محمد
تعظیم شیخ (درجہ خامسہ جامعۃ المدينہ فيضان عثمان غنى ،کراچی،پاکستان)
اسلام ایک
مکمل ضابطۂ حیات ہے جس میں قرآنِ مجید کے ساتھ ساتھ سنتِ نبوی کو بھی بنیادی حیثیت
حاصل ہے۔ سنت سے مراد وہ طریقے، اقوال اور افعال ہیں جو حضرت محمد ﷺ نے اپنی زندگی
میں اختیار فرمائے اور امت کو ان کی پیروی کا حکم دیا۔ سنت دراصل قرآنِ کریم کی
عملی تفسیر ہے، اس لیے اس کو چھوڑ دینا یا اس سے روگردانی کرنا نہایت قابلِ مذمت
عمل ہے۔
احادیثِ
مبارکہ میں ترکِ سنت کی سختی سے مذمت کی گئی ہے۔ ایک مشہور حدیث میں نبی کریم ﷺ نے
فرمایا: جس نے میری سنت سے منہ موڑا وہ مجھ سے نہیں۔( صحیح بخاری، کتاب النکاح، حدیث:
5063)
اس حدیث
سے واضح ہوتا ہے کہ سنت کو چھوڑنا دراصل نبی کریم ﷺ کی تعلیمات سے دوری اختیار
کرنا ہے، جو ایک مسلمان کے لیے نہایت خطرناک بات ہے۔
یہ حدیث
اس بات کی دلیل ہے کہ ہدایت کا راستہ صرف قرآن اور سنت کی پیروی میں ہے۔ اگر کوئی
شخص سنت کو چھوڑ دیتا ہے تو وہ گمراہی کے راستے پر جا سکتا ہے۔
مزید
برآں، ایک حدیث میں بدعت (دین میں نئی بات شامل کرنے) کے بارے میں فرمایا گیا:جو
شخص ہمارے اس دین میں کوئی نئی بات پیدا کرے جو اس میں سے نہیں، تو وہ مردود ہے۔(
صحیح مسلم، حدیث: 1718)
یہ حدیث
اس امر کو واضح کرتی ہے کہ سنت کو چھوڑ کر اپنی طرف سے نئے طریقے ایجاد کرنا قابلِ
قبول نہیں، بلکہ یہ دین میں خرابی کا باعث بنتا ہے۔ترکِ سنت کے کئی نقصانات ہیں۔
سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ انسان اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی ناراضی مول لیتا ہے۔ اس
کے علاوہ معاشرے میں بگاڑ، دین میں تحریف اور امت میں انتشار پیدا ہوتا ہے۔ سنت پر
عمل نہ کرنے سے اسلامی شناخت بھی کمزور پڑ جاتی ہے۔
ہر مسلمان
پر لازم ہے کہ وہ سنتِ نبوی کو اپنی زندگی کا حصہ بنائے۔ کھانے پینے، عبادات،
معاملات اور اخلاقیات ہر شعبے میں سنت کی پیروی کامیابی کی ضمانت ہے۔ ہمیں چاہیے
کہ ہم نہ صرف خود سنت پر عمل کریں بلکہ دوسروں کو بھی اس کی ترغیب دیں تاکہ ہم دنیا
و آخرت میں کامیاب ہو سکیں۔
Dawateislami