رب تعالی
کی طرف سے نازل کردہ احکام کو شریعت میں فرائض کا درجہ حاصل ہے جبکہ جن چیزوں کا
حکم نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے دیا شریعت میں ان چیزوں کو سنت کا درجہ
حاصل ہے سنت سے اعراض کرنے کے متعلق کئی احادیث میں وعیدات وارد ہیں جن میں سے چند
درج ذیل ہے۔
سنت سے رو گردانی کرنے کی وعید: سعید بن
ابومریم، محمد بن جعفر، حمید بن ابوحمید طویل، انس بن مالک (رضی اللہ عنہ) روایت
کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گھر میں تین آدمی آپ کی عبادت
کا حال پوچھنے آئے، جب ان سے بیان کیا گیا تو انہوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم) کی عبادت کو بہت کم خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہم آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)
کی برابری کس طرح کرسکتے ہیں، آپ کے تو اگلے پچھلے گناہ سب معاف ہوگئے ہیں، ایک نے
کہا میں رات بھر نماز پڑھا کروں گا، دوسرے نے کہا میں ہمیشہ روزہ رکھوں گا، تیسرے
نے کہا میں نکاح نہیں کروں گا اور عورت سے ہمیشہ الگ رہوں گا، اس کے بعد رسول اللہ
(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے پاس تشریف لائے اور فرمایا کیا تم لوگوں نے یوں یوں
کہا ہے ؟ اللہ کی قسم ! میں اللہ تعالیٰ سے تمہاری بہ نسبت بہت زیادہ ڈرنے والا
اور خوف کھانے والا ہوں، پھر روزہ رکھتا ہوں اور افطار بھی کرتا ہوں، نماز پڑھتا
ہوں اور سوتا بھی ہوں اور ساتھ ساتھ عورتوں سے نکاح بھی کرتا ہوں، یاد رکھو جو میری
سنت سے روگردانی کرے گا، وہ میرے طریقے پر نہیں۔(صحیح بخاری، جلد 7، کتاب النکاح ،
باب الترغیب فی النکاح ، حدیث نمبر 5063)
سنت کو مضبوطی سے تھامنا :حضرت عرباض بن ساریہ رضی
اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: ایک دن رسول اللہ ﷺ نے ہمیں صبح کی نماز کے
بعد بہت جامع اور اثر انگیز نصیحت فرمائی جس سے آنکھیں اشکبار ہو گئیں اور دل لرز
اٹھے۔ ایک شخص نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ یہ تو کسی رخصت ہونے والے کی نصیحت
ہے، تو آپ ﷺ ہمیں کیا وصیت فرماتے ہیں؟آپ ﷺ نے فرمایا: میں تمہیں اللہ سے ڈرنے
(تقویٰ) اور (اپنے امیر کی) بات سننے اور ماننے کی وصیت کرتا ہوں، خواہ وہ کوئی
حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو۔ تم میں سے جو میرے بعد زندہ رہے گا وہ بہت سے اختلافات دیکھے
گا، (ایسے میں) تم نئی باتوں (بدعات) سے بچنا کیونکہ وہ گمراہی ہیں۔ پس تم میں سے
جو اس زمانے کو پائے، اسے چاہیے کہ وہ میری سنت اور میرے ہدایت یافتہ خلفائے راشدین
کے طریقے کو لازم پکڑ لے، اور اسے داڑھوں کے ساتھ (مضبوطی سے) تھام لے۔(ترمذی ،
جلد 4، ابواب العلم عن رسول اللہ ﷺ ،باب: الاخذ بالسنۃ واجتناب البدع، حدیث نمبر
2676)
سنت پر عمل کرنے کا حکم :حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ
تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا مجھے ان چیزوں
کے بارے میں (سوال کرنے سے) چھوڑ دو جن کے بارے میں میں نے تمہیں چھوڑ دیا ہے (یعنی
جن کا ذکر نہیں کیا)۔ تم سے پہلے لوگ اپنے (انبیاء سے) زیادہ سوالات کرنے اور پھر
ان پر اختلاف کرنے کی وجہ سے ہی ہلاک ہوئے تھے۔ پس جب میں تمہیں کسی چیز سے منع
کروں تو اس سے بچو، اور جب میں تمہیں کسی چیز کا حکم دوں تو اپنی استطاعت کے مطابق
اس پر عمل کرو۔(صحیح البخاری 7288)
رب تعالی
میری اس سعی کو اپنی پاک بارگاہ میں قبول فرمائے آمین۔
Dawateislami