انسان کی شخصیت کا سب سے نمایاں پہلو اس کا اندازِ گفتگو اور مجلس کا طرز عمل ہے۔ جو شخص دوسروں کا احترام کرتا ہے، ان کے لیے جگہ بناتا ہے اور خوش اخلاقی سے پیش آتا ہے، وہ اللہ اور بندوں دونوں کا محبوب بن جاتا ہے۔ اسلام نے ہمیں سکھایا ہے کہ مجلس وہ مقام ہے جہاں دل جُڑتے ہیں اور تعلقات مضبوط ہوتے ہیں، اس لیے اس کے اصولوں پر عمل کرنا ہر مسلمان پر لازم ہے۔

وَ قُوْلُوْا لِلنَّاسِ حُسْنًا

ترجمہ: اور لوگوں سے اچھی بات کہو ۔(سورۃ البقرۃ: آیت 83)

مفہوم: مجلس میں گفتگو ہمیشہ شائستہ اور خوش اخلاقی پر مبنی ہونی چاہیے۔

إِذَا دَخَلْتُمْ فِي مَجْلِسٍ فَسَلِّمُوا

ترجمہ: جب مجلس میں داخل ہو تو سلام کرو۔ (سنن ترمذی، کتاب الاستئذان، حدیث: 2706)

لَا يُحِلُّ لِرَجُلٍ أَنْ يُفَرِّقَ بَيْنَ اثْنَيْنِ إِلَّا بِإِذْنِهِمَاترجمہ: کسی کے لیے جائز نہیں کہ دو آدمیوں کو جدا کرے مگر ان کی اجازت سے۔( سنن ابی داود، کتاب الادب، حدیث: 4845)

خَيْرُ الْمَجَالِسِ أَوْسَعُهَا ترجمہ: بہترین مجلس وہ ہے جو زیادہ کشادہ ہو۔( سنن ابی داود، کتاب الادب، حدیث: 4827)

مجالس میں حسن اخلاق اور نرمی کا رویہ اپنانا ہی اسلام کی اصل روح ہے۔ مسلمان اگر اس پر عمل کریں تو دلوں میں محبت بڑھے گی اور معاشرہ خوشیوں اور امن سے بھرا ہوگا۔


دنیا میں انسان اپنی بات دوسروں تک پہنچانے اور دوسروں کو سمجھانے کے لیے مجلس کا سہارا لیتا ہے۔ مجلس وہ جگہ ہے جہاں عدل، اخلاق اور تہذیب کے اصول سامنے آتے ہیں۔ اسلام نے اس کے آداب اور حقوق مقرر کر دیے ہیں تاکہ کوئی بھی فرد اپنے آپ کو محروم یا کمتر نہ سمجھے۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قِیْلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوْا فِی الْمَجٰلِسِ فَافْسَحُوْا یَفْسَحِ اللّٰهُ لَكُمْۚ

ترجمہ:"اے ایمان والو! جب تم سے کہا جائے کہ مجلس میں جگہ کشادہ کرو تو کشادہ کر دیا کرو، اللہ تمہارے لیے کشادگی پیدا کرے گا۔"(المجادلہ: 11)

مفہوم:مجلس میں دوسروں کے لیے جگہ چھوڑ دینا باعثِ برکت ہے۔

ِذَا انْتَهَى أَحَدُكُمْ إِلَى مَجْلِسٍ فَلْيَجْلِسْ فِيهِ

ترجمہ: جب تم میں سے کوئی مجلس میں پہنچے تو جہاں جگہ ملے وہیں بیٹھ جائے۔ ( صحیح مسلم، کتاب السلام، باب تحريم اقامۃ الانسان من مجلسہ، حدیث: 2178 )

مفہوم: مجلس میں برابری کا خیال رکھا جائے۔

إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ مِنْ مَجْلِسِهِ ثُمَّ رَجَعَ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ ترجمہ: جب کوئی اپنی جگہ سے اٹھ کر واپس آئے تو وہ اسی جگہ کا زیادہ حقدار ہے۔ (صحیح مسلم، کتاب السلام، باب تحريم اقامۃ الانسان من مجلسہ، حدیث: 2179)

مفہوم: مجلس میں کسی کی جگہ ہڑپ نہ کی جائے۔

سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ

ترجمہ: جو شخص مجلس میں بیٹھ کر فضول باتیں کرے پھر یہ دعا پڑھے… تو اللہ اس کے گناہ معاف فرما دیتا ہے۔ ( سنن الترمذی، کتاب الدعوات، باب ما يقول إذا قام من مجلسہ، حدیث: 3433)

مفہوم: مجلس میں فضول بات کا کفارہ ذکر اللہ ہے۔

اسلام نے مجلس کو محض بیٹھنے کی جگہ نہیں بلکہ اخوت و محبت کا ذریعہ بنایا ہے۔ جو مسلمان ان اصولوں پر عمل کرے گا وہ دنیا میں عزت پائے گا اور آخرت میں اجرِ عظیم کا مستحق ہوگا۔


اسلام میں مجلس (نشست یا محفل) کے مخصوص آداب اور حقوق مقرر کیے گئے ہیں ۔ تاکہ معاشرے میں حسنِ سلوک کو فروغ ملے۔

(1) : مجلس کا پہلا حق یہ ہے کہ داخل ہوتے وقت سلام کیا جائے، کیونکہ سلام امن و محبت کی نشانی ہے۔

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ جب کوئی لفظ بولتے تو اسے تین بار دہراتے تاکہ سمجھ لیا جائے اور جب کسی قوم پر تشریف لاتے اور انہیں سلام فرماتے تو تین بار سلام کرتے ۔(مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:1 , حدیث نمبر:208 )

2 : مجلس میں بیٹھنے والے افراد کے درمیان چپکے سے کان لگا کر سننا یا کسی کی بات کو بغیر اجازت سنانا ممنوع ہے۔ حضور ﷺ نے سختی سے منع فرمایا ہے ۔

3 : اسی طرح مجلس میں بیٹھنے کے بعد دوسرے کو جگہ دینا۔حدیث شریف : عَنْ اَبِي سَعِيْدٍالْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ:خَيْرُ الْمَجَالِسِ اَوْسَعُهَا. ترجمہ : حضرت سَیِّدُناابو سعید خُدری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ میں نے حضورنبی کریم رَءُوْفٌ رحیم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو یہ فرماتے سنا:”بہترین مجلس وہ ہے جو کشادہ ہو ۔“

تشریح :مذکورہ حدیث پاک میں کُشادہ مجلس کو بہترین مجلس کہا گیا ہے اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی فرماتے ہیں:”کشادہ مجلس کو بہترین مجلس اس لیے کہا گیا ہے کہ اس میں بیٹھنے والے کو راحت ملتی ہے اور مجلس کی تنگی کی وجہ سے آپس میں بُعض و کینہ پیدا نہیں ہوتا۔“ مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں:’’یعنی جب جلسہ مجلس وغیرہ کرو تو وسیع زمین میں کرو تاکہ لوگوں کو بیٹھنے میں تنگی نہ ہو آرام سے کُھلے ہوئے بیٹھیں ایسی مجلس بہت مبارک ہے۔‘‘ (فیضان ریاض الصالحین جلد:6 , حدیث نمبر:831)

4 : بات چیت میں نرمی اختیار کرنا، اور مذاق یا جھوٹ سے پرہیز کرنا بھی ضروری ہے۔

5 : اگر کوئی شخص بات کر رہا ہو تو بیچ میں مداخلت نہ کی جائے۔

6 : مجلس میں سے کسی شخص کو اٹھا کر اس کی جگہ بیٹھنے کی ممانعت ہے کہ یہ فعل ادب کے خلاف ہے ۔

7 :مجلس کے آخر دعا کر کے مجلس ختم کرنی چاہئے ۔

عَنْ أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: بِأَخَرَةٍ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَقُومَ مِنَ الْمَجْلِسِ:سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّكَ لَتَقُولُ قَوْلًا مَا كُنْتَ تَقُولُهُ فِيمَا مَضَى، فَقَالَ: كَفَّارَةٌ لِمَا يَكُونُ فِي الْمَجْلِسِ.

ترجمہ :حضرت سَیِّدُناابو برزہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں:حضور نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنی عمر کے آخری ایام میں جب کسی مجلس سے اٹھنے کا ارادہ فرماتے تو یہ الفاظ کہتے:” سُبْحَانَكَ اللّٰهُمَّ وَبِحَمْدِكَ اَشْهَدُ اَنْ لَّا اِلٰهَ اِلَّا اَنْتَ اَسْتَغْفِرُكَ وَاَتُوْبُ اِلَيْكَیعنی اے اللہ ! تو پاک ہے،تیرے لئے حمد ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں، میں تجھ سے بخشش چاہتا ہوں اور تیری طرف توبہ کرتا ہوں۔“ایک شخص نے عرض کی: یارسولَ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!اس سے پہلے آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمیہ الفاظ نہیں فرمایا کرتے تھےآپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:یہ الفاظ مجلس میں ہونے والی فضول باتوں کا کفارہ ہیں ۔ (فیضان ریاض الصالحین جلد:6 , حدیث نمبر:833 )


اسلام ہی وہ واحد مذہب ہے جس کی پناہ میں آنے والا ہر شخص اپنی جان و مال ، اہل و عیال بلکہ اپنی سب اَشیاء کو محفوظ کر لیتاہے ۔ دِین اِسلام ہر مسلمان کو حقوق کی ادائیگی کا حکم دیتا ہے ۔ دامنِ اِسلام میں آنے والے ہر شخص کی جان و مال اوراَولاد و عزت بلکہ اُس کی ہر شے محفوظ ہو جاتی ہے ۔ اِسلام نے اپنے ماننے والے ہر شخص پر اُس کے متعلقین کے حقوق کی ادائیگی لازم فرمائی ہے ، چاہے وہ باپ ہو یا بیٹا ، شوہر ہو یا بیوی ، غلام ہو یا آقا ، مالک ہو یا خادِم ، امیر ہو یا غریب ، سب پر حسب حال ایک دوسرے کے حقوق لازم فرمائے بلکہ یہ تو وہ پیارا مذہب ہے کہ جس نے جانوروں کے حقوق کی حفاظت کا بھی حکم دیا اور اُن بے زبانوں پر ظلم کرنے والوں کو سزا کا مستحق ٹھہرایا۔ غلام جن کے حقوق کی پامالی اوراُن پر ظلم وستم کو لوگ اپنا حق سمجھتے تھے اِسلام نے اُن مظلوموں پر شفقت ومہربانی کا حکم دیا اُن کے ساتھ حسن سلوک پر دنیا اورآخرت میں اِنعامات کی بشارت دی ۔

اسی طرح اسلام نے مجلس کے حقوق بھی سکھائیں ہیں۔ حضور علیہ الصلوة والسلام صحابہ کو مجلس کے آداب بھی بتاتے رہتے ۔ لہذا مجلس کے چند حقوق و آداب جو اسلام نے اپنے متبعین کو سکھائے ہیں بیان کیے جاتے ہیں:

ذکر اللہ اور درود پاک پڑھنا:پیارے اسلامی بھائیو! مجلس کے حقوق میں سے ایک اہم حق یہ بھی ہے کہ اس میں ذکراللہ اور درود ضرور کیا جائے زبان پر ہر وقت اللہ عَزَّوَجَلَّ کا ذِکر جاری رکھنا یہ اللہ والوں کی صفت ہے کہ وہ کسی بھی حال میں ذِکرُ اللہ سے غافل نہیں رہتے،درود شریف ذِکْرُاﷲ کی بہترین قسم ہے ۔احادیث میں بھی اپنی مجلسوں میں ذکر اللہ کرنے اور درود پاک پڑھنے کی ترغیب اور نہ پڑھنے کی وعیدیں بھی آئی ہیں ۔

چنانچہ ایک حدیث شریف میں ہے کہ:مجھ پر درود شریف پڑھ کر اپنی مجالس کو آراستہ کرو کہ تمہارا درود پاک پڑھنا بروز قیامت تمہارے لیے نور ہوگا۔(فردوس الاخبار ج1 ص 422 حدیث 3149)

اور حضرت سَیِّدُناابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:”جو قوم کسی مجلس میں بیٹھتی ہےاور اس میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کا ذکرنہیں کرتی اور نبی پاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر درود پاک نہیں پڑھتی تو یہ مجلس ان کے لیے ندامت کا باعث ہوگی، اگر اللہ عَزَّوَجَلَّ چاہے تو انہیں عذاب دے اور چاہے تو معاف فرما دے۔“(فیضان ریاض الصالحین جلد:6 , حدیث نمبر:836)

لہذا ہمیں ہر وقت ہر جگہ ذکراللہ کرنے اور درود پڑھنے کی عادت بنانی چاہئے کوئی مجلس ایسی نہیں ہونی چاہئے جس میں اس سے محروم رہ جائیں۔

فضول گوئی سے بچنا:مجلس کا حق یہ بھی ہے کہ فضول باتوں سے بچا جائے کامل مومنین کی شان میں قرآن میں بھی ہے کہ وَ اِذَا مَرُّوْا بِاللَّغْوِ مَرُّوْا كِرَامًا(۷۲) ترجمہ کنزالعرفان:اور جب کسی بیہودہ بات کے پاس سے گزرتے ہیں تواپنی عزت سنبھالتے ہوئے گزر جاتے ہیں ۔ (الفرقان72)

تفسیر صراط الجنان میں ہے کہ جب وہ کسی لغو اور باطل کام میں مصروف لوگوں کے پاس سے گزرتے ہیں تواپنی عزت سنبھالتے ہوئے وہاں سے گزر جاتے ہیں ۔ اپنے آپ کو لہو و باطل سے مُلَوَّث نہیں ہونے دیتے اور ایسی مجالس سے اِعراض کرتے ہیں ۔( مدارک، الفرقان، تحت الآیۃ: 72، ص811)

بے فائدہ باتوں سے بچنا اسلام کی اہم ترین خوبی ہے جیسا کہ حدیث میں ہے کہ:حضرتِ سَیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ سے مروی ہے کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : بے فائدہ باتوں کو چھوڑ دینا آدمی کے اسلام کی خوبیوں میں سے ہے ۔(ترمذی، کتاب الزھد، باب ماجاء من تکلم بالکلمۃ لیضحک الناس،142 /2 حدیث:2334)

فضول گوئی کے بہت نقصان ہیں:فضول گَوئی کرنے والے کا گناہوں بھری گفتگو سے بچنا مشکل ہے، فضول گوئی اکثر گناہوں کی طرف لے جاتی ہے۔فضول گوئی کرنے والا لوگوں کے سامنے بے وُقعت ہو جاتا ہے۔

فضول گوئی کرنے والے کو بروز قیامت مخلوق کے سامنے شرمندگی و مَلامت کا سامنا کرنا پڑے گا۔

مجلس میں سرگوشی نہ کرنا:روایت ہے حضرت عبدالله ابن مسعود سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جب تم تین ہو تو تیسرے کو چھوڑ کر سرگوشی نہ کرو حتی کہ تم لوگوں سے خلط ملط ہو جاؤ اس لیے کہ یہ بات اسے غمگین کرے گی۔(مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:6 , حدیث نمبر:4965)

خواہ کسی مجلس میں تین مسلمان ہوں یا کسی راستہ پرجاتے ہوئے تین شخص ہمراہ ہوں تو اگر تین ساتھیوں میں سے دو خفیہ سرگوشی کریں گے تو تیسرے کو اندیشہ ہوگا کہ کوئی بات میرے خلاف طے کی جائے گی،میرے خلاف مشورہ کررہے ہیں، جب تین سے زیادہ آدمی ہوں تو باقی کسی کو یہ خطرہ نہ ہوگا کہ میرے خلاف سازش ہو رہی ہے۔خیال رہے کہ یہ ممانعت وہاں ہے جہاں تیسرے کو اپنے متعلق یہ شبہ ہوسکتا ہو اگر یہ شبہ نہ ہو سکے تو بلاکراہت یہ عمل جائز ہے لہذا یہ حدیث اس حدیث کے خلاف نہیں کہ حضور صلی الله علیہ وسلم اپنے گھرمیں تشریف فرما تھے کہ فاطمہ زہرا حاضر ہوئیں حضور نے انہیں مرحبا کہا اور ان سے کچھ سرگوشی فرمائی۔

جہاں جگہ ملے وہیں بیٹھ جائے:مجلس میں آنے والا شخص وہاں بیٹھے جہاں مجلس ختم ہورہی ہو۔مجلس میں بیٹھے لوگوں کی گردنیں پھلانگ کر آگے جانا بُرا ہے۔حضورنبی پاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کوئی جگہ اپنے بیٹھنے کے لیے معین نہ فرماتےاور دوسروں کو بھی ایسا کرنے سے منع فرمایا کرتے۔ حضورنبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کسی قوم کی مجلس میں تشریف لے جاتے تو مجلس کے آخری حصے میں بیٹھ جاتے اور دوسروں کو بھی ایسا کرنے کی تلقین فرمایا کرتے چنانچہ:حضرت سَیِّدُناجابر بن سَمُرَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں:”ہم جب حضور تاجدارِ مدینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی مجلس میں جاتے توجہاں مجلس ختم ہوتی وہیں بیٹھ جاتے۔(فیضان ریاض الصالحین جلد:6 , حدیث نمبر:827)

دو کے درمیان بغیر اجازت نہ بیٹھے:دو آدمی بیٹھے ہوں تو تیسرا شخص بغیر اجازت ان کے درمیان آکر نہ بیٹھے۔جب دو اسلامی بھائی پہلے سے قریب قریب بیٹھے ہوں تو تیسرا آنے والا یوں نہ کرے کہ آتے ہی ان کی رضا مندی کے بغیر دونوں کے بیچ میں گھس کر بیٹھ جائے، اس طرح ہوسکتا ہے کہ ان کو ناگوار گزرے، یہ بھی تو ہوسکتا ہے کہ وہ دونوں کسی اہم موضوع پر گفتگو کررہے ہوں اور دو آدمی سرگوشی کررہے ہوں تو تیسرے شخص کو اُن کی سرگوشی سننے کی اجازت نہیں اور ہو سکتا ہے تیسرے کا بیچ میں گھس جانا ان کےلیے باعثِ تکلیف ہوجائے، لہٰذا دو اسلامی بھائی پہلے سے بیٹھے ہوں تو نو آنے والے کے لیے اس بات کی ممانعت ہے کہ وہ ان کے درمیان میں گھس کر دونوں کی علیحدگی کا سبب بنے جیسا کہ حدیث پاک ہے:

حضرت سَیِّدُناعَمر وبن شُعَیْب رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ اپنے والد سے اور ان کے والد اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسولِ پاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:”کسی کے لیے یہ حلال نہیں کہ دو آدمیوں کے درمیان ان کی اجازت کے بغیر بیٹھ جائے ۔(فیضان ریاض الصالحین جلد:6 , حدیث نمبر:829)

مجلس کے اختتام کی دعا پڑھنا:مجلس کے اختتام پر ایک دعا پڑھنے کی بھی حضور علیہ الصلوة والسلام نے ترغیب ارشاد فرمائی ہے روایت میں ہے کہ: حضرت سَیِّدُناابو برزہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں:حضور نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنی عمر کے آخری ایام میں جب کسی مجلس سے اٹھنے کا ارادہ فرماتے تو یہ الفاظ کہتے:” سُبْحَانَكَ اللّٰهُمَّ وَبِحَمْدِكَ اَشْهَدُ اَنْ لَّا اِلٰهَ اِلَّا اَنْتَ اَسْتَغْفِرُكَ وَاَتُوْبُ اِلَيْكَ یعنی اے اللہ ! تو پاک ہے،تیرے لئے حمد ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں، میں تجھ سے بخشش چاہتا ہوں اور تیری طرف توبہ کرتا ہوں۔“ ایک شخص نے عرض کی: یارسولَ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!اس سے پہلے آپ ﷺ یہ الفاظ نہیں فرمایا کرتے تھےآپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:یہ الفاظ مجلس میں ہونے والی فضول باتوں کا کفارہ ہیں ۔(فیضان ریاض الصالحین جلد:6 , حدیث نمبر:833)

پیارے اسلامی بھائیو! اگر کسی ایسی مجلس میں شرکت ہو کہ جس میں ایسی باتیں زیادہ ہوں جو آخرت کے لحاظ سے بے فائدہ ہوں تو مجلس کے اختتام پر حدیث پاک میں مذکور دعا پڑھ لینی چاہیے تاکہ اگر مجلس میں گناہ بھری یا فضول اور بے فائدہ گفتگو ہوئی ہو تو یہ دُعا اس کا کفارہ بن جائے ۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں مجلس کے آداب پر عمل کرنے اسلامی تعلیمات کے مطابق ہر چیز کے حقوق ادا کرنےکی توفیق عطا فرمائے اور دوسروں کو تکلیف دینے سے بچائے۔ آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ۔


مجلس اسلامی معاشرے کا ایک اہم جز ہے جو افراد کے باہمی روابط، علم و حکمت کی ترویج، دینی شعور کی بیداری اور روحانی تربیت کا ذریعہ بنتی ہےآیات وروایات سے یہ بھی معلوم ہوتا کہ ہمارا دین ہمیں عقیدے اور عبادات کے ساتھ  معاشرتی زندگی اور مجالس کے آداب بھی سکھاتا ہےمجلس کے ذریعے نہ صرف سیرتِ نبوی ﷺ کو عام کیا جاتا ہے بلکہ اُمت کے مسائل پر غور و فکر بھی کیا جاتا ہے۔ ایسی مجلسوں میں بیٹھنے کے کچھ آداب اور شرعی و اخلاقی حقوق ہوتے ہیں جن کا لحاظ رکھنا ہر شریکِ مجلس پر لازم ہے۔

(1)گمراہی والی مجلس سے کنارہ کشی: ترجمۂ کنزالایمان: اور بے شک اللہ تم پر کتاب میں اتار چکا کہ جب تم اللہ کی آیتوں کو سنو کہ ان کا انکا رکیا جاتا اور ان کی ہنسی بنائی جاتی ہے تو ان لوگوں کے ساتھ نہ بیٹھو جب تک وہ اور بات میں مشغول نہ ہوں ورنہ تم بھی انہیں جیسے ہو بے شک اللہ کافروں اورمنافقوں سب کو جہنم میں اکٹھا کرے گا ۔ (سورۃ النساء آیت140)

(3)کسی کو نہ اٹھانا:حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کو اس جگہ سے نہ اٹھائے کہ پھر اس کی جگہ پر بیٹھ جائے۔“ (سالم نے کہا) حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کا یہ طریقہ تھا کہ کوئی شخص ان کے لیے (خود بھی) اپنی جگہ سے اٹھتا تو وہ اس کی جگہ پر نہ بیٹھتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب السلام/ باب تحريم إقامة الإنسان من موضعه المباح الذي سبق إليه:حدیث: 5686]

(4)سرگوشی نہ کرنا:رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم تین لوگ (ایک ساتھ) ہو تو ایک کو چھوڑ کر دو آدمی باہم سرگوشی نہ کریں، یہاں تک کہ تم بہت سے لوگوں میں مل جاؤ، کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ (دو کی سرگوشی) اسے غم زدہ کر دے۔“ [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5696]

(5)اختتام مجلس کی دعا:حضرت سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ سرکارِ مدینہ صلَّی اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَالِهِ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: جو کسی مجلس میں بیٹھا، پھر اس نے کثیر گفتگو کی ، تو اس مجلس سے اٹھنے سے پہلے کہے : سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ أَشْهَدُ أَنْ لَّا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ (سنن أبی داود، جلد 7 صفحہ 224-223، مطبوعه دار الرسالہ العالیہ)

یقیناً مجلس صرف بات چیت کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک عظیم امانت ہے۔ اس کے حقوق میں رازداری، سچائی، ادب، دینی لحاظ، دوسروں کے وقت کی قدر اور فتنہ انگیزی سے اجتناب شامل ہے۔ جو لوگ ان حقوق کا پاس رکھتے ہیں، وہ اخوت، شعور، اور دین کی سربلندی میں حصہ لیتے ہیں۔ اس لیے ہر مسلمان کو چاہیے کہ مجلس کے تقدس کو پہچانے، اس کے آداب کا خیال رکھے اور اسے اصلاحِ نفس اور فلاحِ امت کا ذریعہ بنائے۔


اسلام ایک کامل، اکمل اور ایک ایسا دین ہے جو زندگی کے ہر پہلو میں رہنمائی کرتا ہے۔ معاشرتی زندگی میں جہاں افراد کے حقوق بیان کیے گئے، وہیں اجتماعی زندگی، خاص طور پر مجالس و محافل کے بھی کچھ آداب اور حقوق مقرر کیے گئے ہیں۔ یہ آداب محض ظاہری نہیں بلکہ انسان کے اخلاق، فہم و شعور، اور تعلقات کو نکھارنے کا ذریعہ ہیں۔ مجلس کے حقوق میں سے چند پیشِ خدمت ہیں:

1. سلام سے مجلس کی ابتدا اور اختتام کرنا: اسلامی معاشرے میں سلام کو رواج دینا محبت، امن اور اخلاص پھیلانے کا ذریعہ ہے۔ مجلس میں آنے اور جانے دونوں وقت سلام کرنا سنت ہے چنانچہ خاتم النبیین ﷺ نے ارشاد فرمایا: " إذا انتهى أحدكم إلى مجلس فليسلم، فإذا أراد أن يقوم فليسلم، فليست الأولى بأحق من الآخرة" ترجمہ:جب تم میں سے کوئی مجلس میں آئے تو سلام کرے، اور جب اٹھنے لگے تو بھی سلام کرے، کیونکہ پہلا سلام دوسرے سلام سے زیادہ حق دار نہیں۔(سنن ابی داؤد:ج 5،رقم: 5208)

2. مجلس میں وسعت پیدا کرنا: اسلام نے ہمیں یہ بھی سکھایا کہ جب کوئی دوسرا شخص مجلس میں آئے تو اُسے بیٹھنے

کے لیے جگہ دینا نہ صرف اخلاقی رویہ ہے بلکہ باعثِ برکت بھی ہے ۔اللہ پاک نے : یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قِیْلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوْا فِی الْمَجٰلِسِ فَافْسَحُوْا یَفْسَحِ اللّٰهُ لَكُمْۚ ترجمہ کنز العرفان: اے ایمان والو! جب تم سے کہا جائے (کہ)مجلسوں میں جگہ کشادہ کرو تو جگہ کشادہ کردو، اللہ تمہارے لئے جگہ کشادہ فرمائے گا۔(پ28، المجادلہ: 11)

سلام کرنا اور مجلس میں جگہ کشادہ کرنا محبت بڑھانے کا بھی ذریعہ ہے چنانچہ مفتی احمد یار خان نعیمی نے مرقات کے حوالے سے عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا یہ قول نقل کیا :"کہ تین چیزیں محبت پیدا کردیتی ہیں: ان میں سے سلام کرنا ، اپنے مسلمان بھائی کو مجلس میں جگہ دے دینا۔(ملخصاً مرآۃ المناجیح،ج 6، تحت الحدیث:4646)

3. مجلس میں بیٹھنے کا ادب:مجلس کے حقوق میں سے یہ ہے کہ جو جہاں بیٹھا ہے، اُسے وہاں سے نہ ہٹایا جائے۔ دوسروں کے وقار اور احساسات کا خیال رکھنا ایمان کا تقاضا ہے۔

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے حضور ﷺ نے فرمایا :لا يُقِيمُ الرَّجُلُ الرَّجُلَ مِنْ مَجْلِسِهِ، ثُمَّ يَجْلِسُ فِيهِ۔ ترجمہ:کوئی شخص کسی دوسرے کو اس کی جگہ سے اٹھا کر خود نہ بیٹھے۔(صحیح بخاری:ج8، رقم 6269)

4. اچھی بات کہنے یا خاموش رہے:مجالس میں شرکت کرنے والا شخص یا تو علم، خیر یا نصیحت کی بات کرے، ورنہ خاموشی اختیار کرے، تاکہ مجلس کا ماحول خراب نہ ہو۔چنانچہ خاتم النبیین ﷺ نے فرمایا: "من كان يؤمن بالله واليوم الآخر فليقل خيرًا أو ليصمت" ترجمہ: جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے، اُسے چاہیے کہ اچھی بات کرے یا خاموش رہے۔(صحیح بخاری: ج8، رقم 6475)

5. مجلس کی بات کو امانت سمجھنا:ایک حق یہ بھی ہے کہ بندہ جس مجلس میں شریک ہوئے، وہاں ہونے والی گفتگو کو بغیر اجازت آگے پہنچانا خیانت ہے، خاص طور پر اگر وہ بات ذاتی نوعیت کی ہو.چنانچہ فرمانِ خاتم النبیین ﷺ ہے : " المجلس بالأمانة "ترجمہ:مجلس (کی بات) ایک امانت ہے۔(سنن ابی داؤد:ج5، رقم: 4869)

اور اس میں مسلمان کی دل آزاری بھی ہو سکتی جوکہ گناہ ہے لہذا ہر بندے کو احتیاط کرنا چاہیے ۔

اس کے علاؤہ جھوٹ ، چغلی اور غیبت سے بچا جائے ، لغو و بیہودہ باتوں سے پرہیز ہو، دو آدمیوں کے درمیان بغیر اجازت نہ بیٹھا جائے اور مجلس میں کسی کو تکلیف نہ دی جائے . وغیرهم

دینِ اسلام نے انسان کو باوقار اور بامقصد زندگی گزارنے کی تعلیم دی ہے۔ مجالس کے آداب اور ان کے حقوق بیان کرکے ہمیں سکھایا ہے کہ معاشرتی زندگی محبت، ادب، وقار اور خیر خواہی کے ساتھ گزاری جائے، اگر ہر مسلمان ان آداب و حقوق کا لحاظ رکھے تو ہماری مجلسیں علمی، روحانی اور اخلاقی ترقی کا بہترین ذریعہ بن سکتی ہیں۔

اللہ پاک ہمیں مجالس کے حقوق اور شریعت کی پاسداری کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ


انسان کی زندگی مختلف تعلقات اور اجتماعی معاملات پر قائم ہے۔ جب لوگ ایک جگہ جمع ہوتے ہیں تو وہ محفل یا مجلس کہلاتی ہے۔ اسلام نے نہ صرف انفرادی زندگی کے لیے اصول دیے ہیں بلکہ اجتماعی زندگی کے بھی مکمل آداب اور حقوق مقرر فرمائے ہیں۔ مجلس ان مقامات میں سے ہے جہاں انسان کے اخلاق، تربیت اور شرافت کا امتحان ہوتا ہے۔ اسی لیے شریعت نے ہمیں یہ سکھایا کہ مجلس میں بیٹھنے، بولنے، سننے اور اٹھنے کے بھی کچھ حقوق اور آداب ہیں جن کی پاسداری سے مجلس خیر و برکت کا ذریعہ بن جاتی ہے، اور جنہیں پامال کرنے سے یہ مجلس وبالِ جان بھی بن سکتی ہے۔قران مجید میں بھی مجلس کے حقوق کے متعلق آیت مبارکہ نازل ہوئی ہیں جو کہ درج ذیل ہیں۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قِیْلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوْا فِی الْمَجٰلِسِ فَافْسَحُوْا یَفْسَحِ اللّٰهُ لَكُمْۚ-وَ اِذَا قِیْلَ انْشُزُوْا فَانْشُزُوْا یَرْفَعِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْۙ-وَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍؕ-وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ(۱۱)

ترجمہ (کنز الایمان): اے ایمان والو جب تم سے کہا جائے مجلسوں میں جگہ دو تو جگہ دو اللہ تمہیں جگہ دے گا اور جب کہا جائے اٹھ کھڑے ہو تو اُٹھ کھڑے ہو اللہ تمہارے ایمان والوں کے اور ان کے جن کو علم دیا گیا درجے بلند فرمائے گا اور اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے۔( سورۃ المجادلہ 11)

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَدْخُلُوْا بُیُوْتًا غَیْرَ بُیُوْتِكُمْ حَتّٰى تَسْتَاْنِسُوْا وَ تُسَلِّمُوْا عَلٰۤى اَهْلِهَاؕ

ترجمہ (کنز الایمان): اے ایمان والو اپنے گھروں کے سوا اور گھروں میں نہ جاؤ جب تک اجازت نہ لے لو اور اُن کے ساکِنوں پر سلام نہ کرلو۔ سورۃ النور (27)

تفسیر (صراط الجنان):یہ آیت بتاتی ہے کہ مجلس یا کسی کے گھر میں بغیر اجازت داخل ہونا جائز نہیں۔ اسلام نے ادب و تہذیب کی تعلیم دی ہے۔

اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَةٌ

ترجمہ (کنز الایمان):بیشک سب مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ سورۃ الحجرات (10)

تفسیر (صراط الجنان):مجالس کے آداب اور حقوق اسی اخوت و بھائی چارے پر قائم ہیں۔ ہر ایک دوسرے کی عزت کرے اور خیرخواہی کرے۔

جیسا کہ حضور پاک صلی اللہ تعال علیہ وسلم کی زندگی تمام امت مسلمہ کے لیے ایک بہترین نمونہ ہے تو حضور پاک ﷺ نے اپنی زندگی مبارکہ میں مجلس کے حقوق کے متعلق بھی احادیث مبارکہ بیان فرمائی ہیں جو کہ درج ذیل ہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جب تین آدمی بیٹھیں تو دو شخص تیسرے کو چھوڑ کر سرگوشی نہ کریں، کیونکہ اس سے اسے تکلیف ہوگی۔" (صحیح بخاری، حدیث: 6290)

آپ ﷺ نے فرمایا:"کسی مجلس میں جب کوئی بیٹھے تو سلام کرے، اور جب اٹھے تو بھی سلام کرے۔"(ترمذی، حدیث: 2706)

حضرت محمد مصطفی ﷺ نے فرمایا:"لوگوں کی مجلسں امانت ہیں، سوائے اس مجلس کے جس میں گناہ یا ظلم کی بات ہو۔"(ابوداؤد، حدیث: 4869)

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ:ایک مرتبہ مجلس میں داخل ہونے والے کو جگہ دینے کے لیے خود آگے بڑھے اور فرمایا: "یہی قرآن کا حکم ہے کہ دوسروں کے لیے جگہ کشادہ کرو۔"(تفسیر ابن کثیر، سورۃ المجادلہ، 11)

حضرت سفیان ثوری رحمہ اللہ:فرماتے ہیں: "اچھی مجلس وہ ہے جس میں اللہ کا ذکر ہو اور برے کلمات نہ ہوں۔" (حلیۃ الاولیاء، ج7، ص16)

مجلس کے حقوق:

سلام کے ساتھ آغاز کرنا: جب مجلس میں داخل ہو تو سب سے پہلے سلام کہنا چاہیے، کیونکہ سلام امن و محبت کا پیغام ہے۔

بیٹھنے کی اجازت لینا: بلااجازت کسی کی مخصوص جگہ پر نہ بیٹھے، بلکہ جہاں جگہ ملے ادب کے ساتھ بیٹھ جائے۔

بیچ میں سے نہ گزرنا: اگر لوگ بیٹھے ہوں تو ان کے درمیان سے گزرنے سے اجتناب کرنا چاہیے، یہ خلافِ ادب ہے۔

خاموشی اور توجہ: مجلس میں غیرضروری باتیں یا شور شرابہ نہ کرے، بلکہ موضوع پر توجہ رکھے۔

کسی کو تنگ نہ کرنا: بیٹھنے، بولنے یا کسی حرکت سے دوسروں کو اذیت دینا سخت منع ہے۔

کسی کی غیبت نہ کرنا: مجلس کو گناہوں سے پاک رکھنے کے لیے غیبت، بہتان یا دل آزاری سے بچنا ضروری ہے۔

علم یا نصیحت کو قبول کرنا: اگر مجلس علمی یا دینی ہو تو سنجیدگی اور انہماک کے ساتھ سننا چاہیے۔

کسی کو حقیر نہ سمجھنا: ہر شریکِ مجلس کو عزت دینا، اس کی بات کو توجہ سے سننا اور اسے کمتر نہ سمجھنا مجلس کا حق ہے۔

مجلس کو ذکر و خیر سے مزین کرنا: مجلس میں قرآن و حدیث یا اچھی باتوں کا تذکرہ ہونا چاہیے تاکہ وہ رحمت کی مجلس بن جائے۔

اُٹھتے وقت دعا کرنا: مجلس کے اختتام پر استغفار اور دعا پڑھنا مسنون ہے، تاکہ کوتاہی معاف ہو اور برکت حاصل ہو۔

حدیثِ پاک میں ہے:"جب لوگ کسی مجلس میں بیٹھتے ہیں اور اس میں اللہ کا ذکر نہیں کرتے تو وہ مجلس ان کے لیے قیامت کے دن حسرت و ندامت کا باعث ہوگی۔"(سنن ابوداؤد، حدیث: 4214)

خلاصہ :اسلام نے مجلس کو بھی ایک تربیت گاہ بنایا ہے۔ مجلس میں ادب، سلام، دوسروں کو جگہ دینا، سرگوشی سے بچنا اور اللہ کا ذکر کرنا یہ سب حقوق ہیں۔ اگر ہم ان اصولوں کو اپنائیں تو ہماری محفلیں محبت، سکون اور برکت کا ذریعہ بنیں گی۔


اسلام ہی واحد مذہب ہے جو زندگی کے ہر پہلو میں رہنمائی فراہم کرتا ہے، چاہے وہ انفرادی ہوں یا اجتماعی معاملات۔ مجلس یعنی لوگوں کے ساتھ بیٹھنے، بات چیت کرنے کی جگہ ہے ۔

مجلس کے حقوق:

1. مجلس میں موجود افراد کو خوش اخلاق سے مخاطب کرنا

2. سب کے لیے جگہ بنانا

3. بزرگوں کو مقدم رکھنا

4. دوسرے کی بات نہ کاٹنا

5. توجہ سے بات سننا

6. نرم لہجے میں بات کرنا

7. آواز بلند نہ کرنا

8. مذاق میں بھی کسی کو تکلیف نہ دینا

9. جھوٹ سے پرہیز کرنا

10. غیبت نہ کرنا

11. چغلی سے بچنا

12. فضول باتوں سے گریز کرنا

13. کسی پر طنز نہ کرنا

14. مجلس کے راز باہر نہ نکالنا

15. کسی کو نظر انداز نہ کرنا

16. مجلس میں غیر حاضر فرد پر بات نہ کرنا

17. اگر کوئی بات ناگوار لگے تو صبر سے کام لینا

18. مجلس کے ماحول کو بگاڑنے والی بات نہ کرنا

19. مجلس میں دیر سے آنے پر معذرت کرنا

20. روانگی سے پہلے اجازت لینا

21. کسی کی دل آزاری ہو جائے تو معذرت کرنا

22. دوسروں کی رائے کا احترام کرنا

اسلامی تعلیمات صرف عبادات تک محدود نہیں بلکہ زندگی کے ہر تعلق کو پاکیزہ بنانے کا درس دیتی ہیں .اللہ تعالیٰ ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

ہماری زندگی کا ایک بہت بڑا حصہ اجتماعیت میں گزرتاہے جس میں ہم مختلف لوگوں کے ساتھ بیٹھتے ہیں ، اکٹھے وقت گزارتے ہیں اسے عربی میں مجلس اور اردو میں بیٹھک کہا جاتا ہے۔ یہ اسلامی اور اخلاقی تعلیمات پر مبنی ہیں تاکہ مجلس خیر و برکت اور سکون کا ذریعہ بنے ۔ ہماری ہرمجلس ہمارے لئے یا تو سعادت کا ذریعہ بن سکتی ہے یا پھر بدنصیبی اور محرومی بڑھاسکتی ہے۔   آئیے اب ہم مجلس کے متعلق چند حقوق ملاحظہ کرتے ہیں :

(1) جگہ کشادہ کرنا: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قِیْلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوْا فِی الْمَجٰلِسِ فَافْسَحُوْا یَفْسَحِ اللّٰهُ لَكُمْۚ-وَ اِذَا قِیْلَ انْشُزُوْا فَانْشُزُوْا یَرْفَعِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْۙ-وَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍؕ-وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ(۱۱) ترجمہ کنز العرفان : اے ایمان والو! جب تم سے کہا جائے (کہ)مجلسوں میں جگہ کشادہ کرو تو جگہ کشادہ کردو، اللہ تمہارے لئے جگہ کشادہ فرمائے گا اور جب کہا جائے: کھڑے ہو جاؤتو کھڑے ہوجایا کرو، اللہ تم میں سے ایمان والوں کے اور ان کے درجات بلند فرماتا ہے جنہیں علم دیا گیا اور اللہ تمہارے کاموں سے خوب خبردار ہے۔ ( پ 28 ، المجادلہ 58 ، آیت 11 )

(2) اللہ عزوجل کا ذکر کرنا:عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا مِنْ قَوْمٍ يَقُومُونَ مِنْ مَجْلِسٍ لَا يَذْكُرُونَ اللَّهَ فِيهِ، إِلَّا قَامُوا عَنْ مِثْلِ جِيفَةِ حِمَارٍ وَكَانَ لَهُمْ حَسْرَةً حضرت سَیِّدُناابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ رسولِ پاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:”جو لوگ اللہ عَزَّوَجَلَّ کا ذِکرکئے بغیرمجلس سے اٹھ جاتے ہیں تو گویا کہ وہ مُردار گدھے کی لاش پر سے اٹھتے ہیں اوریہ مجلس ان کے لیے حسرت کا باعث ہوگی۔“ ( فیضان ریاض الصالحین ، باب مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب ، جلد: 6 ، حدیث: 835)

( 3) سلام کرنا:عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا انْتَهَى أَحَدُكُمْ إِلَى الْمَجْلِسِ، فَلْيُسَلِّمْ فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَقُومَ، فَلْيُسَلِّمْ فَلَيْسَتِ الْأُولَى بِأَحَقَّ مِنَ الْآخِرَةِ حضرت سَیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ ُسےمروی ہےکہ نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:”جب تم میں سے کوئی کسی مجلس میں پہنچے توسلام کرے پھر جب وہاں سے اٹھے تب بھی سلام کرے، کیونکہ پہلی مرتبہ کا سلام دوسری مرتبہ کے سلام سے زیادہ بہتر نہیں۔“ ( فیضان ریاض الصالحین ، باب رخصت ہوتے وقت سلام کرنے کا بیان ، جلد: 6 ، حدیث: 869)

( 4) علم سیکھنا اور سکھانا: عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِمَجْلِسَيْنِ فِي مَسْجِدِهِ فَقَالَ: «كِلَاهُمَا عَلَى خَيْرٍ، وَأَحَدُهُمَا أَفْضَلُ مِنْ صَاحِبِهِ. أَمَّا هَؤُلَاءِ فَيَدْعُونَ اللَّهَ وَيَرْغَبُونَ إِلَيْهِ، فَإِنْ شَاءَ أَعْطَاهُمْ، وَإِنْ شَاءَ مَنَعَهُمْ، وَأَمَّا هَؤُلَاءِ فَيَتَعَلَّمُونَ الْفِقْهَ والعلمَ وَيُعَلِّمُونَ الْجَاهِلَ، فَهُمْ أَفْضَلُ، وَإِنَّمَا بُعِثْتُ مُعَلِّمًا» قَالَ: ثُمَّ جَلَسَ فِيهِمْ.

روایت ہے عبداللہ ابن عمرو سے کہ رسولاللہ ﷺ اپنی مسجد میں دو مجلسوں پر گزرے تو فرمایا کہ یہ دونوں بھلائی پر ہیں مگر ایک مجلس دوسری سے بہتر ہے لیکن یہ لوگ اللہ سے دعا کررہے ہیں اس کی طرف راغب ہیں اگر چاہے انہیں دے چاہے نہ دے لیکن وہ لوگ فقہ و علم خود سیکھ رہے ہیں ناواقفوں کو سکھا رہے ہیں وہ ہی افضل ہیں میں معلم ہی بنا کر بھیجا گیا ہوں پھر آپ انہیں میں تشریف فرماہوئے ۔ ( مراة المناجیح شرح مشکوٰۃ شریف ، باب علم کا بیان ، جلد: 1، حدیث: 257)

(5) بے فائدہ باتیں نہ کرنا : عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ جَلَسَ فِي مَجْلِسٍ كَثُرَ فِيهِ لَغَطُهُ، ثُمَّ قَالَ قَبْلَ أَنْ يَقُومَ: سُبْحَانَكَ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ، لاَ إِلَهَ إِلاَّ أَنْتَ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ، إلا غُفِرَ لَهُ مَا كَانَ فِي مَجْلِسِهِ ذَلِكَ.

حضرت سَیِّدُناابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ نبی پاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:”جو شخص کسی ایسی مجلس میں بیٹھا جس میں بے فائدہ باتیں زیادہ ہوں پھر اس شخص نے مجلس سے اٹھنے سے پہلےیہ کہا:” سُبْحَانَكَ اللّٰهُمَّ وَبِحَمْدِكَ اَشْهَدُ اَنْ لَّا اِلٰهَ اِلَّا اَنْتَ اَسْتَغْفِرُكَ وَاَتُوْبُ اِلَيْكَیعنی اے اللہ ! تو پاک ہے،تیرے لئے حمد ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں، میں تجھ سے بخشش چاہتا ہوں اور تیری طرف توبہ کرتا ہوں۔“تو اس شخص سے مجلس میں سرزد ہونے والے گناہ معاف ہو جاتے ہیں ۔ ( فیضان ریاض الصالحین ، باب مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب ، جلد: 6 ، حدیث: 832)

ہمیں بھی چاہیے کہ مجلسِ میں کسی کی بات نہ کاٹیں ، دوسروں کے لیے جگہ چھوڑیں ، تکلیف دہ کام نہ کریں، سب ایک ساتھ مل کر بیٹھے ۔ اللہ تبارک وتعالیٰ عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ 


انسان ایک سماجی مخلوق ہے، جو اکیلا زندگی نہیں گزار سکتا۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اسے دوسروں کے ساتھ مل بیٹھنے، بات چیت کرنے اور تعلقات بنانے کی فطرت عطا فرمائی۔ یہ میل جول "مجلس" کہلاتا ہے، جو کبھی گھریلو ماحول میں ہوتی ہے، کبھی دفاتر میں اور کبھی دینی محافل کی صورت میں۔ اسلام نے ہر پہلو کی طرح مجالس کے بھی آداب اور حقوق سکھائے ہیں تاکہ انسان ایک دوسرے کا احترام کرے، دلوں میں محبت بڑھے اور برکت حاصل ہو۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ قرآن و سنت کی روشنی میں مجلس کے کیا آداب اور حقوق ہیں۔

قرآن مجید کی روشنی میں مجالس کے حقوق

1. دوسروں کے لیے جگہ کشادہ کرنا : اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قِیْلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوْا فِی الْمَجٰلِسِ فَافْسَحُوْا یَفْسَحِ اللّٰهُ لَكُمْۚ ترجمہ کنز العرفان: اے ایمان والو! جب تم سے کہا جائے (کہ) مجلسوں میں جگہ کشادہ کرو تو جگہ کشادہ کردو، اللہ تمہارے لئے جگہ کشادہ فرمائے گا۔ (المجادلة: 11)

تفسیر صراط الجنان: اس آیتِ مبارکہ میں مجلس میں دوسروں کو جگہ دینے کا حکم ہے۔

یہ عمل تعظیمِ مسلم اور سنتِ نبوی ہے۔مجلس کشادہ کرنے سے دنیا و آخرت سنورتی ہے۔

2. غیبت اور برائی سے اجتناب ارشادِ باری تعالیٰ ہے: وَ لَا یَغْتَبْ بَّعْضُكُمْ بَعْضًاؕ-اَیُحِبُّ اَحَدُكُمْ اَنْ یَّاْكُلَ لَحْمَ اَخِیْهِ مَیْتًا فَكَرِهْتُمُوْهُ۔ ترجمہ کنز العرفان: اور ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو کیا تم میں کوئی پسند کرے گا کہ اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھائے تو یہ تمہیں ناپسند ہوگا۔(الحجرات: 12)

صراط الجنان میں ہے: غیبت مردہ بھائی کا گوشت کھانے کے برابر ہے اور یہ مجلس کی سب سے بڑی برائی ہے۔

احادیث مبارکہ کی روشنی میں

3۔ ایک اور حدیث میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: إذَا انْتَهٰى اَحَدُكُمْ إلٰى المَجلِسِ، فَليُسَلِّمْ فَإذَا اَرَادَ اَنْ يَقُومَ فَليُسَلِّمْ ترجمہ: جب تم میں سے کوئی مجلس میں پہنچے تو سلام کرے، اور پھر جب اٹھ کر جانے لگے تو بھی سلام کرے۔ (سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5208)

مجلس کے کچھ آداب ملاحظہ ہوں:

اچھی اور فائدہ مند گفتگو کرنا۔

سب کو عزت دینا اور دوسروں کے لیے جگہ بنانا۔

بڑوں کی تعظیم اور چھوٹوں پر شفقت۔

نرمی اور درمیانی آواز میں بات کرنا۔

فضول گوئی اور شور شرابے سے پرہیز۔

غیر موجود افراد کی غیبت اور برائی سے بچنا۔

عملی تجاویز:

1. گھریلو مجالس: گھر میں بیٹھک یا کھانے کے وقت ہر ایک کو شامل کیا جائے، بچوں کی بات بھی سنی جائے اور کسی کو نظرانداز نہ کیا جائے۔

2. دفتری مجالس: میٹنگ میں سب کو اپنی رائے کا موقع دیا جائے، ایک دوسرے کی بات نہ کاٹی جائے، اور ادب و تحمل برقرار رکھا جائے۔

3. مذہبی مجالس: مسجد یا محفل میں خاموشی اور ادب کو لازم پکڑا جائے، علما و قراء کی عزت کی جائے اور ذکرِ الٰہی میں شریک ہو کر روحانی سکون حاصل کیا جائے۔

اسلام نے مجالس کو محض میل جول کا ذریعہ نہیں بنایا بلکہ انہیں باہمی محبت، خیر خواہی اور اصلاح کا وسیلہ قرار دیا۔ ایک اچھی مجلس وہ ہے جہاں ذکرِ الٰہی ہو، دوسروں کی عزت محفوظ ہو اور برکتیں نازل ہوں۔ ہمیں چاہیے کہ اپنی ہر مجلس کو ان تعلیمات کے مطابق سجائیں تاکہ ہماری زندگیوں میں خیر و سکون نازل ہو اور ہماری مجالس آخرت میں بھی کامیابی کا ذریعہ بن سکیں۔


اسلام ایک ایسا دین ہے جو ہر معاملے میں عدل، اخوت اور حقوق کی ادائیگی کی تعلیم دیتا ہے۔ جہاں فرد کے ذاتی حقوق بیان کیے گئے ہیں، وہیں اجتماعی زندگی کے اصول اور مجالس (اجتماعات) کے آداب بھی بڑی وضاحت سے بیان فرمائے گئے ہیں۔ ایک اسلامی مجلس کا مقصد صرف وقت گزاری نہیں بلکہ خیر خواہی، تعلیم، تربیت اور دین کی خدمت ہوتا ہے۔

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قِیْلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوْا فِی الْمَجٰلِسِ فَافْسَحُوْا یَفْسَحِ اللّٰهُ لَكُمْ ترجمۂ کنز الایمان: اے ایمان والو جب تم سے کہا جائے مجلسوں میں جگہ دو تو جگہ دو اللہ تمہیں جگہ دے گا۔(سورۃ المجادلہ: 11)

رسولُ اللہ ﷺ نے فرمایا: "مجلس میں بیٹھنے والا شخص اپنے بھائی کو تنگ نہ کرے، بلکہ کشادگی پیدا کرے۔" (مشکوٰۃ المصابیح)

اس حدیث سے واضح ہے کہ مجلس کا حق ہے کہ وہاں بیٹھنے والے دوسروں کا خیال رکھیں، ایذا نہ دیں اور حسنِ اخلاق کا مظاہرہ کریں۔

مجلس کے اہم حقوق:

1. اخلاص : مجلس اللہ کی رضا کے لیے ہو۔

2. احترام ؛ ایک دوسرے کی عزت کا خیال رکھا جائے۔

3. خاموشی اور توجہ: غیر ضروری گفتگو اور شور شرابے سے بچا جائے۔

4. خیر خواہی : مجلس میں صرف نفع بخش بات کی جائے۔

5. امانت داری : مجلس کی باتیں اجازت کے بغیر باہر نہ بیان کی جائیں۔

6. وقت کی پابندی : مجلس میں وقت پر آنا اور وقت ضائع نہ کرنا۔

مجلس محض بیٹھک یا گفت و شنید کا نام نہیں بلکہ یہ ایک امانت ہے جس کے آداب اور حقوق ہیں۔ اگر ہر مسلمان ان حقوق کو اپنالے تو مجالس اصلاحِ معاشرہ کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔


جہاں چار لوگ مل کر بیٹھتے ہیں، اسے مجلس کہا جاتا ہے۔ مجلس عربی لفظ ہے جس کا لغوی معنی "بیٹھنے کی جگہ" ہے۔ مجلس اچھی یا بری ہو سکتی ہے۔ اچھی مجالس کی مثالیں مدنی مذاکرہ اور ہفتہ وار اجتماعات ہیں، جبکہ بری مجالس کی مثالیں گانے بجانے والی مجالس یا شراب نوشی کی مجالس ہیں۔ جس طرح ہر چیز کے حقوق ہوتے ہیں، اسی طرح مجلس کے بھی کچھ حقوق ہیں۔ اللہ تعالیٰ قرآنِ پاک میں فرماتا ہے

ترجمہ کنز العرفان:اے ایمان والو! جب تم سے کہا جائے (کہ) مجلسوں میں جگہ کشادہ کرو تو جگہ کشادہ کردو، اللہ تمہارے لئے جگہ کشادہ فرمائے گا اور جب کہا جائے : کھڑے ہو جاؤ تو کھڑے ہو جایا کرو، اللہ تم میں سے ایمان والوں کے اور ان کے درجات بلند فرماتا ہے جنہیں علم دیا گیا اور اللہ تمہارے کاموں سے خوب خبردار ہے۔" (سورۃ المجادلہ، آیت 11)

اسی طرح، حدیث پاک میں ہے کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی پاک نے ایسے شخص پر لعنت کی ہے جو مجلس میں درمیان میں جا کر بیٹھ جائے۔ (سنن ابی داؤد ، باب الجلوس وسط الحلقۃ، الرقم: 4826)

1. نبی پاک پر درود پڑھنا:مجلس کا پہلا حق یہ ہے کہ اس میں نبی پاک پر درود پاک پڑھا جائے۔ حدیث پاک میں ہے:"تم اپنی مجلسوں کو مجھ پر درودِ پاک پڑھ کر آراستہ کیا کرو کیونکہ تمہارا مجھ پر درود پڑھنا قیامت کے دن تمہارے لیے نور ہوگا۔(جامع صغیر ، حرف الزای، ص ۲۸۰ ، حدیث: ۴۵۸۰)

2. مجلس کو گناہوں سے بچانا:مجلس کا دوسرا حق یہ ہے کہ اسے گناہوں سے بچایا جائے۔ یعنی مجلس میں فحش بات نہ کی جائے اور نہ ہی کسی کی غیبت اور چغلی کی جائے۔بلکہ مجلس میں زیادہ سے زیادہ اللہ پاک کا ذکر کیا جائے۔

3. آپس میں سرگوشی سے پرہیز:مجلس کا تیسرا حق یہ ہے کہ مجلس میں موجود لوگوں میں سے کوئی بھی آپس میں سرگوشی (کان میں بات) نہ کرے جس سے دوسروں کی دل آزاری ہو۔

4. آنے والے کی تعظیم اور جگہ دینا:مجلس کا چوتھا حق یہ ہے کہ مجلس میں آنے والے ہر شخص کو جگہ دی جائے۔ ایسا

نہ ہو کہ خود کشادہ ہو کر بیٹھ جائیں اور دوسروں کو جگہ نہ دیں۔ بلکہ اگر کوئی نیا شخص مجلس میں آئے تو اسے تعظیم دی جائے، اور اگر کوئی عظیم شخصیت مجلس میں آئے تو اس کو اس کے مرتبے کے اعتبار سے جگہ دی جائے۔

5. کسی کا مذاق نہ اڑانا:مجلس کا پانچواں حق یہ ہے کہ مجلس میں موجود کسی کمزور شخص کا مذاق نہ اڑایا جائے بلکہ ہر ایک کی رائے کو اہمیت دی جائے۔ آج کل ہمارے معاشرے میں عام مجلسوں میں کسی ایک کو پکڑ کر اس کا مذاق اڑایا جاتا ہے اور اس کی دل آزاری کی جاتی ہے، جو کہ گناہوں کا سبب ہے۔

6. مجلس کا اختتام اور دعا:مجلس کا چھٹا اور آخری حق یہ ہے کہ مجلس کے اختتام پر دعا کی جائے۔ جیسا کہ حدیث پاک میں ہے، حضرت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سرکارِ مدینہ نے ارشاد فرمایا:

"جو کسی مجلس میں بیٹھا، پھر اس نے زیادہ گفتگو کی، تو اس مجلس سے اٹھنے سے پہلے یہ کہے:سُبْحَانَكَ اللّٰھُمَّ وَبِحَمْدِكَ أَشْهَدُ أَنْ لَّا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوْبُ إِلَيْكَ(ترجمہ: تیری ذات پاک ہے اور اے اللہ عزوجل! تیرے ہی لیے تمام خوبیاں ہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تجھ سے بخشش چاہتا ہوں اور تیری طرف توبہ کرتا ہوں۔)(سنن أبى داود، جلد7، صفحہ224-223،مطبوعہ دار الرسالة العالميہ)

اللہ عزوجل سے دعا ہے کہ اللہ پاک ہمیں اچھی مجلس میں بیٹھنے اور بُری مجلسوں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔