اسلامی معاشرے میں سنتِ رسول ﷺ کی اہمیت محض ایک ثانوی فعل کی نہیں، بلکہ یہ دین کی اساس اور روح ہے۔ سنت سے اعراض یا اسے معمولی سمجھ کر ترک کر دینا درحقیقت اطاعتِ الہیٰ سے دوری کا پیش خیمہ ہے۔ مسلکِ حقہ اہل سنت (برکاتِ رضویہ) کے جلیل القدر علماء اور ائمہ نے احادیثِ طیبہ کی روشنی میں اس موضوع پر انتہائی سخت وعیدیں بیان کی ہیں۔

دینِ اسلام کی تکمیل قرآن و سنت کے حسین امتزاج سے ہوتی ہے۔ قرآن کریم نے جہاں "اطیعوا اللہ" کہا، وہیں "اطیعوا الرسول" کو لازم قرار دیا۔ سنتِ رسول ﷺ کی پیروی ہی وہ کسوٹی ہے جس پر ایک مومن کے ایمان کی سچائی کو پرکھا جاتا ہے۔ ترکِ سنت کی مذمت میں امامِ اہل سنت، امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ اور دیگر معتبر علماء نے صحیح احادیث سے استدلال کیا ہے۔

(1) سنت سے اعراض کرنے والا "میری امت سے نہیں:سب سے سخت وعید وہ ہے جہاں حضور ﷺ نے سنت چھوڑنے والے سے اپنا تعلق ختم کرنے کا ذکر فرمایا۔ بخاری و مسلم کی متفق علیہ حدیث ہے:فمن رغب عن سنتی فلیس منیترجمہ: جس نے میری سنت سے منہ پھیرا، اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں۔(صحیح بخاری، کتاب النکاح؛ صحیح مسلم، کتاب النکاح)

(2) بدعتی اور ترکِ سنت پر حوضِ کوثر سے دوری:امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ اپنی تصنیف "فتاویٰ رضویہ" میں نقل فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن کچھ لوگوں کو حوضِ کوثر سے دور ہٹایا جائے گا۔حضور ﷺ فرمائیں گے کہ یہ میرے امتی ہیں، مگر فرشتے عرض کریں گے: "آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد دین میں کیا کیا تبدیلیاں کیں اور آپ کی سنتوں کو کیسے پسِ پشت ڈالا۔" تب حضور ﷺ فرمائیں گے: "سحقاً سحقاً" (دوری ہو، دوری ہو)۔(فتاویٰ رضویہ، جلد 21؛ مشکوۃ المصابیح، باب الحوض والشفاعۃ)

(3) سنت کو ترک کرنا گمراہی کی علامت:حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ (جن کی روایات کو علماءِ احناف و بریلویہ سند مانتے ہیں) فرماتے ہیں:اگر تم اپنے نبی کی سنت کو چھوڑ دو گے تو تم گمراہ ہو جاؤ گے۔(صحیح مسلم، کتاب المساجد، باب صلاۃ الجماعۃ)

اس روایت کی شرح میں اکابرینِ اہل سنت فرماتے ہیں کہ سنتِ راشدہ کو چھوڑنا انسان کو آہستہ آہستہ واجبات اور پھر فرائض کی توہین تک لے جاتا ہے، جو صریح گمراہی ہے۔

علماءِ اہل سنت (بریلوی) کا موقف اور کتابی حوالے:محدثِ اعظم پاکستان علامہ سردار احمد قادری اور مفتیِ اعظم ہند علامہ مصطفیٰ رضا خان کے فتاویٰ کے مطابق، سنتِ مؤکدہ کو بلا عذر ترک کرنے والا فاسق اور گناہگار ہے۔

شفاعت سے محرومی:امام طبرانی نے معجم اوسط میں روایت کیا جسے محدثینِ اہل سنت نے کثرت سے نقل کیا:

جس نے میری سنت کو ترک کیا، اسے میری شفاعت نصیب نہ ہوگی۔(الجامع الصغیر، امام سیوطی؛ ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت)

فتنے کا خوف:قرآن پاک کی آیت "فلیحذر الذین یخالفون عن امرہ..." (سورۃالنور) کے تحت مفسرینِ کرام بشمول علامہ نعیم الدین مراد آبادی (خزائن العرفان) لکھتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے حکم اور سنت کی مخالفت کرنے والوں کو دنیا میں فتنے اور آخرت میں دردناک عذاب سے ڈرنا چاہیے۔

ترکِ سنت محض ایک عمل کو چھوڑنا نہیں ہے، بلکہ یہ قلبی تقویٰ کی کمی کی علامت ہے۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فرماتے ہیں کہ جو شخص چھوٹی سنتوں کی پرواہ نہیں کرتا، وہ جلد ہی بڑی سنتوں سے بھی محروم ہو جاتا ہے۔ ایک سچے عاشقِ رسول کا شیوہ یہ ہے کہ وہ حضور ﷺ کی اداؤں کو اپنی زندگی کا اوڑھنا بچھونا بنائے۔

آج کے دور میں فیشن اور جدیدیت کے نام پر سنتوں کا مذاق اڑانا یا انہیں "قدامت پسندی" کہنا ایمان کے لیے زہرِ قاتل ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگیوں کو "بہارِ شریعت" اور "فتاویٰ رضویہ" جیسی مستند کتابوں کی روشنی میں سنتِ مصطفیٰ ﷺ کے سانچے میں ڈھالیں تاکہ کل قیامت کے دن حضور ﷺ کی مسکراہٹ اور شفاعت ہمارا مقدر بن سکے۔