اسلام میں سنتِ نبوی ﷺ کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ کیونکہ یہ قرآنِ مجید کی عملی تشریح اور تفسیر ہے۔ حضور نبی کریم ﷺ کی حیاتِ طیبہ کا ہر پہلو امت کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ اسی لیے اہلِ سنت و جماعت، خصوصاً علمائے بریلوی، سنت کی پیروی کو ایمان کا لازمی جزو قرار دیتے ہیں اور ترکِ سنت کو دینی زوال کا سبب سمجھتے ہیں۔احادیثِ مبارکہ میں سنت کی اہمیت اور اس کے ترک کی مذمت نہایت واضح انداز میں بیان ہوئی ہے۔ چنانچہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: من رغب عن سنتی فلیس منی ترجمہ: جس نے میری سنت سے اعراض کیا وہ مجھ سے نہیں۔(صحیح بخاری، کتاب النکاح، حدیث: 5063)

اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ سنت سے دانستہ روگردانی کرنا نبی کریم ﷺ سے نسبت میں کمی کا باعث بنتا ہے، جو کہ ایک مومن کے لیے نہایت خطرناک بات ہے۔

اسی طرح ایک اور حدیث میں ہے: علیکم بسنتی وسنة الخلفاء الراشدین المهدیین ترجمہ: تم پر لازم ہے میری سنت اور میرے ہدایت یافتہ خلفاء کی سنت کو مضبوطی سے تھامے رکھنا۔ (سنن ابی داؤد، کتاب السنۃ، حدیث: 4607؛ جامع ترمذی، حدیث: 2676)

اس حدیث میں سنت کو لازم قرار دیا گیا ہے، اور اس کی پیروی کو ہدایت کا ذریعہ بتایا گیا ہے۔

علمائے اہلِ سنت (بریلوی) نے ہمیشہ سنت کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔ امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ سنت کی پابندی ہی درحقیقت محبتِ رسول ﷺ کی علامت ہے، اور جو شخص سنتوں کو حقیر جانے وہ گمراہی کے قریب ہے۔ (فتاویٰ رضویہ، جلد 1، صفحہ 208)

اس قول سے واضح ہوتا ہے کہ سنت پر عمل محض ایک ظاہری عمل نہیں بلکہ یہ دل کی کیفیت اور عشقِ رسول ﷺ کا مظہر ہے۔

اسی طرح صدرالشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ اپنی معروف کتاب "بہارِ شریعت"میں لکھتے ہیں کہ سنتوں کا ترک کرنا اگرچہ بعض اوقات گناہِ صغیرہ ہوتا ہے، مگر اس پر اصرار انسان کو محرومی کی طرف لے جاتا ہے۔(بہارِ شریعت، حصہ 16)

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلسل سنتوں کو چھوڑنا روحانی نقصان کا باعث بنتا ہے۔

احوالِ سلف پر نظر ڈالیں تو صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سنتِ نبوی ﷺ کے سب سے بڑے عاشق اور پیروکار تھے۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا یہ حال تھا کہ وہ حضور ﷺ کے ہر عمل کی پیروی کرتے، حتیٰ کہ جن راستوں سے نبی کریم ﷺ گزرتے، وہ بھی انہی راستوں کو اختیار کرتے تھے ۔(صحیح مسلم، کتاب الحج، حدیث: 2669)

یہ طرزِ عمل اس بات کی واضح دلیل ہے کہ سنت کی پیروی محض عبادات تک محدود نہیں بلکہ زندگی کے ہر پہلو کو شامل ہے۔

تابعین اور ائمہ مجتہدین نے بھی سنت کی حفاظت اور اس کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا۔ امام اہلِ سنت کے نزدیک بدعات کا فروغ دراصل ترکِ سنت کا نتیجہ ہے۔ جب لوگ سنتوں کو چھوڑ دیتے ہیں تو اپنی طرف سے نئے طریقے ایجاد کر لیتے ہیں، جو دین میں اضافہ اور بگاڑ کا سبب بنتے ہیں۔

ترکِ سنت کے اسباب میں سرفہرست جہالت، دنیاوی مشاغل، اور معاشرتی دباؤ شامل ہیں۔ آج کے دور میں بعض لوگ سنتوں کو پرانا یا غیر ضروری سمجھ کر ترک کر دیتے ہیں، حالانکہ یہی سنتیں ہمارے لیے دنیا و آخرت کی کامیابی کا ذریعہ ہیں۔ترکِ سنت ایک ایسا عمل ہے جو انسان کو آہستہ آہستہ دین سے دور کر دیتا ہے۔ احادیثِ مبارکہ اور علمائے اہلِ سنت کے اقوال اس بات پر متفق ہیں کہ سنت کی پیروی ہی اصل کامیابی ہے۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگی کو سنتِ نبوی ﷺ کے مطابق ڈھالیں، اس پر فخر کریں، اور اسے عام کرنے کی کوشش کریں۔

اللہ تعالیٰ ہمیں سنتِ رسول ﷺ پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ترکِ سنت سے محفوظ رکھے۔ آمین۔