سنتِ نبوی ﷺ دینِ اسلام کا دوسرا بڑا ماخذ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں متعدد مقامات پر رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کو اپنی اطاعت قرار دیا ہے۔ سنت کو چھوڑنا یا اس سے اعراض کرنا ایمان کے لیے خطرہ ہے۔ ذیل میں آیات، صحیح احادیث اور اقوالِ بزرگان کی روشنی میں اس موضوع کو بیان کیا جاتا ہے۔

قرآن مجید نے نبی ﷺ کی اطاعت کو فرض قرار دیا اور مخالفت پر فتنہ و عذاب کی وعید سنائی۔ احادیثِ صحیحہ میں ترکِ سنت کرنے والے سے نبی ﷺ نے لاتعلقی کا اظہار فرمایا۔ سلف صالحین کے نزدیک سنت سے اعراض کرنا ہلاکت، گمراہی اور بدعت کا راستہ ہے۔ اس لیے ہر مسلمان پر لازم ہے کہ سنت کو دلیل کے ساتھ سمجھے، اس پر عمل کرے اور اسے چھوڑنے سے بچے۔ترک سنت کی مذمت پر کثیر آیات مبارکہ مذکور ہیں چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔

وَ مَاۤ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُۗ-وَ مَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْاۚ-وَ اتَّقُوا اللّٰهَؕ-اِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِۘ(۷)

 ترجمۂ کنز الایمان: اور جو کچھ تمہیں رسول عطا فرمائیں وہ لواور جس سے منع فرمائیں باز رہو اور اللہ سے ڈرو بےشک اللہ کا عذاب سخت ہے۔ ( سورۃ الحشر 59: آیت 7)

فَلْیَحْذَرِ الَّذِیْنَ یُخَالِفُوْنَ عَنْ اَمْرِهٖۤ اَنْ تُصِیْبَهُمْ فِتْنَةٌ اَوْ یُصِیْبَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ(۶۳)

ترجمہ کنزالایمان: تو ڈریں وہ جو رسول کے حکم کے خلاف کرتے ہیں کہ انہیں کوئی فتنہ پہنچے یا اُن پر دردناک عذاب پڑے۔ ( سورۃ النور 24: آیت 63)

لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ

ترجمہ کنز الایمان: بےشک تمہیں رسول اللہ کی پیروی بہتر ہے ۔( سورۃ الاحزاب 33: آیت 22)

ترک سنت کی مذمت کے بارے میں بہت سی احادیث کتابوں میں مذکور ہیں لہٰذا چند صحیح احادیث مندرجہ ذیل ہیں :حضور سید عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا:فمن رغب عن سنتي فليس مني پس جس نے میری سنت سے بے رغبتی کی، اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں۔ ( صحیح بخاری، کتاب النکاح، حدیث: 5063، صحیح مسلم، کتاب النکاح، حدیث: 1401)

ایک اور مقام پر حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :من أحدث في أمرنا هذا ما ليس منه فهو رد جس نے ہمارے اس دین میں کوئی نئی بات نکالی جو اس میں سے نہیں ہے تو وہ مردود ہے۔ (صحیح بخاری، کتاب الصلح، حدیث: 2697، صحیح مسلم، کتاب الاقضیہ، حدیث: 1718)

سنت کی اہمیت کو اُجاگر کرتے ہوئے حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا :تم پر میری سنت اور ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کی سنت لازم ہے، اسے مضبوطی سے تھام لو اور دانتوں سے پکڑ لو۔ ( سنن ابی داود، کتاب السنۃ، حدیث: 4607، جامع ترمذی، کتاب العلم، حدیث: 2676، امام ترمذی نے حسن صحیح کہا)

سنت پر عمل کا اجر بیان کرتے ہوئے حضور نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : میری امت کے بگاڑ کے وقت میری سنت کو تھامنے والے کے لیے سو شہیدوں کا اجر ہے۔( المعجم الاوسط للطبرانی، حدیث: 5414)

حضورِ اکرم ﷺ کی اتباع داخلہ جنّت کا سبب عظیم ہے ارشاد ہوا: میری ساری امت جنت میں جائے گی سوائے اس کے جو انکار کرے۔ عرض کیا: انکار کون کرے گا؟ فرمایا: جس نے میری اطاعت کی وہ جنت میں گیا اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے انکار کیا۔ ( صحیح بخاری، کتاب الاعتصام بالکتاب والسنۃ، حدیث: 7280)

اقوالِ بزرگانِ دین :امام مالک رحمۃ اللہ علیہ فقہ مالکیہ کے عظیم پیشوا آپ فرماتے ہیں : سنت نوح علیہ السلام کی کشتی ہے، جو اس پر سوار ہوا نجات پا گیا اور جو اس سے پیچھے رہ گیا وہ غرق ہو گیا۔ ( تاریخ دمشق لابن عساکر، ج14 ص9)

صحابی ابنِ صحابی حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: اتباع کرو، بدعت نہ گھڑو، تمہیں کفایت کر دی گئی ہے ۔( سنن دارمی، مقدمہ، حدیث: 205، سند صحیح)

امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ: من رد حديث رسول الله ﷺ فهو على شفا هلكة جس نے رسول اللہ ﷺ کی حدیث کو رد کیا وہ ہلاکت کے کنارے پر ہے ۔( طبقات الحنابلہ، ابن ابی یعلی، ج1 ص56)

امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ : أجمع المسلمون على أن من استبانت له سنة رسول الله ﷺ لم يكن له أن يدعها لقول أحد مسلمانوں کا اجماع ہے کہ جس پر رسول اللہ ﷺ کی سنت واضح ہو جائے، اس کے لیے جائز نہیں کہ کسی کے قول کی وجہ سے اسے چھوڑ دے ۔( اعلام الموقعین، ابن قیم، ج2 ص361)

تمام آیات و احادیث و اقوال اِس بات كو واضح کرتے ہے کہ بندہ جس طرح احکامِ رب الانام بجا لانے میں کوشاں رہتا ہے بایں اسی طرح سنّت رسولِ اکرم ﷺ پر عمل کی سعی کرتا رہے اور ترہیبات پر نظر رکھتے ہوئے ترک سنت سے بچنے کیلئے ہر گام کوشش کرے ۔

اللہ کریم ہمیں سنّت رسولِ کریم سے محبت اور ترک سنت سے بچنے کی توفیق عمل عطا فرمائے آمین۔