اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو انسان کو امن، عدل اور بھلائی کی راہ دکھاتا ہے۔ قرآنِ مجید میں فساد فی الارض یعنی زمین میں بگاڑ پیدا کرنے کی سخت مذمت کی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو زمین پر اپنا نائب بنایا تاکہ وہ اصلاح کرے، نہ کہ فساد پھیلائے۔

(1) قرآن کی تعلیم:قرآنِ مجید میں ارشاد ہوتا ہے۔ترجمہ کنز الایمان: اورجو ان سے کہا جائے زمین میں فساد نہ کرو تو کہتے ہیں ہم تو سنوارنے والے ہیں ۔سنتا ہے وہی فسادی ہیں مگر انہیں شعور نہیں۔ (سورۃ البقرۃ: 11،12)

یہ آیت واضح کرتی ہے کہ انسان اکثر اپنے غلط کام کو بھی درست سمجھتا ہے، حالانکہ وہ معاشرے کو نقصان پہنچا رہا ہوتا ہے۔

(2)فساد کی مختلف صورتیں:فساد صرف لڑائی جھگڑے تک محدود نہیں بلکہ جھوٹ، دھوکہ، رشوت، ناانصافی اور دوسروں کے حقوق غصب کرنا بھی فساد ہے۔ آج کے دور میں سوشل میڈیا پر جھوٹی خبریں پھیلانا اور لوگوں کی عزت کو نقصان پہنچانا بھی اسی زمرے میں آتا ہے۔

(3)حدیث کی روشنی میں:نبی کریم ﷺ نے فرمایا:مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔(صحیح بخاری: 10، صحیح مسلم: 40)

یہ حدیث ہمیں سکھاتی ہے کہ کسی کو نقصان پہنچانا بھی فساد ہے، چاہے وہ زبان سے ہو یا عمل سے۔

(4) ظلم اور ناانصافی:قرآن میں بار بار ظلم سے منع کیا گیا ہے کیونکہ ظلم بھی فساد کی بڑی شکل ہے۔ جب طاقتور کمزور کا حق چھین لے، یا سچ کو دبایا جائے تو معاشرہ تباہی کی طرف بڑھتا ہے۔

(5) ایک اور حدیث :نبی ﷺ نے فرمایا:ظلم سے بچو، کیونکہ ظلم قیامت کے دن اندھیروں کا سبب ہوگا۔

(صحیح مسلم: 2578)

یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ دنیا میں کیا گیا فساد آخرت میں سخت نقصان کا باعث بنے گا۔

(6) اصلاح کی ذمہ داری:اسلام ہمیں صرف فساد سے روکتا ہی نہیں بلکہ اصلاح کا حکم بھی دیتا ہے۔ نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے۔ اگر ہر فرد اپنے دائرے میں رہ کر بہتری کی کوشش کرے تو معاشرہ امن کا گہوارہ بن سکتا ہے۔

آخر میں ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ فساد فی الارض نہ صرف دنیا کو تباہ کرتا ہے بلکہ آخرت میں بھی سخت سزا کا سبب بنتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو پسند کرتا ہے جو زمین میں اصلاح کرتے ہیں اور دوسروں کے لیے آسانی پیدا کرتے ہیں۔لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم قرآن و حدیث کی تعلیمات پر عمل کریں اور اپنے معاشرے کو امن، محبت اور انصاف کا گہوارہ بنائیں۔