سنت چھوڑنے والا حضور ﷺ کے طریقے پر نہیں :فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِیْ فَلَیْسَ مِنِّیجس نے میری سنت سے منہ موڑاوہ مجھ سے نہیں ۔

شرحِ حدیث :مذکور حدیث میں ہے کہ جس نے میری سنت سے منہ موڑا ، وہ مجھ سے نہیں ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جس نے میرے طریقے کو چھوڑکر میرے غیرکے طریقے کو اختیار کیا تو وہ مجھ سے نہیں ۔ اس ارشاد میں آپ نے رہبانیت کے رد کی طرف اشارہ فرمایا ہے ، کیونکہ عیسائی راہبوں نے اپنی طرف سے دین میں شدت ایجاد کی، جیسا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے قرآنِ مجید میں ان کی مذمت بیان کی کہ جس چیز کو انہوں نے اپنے اوپر لازم کیا تھا اُسے پورا نہ کر سکےاورحضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا طریقہ معتدل ہونے کے ساتھ نرمی وآسانی والابھی ہے۔آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم (نفلی ) روزے مسلسل نہ رکھتے، بلکہ کبھی رکھتے کبھی چھوڑ دیتے تاکہ آئندہ روزے رکھنے پر طاقت حاصل ہو۔ رات کو کچھ دیر آرام بھی فرماتے تاکہ رات کے قیام پر قوت حاصل ہو اورآپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے کئی حکمتوں کے پیشِ نظر نکاح بھی فرمایا۔آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے فرمان”وہ مجھ سے نہیں ہے۔“ کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی نے کسی تاویل سے میرے طریقے کو چھوڑا تو وہ میرے طریقۂ محمودہ پرنہیں ہے اور اگر اس بناپرچھوڑاکہ وہ اپنےعمل کوزیادہ راجح سمجھتاہےتو وہ میری ملت پر نہیں ہے کیونکہ اُس کا یہ اِعتقاد کفر ہے۔ ‘‘ ( فیضان ریاض الصالحین جلد 2 حدیث نمبر 143)

امام نووی رحمۃ اللہ علیہ سنت چھوڑنے والے کے بارے میں میں حدیث بیان کی :

من اخذ بسنتي فهو منى ومن رغب عن سنتي جس نے میری سنت کو تھاما وہ مجھ سے ہے اور جس نے ترک کیا تو وہ مجھ سے نہیں۔(التيسير بشرح الجامع الصغير صفحہ 391)

سنت کو چھوڑنے والا شفاعت سے محروم:مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہے کہ سنت مؤکدہ کا ترک قریب حرام کے ہے۔ اس کا تارک مستحق ہے کہ    معاذ اﷲ! شفاعت سے محروم ہو جائے کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جو میری سنت کو ترک کرے گا، اسے میری شفاعت نہ ملے گی۔(بہار شریعت جلد 1حصہ 4 صفحہ نمبر 667 )

الله کریم سے دعا ہے کہ ہمیں سنت کا پابند بنائے آمین۔