اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جو انسان کو امن ،عدل اور بھلائی کی تعلیم دیتا ہے قرآن مجید میں جہاں نیکی اور خیر کے کاموں کی ترغیب دی گئی ہے وہیں فساد فی الارض یعنی زمین میں بگاڑ اور خرابی پھیلانے کی سخت مذمت کی گئی ہے قرآن کریم نے واضح طور پر انسان کو زمین میں اصلاح کا حکم دیا ہے اور فساد سے روکا ہے۔

چنانچہ ارشاد باری تعالی ہے :وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الْفَسَادَ(۲۰۵)

ترجمۂ کنز الایمان: اور اللہ فسادسے راضی نہیں۔(سورۃ البقرہ آیت 205)

فساد کا معنی بگاڑ خرابی اور نظام کا درہم برہم ہونا ہے جبکہ اصطلاح میں اس سے مراد وہ تمام اعمال ہیں جو انسانی معاشرے کے امن سکون اور نظام کو متاثر کریں۔

عباس بن فضل نے کہا ہے کہ فساد کا معنی خرابی اور بربادی ہے ۔( تفسیر قرطبی جلد دوم صفحہ 41)

یہ بھی کہا گیا ہے کہ لَا یُحِبُّ الْفَسَادَ کا معنی ہے: وہ اسے اہل صلاح ( اصلاح والوں)سے پسند نہیں کرتا یا وہ اسے دین کے اعتبار سے پسند نہیں کرتا اور یہ احتمال بھی ہو سکتا ہے کہ معنی یہ ہو کہ وہ اس کا حکم نہیں دیتا واللہ اعلم۔ ( تفسیر قرطبی جلد دوم صفحہ نمبر 41)

مزید ایک مقام پر اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے:

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِۙ قَالُوْۤا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ(۱۱)

ترجمہ کنز الایمان: اورجو ان سے کہا جائے زمین میں فساد نہ کرو تو کہتے ہیں ہم تو سنوارنے والے ہیں ۔ (سورۃ البقرۃ: آیت 11)

منافقین کا فساد یہ تھا کہ وہ کفار سے تعاون کر کے مسلمانوں کے راز ان پر ظاہر کر کے جنگ کی آگ بھڑکاتے تھے اور فتنوں کو جگاتے تھے کیونکہ جنگ کے نتیجے میں زمین پر لہلہاتے ہوئے کھیت اجڑ جاتے تھے مال اور مویشی ہلاک ہو جاتے تھے انسانوں کا قتل ہوتا تھا یا ان کا فساد یہ تھا کہ وہ زمین پر اللہ کی نافرمانی کرتے تھے اور شریعت کے ساتھ استہزا کرتے تھے اور اس کے نتیجے میں زمین پر خونریزی ہوتی تھی اور فتنہ اور فساد ہوتا تھا اور چونکہ منافقین کے دلوں میں بیماری تھی اس لیے وہ اپنے فساد کرنے کو اصلاح اور اپنی شرانگیزی کو کار خیر گمان کرتے تھے۔ ہر زمانے میں مفسدین کا یہی حال رہا ہے جو لوگ دین میں نئی نئی بدعت پیدا کرتے ہیں اور نئے نئے مذاہب ایجاد کرتے ہیں اور الحاد اور بے دینی کی تحریکات چلاتے ہیں اور اپنی مخترعہ بدعات مذاہب اور تحریکات کو نہایت خوشنما اور خوبصورت نام دیتے ہیں جیسے محبت اہل بیت کے نام پر تعزیہ داری ماتم اور توحید کے نام پر انبیاء علیہم السلام اور اولیاء کرام کی شان اور عظمت کو کم کرنا اور جب ان لوگوں کا محاسبہ کیا جائے تو کہتے ہیں کہ ہم تو اصلاح کر رہے ہیں اہل بیت کی عظمت اجاگر کر رہے ہیں اور شرک کو مٹا رہے ہیں۔

قرآن مجید میں فساد پھیلانے والوں کے لیے سخت وعید آئی ہے اللہ تبارک و تعالی ارشاد فرماتا ہے:

اِنَّمَا جَزٰٓؤُا الَّذِیْنَ یُحَارِبُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ یَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا

ترجمہ کنز الایمان: وہ کہ اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے اور مُلک میں فساد کرتے پھرتے ہیں۔ ( سورۃ المائدۃ آیت 33)

فساد کے نقصانات نہایت سنگین ہیں اس سے معاشرے میں بد امنی پیدا ہوتی ہے لوگوں کے حقوق پامال ہوتے ہیں اور اللہ تعالی کی ناراضگی حاصل ہوتی ہے ۔آج کے دور میں بھی فساد کی مختلف شکلیں موجود ہیں جیسے سوشل میڈیا پر غلط معلومات پھیلانا اور نا انصافی یہ تمام چیزیں معاشرے کو کمزور کرتی ہیں لہذا ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے کردار کو درست کرے اور معاشرے میں اصلاح کا ذریعہ بنے ۔

آخر میں یہ بات واضح ہوتی ہے کہ قرآن مجید نے فساد فی الارض کی سخت مذمت بیان کی ہے اور انسان کو اصلاح ،امن اور بھلائی کا راستہ اختیار کرنے کی تعلیم دی ہے ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے اعمال کا جائزہ لیں اور ایک پر امن اور صالح معاشرہ قائم کرنے میں اپنا کردار ادا کریں اللہ تعالی ہمیں فساد سے بچنے اور اصلاح کا ذریعہ بننے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔