وقار
حسین(درجہ سادسہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی، لاہور ،پاکستان)
سنت رسول
اللہ ﷺ دین کی بنیاد ہے اسےچھوڑنا اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے تعلق توڑنا ہے۔ صرف قرآن کا دعویٰ کر کے
سنت چھوڑنا گمراہی ہے۔ ذیل میں
چند احادیث بیان کی گئی ہیں جن میں نبی صلی اللہ علیہ وسم کی سنت کو ترک کرنے کی مذمت
بیان کی گئی ہے ۔
(1)جس نے
میری سنت سے منہ موڑا وہ مجھ سے نہیں ہے۔( صحیح البخاری،ج2،کتاب النکاح ،باب الترغیب
فی النکاح،حدیث 5063،صفحہ263)
(2)حضرتِ
سَیِّدُناابو مسلم یا ابو ایاس سلمہ بن عَمرو بن اَکْوع رَضِیَ اللہ تَعَالٰی
عَنْہُ سے روایت ہےکہ ایک شخص نے حضورنبی کریم صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ
وَاٰلِہِ وَسَلَّم کی موجودگی میں الٹے ہاتھ سےکھانا کھایا توآپ صَلَّی اللہُ
تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا: سیدھے ہاتھ سے کھاؤ۔ اس نے
کہا: میں اس کی طاقت نہیں رکھتا۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ
وَسَلَّم نے فرمایا : تو کبھی طاقت نہ رکھے۔ (راوی فرماتے ہیں کہ ) اسے (حضورعَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام کاحکم ماننے سے ) تکبر نے منع کیاتھا۔پھر وہ کبھی اپنا سیدھا
ہاتھ منہ کی طرف نہ اٹھا سکا۔(فیضان ریاض الصالحین،ج2،حدیث159،باب16 سنت اور اسکی
محافظت کا بیان)
(3) حضرت
عائشہ فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی کام کیا پھر اس کی اجازت ہوگئی
مگر ایک گروہ نے اس سے پرہیز کیا یہ خبر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ
نے خطبہ پڑھا اوراللہ کی حمدکی پھر فرمایا کہ ان لوگوں کا کیا حال ہے کہ ان چیزوں
سے بچتے ہیں جو میں کرتا ہوں اللہ کی قسم میں ان سب سےاللہ کو زیادہ جانتا ہوں اور
سب سے زیادہ اللہ سے خوف والا ہوں۔(مشکوة المصابیح، ج 1، کتاب الایمان،باب
الاعتصام بالکتاب والسنة،حدیث 138،ص 28)
(4)حضرت
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:مجھے
اسی حالت پر رہنے دو جس پر میں تمہیں چھوڑے ہوئے ہوں۔ تم سے پہلی امتیں صرف اس لیے
ہلاک و برباد ہوئیں کہ وہ اپنے نبیوں سے بہت زیادہ بے جا سوالات کیا کرتی تھیں اور
پھر ان کی بات نہ مان کر ان سے اختلاف کرتی تھیں۔لہٰذا جب میں تمہیں کسی کام کے
کرنے کا حکم دوں تو اپنی طاقت و استطاعت کے مطابق اسے بجا لاؤ، اور جب میں تمہیں
کسی کام سے روک دوں تو اس سے مکمل طور پر رک جاؤ، بالکل باز آ جاؤ۔ (سنن ابن
ماجہ،ج1،باب اتباع سنۃ رسول،حدیث 2،صفحہ 96)
(5)حضرت
مقدام بن معدی کرب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: خبردار!
مجھے قرآن دیا گیا ہے اور اس کے ساتھ اس جیسی ایک اور چیز بھی دی گئی ہے۔ خبردار!
قریب ہے کہ ایک پیٹ بھرا آدمی اپنے تخت پر ٹیک لگائے ہوئے کہے گا: تم پر لازم ہے
قرآن، پس جو حلال تم اس میں پاؤ اسے حلال سمجھو، اور جو حرام پاؤ اسے حرام سمجھو۔
خبردار! بے شک جو چیز رسول اللہ ﷺ نے حرام کی ہے وہ اسی طرح حرام ہے جیسے اللہ نے
حرام کی ہے۔خبردار! تمہارے لیے پالتو گدھے کا گوشت حلال نہیں، اور نہ ہر کچلی والا
درندہ حلال ہے، اور نہ ذمی کی گری پڑی چیز حلال ہے سوائے اس کے کہ اس کا مالک اس
سے بے نیاز ہو جائے۔ اور جو شخص کسی قوم کے پاس مہمان اترے تو ان پر لازم ہے کہ اس
کی مہمان نوازی کریں، اگر وہ مہمان نوازی نہ کریں تو اسے حق ہے کہ وہ ان سے اتنا
لے لے جتنی اس کی مہمان نوازی بنتی تھی۔(ابو داود،ج2،کتاب السنہ،باب فی لزوم سنتہ،حدیث4604،ص287)
یہ حدیث
منکرین حدیث کو ماننے والے کے بارے میں ہے۔مثال اسکی قرآن میں کتے، بلی، گدھے کا
گوشت حرام نہیں لکھا، لیکن نبی ﷺ نے حرام کیا تو وہ حرام ہو گیا۔ جو صرف قرآن کو
مانے گا وہ ان کو حلال سمجھے گا اور گمراہ ہو گا۔یہ حدیث ترکِ سنت کی سب سے بڑی دلیل
ہے۔ جو سنت چھوڑے گا وہ "تخت والے پیٹ بھرے" لوگوں میں شمار ہو گا۔اللہ
پاک ہمیں اپنے محبوب ﷺ کی سنتوں پر عمل کرنےاور ترک سنت کے وبال سے بچنے کی توفیق
عطا فرمائے۔
Dawateislami