ترکِ سنت
اسلامی تعلیمات میں ایک ناپسندیدہ عمل سمجھا جاتا ہے کیونکہ سنتِ نبوی ﷺ دراصل
قرآنِ کریم کی عملی تفسیر اور مکمل ضابطۂ حیات ہے۔ احادیثِ مبارکہ میں بارہا اس
بات کی تاکید کی گئی ہے کہ حضور اکرم ﷺ کے طریقے کو اپنانا ہی کامیابی اور نجات کا
راستہ ہے، جبکہ اس سے روگردانی گمراہی اور نقصان کا سبب بنتی ہے۔ جو اس بات کی
واضح دلیل ہے کہ سنت کو چھوڑنا محض ایک معمولی کوتاہی نہیں بلکہ ایمان و عمل کی
کمزوری کی علامت ہے۔ لہٰذا ایک مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی زندگی کے ہر
پہلو میں سنتِ نبوی ﷺ کو اختیار کرے اور ترکِ سنت سے بچتے ہوئے اپنی دنیا و آخرت
کو سنوارنے کی کوشش کرے۔
نیز ایک
اور مقام پہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم پر
میری اور میرے خلفاءِ راشدین کی سنت لازم ہے اسے اپنی داڑھوں کے ساتھ مضبوطی سے تھام
لو۔( سنن ابی داود، حدیث: 4607)
نبی کریم ﷺ
نے فرمایا:جس نے میری کسی سنت کو زندہ کیا جو میرے بعد مٹا دی گئی تھی، اس کے لیے
اس پر عمل کرنے والوں کے برابر اجر ہے۔( جامع ترمذی، حدیث: 2677)
نبی کریم ﷺ
نے فرمایا: ہر بدعت گمراہی ہے۔( صحیح مسلم، حدیث: 867)
نبی کریم ﷺ
نے فرمایا:جس نے میری اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی، اور جس نے میری نافرمانی کی
اس نے اللہ کی نافرمانی کی۔( صحیح بخاری، حدیث: 7280)
(1)سنتِ نبوی ﷺ سے وابستگی ہی نجات
کا راستہ ہے:تمام احادیث اس حقیقت کو واضح کرتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ کی سنت کو اپنانا
دراصل دینِ اسلام کی صحیح پیروی ہے۔ جو شخص سنت کو مضبوطی سے تھام لیتا ہے وہ ہدایت،
کامیابی اور اللہ و رسول ﷺ کی رضا حاصل کرتا ہے۔
(2) ترکِ سنت گمراہی اور محرومی کا
سبب ہے:احادیث میں سنت سے روگردانی کی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی ہے، یہاں تک کہ
اسے نبی ﷺ سے تعلق کے کمزور ہونے کی علامت قرار دیا گیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ
سنت کو چھوڑنا انسان کو آہستہ آہستہ گمراہی اور دینی نقصان کی طرف لے جاتا ہے۔
(3) سنت کا احیاء عظیم اجر اور امت
کی اصلاح کا ذریعہ ہے:جو شخص ایسے ماحول میں سنت کو زندہ کرتا ہے جہاں وہ مٹ رہی ہو، اسے بہت بڑا
اجر ملتا ہے۔ اس سے نہ صرف اس کی اپنی آخرت سنورتی ہے بلکہ معاشرے میں دین کی صحیح
روح بھی دوبارہ زندہ ہوتی ہے۔
Dawateislami