محمد
رضا ( درجہ دورۃ الحدیث جامعۃ المدینہ فیضان غوث اعظم ،کراچی،پاکستان)
فساد فی الارض (زمین پر بگاڑ پیدا کرنا) ایک ایسی سنگین
برائی ہے جس کی مذمت قرآن کریم میں بار ہا کی گئی ہے۔ اسلام امن و سلامتی کا دین
ہے اور وہ ہر اس عمل کی مخالفت کرتا ہے جو انسانی معاشرے، اخلاقیات یا نظامِ قدرت
میں خلل ڈالے۔ذیل میں قرآن مجید کی روشنی میں فساد فی الارض کی مذمت پر ایک جامع
مقالہ پیش ہے:
فساد کی
تعریف اور مفہوم:عربی زبان میں "فساد" کے معنی کسی چیز
کا اپنی اصلی حالت اور اعتدال سے نکل جانے کے ہیں۔ قرآن کی اصطلاح میں اللہ کی
مقرر کردہ حدود کو توڑنا، ناحق خون بہانا، ظلم کرنا اور امنِ عامہ کو تباہ کرنا
فساد کہلاتا ہے۔
فساد کی ممانعت اور الٰہی حکم:قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے واضح طور پر زمین میں بگاڑ
پیدا کرنے سے منع فرمایا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ
اِصْلَاحِهَا وَ ادْعُوْهُ خَوْفًا وَّ طَمَعًاؕاِنَّ رَحْمَتَ اللّٰهِ قَرِیْبٌ
مِّنَ الْمُحْسِنِیْنَ(۵۶)
ترجمۂ کنز الایمان: اور زمین میں فساد نہ پھیلاؤ اس کے سنورنے کے بعداور اس
سے دعا کرو ڈرتے اور طَمَع کرتے بے شک اللہ کی رحمت نیکوں سے قریب ہے ۔( پارہ: 8،سورۃ
الاعراف، آیت نمبر: 56)
اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ نے زمین کو ایک صالح
نظام کے تحت انسان کے حوالے کیا ہے، اب اس میں کسی بھی قسم کی شر انگیزی نظام الٰہی
کی خلاف ورزی ہے۔
فساد کرنے والوں سے اللہ تعالیٰ کی بیزاری :اللہ تعالیٰ نے قرآن میں صراحت فرما دی ہے کہ وہ فساد
کرنے والوں کو پسند نہیں کرتاسورۃ البقرۃ میں ارشاد ہے: وَ اِذَا تَوَلّٰى سَعٰى فِی الْاَرْضِ لِیُفْسِدَ
فِیْهَا وَ یُهْلِكَ الْحَرْثَ وَ النَّسْلَ ؕوَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الْفَسَادَ(۲۰۵)
ترجمۂ کنز الایمان:اور جب پیٹھ پھیرے تو زمین
میں فساد ڈالتا پھرے اور کھیتی اور جانیں تباہ کرے اور اللہ فساد سے راضی نہیں۔
(پارہ: 2،سورۃ البقرۃ، آیت نمبر: 205)
سورۃ
القصص میں اللہ فرماتا ہے: وَ ابْتَغِ فِیْمَاۤ اٰتٰىكَ اللّٰهُ الدَّارَ
الْاٰخِرَةَ وَ لَا تَنْسَ نَصِیْبَكَ مِنَ الدُّنْیَا وَ اَحْسِنْ كَمَاۤ
اَحْسَنَ اللّٰهُ اِلَیْكَ وَ لَا تَبْغِ الْفَسَادَ فِی الْاَرْضِؕ اِنَّ اللّٰهَ
لَا یُحِبُّ الْمُفْسِدِیْنَ(۷۷)
ترجمۂ کنز الایمان: اور جو مال تجھے اللہ نے دیا ہے اس سے آخرت کا گھر طلب
کر اور دنیا میں اپنا حصہ نہ بھول اور احسان کر جیسا اللہ نے تجھ پر احسان کیا
اورزمین میں فساد نہ چاہ بے شک اللہ فسادیوں کو دوست نہیں رکھتا۔ ( پارہ: 20،سورۃ
القصص، آیت نمبر: 77)
مفسدین کی علامات:قرآن
کریم نے مفسدین (فساد کرنے والوں) کا نفسیاتی خاکہ بھی پیش کیا ہے۔ بعض لوگ فساد
پھیلاتے ہیں لیکن اسے "اصلاح" کا نام دیتے ہیں:
وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی
الْاَرْضِۙ قَالُوْۤا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ(۱۱) اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَ
لٰكِنْ لَّا یَشْعُرُوْنَ(۱۲) ترجمہ کنز الایمان: اورجو ان سے کہا جائے زمین میں فساد نہ کرو تو کہتے ہیں
ہم تو سنوارنے والے ہیں ۔سنتا ہے وہی فسادی ہیں مگر انہیں شعور نہیں۔ (پارہ: 1،سورۃ
البقرۃ، آیت نمبر: 11،12)
دنیاوی اور
اخروی انجام:اللہ تعالیٰ نے مفسدین کے لیے سخت سزائیں مقرر کی
ہیں۔ جو لوگ زمین میں فتنہ و فساد اور دہشت گردی پھیلاتے ہیں، ان کے لیے سورۃ
المائدۃ میں سخت وعید ہے:
اِنَّمَا جَزٰٓؤُا الَّذِیْنَ یُحَارِبُوْنَ
اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ یَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا اَنْ یُّقَتَّلُوْۤا
اَوْ یُصَلَّبُوْۤا اَوْ تُقَطَّعَ اَیْدِیْهِمْ وَ اَرْجُلُهُمْ مِّنْ خِلَافٍ
اَوْ یُنْفَوْا مِنَ الْاَرْضِؕ ذٰلِكَ لَهُمْ خِزْیٌ فِی الدُّنْیَا وَ لَهُمْ
فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِیْمٌۙ(۳۳) ترجمۂ کنز
الایمان:وہ کہ اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے اور مُلک میں فساد کرتے پھرتے ہیں ان
کا بدلہ یہی ہے کہ گن گن کر قتل کیے جائیں یا سولی دئیے جائیں یا اُن کے ایک طرف
کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کاٹے جائیں یا زمین سے دور کردئیے جائیں یہ دنیا
میں اُن کی رُسوائی ہے اور آخرت میں اُن کے لیے بڑا عذاب۔ (پارہ: 6،سورۃ المائدۃ،
آیت نمبر: 33)
مذکورہ بالا آیات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اسلام میں
"فساد فی الارض" ایک بدترین جرم ہے جو معاشرتی امن کو تباہ کرتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے زمین کی اصلاح کا حکم دیا ہے اور ہر اس عمل سے روکا ہے جو انسانوں
کے مابین نفرت، بد امنی اور ناانصافی کا سبب بنے۔ ایک سچے مومن کی پہچان یہ ہے کہ
وہ زمین پر "مصلح" (اصلاح کرنے والا) بن کر رہے، نہ کہ
"مفسد"۔
Dawateislami