سنت کا لغوی معنی ‏:طریقہ کار، طرز عمل یا عادت ہے ۔

حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی ذات مبارکہ ہمارے لیے عملی نمونہ ہے جیسا کہ قرآن مجید کا ارشاد ہے : ‏

لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ

ترجمہ کنز الایمان: بےشک تمہیں رسول اللہ کی پیروی بہتر ہے ۔(پارہ :21 سورۃاحزاب آیت:21)‏

اگر ہم حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے نقش قدم پر چلے تو نہ صرف ہم اپنے کردار کو مزین کر سکتے ہیں بلکہ اپنے کردار کے ساتھ ‏ساتھ اپنے اخلاق اور سب سے بڑھ کر ہم اپنی آخرت کو سنوار سکتے ہیں یہ چیزیں تبھی ممکن ہیں جب ہم سنتوں کو اپنانا شروع کر ‏دیں۔اگر ہم اپنے اسلاف کا مطالعہ کریں تو ہمیں یہ جاننے کو ملے گا کہ ہمارے اکابرین عظام سنت پر عمل کرنے کے کتنے پابند تھے اس ‏حوالے سے چند احادیث پیش خدمت ہیں :‏

غور کیجیے یہ ہمارے اسلاف تھے جنہوں نے نہ سفر میں اور نہ حضر میں سنتوں کو چھوڑا بلکہ ان سنتوں کو اپنے اوپر فرضوں کی ‏طرح لازم کر لیا اور کیوں نہ ہو کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کا فرمان ہے:

‏ عليكم بسنتي تم پر میری سنت لازم ہے۔ (جامع ترمذی ،حدیث:2676 )‏

سنتوں کو زندہ کرنے والے سے حضور ﷺ خوش:‏ رسول اللہ ﷺ اپنے ہر اس امتی سے خوش ہیں جو آپ کی سنت کو زندہ کرے :‏‏‏‏‏‏‏وَمَنْ أَحْيَا سُنَّتِي فَقَدْ أَحَبَّنِي، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ أَحَبَّنِي كَانَ مَعِي فِي الْجَنَّةِترجمہ: جس نے میری سنت کو زندہ کیا اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے مجھ سے محبت کی وہ میرے ساتھ جنت میں رہے گا۔(جامع ترمذی ،کتاب :علم و فہم دین ،باب سنت کی پابندی کرنے اور بدعت سے بچنے کا ‏بیان ،حدیث :2678)‏

لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس بات کو بھی مدنظر رکھیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :‏فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِي فَلَيْسَ مِنِّيترجمہ: میرے طریقے سے جس نے بے رغبتی کی وہ مجھ سے نہیں ۔(بخاری ،کتاب النکاح ،باب الترغیب فی النکاح،حدیث :5063)‏

اسی کے ساتھ ساتھ ایک اور حدیث بھی پیش خدمت ہے جو اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جس نے سنتوں کو چھوڑا اسکو میری شفاعت نصیب نہ ہوگی :‏

ترک سنت پہ شفاعت نصیب نہ ہو گی:‏حضوراقدس صلی ا للہ تعالی ٰعليہ وسلم نے فرمایا: جو میری سنت کو ترک ‏کریگا، اسے میری شفاعت نہ ملے گی۔(رد المحتار، جلد ،1صفحہ ،232مطبوعہ کوئٹہ)‏

ہمارے اوپر یہ لازم ہے کہ ہم ہروقت سنتوں کو تھامے رکھے کیونکہ نبی کریم ﷺ نے ہماری ہر موڑ پر رہنمائی فرمائی ہیں چاہے وہ کھانے کا وقت ہو چاہے وہ غسل کا وقت ہو یا کسی سے ملنے کا ہو الغرض ہر ‏سفر و ہر دہائی میں سنتیں ہمارا ساتھ دیتی ہیں ‏۔

اللہ رب العالمین سے دعا ہے کہ ہمیں حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی سنتوں پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

آمین۔