خلیفۂ
اعلیٰ حضرت مفتی شاہ ابوالبرکات سید احمد قادری رضوی رحمۃُ اللہِ علیہ کے پوتے اور شارح بخاری علامہ سید محمود احمد رضوی
رحمۃُ اللہِ علیہ کے بیٹے صاحبزادہ سید مختار
اشرف رضوی صاحب کی اہلیہ کا قضائے الہی سے
انتقال ہوگیا۔ مرحومہ، جو سید علی مجتبیٰ
رضوی اور سید حمزہ مختار رضوی کی والدہ تھیں، 02 صفر المظفر 1448ھ (بمطابق
17 جولائی 2026ء) کو
لاہور میں تقریباً 60 برس کی عمر میں اس دارِ فانی سے رخصت فرما گئیں۔
امیرِ
اہلِ سنت نے اپنے خصوصی آڈیوپیغام میں مرحومہ کی مغفرت اور بلندیِ درجات کے لیے
دعا کرتے ہوئے لواحقین کو صبر و ہمت کی تلقین کی ہے۔
دعوتِ
اسلامی کے مبلغین محمد ارشد عطاری اور محمد عالم عطاری امیرِ اہلسنت کا خصوصی آڈیو
پیغام لے کر صاحبزادہ سید مختار اشرف رضوی صاحب کی
رہائش گاہ پہنچے۔ مبلغینِ دعوتِ اسلامی نے صاحبزادہ صاحب کو امیرِ اہلسنت کا آڈیو
پیغام سنایا جسے سن کر انہوں نے امیرِ اہلسنت کا شکریہ ادا کیا اور آپ کی دینی خدمات کو سراہتے ہوئے ان کی مزید ترقی و صحت والی طویل زندگی کی دعائیں
کیں۔
امیرِ
اہلِ سنت کا پیغام بصیرت:
اپنے
پیغام کے آغاز میں امیرِ اہلِ سنت نے حضرت سیدنا علی المرتضیٰ شیر خدا کرم
اللہ وجہہ الکریم
کا فرمان نقل کیا کہ: ”جو موت کو پیشِ نظر رکھتا ہے وہ نیک کاموں میں جلدی کرتا
ہے“ ۔ (شعب
الایمان، ج07، ص371، ح10623)
انہوں نے سوگواروں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں
دوسروں کی موت سے عبرت حاصل کرنی چاہیے کیونکہ ایک دن ان فوت ہونے والوں کی لسٹ میں
ہمارا نام بھی آنے والا ہے۔ انہوں نے فکرِ آخرت دلاتے ہوئے فرمایا: ”آج لوگ ہمیں ’جناب‘یا
’محترمہ‘کہتے ہیں، کل ہمیں ’مرحوم‘یا ’مرحومہ‘ پکاریں گے“۔
صبر کی
اہمیت اور نوحہ کی ممانعت:
امیرِ اہلِ سنت نے صبر کی فضیلت بیان کرتے ہوئے
خبردار کیا کہ ”بے صبری ہرگز نہ کی جائے، کیونکہ بے صبری سے جانے والا پلٹ کر نہیں
آتا بلکہ ہاتھ آنے والا جنت کا خزانہ (صبر کا اجر) ضائع ہو جاتا
ہے“۔ انہوں نے مزید تاکید کی کہ میت پر
نوحہ کرنا (آواز
نکال کر بین کرنا)
سخت حرام ہے۔
انہوں
نے حدیثِ پاک کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اگر نوحہ کرنے والی نے توبہ نہ کی تو قیامت
کے دن اسے ڈامر (جلدی
آگ پکڑنے والے لباس) اور خارش کا کرتا پہنایا جائے گا، کیونکہ اس نے
اپنے نوحے سے لوگوں کے دلوں کو زخمی کیا تھا۔ (مسلم شریف،
ص465، ح934)
ایصالِ
ثواب کی ترغیب :
مرحومہ
کے درجات کی بلندی کے لیے امیرِ اہلِ سنت نے مشورہ دیا کہ اللہ کے دیئے ہوئے مال
سے مسجد بنائی جائے یا مسجد کی تعمیر میں حصہ لیا جائے، کیونکہ فرمانِ مصطفیٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے مطابق جو
اللہ کے لیے مسجد بناتا ہے، اللہ اس کے لیے جنت میں گھر بناتا ہے۔ امیراہلسنت نے
لواحقین اور مریدین کو دعوتِ اسلامی کے رسالے ”زبان کی حفاظت کی اہمیت“ کے
مطالعہ کی بھی ہدایت کی۔
دعائیہ
کلمات:
امیرِ اہلِ سنت نے دعا فرمائی کہ: "یا رب
المصطفیٰ! مرحومہ کی بے حساب مغفرت فرما، ان کی قبر کا اندھیرا دور فرما اور اسے
نورِ حبیب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے صدقے تا
حشر جگمگاتا رکھ۔ الٰہی! ان کی قبر کو باغِ جنت بنا دے اور تمام سوگواروں کو صبرِ
جمیل پر اجرِ جزیل عطا فرما“۔
اٰمِیْن
بِجَاہِ خَاتمِ النّبیِّین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
Dawateislami