محمد
عبد المبین عطاری (درجہ رابعہ جامعۃ المدينہ فيضان امام غزالی ، فیصل
آباد،پاکستان)
زمین پر
دہشت پھیلانے، تخریب کاری اور بے گناہ لوگوں کو ناحق قتل کرکے ملک میں بدامنی اور
انتشار پھیلانے کو فساد فی الارض کہا گیا ہے فساد فی الارض ایک نہایت ہی جامع ووسیع
لفظ ہے جس میں ہر طرح کی ضلالت وگمراہی، شرک وکفر،خرافات و اوہام،قتل وغارت گری
،فتنہ پروری وشر انگیزی اور حقوق اللہ وحقوق العباد کی پامالی شامل ہے۔ اس مختصر
مضمون میں اسی فساد فی الارض پر روشنی ڈالی گئی ہے ۔قرآنِ مجید میں فساد فی الارض
(زمین میں بگاڑ، ظلم، شر، فتنہ اور خرابی پھیلانا) کو سخت ناپسند کیا گیا ہے۔ اللہ
تعالیٰ نے ایسے لوگوں کی مذمت فرمائی ہے جو معاشرے میں امن و سکون کے بجائے فساد،
ناانصافی اور تباہی پیدا کرتے ہیں۔
(1)اللہ پاک ارشاد فرماتا
ہے: الَّذِیْنَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ وَ لَا
یُصْلِحُوْنَ(۱۵۲)
ترجمۂ کنزالایمان: وہ جو زمین میں فساد پھیلاتے ہیں اور
بناؤ نہیں کرتے۔ (پ19 ،الشعراء: 152)
یعنی حد
سے بڑھنے والے وہ ہیں جو کفر، ظلم اور گناہوں کے ساتھ زمین میں فساد پھیلاتے ہیں
اورایمان لا کر، عدل قائم کرکے اور اللہ تعالٰی کے فرمانبردار ہو کر اصلاح نہیں
کرتے۔ اس کامعنی یہ کے کہ بعض فساد پھیلانے والے ایسے بھی ہوتے ہیں کہ کچھ فساد بھی
کرتے ہیں اوران میں کچھ نیکی بھی ہوتی ہے،لیکن یہ ایسے نہیں بلکہ ان کا فساد مضبوط
ہے جس میں کسی طرح نیکی کا شائبہ تک نہیں ۔( خازن، الشعراء، تحت الآیۃ: 152، 3 /
393، مدارک، الشعراء، تحت الآیۃ: 152،ص827، ملتقطاً)
( 2) وَ الَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ مِنْۢ
بَعْدِ مِیْثَاقِهٖ وَ یَقْطَعُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ
یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِۙ-اُولٰٓىٕكَ لَهُمُ اللَّعْنَةُ وَ لَهُمْ سُوْٓءُ
الدَّارِ(۲۵)
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور وہ جو اللہ کا عہد اسے پختہ
کرنے کے بعد توڑدیتے ہیں اور جسے جوڑنے کا اللہ نے حکم فرمایا ہے اسے کاٹتے ہیں
اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں ان کیلئے لعنت ہی ہے اور اُن کیلئے برا گھر ہے۔(پ 13 ،
الرعد : 25)
اس آیت
کا خلاصہ یہ ہے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے کا اعتراف کر کے اور ایمان
لانے کا عہد قبول کر کے اللہ تعالیٰ کے ا س حکم کی مخالفت کرتے ہیں اوراللہ تعالیٰ
نے جو صلہ رحمی کرنے اور رشتہ داری جوڑنے کا حکم دیا ہے اسے توڑتے ہیں ،کفر اور
گناہوں کا ارتکاب کر کے زمین میں فساد پھیلاتے ہیں ان کے لئے قیامت کے دن اللہ
تعالیٰ کی رحمت سے دوری ہے اور اُن کیلئے برا گھر یعنی جہنم ہے۔ (خازن، الرعد، تحت
الآیۃ: 25، 3 / 6465، ملخصاً)
(3) فساد پھیلانےوالے اللہ کے دوست
نہیں ہیں:وَ لَا تَبْغِ الْفَسَادَ فِی الْاَرْضِؕ-اِنَّ
اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْمُفْسِدِیْنَ(۷۷) ترجمہ کنز الایمان: زمین
میں فساد نہ چاہ بے شک اللہ فسادیوں کو دوست نہیں رکھتا۔
(پ 20،
القصص : 77)
( 4) وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یُّعْجِبُكَ قَوْلُهٗ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ
یُشْهِدُ اللّٰهَ عَلٰى مَا فِیْ قَلْبِهٖۙ-وَ هُوَ اَلَدُّ الْخِصَامِ(۲۰۴) وَ اِذَا تَوَلّٰى سَعٰى فِی الْاَرْضِ لِیُفْسِدَ فِیْهَا وَ یُهْلِكَ
الْحَرْثَ وَ النَّسْلَؕ-وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الْفَسَادَ(۲۰۵) ترجمۂ
کنزالعرفان: اور لوگوں میں سے کوئی وہ ہے کہ دنیا کی زندگی میں اس کی بات تمہیں
بہت اچھی لگتی ہے اوروہ اپنے دل کی بات پر اللہ کو گواہ بناتا ہے حالانکہ وہ سب سے
زیادہ جھگڑا کرنے والا ہے۔اور جب پیٹھ پھیرکر جاتا ہے توکوشش کرتا ہے کہ زمین میں
فساد پھیلائے اور کھیت اور مویشی ہلاک کرے اور اللہ فساد کو پسند نہیں کرتا۔ (پ
02،البقرۃ: 204،205)
صراط الجنان:یہاں
آیت مبارکہ میں اگرچہ ایک خاص منافق کا تذکرہ ہے لیکن یہ آیت بہت سے لوگوں کو
سمجھانے کیلئے کافی ہے۔ ہمارے معاشرے میں بھی بہت سے لوگ ایسے ہیں جن کی زبان بڑی
میٹھی ہے، گفتگو بڑی نرمی سے کرتے ہیں ،بڑی عاجزی کا اظہار کرتے ہیں لیکن در پردہ
دین کے مسائل میں یا لوگوں میں یا خاندانوں میں فساد برپا کرتے ہیں اور ہلاکت و
بربادی کا ذریعہ بنتے ہیں۔
(5) اِنَّ اللّٰهَ لَا یُصْلِحُ عَمَلَ الْمُفْسِدِیْنَ(۸۱)
ترجمہ
کنزالعرفان : اللہ فساد والوں کے کام کو نہیں سنوارتا ۔(پ11 ، یونس
: 81)
صراط
الجنان:عام فسادیوں سے بڑے فسادی وہ ہیں جو فساد پھیلائیں اور اسے اصلاح کا نام دیں۔
ہمارے معاشرے میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو اصلاح کے نام پر فساد پھیلاتے ہیں اور
بدترین کاموں کو اچھے ناموں سے تعبیر کرتے ہیں۔ آزادی کے نام پر بے حیائی، فن کے
نام پر حرام افعال، انسانیت کے نام پر اسلام کو مٹانا اورتہذیب و تَمَدُّن کا نام
لے کر اسلام پر اعتراض کرنا، توحید کا نام لے کر شانِ رسالت کا انکار کرنا، قرآن
کا نام لے کر حدیث کا انکار کرنا وغیرہ سب فساد کی صورتیں ہیں۔
ہم نے فساد فی الارض پر جو قرآنی مذمت پڑھی ہے
ہمیں چاہیے کہ ہم اس سے عبرت حاصل کریں اور فساد پھیلانے سے بچیں ۔اللہ پاک ہمیں
عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔
Dawateislami