کرنا! حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ‏ نے فرمایا: جو شخص کسی مسلمان کے جنازے کے ساتھ ایمان کے تقاضے اور ثواب کی نیت سے چلے گا اور اس کی نماز جنازہ پڑھنے اور دفن سے فارغ ہونے تک اس کے ساتھ رہے گا تو وہ دو قیراط اجر لے کر لوٹے گا، ہر قیراط احد پہاڑ کی مانند ہے اور جو اس کو دفنائے جانے سے قبل صرف نماز جنازہ پڑھ کر لوٹ آئے تو وہ ایک قیراط کے ساتھ واپس آئے گا۔ (صحیح بخاری/1323/1325)

میرے پیارے اسلامی بھائیو یہاں پرمسلمان کے جنازے میں جانے کا ارشاد فرمایا جا رہا ہے کہ اگر کوئی مسلمان فوت ہو جائے تو اس کی جنازے میں جاؤ میرے پیارے اسلامی بھائیو مسلمان کا مسلمان پر یہ انتہائی اہم حق ہے کہ اس کے جنازے میں شرکت کرنا اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے پیارے حبیب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے صدقے سے ہمیں مسلمان کے تمام حقوق ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم!

یہ مضمون نئے لکھاری کا ہے ،حوالہ جات کی تفتیش و تصحیح کی ذمہ داری مؤلف کی ہے، ادارہ اس کا ذمہ دار نہیں۔


اسلام امن و سلامتی کا مذہب ہے اس کی سب سے بڑی اور بنیادی وجہ یہ ہے کہ اسلام میں چھوٹے بڑے امیر غریب مرد و عورت بچے جوان بوڑھے ہر شخص کی تفصیلی حقوق بیان کیے گئے ہیں نیز ان کے پاسداری کا بھی عظیم اور شان درس دیا گیا ہے بندوں کے حقوق اور ان کی عزت و حرمت کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ اسلام میں اگر کوئی شخص حقوق اللہ کی ادائیگی اچھے طریقے سے نہ کر سکے مگر اس پر شرمندہ ہو ندامت اختیار کرے تو امید ہے اللہ تعالی اپنے فضل و کرم سے اسے کل بروز قیامت اپنے وہ حقوق معاف فرما دے لیکن حقوق العباد یعنی بندوں کے حقوق تلف کیے تھے تو رب تعالی بھی اس وقت تک وہ حقوق معاف نہ فرمائے گا جب تک کہ جس شخص کا حق تلف کیا وہ معاف نہ کر دے یا حق تلفی کرنے والا اسے راضی نہ کر لے اسلام وہ واحد مذہب ہے جس نے انسانوں  کی عزت و حرمت کی ایسی پاسداری فرمائی کہ دنیا کے کسی مذہب میں اس کی حقیر سی مثال بھی نہیں ملتی۔

حضرت سیدنا ابو موسی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا جو شخص ہماری مسجدوں یا بازاروں میں گزرے اور اس کے پاس تیر ہو تو اسے چاہیے کہ وہ اسے تھام لے یا ارشاد فرمایا اس کی نوک کو اپنے ہاتھ میں پکڑ لیتا کہ کسی مسلمان کو اس سے کوئی تکلیف نہ پہنچے ۔ (حوالہ ریاض الصالحین صفحہ 232 حدیث 223)

حضرت سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا مسلمانوں کی آپس میں دوستی رحمت اور شفقت کی مثال ایک جسم کی طرح ہے جب جسم کا کوئی عضو تکلیف میں ہوتا ہے تو پورا جسم بخار اور بے خوابی کی کیفیت میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ (حوالہ ریاض الصالحین صفحہ 235حدیث 224)

ایک مسلمان، بحیثیت مسلمان کے اپنے بھائی پر کچھ حقوق رکھتا ہے، جنکی ادائیگی واجب ہے، ان حقوق کی تعداد بہت زیادہ ہے، البتہ ان میں سے بعض حقوق کا ذکر ہم یہاں کرتے ہیں۔

(1) نصیحت و خیرخواہی: چونکہ مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں اور ایک بھائی کا حق یہ ہے کہ وہ ہمیشہ اپنے بھائی کا خیر خواہ رہے، لہذا اگر کوئی بھائی کسی سے مشورہ طلب کررہا ہے یا کسی کام سے متعلق رائے لے رہا ہے تو اسے وہی مشورہ دیا جائے جو وہ خود اپنے لئے بہتر سمجھ رہا ہو۔

(2)چھینک کا جواب: چھینک کا آنا جسمانی صحت کی دلیل اور دماغ کے فضلات کا اخراج ہے لہذا جب کسی شخص کو چھینک آئے تو اسے اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے الحمد للہ کہنا چاہئے، جب وہ الحمدللہ کہے تو سننے والے کے اوپر واجب ہے کہ وہ یرحمک اللہ کہ کر اسے دعا دے۔

(3) مریض کی عیادت و زیارت: بیمار شخص تسلى، صبر و احتساب کی تلقین کا محتاج ہوتا ہے،، بسا اوقات وہ اپنی عیادت کیلئے کسی خدمت گار کا ضرورت مند ہوتا ہے، اسلئے ایسے وقت میں دوسرے مسلمانوں پر اسکا ایک حق یہ بھی ہے کہ اسکی عیادت و زیارت کی جائے۔

(4) جنازے میں شرکت: جب انسان کی روح اسکے جسم سے جدا ہوجائے تو اسے زمین کے حوالے کردینا ہی اسکی اصل تعظیم و تکریم ہے، اس وقت وہ لاش بے جان اپنے لئے کسی نفع و نقصان کی مالک نہیں ہوتی، اسلئے اسکے بھائیوں پر اسکا حق ہے کہ اسے زمین کے سپرد کر دیں، اور آگے کی منزل کی آسانی کیلئے دعا کرے ۔ اسی طرح مسلمانوں کے حقوق میں یہ چیزیں بھی داخل ہیں:

7 ۔ مظلوم کی مدد۔

8 قسم اٹھانے والے کی قسم پورا کرنا۔

9 ۔ عیوب کو چھپانا

10 قیدی کو آزاد کرانا۔ وغیرہ۔

آج دنیا میں مسلمانوں کے حقوق بڑی بے رحمی سے پامال ہو رہے ہیں ایک دوسرے کے حقوق کا بالکل خیال نہیں رکھا جا رہا ہر ایک اپنے مفاد میں لگا ہوا ہے کسی کو دوسرے کی پرواہ نہیں اللہ پاک کی بارگاہ میں دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

یہ مضمون نئے لکھاری کا ہے ،حوالہ جات کی تفتیش و تصحیح کی ذمہ داری مؤلف کی ہے، ادارہ اس کا ذمہ دار نہیں۔


اللہ پاک کا کڑوڑہا کڑوڑ احسان عظیم ہے کہ اللہ نے ہمیں مسلمان گھرانے میں پیدا کیا اور اللہ پاک کا احسان عظیم ہے کہ اس نے ہمیں مسلک حق اہلسنت والجماعت پہ قائم رکھا اور ہمیں مدمذہبوں سے محفوظ رکھا لیکن یہ بات یاد رہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پہ کچھ نہ کچھ حقوق رکھے ہیں مثلا ماں باپ کے حقوق رشتہ داروں کے حقوق یتیموں اور محتاجوں کے حقوق قریب کے پڑوسیوں کے حقوق دور کے پڑوسیوں کے حقوق پاس بیٹھنے والے ساتھی اور مسافر کے حقوق اور غلاموں کے حقوق اللہ پاک نے قرآن پاک میں ارشاد فرمایا :

وَّ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا وَّ بِذِی الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ الْجَارِ ذِی الْقُرْبٰى وَ الْجَارِ الْجُنُبِ وَ الصَّاحِبِ بِالْجَنْۢبِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِۙ۔وَ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْؕ۔ترجمہ: اور ماں باپ سے بھلائی کرو اور رشتہ داروں اور یتیموں اور محتاجوں اور پاس کے ہمسائے اور دور کے ہمسائے اور کروٹ کے ساتھی اور راہ گیر اور اپنی باندی غلام سے (اچھا سلوک کرو)۔(پ 5،النسآء: 36)

مذکورہ آیت کریمہ کے اس حصے میں اللہ تبارک وتعالی نے ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پہ کچھ حقوق کو بیان فرمایا

(1)والدین کے ساتھ احسان کرنا: والدین کے ساتھ احسان یہ ہے کہ ایک مسلمان کو چاہیے کہ وہ اپنے والدین کا ادب و احترام کرے اپنے والدین کی نافرمانی نہ کرے والدین کی خدمت کو اپنے لیے بہت بڑی سعادت سمجھے اور اس سعادت مندی پہ اللہ پاک کا شکر ادا کرے ۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سرکار مدینہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے تین مرتبہ فرمایا:اس کی ناک خاک آلود ہو۔کسی صحابی رضی اللہ عنہ نے عرض کی یارسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کون؟ حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ جس نے ماں باپ دونوں کو یا ان میں سے ایک کو بڑھاپے میں پایا اور جنت میں داخل نہ ہوا۔ (مسلم ص 1060 حدیث 6510)

(2)رشتہ داروں سے حسن سلوک کرنا : رشتہ داروں سے حسن سلوک یہ ہے کہ ان کے ساتھ اچھے اخلاق سے پیش آئے اگر کوئی رشتہ دار غریب ہوں تو ان کی مدد کرے ان سے قطع تعلقی نہ کرے ۔

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا جسے یہ پسند ہو کہ اس کے رزق میں وسعت ہواور اس کی عمر لمبی ہو تو اسے چاہیے کہ رشتہ داروں کے ساتھ اچھا سلوک کرے(بخاری 10/2حدیث 2067)

حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا،، رشتہ کاٹنے والا جنت میں نہیں جائے گا (مسلم1062حدیث 6520)

(3:4)یتیموں اور محتاجوں سے حسن سلوک کرنا: یتیم کے ساتھ حسن سلوک یہ ہے کہ ان کے سر پر شفقت سے ہاتھ رکھے ان کے مال کی حفاظت کرے ان کے ساتھ نرمی سے پیش آئے ان کی اچھی پرورش کرے۔

حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا جو شخص یتیم کی کفالت کرے وہ اور میں جنت میں اس طرح ہوں گے حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے کلمہ کی انگلی اور بیچ کی انگلی سے اشارہ فرمایا اور دونوں انگلیوں کے درمیان تھوڑا سا فاصلہ کیا ۔(بخاری 497/3حدیث 5304)

محتاج و مسکین کے ساتھ حسن سلوک یہ ہے کہ ان کی مدد کرے ان کی پریشانی کو دور کرنے کی کوشش کرے انہیں خالی ہاتھ نہ لٹائے ۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا بیوہ و مسکین کی خبر گیری کرنے والا اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کی طرح ہے۔ (بخاری 511/3 الحدیث 5353)

(5)ہمسائیوں سے حسن سلوک کرنا : ہمسائیوں سے حسن سلوک یہ ہے کہ ان سے اچھے اخلاق سے پیش آئے اگر ہمسائیوں میں سے کوئی بھوکا ہوتو اسے کھانا کھلائے اگر کوئی بیمار ہوتو اس کی عیادت کرنے جائے اگر کوئی پریشان ہوتو اس کی پریشانی کو دور کرنے کی کوشش کرے ۔

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا جبرائیل علیہ السلام مجھے پڑوسی کے بارے برابر وصیت کرتے رہے یہاں تک کہ مجھے گمان ہوا کہ پڑوسی کو وارث بنا دیں گے۔ (بخاری 104/4 الحدیث6014)

(6)پاس بیٹھنے والوں سے حسن سلوک: اس سے مراد بیوی ہے اور وہ ہیں جو اس کے پاس رہتے ہیں ماں باپ اولاد دوست احباب وغیرہ ان تمام سے حسن اخلاق سے پیش آئے ۔

(7)مسافروں کے ساتھ حسن سلوک: مسافروں کے ساتھ حسن سلوک یہ ہے کہ اگر کوئی مسافر راستہ پوچھے تو اسے صحیح راستہ بتائے اگر کوئی مسافر پریشان ہوتو اس کی پریشانی کو دور کرنے کی کوشش کرے اگر کوئی مسافر بھوکا ہوتو اسے کھانا کھلائے۔

(8) لونڈی غلام کے ساتھ حسن سلوک : ہمارا اسلام ہمیں لونڈی غلام کے ساتھ حسن سلوک کرنے کا حکم دیتا ہے لونڈی غلام کے ساتھ حسن سلوک یہ ہے کہ ان سے اچھے اخلاق سے پیش آئے ان کے ساتھ بداخلاقی نہ کرے اور نہ ہی بدکلامی کرے ان کی طاقت سے زیادہ ان سے کام نہ کروائے انہیں بقدر ضرورت کھانا کھلائے کیونکہ رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا غلام تمہارے بھائی ہیں اللہ تعالیٰ نے انہیں تمہارے ماتحت کیا ہے،تو جو تم کھاتے ہو انہیں بھی وہی کھلاؤ،جو لباس تم پہنتے ہو ویسا ہی انہیں پہناؤ ان کی طاقت سے زیادہ ان پہ بوجھ نہ ڈالو اگر ایسا ہوتو تم بھی ساتھ میں ان کی مدد کرو۔(مسلم ص 700 حدیث 4313)

یہ مضمون نئے لکھاری کا ہے ،حوالہ جات کی تفتیش و تصحیح کی ذمہ داری مؤلف کی ہے، ادارہ اس کا ذمہ دار نہیں۔


حُقُوق العباد کا معنیٰ و مفہوم:حقوق جمع ہے حق کی، جس کے معنیٰ ہیں:فردیا جماعت کا ضروری حصہ۔(المعجم الوسیط)

حقوقُ العباد کا مطلب یہ ہوگاکہ وہ تمام کام جوبندوں کو ایک دوسرے کے لئے کرنے ضروری ہیں۔ان کا تعلق چونکہ بندے سے ہے اسی لئے ان کی حق تلفی کی صورت میں اللہ پاک نے یہی ضابطہ مقرر فرمایا ہے کہ جب تک وہ بندہ معاف نہ کرے معاف نہ ہوں گے۔ (فتاویٰ رضویہ،ج 24،ص459)

اللہ پاک نے قرآن پاک میں کئی مقامات پر مسلمانوں کے حقوق بیان فرمائے ہیں جیسا کہ ارشاد باری تعالٰی ہے وَ اعْبُدُوا اللّٰہَ وَ لَا تُشْرِكُوْا بِهٖ شَیْــٴًـا وَّ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا وَّ بِذِی الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ الْجَارِ ذِی الْقُرْبٰى وَ الْجَارِ الْجُنُبِ وَ الصَّاحِبِ بِالْجَنْۢبِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِۙ۔وَ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْؕ۔اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ مُخْتَالًا فَخُوْرًاۙ(36)ترجمہ کنز الایمان: اور اللہ کی بندگی کرو اور اس کا شریک کسی کو نہ ٹھہراؤ اور ماں باپ سے بھلائی کرو اور رشتہ داروں اور یتیموں اور محتاجوں اور پاس کے ہمسائے اور دور کے ہمسائے اور کروٹ کے ساتھی اور راہ گیر اور اپنی باندی غلام سے بے شک اللہ کو خوش نہیں آتا کوئی اترانے والا بڑائی مارنے والا ۔(پ5، النسآء: 36)

نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے رشتہ داروں کے حقوق کے بارے میں بیان فرمایا کہ حضرت جُبَیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، سرکارِ دو عالم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا ’’رشتہ کاٹنے والا جنت میں نہیں جائے گا۔ (مسلم، حدیث: 2556)

صلۂ رحمی کا مطلب بیان کرتے ہوئے صدرُالشریعہ مولانا امجد علی اعظمی  رحمۃُ اللہِ علیہ  فرماتے ہیں: صلۂ رحم کے معنی رشتہ کو جوڑنا ہے، یعنی رشتہ والوں کے ساتھ نیکی اور سلوک کرنا، ساری امت کا اس پر اتفاق ہے کہ صلۂ رحم واجب ہے اور قطع رحم (یعنی رشتہ کاٹنا) حرام ہے۔

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبیِّ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: جسے یہ پسند ہو کہ اس کے رزق میں وسعت ہو اور اس کی عمر لمبی ہو تو اسے چاہئے کہ اپنے رشتے داروں کے ساتھ اچھا سلوک کرے۔ (بخاری، حدیث:2067)

اُمُّ المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، تاجدارِ رسالت صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: جبرئیل علیہ السّلام مجھے پڑوسی کے متعلق برابر وصیت کرتے رہے، یہاں تک کہ مجھے گمان ہوا کہ پڑوسی کو وارث بنا دیں گے۔ (بخاری ، حدیث:6014)

لہذا ہمیں ان احادیث سے معلوم ہوا کہ رسول اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ہمیں مسلمانوں کے حقوق کے بارے میں بہت تاکید فرمائی ہے۔اللہ عزوجل سے دعا ہے کہ اللہ پاک ہمیں مسلمانوں کے حقوق کا تحفظ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاه خاتم النبيين صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

یہ مضمون نئے لکھاری کا ہے ،حوالہ جات کی تفتیش و تصحیح کی ذمہ داری مؤلف کی ہے، ادارہ اس کا ذمہ دار نہیں۔


اکثر مسلمانوں میں یہ خیال عام ہے کہ چند عبادات کی ادائیگی سے بخشش ہو جائے گی۔ اس لیے نماز روزے اور حج کا تو اہتمام کیا جاتا ہے لیکن زکوۃ اور دیگر مالی صدقات اور نفقات کو بڑی حد تک نظر انداز کر دیا ہوتا ہے گو یادین کے صرف ایک حصے یعنی حقوق اللہ کی ادائیگی کی جاتی ہے لیکن دوسرے بڑے حصے یعنی حقوق العباد کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

اسلام کا تصور دین یہ ہے کہ دونوں حقوق کی ادائیگی فرض ہے۔ اولیت حق اللہ کو حاصل ہے لیکن حقوق العباد بھی فرض ہیں بلکہ تمام عبادات کا مقصد ہی حقوق العباد کی ادائیگی کے لیے مسلمان کی تربیت کرتا ہے تا کہ وہ اتنا نیک بن جائے کہ برائی میں مبتلا نہ ہو اور معاملات زندگی ایمانداری سے سر انجام دیں۔

اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں انسان کو اپنی ہدایات سے محروم نہیں رکھا۔ اس نے انسانوں کے درمیان حقوق کا واضع تعین کر کے ان کی ادائیگی کو اپنی خوشنودی اور ادا نہ کرنے کو اپنی نا خوشی کا سزاوار ٹھہرایا ہے۔

نبی کریم (صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم) سے پہلے حقوق کی ادائیگی میں لوگ انتہائی غفلت کرتے تھے۔

اس سے لوگوں کے ساتھ زیادتی اور ظلم کا دروازہ کھلتا تھا۔سرکار صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے انسان کے ہر رشتہ کے لحاظ سے حقوق کی حدود متعین کر دیں۔جب ہر کوئی اپنے فرائض کو شرعی قواعد کے مطابق ادا کرے گا تو پھر کسی کی حق تلفی نہ ہوگی اور نہ کسی پر ظلم ہوگا۔حقوق کی حفاظت کا اہتمام جتنا شریعتِ اسلامیہ میں کیا گیا ہے دنیا کے کسی اور مذہب میں نہیں ہے۔

بندوں کے حقوق اچھی طرح وہ ادا کر سکے گا جسے یہ علم ہوگا کہ اللہ کے نبی نے ہر ایک کے حقوق کے بارے میں فرداً فرداً کیا فرمایا ہے۔

مسلمان ایک ملت اور قوم ہے لہٰذا اسلام نے ہر مسلمان پر یہ فریضہ عائد کیا ہے کہ وہ آپس میں اتفاق،سلوک اور پیار محبت سے رہیں کیونکہ اسلام نے ایک مسلمان کو دوسرے مسلمان کا بھائی قرار دیا ہے۔مسلمانوں کو ایک برادری کی حیثیت حاصل ہے۔خواہ وہ دنیا کے کسی حصے میں رہتے ہوں۔آپس میں مسلمانوں کا رشتہ نہایت ہی مضبوط رشتہ ہے۔اس رشتہ نے مسلمانوں کو ایک جسم کی مانند قرار دیا ہے اور ان کے درمیان آپس میں رحم،شفقت،محبت اور ایک دوسرے کی خیر خواہی کو لازم قرار دیا ہے۔جنہیں حقوق کے نام سے تعبیر کر دیا گیا ہے۔ان حقوق کو ادا کرنا ہر مسلمان پر ضروری ہے کیونکہ ایک مسلمان جب دوسرے مسلمان کے حقوق ادا کرتا رہے گا تو اسے بھی وہی سہولتیں میسر آ جائیں گی جو ہر مسلمان کے لیے ہیں۔

اس کے بارے میں حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی حدیث مبارکہ سنئے: عن أبي ه‍ريرة أن النبي صلى الله عليه وسلم قال المؤمن مألف و لا خير فيمن لا يألف ولا يؤلف ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: مومن الفت کرنے والا ہے اور اس میں کوئی بھلائی نہیں جو الفت نہ کرے اور اس سے الفت نہ کی جائے۔(بیہقی)

آج ہم مسلمان عام طور پر معاملات میں بے ایمانی کرتے ہیں اور صرف ساتھ اپنے دیگر فرائض اور عبادات پر قناعت کرتے ہیں۔مسلمانوں کے حقوق کے متعلق ہم بڑی لا پروائی کے مرتکب ہوتے ہیں۔ ہماری حالت یہ ہو چکی ہے کہ جہاں دین پر عمل میں ذرا مادی نقصان نظر آیا وہاں دین کو چھوڑ دیا۔ جہاں تک مفادات کے ساتھ دین چلتا ہے اختیار کیا لیکن جہاں دین اور مفاد ٹکرائیں احترام دین کو چھوڑ دیا اس وجہ سے آج ہم زوال کا شکار ہیں۔

یہ مضمون نئے لکھاری کا ہے ،حوالہ جات کی تفتیش و تصحیح کی ذمہ داری مؤلف کی ہے، ادارہ اس کا ذمہ دار نہیں۔


حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے مسلمان محفوظ رہیں اور مومن وہ ہے جس سے لوگ اپنی جان و مال پر محفوظ رہیں۔(جامع ترمذی۔2627)

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا کہ مسلمان کے دوسرے مسلمان پر پانچ حقوق ہیں:(1) سلام کا جواب دینا (2) بیمار کی عیادت کرنا (3)اس کے جنازے کے ساتھ جانا (4)اس کی دعوت کو قبول کرنا (5)چھینک کا جواب دینا۔( صحیح مسلم۔2161)

مسلمان کے لئے افضلیت یہ ہے کہ اس کی زبان سے بطور طعنہ،گالی گلوچ،بدتمیزی،غیبت،چغلی وغیرہ کی صورت میں اور اس کے ہاتھ سے ناجائز و ناحق قتل کرنا، آپس میں ایذاء پہنچانا اور کوئی ایسا فعل کرنا جس سے کسی دوسرے کو تکلیف پہنچے یہ صحیح نہیں ہے اس سے بچنا افضل ہے۔

اصلاً مسلمان کی تعریف یہ ہے کہ اس کی زبان اور ہاتھوں سے کسی بھی اپنے مسلمان بھائی خواہ وہ حقیقی بھائی ہو یا اسلامی بھائی ہو اسے تکلیف مت دی جائے اور اسی طرح ایک اعلیٰ معاشرے کی بنیاد فقط سکون نہیں بلکہ اپنی ذات سے کسی کو تکلیف نہ دینا اعلیٰ معاشرتی حق ہے حتیٰ کہ غیر مسلموں کے تحفظ کا بھی دینِ اسلام نے حق دیا ہے نہ تو انکے عبادت خانے تباہ کیے جائیں اور نہ انکے مذہب کے رہنما قتل کیۓ جائیں اور نہ بچے عورتیں بزرگ وغیرہ اور جو یہ کام کرتے ہیں انکا اسلام سے کوئی تعلق واسطہ نہیں بلکہ وہ ملک و ملت کے دشمن ہیں۔

ایک مسلمان دوسرے مسلمان کو دھوکا مت دے، فراڈ مت کرے، اسے چونا نہ لگائے ۔نہ خود کسی پر ظلم کرو نہ ظالم کے حوالے کرو بلکہ وہ ضرورت مند و لاچار ہو تو اس کی مدد بغیر کسی لالچ، حرص و حوس کے کرو ہمارے پیشِ نظر فقط یہ بات ہو کہ یہ ہمارے دین اور مذہبِ اسلام کی تعلیمات ہیں۔

میری آپ تمام سے گزارش ہے کہ بغیر کسی لالچ و حوس کے ہر ایک کے جائز کام میں اسکی مدد کرو اس کی ضرورت پوری کرو بیشک میرے پیارے آقا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا خالص امتی یہی ہے۔کیونکہ حدیث شریف میں ہے جو کسی کی دنیاوی مشکل حل کرتا ہے اللہ پاک اس کی اخروی مشکل حل کرتا ہے۔ سو ایک دوسرے کے کام آنا اور وہ کام بھی جائز ہو شریعت کے خلاف نہ ہو بیشک صدقہ ہے۔

مسلمان کا مسلمان پر یہ بھی حق ہے کہ نہ وہ ناحق قتل و خون کے بازار گرم کرے اور نہ کسی کی عزت و احترام میں کمی لائے اور نہ ہی کسی کا ناحق و ناجائز مال ہضم کرے۔

ایک حق یہ بھی ہے کہ جب کوئی فوت ہو جائے خواہ رشتےداروں میں سے ہو یا غیروں میں سے محلے سے ہو یا غیرِ محلے سے اگر رسائی ممکن ہو تو ضرور اس کے جنازے میں شرکت کرے اگر بیمار ہو تو اسکی تیمارداری کرے اور اگر اس کو حق و سچ و جائز دعوت ملے تو وہ اس میں شریک ہو بغیر اجازت جانا جائزنہیں نہ شرعاً اور نہ ہی معاشرتی طور پر۔

اگر کوئی ہم سے مشورہ مانگے تو ہمیں اسے صحیح اور اپنی معلومات کے مطابق مشورہ دینا چاہیئے اور اس سے غلط بیانی نہیں کرنی چاہیئے کیونکہ مشورہ ایک امانت ہے۔

بعض لوگ دوغلی پالیسی اختیار کرتے ہیں جسے ہمارے ہاں دو منہ والا کہتے ہیں سو یہ دھوکا اور فراڈ ہے اِس سے بچنا ضروری ہے کیونکہ دو منہ والے یعنی دوغلے آدمی خواہ وہ مرد ہو یا عورت حدیث شریف میں ہے کہ اس کے منہ میں آگ کی دو زبانیں ہوں گی۔

اے میرے پیارے اللہ پاک ہمیں ایسی بلاؤں،وباؤں سے محفوظ فرما آمین یا رب العالمین۔ اے اللہ پاک ہمیں صحیح اور درست حق سمجھ کر پہچان کر اس کو ادا کرنے کی توفیق عطا فرما آمین بجاہ خاتم النبیین

یہ مضمون نئے لکھاری کا ہے ،حوالہ جات کی تفتیش و تصحیح کی ذمہ داری مؤلف کی ہے، ادارہ اس کا ذمہ دار نہیں۔