اسلام ایک
مکمل ضابطہ حیات اور امن پسند اور امن کو فروغ دینے والا مذہب ہے ۔ یہ اپنے ماننے
والوں کو امن و سکون قائم کرنے کا درس دیتا ہے اور فساد پھیلانے سے منع کرتا اور
مذمت بیان کرتا ہے ۔ فساد فی الارض کا مفہوم بہت وسیع ہے ۔ انشاء اللہ ! اس مضمون
میں فساد پھیلانے کے مفہوم اور مذمت کو بیان کرنے کے لیے چند آیات مبارکہ پیش کی
جائیں گی ۔ سمجھنے کے لیے ایک آیت ہی کافی ہے مگر زیادہ آیتیں اس کے مفہوم اور
ممانعت کی شدت کو واضح کرے گا ۔
فساد فی الارض میں شرک ، ناحق قتل ، نصیحت کی
بات سن کر قبول کرنے کے بجائے تکبر کرنا ، لوگوں کے اموال برباد کرنا ، بے حیائی
عام ہونا،ناپ تول میں کمی کرنا ، لوگوں کے اَموال پر جبری قبضے کرنا،زکوٰۃ نہ دینا،جوا
، سود خوری ، گناہ کرنا اور ظلم و ستم کرنا چنانچہ ارشاد فرمایا:
وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ
اِصْلَاحِهَا وَ ادْعُوْهُ خَوْفًا وَّ طَمَعًاؕ-اِنَّ رَحْمَتَ اللّٰهِ قَرِیْبٌ
مِّنَ الْمُحْسِنِیْنَ(۵۶) ترجمۂ
کنزُالعِرفان:اور زمین میں اس کی اصلاح کے بعد فساد برپا نہ کرو اوراللہ سے دعا
کرو ڈرتے ہوئے اور طمع کرتے ہوئے۔ بیشک اللہ کی رحمت نیک لوگوں کے قریب ہے۔ ( سورۃالاعراف
،آیت نمبر 56 )
یعنی اے لوگو! انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام کے تشریف لانے، حق کی دعوت فرمانے، احکام بیان کرنے اور عدل قائم
فرمانے کے بعد تم کفر و شرک ، گناہ اور ظلم و ستم کرکے زمین میں فساد برپا نہ کرو۔
اسی طرح
لوگوں ، خاندان اور دوستوں میں فساد ڈالنے کا ذریعہ بننا ۔ چنانچہ ارشاد فرمایا:
وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یُّعْجِبُكَ قَوْلُهٗ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ
یُشْهِدُ اللّٰهَ عَلٰى مَا فِیْ قَلْبِهٖۙ-وَ هُوَ اَلَدُّ الْخِصَامِ(۲۰۴) وَ اِذَا تَوَلّٰى سَعٰى فِی الْاَرْضِ لِیُفْسِدَ فِیْهَا وَ یُهْلِكَ
الْحَرْثَ وَ النَّسْلَؕ-وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الْفَسَادَ(۲۰۵)
ترجمۂ کنزالعرفان: اور لوگوں میں سے کوئی وہ ہے کہ دنیا
کی زندگی میں اس کی بات تمہیں بہت اچھی لگتی ہے اوروہ اپنے دل کی بات پر اللہ کو
گواہ بناتا ہے حالانکہ وہ سب سے زیادہ جھگڑا کرنے والا ہے۔اور جب پیٹھ پھیرکر جاتا
ہے توکوشش کرتا ہے کہ زمین میں فساد پھیلائے اور کھیت اور مویشی ہلاک کرے اور اللہ
فساد کو پسند نہیں کرتا۔ (سورۃالبقرة، آیت نمبر 204،205 )
یہاں آیت مبارکہ میں اگرچہ ایک خاص منافق کا
تذکرہ ہے لیکن یہ آیت بہت سے لوگوں کو سمجھانے کیلئے کافی ہے جن کی زبان بڑی میٹھی
ہے، لیکن خاندانوں میں فساد برپا کرتے ہیں اور ہلاکت و بربادی کا ذریعہ بنتے ہیں۔مزید
آزادی کے نام پر بے حیائی، فن کے نام پر حرام افعال، انسانیت کے نام پر اسلام کو
مٹانا اورتہذیب و تَمَدُّن کا نام لے کر اسلام پر اعتراض کرنا، توحید کا نام لے کر
شانِ رسالت کا انکار کرنا، قرآن کا نام لے کر حدیث کا انکار کرنا وغیرہ یہ سب
فسادی کاموں کو فسادی لوگ اصلاح کا نام دے کر ہمارے معاشرے میں کررہے ہیں ۔ چنانچہ
ارشاد فرمایا:
وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی
الْاَرْضِۙ-قَالُوْۤا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ(۱۱) اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَ
لٰكِنْ لَّا یَشْعُرُوْنَ(۱۲) ترجمۂ
کنزالعرفان:اورجب ان سے کہا جائے کہ زمین میں فساد نہ کرو تو کہتے ہیں ہم توصرف
اصلاح کرنے والے ہیں۔ سن لو:بیشک یہی لوگ فساد پھیلانے والے ہیں مگر انہیں (اس
کا)شعور نہیں۔ (سورۃ البقرة، آیت نمبر 11،12 )
اس سے
معلوم ہوا کہ عام فسادیوں سے بڑے فسادی وہ ہیں جو فساد پھیلائیں اور اسے اصلاح کا
نام دیں۔
جبکہ اسلام امن و سلامتی والا مذہب ہے کیونکہ اس
نے فساد سے منع کیا ہے چنانچہ ارشاد فرمایا:
مِنْ اَجْلِ ذٰلِكَ كَتَبْنَا عَلٰى بَنِیْۤ
اِسْرَآءِیْلَ اَنَّهٗ مَنْ قَتَلَ نَفْسًۢا بِغَیْرِ نَفْسٍ اَوْ فَسَادٍ فِی
الْاَرْضِ فَكَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیْعًاؕ-وَ مَنْ اَحْیَاهَا
فَكَاَنَّمَاۤ اَحْیَا النَّاسَ جَمِیْعًاؕ-وَ لَقَدْ جَآءَتْهُمْ رُسُلُنَا
بِالْبَیِّنٰتِ٘-ثُمَّ اِنَّ كَثِیْرًا مِّنْهُمْ بَعْدَ ذٰلِكَ فِی الْاَرْضِ
لَمُسْرِفُوْنَ(۳۲)
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اس کے سبب ہم نے بنی اسرائیل پر
لکھ دیا کہ جس نے کسی جان کے بدلے یا زمین میں فساد پھیلانے کے بدلے کے بغیر کسی
شخص کو قتل کیا تو گویا اس نے تمام انسانوں کو قتل کردیا اور جس نے کسی ایک جان کو
(قتل سے بچا کر) زندہ رکھا اس نے گویا تمام انسانوں کو زندہ رکھا اور بیشک ان کے
پاس ہمارے رسول روشن دلیلوں کے ساتھ آئے پھر بیشک ان میں سے بہت سے لوگ اس کے بعد
(بھی) زمین میں زیادتی کرنے والے ہیں۔ (سورۃ المائدۃ، آیت نمبر 32)
یہ آیت ِ مبارکہ اسلام کی اصل تعلیمات کو واضح
کرتی ہے کہ اسلام کس قدر امن و سلامتی کا مذہب ہے اور اسلام کی نظر میں انسانی جان
کی کس قدر اہمیت ہے۔ساتھ ہی فساد کا نقصان بھی بیان کیا :
ظَهَرَ الْفَسَادُ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ
بِمَا كَسَبَتْ اَیْدِی النَّاسِ لِیُذِیْقَهُمْ بَعْضَ الَّذِیْ عَمِلُوْا
لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ(۴۱) ترجمۂ
کنزُالعِرفان: خشکی اور تری میں فساد ظاہر ہوگیاان برائیوں کی وجہ سے جو لوگوں کے
ہاتھوں نے کمائیں تاکہ الله انہیں ان کے بعض کاموں کا مزہ چکھائے تاکہ وہ باز
آجائیں ۔ (سورۃالروم ،آیت نمبر 41)
اس آیت سے معلوم ہوا کہ گناہوں کی وجہ سے لوگ
ہزاروں قسم کی پریشانیوں میں مبتلا ہوجاتے ہیں ۔
اسی طرح
فساد نہ کرنے کا اجر بھی بتایا :
تِلْكَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ نَجْعَلُهَا
لِلَّذِیْنَ لَا یُرِیْدُوْنَ عُلُوًّا فِی الْاَرْضِ وَ لَا فَسَادًاؕ-وَ
الْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِیْنَ(۸۳)
ترجمۂ کنزُالعِرفان: یہ آخرت کا گھر ہم ان لوگوں کے لیے
بناتے ہیں جو زمین میں تکبر اور فساد نہیں چاہتے اوراچھا انجام پرہیزگاروں ہی
کیلئے ہے۔ (سورۃ قصص ،آیت نمبر 83)
یہ اسلام کے کامل اور اکمل دین ہونے کی واضح دلیل
ہے ۔ اللہ پاک ہم کو اور ان کو جو غیروں کی تعلیمات پر مرتے ہیں ان کو دین اسلام کی
تعلیمات حاصل کرنے ، عمل کرنے اور دوسروں تک پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین ۔
Dawateislami