ضیاءالمصطفیٰ
عطاری قادری (درجہ سادسہ جامعۃ المدينہ فيضان عثمان غنى، کراچی،پاکستان)
فساد فی
الارض سے مراد زمین میں ہر وہ بگاڑ ہے جو انسانی زندگی کے توازن، امن اور عدل کو
متاثر کرے لغوی طور پر فساد” صلاح “کی ضد ہے، یعنی کسی چیز کا اپنی اصل حالت سے ہٹ
جانا۔اصطلاحی طور پر فساد فی الارض سے مراد وہ تمام اعمال ہیں جو ظلم، ناانصافی،
قتل و غارت، بددیانتی اور اخلاقی زوال کا سبب بنیں۔
(1) وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی
الْاَرْضِۙ-قَالُوْۤا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ(۱۱)
ترجمہ کنز الایمان: اورجو ان سے کہا جائے زمین میں فساد نہ کرو تو کہتے ہیں
ہم تو سنوارنے والے ہیں ۔ ( سورۃ البقرۃ: 11)
(2) وَ اِذَا تَوَلّٰى سَعٰى فِی الْاَرْضِ
لِیُفْسِدَ فِیْهَا وَ یُهْلِكَ الْحَرْثَ وَ النَّسْلَؕ-وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ
الْفَسَادَ(۲۰۵)
ترجمۂ کنزالایمان: اور جب پیٹھ پھیرے تو زمین میں فساد
ڈالتا پھرے اور کھیتی اور جانیں تباہ کرے اور اللہ فسادسے راضی نہیں۔ (سورۃ
البقرۃ: 205)
(3) وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ
اِصْلَاحِهَا
ترجمہ کنز الایمان: اور زمین میں فساد نہ پھیلاؤ اس کے سنورنے کے بعد ۔(سورۃ
الاعراف: 56)
(4) ظَهَرَ الْفَسَادُ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ
بِمَا كَسَبَتْ اَیْدِی النَّاسِ
ترجمۂ کنزالایمان: چمکی خرابی خشکی اور تری میں ان
برائیوں سے جو لوگوں کے ہاتھوں نے کمائیں ۔(سورۃ الروم: 41)
(5) وَ لَا تَبْغِ الْفَسَادَ فِی الْاَرْضِؕ-اِنَّ
اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْمُفْسِدِیْنَ(۷۷)
ترجمۂ
کنزالایمان: اور زمین میں فساد نہ چاہ بے شک الله فسادیوں کو
دوست نہیں رکھتا۔ ( سورۃ القصص: 77)
(6) وَ لَوْ لَا دَفْعُ اللّٰهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍۙ-لَّفَسَدَتِ
الْاَرْضُ
ترجمہ کنز الایمان: اور اگر اللہ لوگوں میں بعض سے بعض
کو دفع نہ کرے تو ضرور زمین تباہ ہوجائے۔ ( سورۃ البقرۃ: 251)
زمین سے فساد کو ختم کرنے کے چند طریقے
ملاحظہ کیجیے :
رجوع الی
اللہ: توبہ، استغفار اور اللہ کا خوف فساد کی جڑ کاٹ دیتا ہے۔
عدل و
انصاف: جہاں انصاف ہوگا، وہاں فساد خود ختم ہو جائے گا۔
اصلاحِ
نفس: اپنی ذات کی اصلاح، معاشرے کی اصلاح کی بنیاد ہے۔
تعلیم و
تربیت: اخلاقی تعلیم اور کردار سازی فساد کو روکتی ہے۔
امر
بالمعروف: نیکی کو عام کرنا اور برائی سے روکنا ضروری ہے۔
قانون کا
نفاذ: مضبوط اور یکساں قانون فساد کا سدباب کرتا ہے۔
اتحاد و
رواداری: تفرقہ ختم کرکے بھائی چارہ قائم کرنا لازم ہے۔
ظلم سے
اجتناب: ظلم ہر فساد کی جڑ ہے، اس سے بچنا ضروری ہے۔
امانت و دیانت:
خیانت اور دھوکہ فساد کو بڑھاتے ہیں، دیانت اسے ختم کرتی ہے۔
خواہشات
پر قابو: نفس کی پیروی فساد کو جنم دیتی ہے، تقویٰ اسے روکتا ہے۔
اللہ
تبارک وتعالیٰ ہمیں فساد فی الارض سے محفوظ فرمائے آمین یاربّ العٰلمین۔
Dawateislami