محمد
منیب الرحمن عطاری(درجہ سابعہ جامعۃ المدینۃ اپر مال روڈ ،لاہور،پاکستان)
سنت کا
لغوی معنی :طریقہ کار،
طرز عمل یا عادت ہے ۔
حضور علیہ
الصلوۃ والسلام کی ذات مبارکہ ہمارے لیے عملی نمونہ ہے جیسا کہ قرآن مجید کا
ارشاد ہے :
لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰهِ
اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ
ترجمہ کنز
الایمان: بےشک تمہیں
رسول اللہ کی پیروی بہتر ہے ۔(پارہ :21 سورۃاحزاب آیت:21)
اگر ہم
حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے نقش قدم پر چلے تو نہ صرف ہم اپنے کردار کو مزین کر
سکتے ہیں بلکہ اپنے کردار کے ساتھ ساتھ اپنے اخلاق اور سب سے بڑھ کر ہم اپنی آخرت
کو سنوار سکتے ہیں یہ چیزیں تبھی ممکن ہیں جب ہم سنتوں کو اپنانا شروع کر دیں۔اگر
ہم اپنے اسلاف کا مطالعہ کریں تو ہمیں یہ جاننے کو ملے گا کہ ہمارے اکابرین عظام
سنت پر عمل کرنے کے کتنے پابند تھے اس حوالے سے چند احادیث پیش خدمت ہیں :
غور کیجیے
یہ ہمارے اسلاف تھے جنہوں نے نہ سفر میں اور نہ حضر میں سنتوں کو چھوڑا بلکہ ان
سنتوں کو اپنے اوپر فرضوں کی طرح لازم کر لیا اور کیوں نہ ہو کہ حضور علیہ الصلوۃ
والسلام کا فرمان ہے:
عليكم بسنتي تم پر میری سنت لازم ہے۔ (جامع ترمذی ،حدیث:2676 )
سنتوں کو زندہ کرنے والے سے حضور ﷺ
خوش: رسول اللہ ﷺ اپنے ہر اس امتی سے خوش ہیں جو آپ کی سنت کو زندہ کرے :وَمَنْ أَحْيَا سُنَّتِي فَقَدْ أَحَبَّنِي، وَمَنْ أَحَبَّنِي
كَانَ مَعِي فِي الْجَنَّةِترجمہ: جس نے میری سنت کو زندہ کیا
اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے مجھ سے محبت کی وہ میرے ساتھ جنت میں رہے گا۔(جامع
ترمذی ،کتاب :علم و فہم دین ،باب سنت کی پابندی کرنے اور بدعت سے بچنے کا بیان
،حدیث :2678)
لیکن اس
کے ساتھ ساتھ اس بات کو بھی مدنظر رکھیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِي فَلَيْسَ مِنِّيترجمہ: میرے طریقے سے جس
نے بے رغبتی کی وہ مجھ سے نہیں ۔(بخاری ،کتاب النکاح ،باب الترغیب فی النکاح،حدیث
:5063)
اسی کے
ساتھ ساتھ ایک اور حدیث بھی پیش خدمت ہے جو اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جس نے
سنتوں کو چھوڑا اسکو میری شفاعت نصیب نہ ہوگی :
ترک سنت پہ شفاعت نصیب نہ ہو گی:حضوراقدس
صلی ا للہ تعالی ٰعليہ وسلم نے فرمایا: جو میری سنت کو ترک کریگا، اسے میری شفاعت
نہ ملے گی۔(رد المحتار، جلد ،1صفحہ ،232مطبوعہ کوئٹہ)
ہمارے
اوپر یہ لازم ہے کہ ہم ہروقت سنتوں کو تھامے رکھے کیونکہ نبی کریم ﷺ نے ہماری ہر
موڑ پر رہنمائی فرمائی ہیں چاہے وہ کھانے کا وقت ہو چاہے وہ غسل کا وقت ہو یا کسی
سے ملنے کا ہو الغرض ہر سفر و ہر دہائی میں سنتیں ہمارا ساتھ دیتی ہیں ۔
اللہ رب
العالمین سے دعا ہے کہ ہمیں حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی سنتوں پر عمل کرنے کی توفیق
عطا فرمائے۔
آمین۔
Dawateislami