جب انسان اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ نظامِ فطرت کو چھوڑ کر اپنی خواہشات کی پیروی کرتا ہے تو زمین پر ظلم، ناانصافی فساد پیدا ہوتا ہے قرآنِ مجید بار بار تنبیہ فرماتا ہے کہ فساد فی الارض (زمین میں فساد پھیلانا) ربِّ ذوالجلال کی ناراضی کو دعوت دینا ہے۔ پس حقیقی کامیابی اسی میں ہے کہ بندہ خوفِ خدا اور امیدِ رحمت کے ساتھ زمین میں خیر اور بھلائی کو عام کرے نہ کہ فساد پھلائے۔ چنانچہ فرمان باری تعالیٰ ہے :

وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَا وَ ادْعُوْهُ خَوْفًا وَّ طَمَعًاؕاِنَّ رَحْمَتَ اللّٰهِ قَرِیْبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِیْنَ(۵۶) ترجمہ کنز الایمان: اور زمین میں فساد نہ پھیلاؤ اس کے سنورنے کے بعد اور اس سے دعا کرو ڈرتے اور طَمَع کرتے بے شک اللہ کی رحمت نیکوں سے قریب ہے ۔(پ7 ،اعراف ،آیت56)

وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ:اور زمین میں فساد نہ پھیلاؤ۔ یعنی اے لوگو! انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے تشریف لانے، حق کی دعوت فرمانے، احکام بیان کرنے اور عدل قائم فرمانے کے بعد تم کفر و شرک ، گناہ اور ظلم و ستم کرکے زمین میں فساد برپا نہ کرو۔

فساد کرنے والا بظاہر خود کو مصلح کہتا ہے:فرمان باری تعالیٰ ہے کہ:

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِۙ قَالُوْۤا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ(۱۱) اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَ لٰكِنْ لَّا یَشْعُرُوْنَ(۱۲) ترجمہ کنز الایمان: اورجو ان سے کہا جائے زمین میں فساد نہ کرو تو کہتے ہیں ہم تو سنوارنے والے ہیں ۔سنتا ہے وہی فسادی ہیں مگر انہیں شعور نہیں۔ (پ 2 البقرہ آیت11،12)

امام ابن جریر نے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے الفساد کی تفسیر نقل کی ہے کہ فساد سے مراد کفر اور نافرمانی والے اعمال ہیں۔ ( تفسیر طبری، جلد 1،صفحہ 41ـ140)

امام ابن جریر نے حضرت مجاہد رحمۃ اللہ علیہ سے اس کی یہ تفسیر نقل کی ہے کہ جب وہ معصیت کے سرکش گھوڑے پر سوار ہوتے ہیں اور پھر انہیں اس سے روکا جاتا ہے تو کہتے ہیں ہم ہدایت پر ہیں ۔(تفسیر طبری جلد 1 ،صفحہ 146)

فساد فی الارض کرنے والے لوگ دنیا میں بھی رسوائی اور آخرت میں بھی عذابِ عظیم کے مستحق ہوتے ہیں چنانچہ فرمان باری تعالیٰ ہے :

اِنَّمَا جَزٰٓؤُا الَّذِیْنَ یُحَارِبُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ یَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا اَنْ یُّقَتَّلُوْۤا اَوْ یُصَلَّبُوْۤا اَوْ تُقَطَّعَ اَیْدِیْهِمْ وَ اَرْجُلُهُمْ مِّنْ خِلَافٍ اَوْ یُنْفَوْا مِنَ الْاَرْضِؕ ذٰلِكَ لَهُمْ خِزْیٌ فِی الدُّنْیَا وَ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِیْمٌۙ(۳۳) ترجمہ کنز الایمان: وہ کہ اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے اور مُلک میں فساد کرتے پھرتے ہیں ان کا بدلہ یہی ہے کہ گن گن کر قتل کیے جائیں یا سولی دئیے جائیں یا اُن کے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کاٹے جائیں یا زمین سے دور کردئیے جائیں یہ دنیا میں اُن کی رُسوائی ہے اور آخرت میں اُن کے لیے بڑا عذاب۔ (پ5،المائدۃ، آیت33)

ناحق خون بہانا اور ظلم کرنا فساد کی بدترین صورتیں ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے انتہائی سختی سے منع فرمایا ہے

چنانچہ فرمان باری تعالیٰ ہے :

مِنْ اَجْلِ ذٰلِكَ كَتَبْنَا عَلٰى بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اَنَّهٗ مَنْ قَتَلَ نَفْسًۢا بِغَیْرِ نَفْسٍ اَوْ فَسَادٍ فِی الْاَرْضِ فَكَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیْعًاؕوَ مَنْ اَحْیَاهَا فَكَاَنَّمَاۤ اَحْیَا النَّاسَ جَمِیْعًاؕوَ لَقَدْ جَآءَتْهُمْ رُسُلُنَا بِالْبَیِّنٰتِ٘ ثُمَّ اِنَّ كَثِیْرًا مِّنْهُمْ بَعْدَ ذٰلِكَ فِی الْاَرْضِ لَمُسْرِفُوْنَ(۳۲)

ترجمۂ کنزالایمان: اس سبب سے ہم نے بنی اسرائیل پر لکھ دیا کہ جس نے کوئی جان قتل کی بغیر جان کے بدلے یا زمین میں فساد کے تو گویا اس نے سب لوگوں کو قتل کیا اور جس نے ایک جان کو جِلالیا اس نے گویا سب لوگوں کو جلالیا اور بیشک ان کے پاس ہمارے رسول روشن دلیلوں کے ساتھ آئے پھر بیشک ان میں بہت اس کے بعد زمین میں زیادتی کرنے والے ہیں۔ (پ5 ،المائدۃ، آیت32)

امام ابن جریر نے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ اور کچھ صحابہ سے یہ تفسیر نقل کی ہے کہ گویا ایک آدمی کو ناحق قتل کرنے کا گناہ اتنا ہے جتنا گناہ تمام انسانوں کو قتل کرنے میں ہے اور جس نے کسی انسان کو ہلاکت سے بچایا بچنے والے کے نزدیک اس نے گویا تمام انسانوں کو بچالیا۔(تفسیر طبری،جلد 6،صفحہ 242)