احمد
شاہین رضا (درجہ دورۃ الحدیث جامعۃ المدینہ فیضان غوثِ اعظم ، کراچی ،پاکستان)
اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآن مجید میں زمین پر فساد پھیلانے
اور ظلم وستم عدل وانصاف نہ کرنے کی بہت زیادہ مذمت فرمائی ہیں اللہ تبارک وتعالیٰ
نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم زمین کے اندر لوگوں سے صلہ رحمی عدل وانصاف اور فساد نہ
پھیلائے ۔
ایک مقام پر اللہ پاک ارشاد
فرماتا ہے :
وَ
الَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مِیْثَاقِهٖ وَ یَقْطَعُوْنَ
مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِۙ اُولٰٓىٕكَ
لَهُمُ اللَّعْنَةُ وَ لَهُمْ سُوْٓءُ الدَّارِ‘‘
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور وہ جو اللہ کا عہد اسے پختہ
کرنے کے بعد توڑدیتے ہیں اور جسے جوڑنے کا اللہ نے حکم فرمایا ہے اسے کاٹتے ہیں
اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں ان کیلئے لعنت ہی ہے اور اُن کیلئے برا گھر
ہے۔(رعد:۲۵)
الَّذِیْنَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ وَ لَا
یُصْلِحُوْنَ
ترجمۂ کنز الایمان:وہ جو زمین میں فساد پھیلاتے
ہیں اور بناؤ نہیں کرتے۔
یعنی حد سے بڑھنے والے وہ ہیں
جو کفر، ظلم اور گناہوں کے ساتھ زمین میں فساد پھیلاتے ہیں اورایمان لا کر، عدل
قائم کرکے اور اللہ تعالٰی کے فرمانبردار ہو کر اصلاح نہیں کرتے۔ اس کامعنی یہ ہے
کہ بعض فساد پھیلانے والے ایسے بھی ہوتے ہیں کہ کچھ فساد بھی کرتے ہیں اوران میں
کچھ نیکی بھی ہوتی ہے،لیکن یہ ایسے نہیں بلکہ ان کا فساد مضبوط ہے جس میں کسی طرح
نیکی کا شائبہ تک نہیں ۔( خازن، الشعراء، تحت الآیۃ: ۱۵۲، ۳ / ۳۹۳، مدارک،
الشعراء، تحت الآیۃ: ۱۵۲،ص۸۲۷، ملتقطاً)
الَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ مِنْۢ
بَعْدِ مِیْثَاقِهٖ۪ وَ یَقْطَعُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ
یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِؕ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ(27)
ترجمۂ کنز الایمان:وہ
جو اللہ کے عہد کو توڑ دیتے ہیں پکا ہونے کے بعد اور کاٹتے ہیں اُس چیز کو جس کے
جوڑنے کا خدا نے حکم دیا اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں وہی نقصان میں ہیں۔
جن چیزوں کے ملانے کا حکم دیا گیا وہ یہ ہیں : (۱)رشتے داروں
سے تعلقات جوڑنا،(۲)مسلمانوں
کے ساتھ دوستی و محبت کرنا، (۳) تمام انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو
ماننا، (۴)تمام
کتابوں کی تصدیق کرنا اورحق پر جمع ہونا۔ ان کو قطع کرنے کا معنیٰ ہے رشتے داروں
سے تعلق توڑنا، انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو نہ ماننا اور اللہ
تعالیٰ کی کتابوں کی تصدیق نہ کرنا۔(تفسیر بیضاوی، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲۷، ۱ / ۲۶۶)
وَ الَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ مِنْۢ
بَعْدِ مِیْثَاقِهٖ وَ یَقْطَعُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ
یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِۙ اُولٰٓىٕكَ لَهُمُ اللَّعْنَةُ وَ لَهُمْ سُوْٓءُ
الدَّارِ(25)
ترجمۂ کنز الایمان:اور وہ جو اللہ کا عہد اس کے
پکے ہونے کے بعد توڑتے اور جس کے جوڑنے کو اللہ نے فرمایا اسے قطع کرتے اور زمین میں
فساد پھیلاتے ہیں ان کا حصہ لعنت ہی ہے اور اُن کا نصیبہ بُرا گھر۔
اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ پر ایمان
لانے کا اعتراف کر کے اور ایمان لانے کا عہد قبول کر کے اللہ تعالیٰ کے ا س حکم کی
مخالفت کرتے ہیں اوراللہ تعالیٰ نے جو صلہ رحمی کرنے اور رشتہ داری جوڑنے کا حکم دیا
ہے اسے توڑتے ہیں ،کفر اور گناہوں کا ارتکاب کر کے زمین میں فساد پھیلاتے ہیں ان
کے لئے قیامت کے دن اللّٰہ تعالیٰ کی رحمت سے دوری ہے اور اُن کیلئے برا گھر یعنی
جہنم ہے۔ (خازن، الرعد، تحت الآیۃ: ۲۵، ۳ / ۶۴۶۵، ملخصاً)
وَ لَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآءَهُمْ وَ لَا
تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَۚ (183)وَ اتَّقُوا الَّذِیْ خَلَقَكُمْ وَ الْجِبِلَّةَ
الْاَوَّلِیْنَﭤ
ترجمۂ کنز الایمان: اور لوگوں کی چیزیں کم کرکے
نہ دو اور زمین میں فساد پھیلاتے نہ پھرو۔ اور اس سے ڈرو جس نے تم کو پیدا کیا اور
اگلی مخلوق کو۔
آیات
کا خلاصہ یہ ہے کہ لوگوں کو ان کی چیزیں کم کر کے دینا،رہزنی اور لوٹ مار کرکے اور
کھیتیاں تباہ کرکے زمین میں فساد پھیلانا ان لوگوں کی عادت تھی اس لئے حضرت شعیب
عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے انہیں ان کاموں سے منع فرمایا اور ناپ تول
پورا کرنے کا حکم دیا اور اس کے بعدساری مخلوق کو پیدا کرنے والے رب تعالٰی کے
عذاب سے ڈرایا۔
اس سے معلوم ہوا کہ نبی عَلَیْہِ السَّلَام صرف عبادات ہی
سکھانے نہیں آتے بلکہ اعلیٰ اَخلاق، سیاسیات، معاملات کی درستگی کی تعلیم بھی دیتے
ہیں ۔ اللہ تعالٰی ہمیں بھی عمل کی توفیق عطا فرمائے،اٰمین۔ ۔
Dawateislami