اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جس میں نبی کریم ﷺ کی سنت کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ سنتِ نبوی ﷺ دراصل قرآنِ مجید کی عملی تفسیر اور بہترین نمونۂ عمل ہے، جس کی پیروی ہر مسلمان کے لیے باعثِ نجات ہے۔ چنانچہ حضور ﷺ نے واضح فرمایا کہ جو شخص آپ ﷺ کی سنت سے اعراض کرے وہ آپ ﷺ کے طریقے پر نہیں۔

موجودہ دور میں جہاں دینی شعور میں کمی اور دنیاوی رجحانات میں اضافہ ہو رہا ہے، وہاں سنت کو ترک کرنا ایک عام رویہ بنتا جا رہا ہے، جو نہ صرف فرد کی روحانی زندگی کو متاثر کرتا ہے بلکہ معاشرتی بگاڑ کا سبب بھی بنتا ہے۔ اس کے علاوہ بھی کئی مقامات پر آقا علیہ السلام نے سنت کو مضبوطی سے پکڑنے کی ترغیبات ارشاد فرمائی اور ترک سنت کی مذمت فرمائی ۔

(1)عَنْ اَ بِيْ هُرَيْرَةَ رَضِيَ الله عَنْهُ اَنَّ رَسُولَ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:كُلُّ اُمَّتِيْ يَدْخُلُونَ الجَنَّةَ اِلَّا مَنْ اَبیٰ.قِيلَ:وَمَنْ يَاْبٰى يَارَسُولَ اللهِ صَلىَ اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:مَنْ اَطَاعَنِي دَخَلَ الجَنَّةَ، وَمَنْ عَصَانِي فَقَدْ اَبیٰ.

ترجمہ حدیث :حضرتِ سَیِّدُناابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ روایت ہےکہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا : ’’ میری ساری اُمَّت جنت میں داخل ہو گی سوائے منکر کے ۔ ‘‘ عرض کی گئی: ’’یا رسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّم!منکر کون ہے؟ ‘‘ فرمایا: ’’ جس نے میری اطاعت کی وہ جنت میں داخل ہو ااور جس نے میری نافرمانی کی وہ منکر ہوا۔ ‘‘(فیضان ریاض الصالحین جلد:2 ،حدیث نمبر:158)

(2)عَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ صَخْرٍ رَضيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ: مَا نَهَيْتُكُمْ عَنْهُ فَاجْتَنِبُوْهُ وَمَا اَمَرْتُكُمْ بِهٖ فَافْعَلُوْا مِنْهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ فَاِنَّمَا اَهْلَكَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ كَثْرَةُ مَسَآئِلِہِمْ وَاخْتِلَافُهُمْ عَلٰى اَنْبِيَآئِهِمْ.رَوَاهُ الْبُخَارِی وَمُسْلِم

ترجمہ حدیث : حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ عبد الرحمٰن بن صخر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسولِ پاک صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم کو ارشاد فرماتے سنا: ’’جس چیز سے میں تمہیں منع کردوں تو اس سے رک جاؤ اور جس چیز کا میں تمہیں حکم دوں تو اپنی استطاعت کے مطابق اس پر عمل کرو کیونکہ تم سے پہلوں کو زیادہ سوال کرنےاور اپنے انبیاء کی مخالفت نے ہلاک کردیا۔‘‘(بخاری، کتاب الاعتصام بالکتاب والسنة، باب الاقتداء بسنن رسول، ۴/ ۵۰۲، حدیث: ۷۲۸۸ ، بتغیر قلیل ۔ مسلم، کتاب الحج، باب فی الحج مرة فی العمر،ص۵۳۶، حدیث:۳۲۵۷، بتغیر)(شرح اربعین نوویہ(اردو) ،حدیث نمبر:9 ، زیادہ سوال کرنے سے بچو)

(3)عَنْ اَبِي نَجِيْحٍ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: وَعَظَنَا رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَوْعِظَةً بَلِيْغَةً وَجِلَتْ مِنْهَا القُلُوبُ وَذَرَفَتْ مِنْهَا العُيُونُ، فَقُلْنَا: يَارَسُولَ اللهِ! كَاَ نَّهَا مَوْعِظَةُ مُوَدِّعٍ فَاَوْصِنَا قَالَ: اُوْصِيْكُمْ بِتَقْوَى اللهِ، وَالسَّمْعِ وَالطَّاعَةِ وَ اِنْ تَاَمَّرَ عَلَيْكُمْ عَبْدٌ، وَاِنَّهُ مَنْ يَعِشْ مِنْكُمْ فَسَيَرَى اِخْتِلَافاً كَثيراً، فَعَليْكُمْ بسُنَّتِي وسُنَّةِ الخُلَفاءِ الرَّاشِدِينَ المَهْدِیِّینَ، عَضُّوا عَلَيْهَا بالنَّواجِذِ، وَاِيَّا كُمْ وَ مُحْدَثَاتِ الاُمُورِ فاِنَّ كلَّ بِدْعَةٍ ضَلالَةٌ. ترجمہ حدیث :حضرتِ سَیِّدُناابونَجِیح عِرباض بن سارِیہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ ُسے مروی ہے کہ حضورنبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّم نے ہمیں ایسا بلیغ وعظ فرمایا جس سے دل خوف زدہ اور آنکھیں آبدیدہ ہو گئیں ۔ہم نے عرض کی: ’’یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّم! یہ تواَلْوَداعی وعظ معلوم ہوتاہے، آپ ہمیں وصیت فرمائیے۔ ‘‘ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا: ’’ میں تمہیں اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈرنے، (حاکم کی) بات سننے اور اِطاعت کرنے کی وصیت کرتا ہوں ، اگرچہ کسی غلام کو تم پر حاکم بنادیا جائے۔اور بے شک !تم میں سے جو زندہ رہے گا عنقریب وہ بہت اختلاف دیکھے گا۔ پس تم پر میری اور میرے ہدایت یافتہ خلفاء کی سنت اختیار کرنا لازم ہے، اسے مظبوطی سے تھامے رکھنااور اپنے آپ کو نئی باتوں سے بچانا ، بے شک ہر نئی بات (جو خلافِ شرع ہو) گمراہی ہے۔ ‘‘(فیضان ریاض الصالحین جلد:2 , حدیث نمبر:157)

(4)عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:دَعُوْ نِي مَا تَرَكْتُكُمْ :اِنَّمَا اَهْلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ کَثْرَۃُ سُؤَالِهِمْ، وَاخْتِلَافُهُمْ عَلَى اَنْبِيَائِهِمْ ، فَاِذَا نَهَيْتُكُمْ عَنْ شَيْءٍ فَاجْتَنِبُوْهُ ، وَاِذَا اَمَرْتُكُمْ بِشَیْءٍ فَاْ تُوْا مِنْهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ. ترجمہ حدیث :حضرتِ سَیِّدُناابوہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ حضورنبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا: ’’ تم اس معاملے میں مجھے چھوڑ دو جس میں ، مَیں تمہیں چھوڑ دوں ۔بے شک! تم سے پہلے لوگوں کو کثرتِ سوال اوراپنے نبیوں سے اختلاف نےہلاک کر دیا۔ پس جب میں تمہیں کسی چیز سے منع کروں تو اُس سےبچو اور جب کسی بات کا حکم دوں تو اُسے اپنی طاقت کے مطابق بجا لاؤ۔ ‘‘ (فیضان ریاض الصالحین جلد:2 , حدیث نمبر:156)

اللہ تعالیٰ ہمیں حضور ﷺ کی سنتِ مبارکہ کو سمجھنے، اس پر عمل کرنے اور اسے اپنی زندگیوں میں نافذ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ ہمیں ہر قسم کی بدعات اور ترکِ سنت سے محفوظ رکھے آمین ۔