نعمت
اللہ (درجہ سابعہ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان مدینہ ، کراچی،پاکستان)
فساد یاا فساد
فی الارض قرآن کریم کی ایک جامع تعبیر ہے ، یہ لفظ قرآن میں جا بجامتعدد اسالیب
،متنوع پیرائے نیز مختلف سیاق وسباق میں استعمال ہواہے، اسکی تفسیر مىں اہل علم نے
سیاق وسباق کے اعتبار سے الگ الگ معانی ومفاہیم بیان کئے ہیں ،غرض یہ کہ فساد فی
الارض ایک نہایت ہی جامع ووسیع لفظ ہے جس میں ہر طرح کی ضلالت وگمراہی، شرک
وکفر،خرافات و اوہام،قتل وغارت گری ،فتنہ پروری وشر انگیزی اور حقوق اللہ وحقوق
العباد کی پامالی شامل ہے. اس مختصر مضمون میں اسی فساد فی الارض کے معانی ومفاہیم،اور
انواع واقسام پر روشنی ڈالی گئی ہے اور یہ بتایاگیا ہے کہ فتنہ وفساد کے ان نوع
بنوع مظاہر پر کنڑول کرنے کے لئےقرآن نے ہمیں کیا نسخہ عطاکیا ہے۔
فساد فی الارض قرآن کی ایک وسیع تعبیر ہے،جو شریعت اسلامیہ کی
خلاف ورزی کے تمام انواع واقسام کو محیط ہےخواہ انکا تعلق عقائد واحکام سے ہو، یا
ایمانیات وشرائع سے، نیت و اعمال سے ہو یا عبادات ومعاملات سےہو۔
وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی
الْاَرْضِۙ-قَالُوْۤا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ(۱۱) اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَ
لٰكِنْ لَّا یَشْعُرُوْنَ(۱۲) ترجمہ کنز
الایمان: اورجو ان سے کہا جائے زمین میں فساد نہ کرو تو کہتے
ہیں ہم تو سنوارنے والے ہیں ۔سنتا ہے وہی فسادی ہیں مگر انہیں شعور نہیں۔(البقرۃ:11،12)
صراط الجنان:لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ:زمین میں
فساد نہ پھیلاؤ۔ اس آیت اور اس کے بعد والی آیت میں ارشاد فرمایا کہ جب ایمان
والوں کی طرف سے ان منافقوں کو کہا جائے کہ باطن میں کفر رکھ کر اور صحیح ایمان
لانے میں پس و پیش کر کے زمین میں فساد نہ کرو تو وہ کہتے ہیں کہ تم ہمیں ا س طرح
نہ کہو کیونکہ ہمارا مقصد تو صرف اصلاح کرناہے ۔ اے ایمان والو! تم جان لو کہ اپنی
اُسی روش پر قائم رہنے کی وجہ سے یہی لوگ فساد پھیلانے والے ہیں مگر انہیں اس بات
کاشعور نہیں کیونکہ ان میں وہ حس باقی نہیں رہی جس سے یہ اپنی اس خرابی کوپہچان سکیں۔
منافقوں کے طرزِ عمل سے یہ بھی واضح ہوا کہ عام
فسادیوں سے بڑے فسادی وہ ہیں جو فساد پھیلائیں اور اسے اصلاح کا نام دیں۔ ہمارے
معاشرے میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو اصلاح کے نام پر فساد پھیلاتے ہیں اور بدترین
کاموں کو اچھے ناموں سے تعبیر کرتے ہیں۔ آزادی کے نام پر بے حیائی، فن کے نام پر
حرام افعال، انسانیت کے نام پر اسلام کو مٹانا اورتہذیب و تَمَدُّن کا نام لے کر
اسلام پر اعتراض کرنا، توحید کا نام لے کر شانِ رسالت کا انکار کرنا، قرآن کا نام
لے کر حدیث کا انکار کرنا وغیرہ سب فساد کی صورتیں ہیں۔
فَهَلْ عَسَیْتُمْ اِنْ تَوَلَّیْتُمْ اَنْ
تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ وَ تُقَطِّعُوْۤا اَرْحَامَكُمْ(۲۲)
ترجمۂ کنزالایمان: تو کیا تمہارے یہ لچھن نظر آتے ہیں
کہ اگر تمہیں حکومت ملے تو زمین میں فساد پھیلاؤ اور اپنے رشتے کاٹ دو۔
(سورۃمحمد:22)
صراط
الجنان:فَهَلْ عَسَیْتُمْ: تو کیا تم اس بات کے قریب ہو۔ جب
منافقوں کو یہ حکم دیا گیا کہ وہ مشرکین کے خلاف جہاد کریں تو انہوں نے جہاد میں
شرکت نہ کرنے سے متعلق یہ عذر پیش کیا کہ ہم مشرکوں کے خلاف جہاد کیسے کریں کیونکہ
اس میں ایک خرابی یہ ہے کہ انسانوں کو قتل کرنا زمین میں فساد پھیلانا ہے اور دوسری
خرابی یہ ہے کہ عرب والے ہمارے رشتہ دار ہیں اور ہمارے قبیلوں سے تعلق رکھتے ہیں
تو ان سے جنگ کرکے انہیں قتل کرنارشتے داری کو توڑ دینا ہے اور یہ کوئی اچھا کام
نہیں ہے۔ ان کے رد میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : اے منافقو! تم سے یہ بعید نہیں
کہ اگر تمہیں حکومت مل جائے تو تم اپنی مرضی کے خلاف کام کرنے والے کو قتل کر کے
زمین میں فساد پھیلاؤ اور رشتے داری توڑ دو۔کیادورِ جاہلیت میں تم آپس میں لڑائی
نہیں کرتے تھے ؟اورکیا ا س دوران ایک دوسرے کو قتل نہیں کرتے تھے؟ اور تم اپنی بیٹیو
ں کو زندہ دفن نہیں کرتے تھے؟ کیا تمہاری یہ لڑائیاں ، قتل اور بیٹیوں کو زندہ دفن
کر دینے جیسا گھناؤنا فعل زمین میں فساد پھیلانا اور رشتے داری توڑ دینا نہیں
تھا؟ تو اب تم کس منہ سے یہ کہتے ہو کہ جہاد کرنا زمین میں فساد پھیلانے اور رشتہ
داری توڑ دینے جیسی خرابیوں کا حامِل ہے اوران سب شواہد کے ہوتے ہوئے تمہارا جہاد
میں شریک نہ ہونے کے لئے یہ عذر پیش کرناکسی طرح بھی درست نہیں ہے۔
اسلامی
جہاد رحمت ہے یا فساد؟اس سے معلوم ہوا کہ منافقین اسلامی جہاد کو زمین میں فساد
اور خرابیوں کاسبب سمجھتے تھے اس لئے جہاد سے منہ موڑتے تھے اور اللہ تعالیٰ نے
منافقوں کا جو رد فرمایا اس سے معلوم ہواکہ منافقوں کااسلامی جہاد کے بارے میں یہ
نظریہ غلط و باطل تھا اوراس سے ان کا مقصد صرف جہاد میں جانے سے بچنا اور دوسروں
کو جہاد میں شرکت سے روکنا تھا۔فی زمانہ بھی اسلام کے دشمن اسلامی جہاد پر اسی طرح
کے اعتراض کرتے ہیں اور ان اعتراضات کے ذریعے لوگوں کے دلوں سے اسلام کی محبت اور
اس سے قلبی تعلق ختم کر کے اس کے خلاف نفرت ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں اور مختلف
واقعات کو بنیاد بنا کر لوگوں کے سامنے دینِ اسلام کو ایک ایسے دین کے طور پر پیش
کرتے ہیں جس میں انسانیت پر بے انتہا ظلم و ستم کی تعلیم دی گئی ہے،اسی طرح اسلام
دشمنوں کے افکار و نظریات اور ان کی تعلیمات سے مرعوب کچھ نام نہاد مسلمان بھی
اسلامی جہادسے متعلق ایسا کلام کرتے ہیں جو اس کی حقیقت اوراس کے اصل مقاصد کے
بالکل بر خلاف ہوتا ہے، حالانکہ ان میں بہت سے لوگ اچھی طرح جانتے ہیں کہ حقیقت اس
سے کہیں مختلف ہے حتّٰی کہ تاریخ سے ادنیٰ سی واقِفِیَّت رکھنے والا شخص بھی اچھی
طرح جانتا ہے کہ دینِ اسلام کا سورج طلوع ہونے سے پہلے انسانوں کا حال کیا تھا اور
وہ ظلم و ستم کی کس چَکِّی میں پِس رہے تھے اور لوگ کس طرح غلامی کی زنجیروں میں قید
اور اپنے آقاؤں کے ظلم و ستم کا شکار تھے ،بچے، جوان،بوڑھے،مرداور عورت الغرض ہر
سطح کے انسان جس ظلم و زیادتی اور بے رحمی کا شکار تھے وہ تاریخ کے واقِف کار سے
ڈَھکی چُھپی نہیں اور ا س کے مقابلے میں دینِ اسلام کے تاریخی کارناموں پر نظر
دوڑائی جائے تو صاف نظر آئے گا کہ دینِ اسلام نے ہی انسانیت کو ظلم و ستم کے گہرے
اندھیرے سے نکالا،دینِ اسلام نے ہی انسانوں کو سر اُٹھا کر جینا سکھایا،دینِ اسلام
نے ہی انسانوں میں انسانیت کی قدر اور عظمت پیدا کی ،دینِ اسلام نے ہی زمین میں
فساد کوختم کر کے پُر سکون معاشرہ اور امن کی فضا قائم کی ،انسانوں کو ان کے حقوق
دلائے اور ان کے حقوق پر دست اندازی کرنے والوں کو شکنجے میں جکڑا اور بڑے فسادیوں
کے فساد سے دوسروں کو بچانے کے لئے انہیں قتل کرنے کا حکم دیا تاکہ ان کے ذریعے
ہونے والے فساد سے دوسرے انسانوں کی حفاظت ہو اور یہ دوسروں کے لئے عبرت کا مقام
بنیں اور وہ فساد برپا کرنے سے باز رہیں ،اسی تناظُر میں اسلامی جہا د کو انصاف کی
نظر سے دیکھا جائے اور ا س کے بنیادی مقاصد پر سچے دل سے غور کیا جائے تو ہر عقلِ
سلیم رکھنے والے شخص پر واضح ہو جائے گاکہ اسلامی جہاد سراپا رحمت ہے کیونکہ اس کے
ذریعے فساد کا خاتمہ ہو تا اور معاشرے میں امن و سکون قائم ہوتا ہے۔
Dawateislami