اسلام ایک
مکمل دین ہے جو قرآنِ مجید کے ساتھ ساتھ سنتِ نبوی ﷺ پر قائم ہے۔ سنتِ رسول ﷺ
دراصل قرآنِ کریم کی عملی تفسیر ہے، اور اسی پر عمل کے بغیر دین کی تکمیل ممکن نہیں۔
اسی لیے اہلِ سنت و جماعت کے نزدیک سنت کی پیروی ایمان کی علامت ہے، جبکہ اس کو
چھوڑ دینا دین میں کمزوری اور گمراہی کا سبب بنتا ہے۔ احادیثِ مبارکہ میں متعدد
مقامات پر ترکِ سنت کی سخت مذمت اور سنت پر عمل کی تاکید بیان ہوئی ہے۔
نبی کریم ﷺ
نے اپنی سنت کو مضبوطی سے تھامنے کا حکم دیتے ہوئے فرمایا:"تم پر میری سنت
اور میرے خلفائے راشدین کی سنت لازم ہے، اسے مضبوطی سے پکڑ لو اور دانتوں سے تھام
لو"۔(سنن ابی داؤد، کتاب السنۃ: 4607)
یہ حدیث
واضح کرتی ہے کہ سنتِ نبوی ﷺ کو چھوڑنا نہیں بلکہ اسے پوری قوت کے ساتھ اختیار
کرنا ضروری ہے۔"دانتوں سے پکڑنے" کا مطلب یہ ہے کہ ہر حال میں سنت کو
مضبوطی سے تھاما جائے اور کسی صورت اس سے غفلت نہ برتی جائے۔
ایک اور
حدیث میں نبی کریم ﷺ نے ترکِ سنت کی مذمت کرتے ہوئے فرمایا:جس نے میری سنت سے
اعراض کیا وہ مجھ سے نہیں۔(صحیح بخاری، کتاب النکاح: 5063)
اس حدیث
سے معلوم ہوتا ہے کہ سنت سے جان بوجھ کر دوری اختیار کرنا انتہائی خطرناک عمل ہے،
کیونکہ اس میں رسول اللہ ﷺ نے ایسے شخص کو اپنی امت کے راستے سے خارج ہونے کے معنی
میں بیان فرمایا ہے، یعنی وہ شخص حقیقی پیروی سے محروم ہو جاتا ہے۔
اسی طرح ایک
اور حدیث میں آپ ﷺ نے سنت کی اہمیت بیان کرتے ہوئے فرمایا:"جس نے میری سنت سے
محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی، اور جس نے مجھ سے محبت کی وہ جنت میں میرے ساتھ
ہوگا"۔(جامع ترمذی، کتاب العلم: 2678)
اس حدیث
سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ سنت سے محبت دراصل رسول اللہ ﷺ سے محبت ہے، اور محبت کا
تقاضا یہی ہے کہ انسان سنت کو اپنی زندگی کا حصہ بنائے، نہ کہ اسے ترک کرے۔
یہ حدیث
اس بات کی دلیل ہے کہ جب معاشرے میں دین سے دوری اور غفلت بڑھ جائے تو سنت پر عمل
کرنا اور اسے زندہ کرنا بہت بڑی فضیلت کا کام ہے، اور اس کے برعکس سنت کو چھوڑ دینا
فساد اور بگاڑ کا سبب بنتا ہے۔
Dawateislami