قرآنِ مجید
میں فساد فی الارض (زمین میں بگاڑ پھیلانا) کو انتہائی سنگین جرم قرار دیا گیا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے مختلف مقامات پر اس کی سخت مذمت فرمائی ہے اور ایسے لوگوں کے لیے
دنیا و آخرت میں سزا کی وعید سنائی ہے۔ ذیل میں چند اہم آیات اور ان کی وضاحت پیش
ہے۔
(1)وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی
الْاَرْضِۙ-قَالُوْۤا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ(۱۱) اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَ
لٰكِنْ لَّا یَشْعُرُوْنَ(۱۲) ترجمہ کنز
الایمان: اورجو ان سے کہا جائے زمین میں فساد نہ کرو تو
کہتے ہیں ہم تو سنوارنے والے ہیں ۔سنتا ہے وہی فسادی ہیں مگر انہیں شعور نہیں۔ (سورۃ
البقرۃ،آیت 12)
وضاحت:یہ
آیت ان لوگوں کی نشاندہی کرتی ہے جو اپنے غلط کاموں کو"اصلاح" کا نام دے
کر معاشرے میں بگاڑ پھیلاتے ہیں۔
(2) مَنْ قَتَلَ نَفْسًۢا بِغَیْرِ نَفْسٍ اَوْ فَسَادٍ فِی الْاَرْضِ
فَكَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیْعًاؕ
ترجمہ کنزا لایمان:
جس نے کوئی جان قتل کی بغیر جان کے بدلے یا زمین میں فساد کئے تو گویا اس نے سب
لوگوں کو قتل کیا۔(سورۃ المائدۃ ،آیت 32)
یہ آیت ِ
مبارکہ اسلام کی اصل تعلیمات کو واضح کرتی ہے کہ اسلام کس قدر امن و سلامتی کا
مذہب ہے اور اسلام کی نظر میں انسانی جان کی کس قدر اہمیت ہے۔
(3) اِنَّمَا جَزٰٓؤُا الَّذِیْنَ یُحَارِبُوْنَ اللّٰهَ
وَ رَسُوْلَهٗ وَ یَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا اَنْ یُّقَتَّلُوْۤا اَوْ
یُصَلَّبُوْۤا اَوْ تُقَطَّعَ اَیْدِیْهِمْ وَ اَرْجُلُهُمْ مِّنْ خِلَافٍ اَوْ
یُنْفَوْا مِنَ الْاَرْضِؕ-ذٰلِكَ لَهُمْ خِزْیٌ فِی الدُّنْیَا وَ لَهُمْ فِی
الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِیْمٌۙ(۳۳) ترجمہ کنز
الایمان: وہ کہ اللہ
اور اس کے رسول سے لڑتے اور مُلک میں فساد کرتے پھرتے ہیں ان کا بدلہ یہی ہے کہ گن
گن کر قتل کیے جائیں یا سولی دئیے جائیں یا اُن کے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف
کے پاؤں کاٹے جائیں یا زمین سے دور کردئیے جائیں یہ دنیا میں اُن کی رُسوائی ہے
اور آخرت میں اُن کے لیے بڑا عذاب۔ (سورۃ المائدۃ ،آیت 33)
وضاحت:یہ
آیت فساد پھیلانے والوں کے لیے دنیاوی سزا بیان کرتی ہے، جو جرم کی شدت کو ظاہر
کرتی ہے۔
(4) وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ
اِصْلَاحِهَا
ترجمۂ کنز الایمان:اور زمین میں فساد نہ پھیلاؤ
اس کے سنورنے کے بعد۔(سورۃ الاعراف ،آیت 56)
وضاحت:اللہ
تعالیٰ انسانوں کو زمین میں امن، عدل اور توازن قائم رکھنے کا حکم دیتا ہے۔
(5) ظَهَرَ الْفَسَادُ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ
بِمَا كَسَبَتْ اَیْدِی النَّاسِ
ترجمۂ کنزالایمان: چمکی خرابی خشکی اور تری میں ان
برائیوں سے جو لوگوں کے ہاتھوں نے کمائیں ۔(سورۃ الروم ،آیت 41)
وضاحت:یہ آیت بتاتی ہے کہ معاشرتی، اخلاقی اور
ماحولیاتی بگاڑ انسان کے اپنے اعمال کا نتیجہ ہے۔
فساد فی
الارض ایک بڑا گناہ ہے۔اس میں ظلم، قتل، ناانصافی، بدامنی اور بگاڑ شامل ہیں ۔ایسے
لوگوں کو اللہ ناپسند کرتا ہےجو زمین میں فساد پھیلاتے ہیں ایسا شخص جو فساد پھیلاتا
ہے دنیا و آخرت دونوں میں سزا کا مستحق قرار دیا گیا ہے۔
Dawateislami