ابو
صَفی محمد علی(درجہ سابعہ جامعۃ المدينہ فيضان عثمان غنى ،کراچی،پاکستان)
اسلام ایک
کامل ضابطۂ حیات ہے جو زمین پر امن، عدل اور بھلائی کے قیام کا داعی ہے، جبکہ
فساد، ظلم اور بگاڑ کو سختی کے ساتھ رد کرتا ہے۔ فساد فی الارض سے مراد وہ تمام
اعمال ہیں جو معاشرے کے امن کو تباہ کریں، حقوق کو پامال کریں اور انسانی زندگی کو
اضطراب میں مبتلا کر دیں۔ قرآنِ مجید نے اس جرم کو نہایت شدید انداز میں بیان فرمایا
ہے تاکہ انسان اس سے بچ کر اصلاح، خیر اور بھلائی کے راستے کو اختیار کرے۔ مطالعۂ
قرآن سے واضح ہوتا ہے کہ فساد صرف ظاہری بگاڑ نہیں بلکہ اخلاقی، سماجی اور روحانی
تباہی کا مجموعہ ہے، اور اس کی مذمت ایمان کا تقاضا ہے۔
زمین میں فساد پھیلانے والوں کی
مذمت:اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَا
ترجمۂ کنز الایمان: اور زمین میں فساد نہ پھیلاؤ
اس کے سنور نے کے بعد۔(سورۃ الاعراف: 56)
اس آیت میں واضح حکم دیا گیا کہ جب اللہ نے زمین
کو نظام، امن اور توازن کے ساتھ قائم کیا تو انسان کو اس میں بگاڑ پیدا کرنے کا
کوئی حق نہیں۔
فساد کرنے والوں سے اللہ کی ناراضی:اللہ تعالیٰ
فرماتا ہے: وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الْمُفْسِدِیْنَ(۶۴)
ترجمہ کنز الایمان: اور اللہ فسادیوں کو نہیں چاہتا۔ (سورۃ
المائدۃ: 64)
یہ آیت اس
بات کی صریح دلیل ہے کہ فساد اللہ کی ناراضی کا سبب ہے اور مفسدین اللہ کی محبت سے
محروم ہو جاتے ہیں۔
فساد کی سنگین سزا:اللہ تعالیٰ
ارشاد فرماتا ہے: اِنَّمَا
جَزٰٓؤُا الَّذِیْنَ یُحَارِبُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ یَسْعَوْنَ فِی
الْاَرْضِ فَسَادًا اَنْ یُّقَتَّلُوْۤا اَوْ یُصَلَّبُوْۤا
ترجمہ کنز الایمان: وہ کہ اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے اور مُلک میں فساد
کرتے پھرتے ہیں ان کا بدلہ یہی ہے کہ گن گن کر قتل کیے جائیں یا سولی دئیے جائیں ۔(سورۃ
المائدۃ: 33)
اس آیت میں
فساد کی سنگینی کو واضح کرتے ہوئے اس کے لیے سخت ترین سزائیں بیان کی گئیں۔
مفسد اور مصلح میں فرق:اللہ تعالیٰ
فرماتا ہے: اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَ لٰكِنْ
لَّا یَشْعُرُوْنَ(۱۲)
ترجمۂ
کنز الایمان: سنتا ہے وہی فسادی ہیں مگر انہیں شعور نہیں۔ (سورۃ
البقرۃ: 12)
یہ آیت ان
لوگوں کی حقیقت بیان کرتی ہے جو خود کو مصلح سمجھتے ہیں مگر درحقیقت وہ فساد پھیلا
رہے ہوتے ہیں۔
زمین میں بگاڑ کا نتیجہ:اللہ تعالیٰ
ارشاد فرماتا ہے: ظَهَرَ
الْفَسَادُ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ اَیْدِی النَّاسِ
ترجمۂ کنزالایمان: چمکی خرابی خشکی اور تری میں ان
برائیوں سے جو لوگوں کے ہاتھوں نے کمائیں ۔(سورۃ الروم: 41)
فساد فی
الارض کی مذمت دراصل انسان کو اس کے اصل مقام کی طرف متوجہ کرتی ہے اور وہ یہ ہے
کہ وہ زمین میں اصلاح، عدل اور خیر کو فروغ دے نہ کہ ظلم، انتشار اور تباہی کو۔
قرآنِ کریم کا پیغام نہایت واضح ہے کہ جو لوگ فساد کو اختیار کرتے ہیں وہ اللہ کی
رحمت سے دور اور اس کے غضب کے قریب ہو جاتے ہیں، جبکہ اصلاح کرنے والے اللہ کے
محبوب بندے ہوتے ہیں۔ لہٰذا ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اپنے قول و عمل کا جائزہ
لے، معاشرے میں امن و سلامتی کو فروغ دے اور ہر اس کام سے بچے جو کسی بھی درجے میں
فساد کا سبب بن سکتا ہو، کیونکہ یہی وہ راستہ ہے جو دنیا و آخرت میں کامیابی اور
سرخروئی کا ضامن ہے۔
اﷲ کریم ہمیں
عمل کرنے اور دوسروں تک پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے آمین یا رب العالمین بجاہ
خاتم النبیین ﷺ
Dawateislami