کم بولنے اور خاموشی اختیار کرنے کی عادت انسان کی شخصیت، عقل اور سماجی زندگی کے لیے انتہائی فائدے مند ہے۔  کم بولنے والے انسان کا وقار اور رعب قائم رہتا ہے۔ ایسا شخص جب بھی بولتا ہے، لوگ اس کی بات کو سنجیدگی اور توجہ سے سنتے ہیں۔ زیادہ بولنے سے انسان اکثر غیبت، جھوٹ، لاحاصل بحث اور دوسروں کی دل آزاری کا سبب بنتا ہے۔ کم بولنے سے زبان کی ان تمام آفات سے حفاظت رہتی ہے۔ فضول گفتگو انسان کی ذہنی اور جسمانی توانائی ضائع کرتی ہے۔ کم بول کر انسان اپنے وقت اور طاقت کو مثبت اور مفید کاموں میں لگا سکتا ہے۔ خاموشی انسان کو اندرونی سکون فراہم کرتی ہے اور اسے سوچنے، غور و فکر کرنے اور فیصلہ سازی میں حکمت پیدا کرنے کا موقع دیتی ہے۔

کم بولنے کی ترغیب دلانے کے لئے شیخ طریقت امیر اہلسنت حضرت علامہ محمد الیاس عطار قادری دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے عاشقانِ رسول کو اس ہفتے 16 صفحات کا رسالہ کم بولنے کے فائدے پڑھنے/سننے کی ترغیب دلائی ہے اور پڑھنے/سننے والوں کو اپنی دعاؤں سے نوازا ہے۔

دعائے عطار

یااللہ پاک! جوکوئی 16 صفحات کا رسالہ کم بولنے کے فائدےپڑھ یا سن لے اُس کو کم بولنے اور اچھے کام زیادہ کرنے کی توفیق دےاور ماں باپ اور خاندان سمیت اس کی بے حساب بخشش فرما۔ اٰمین

یہ رسالہ آڈیو میں سننے اور اردو سمیت کئی زبانوں میں ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے نیچے دیئے گئے لنک پر کلک کیجئے:

Download