محمد
انیس (درجہ سادسہ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان مدینہ کراچی ، پاکستان)
اسلام
میں مجلس (نشست یا محفل) کے مخصوص آداب اور حقوق مقرر کیے گئے ہیں ۔ تاکہ معاشرے میں
حسنِ سلوک کو فروغ ملے۔
(1)
: مجلس کا پہلا حق یہ ہے کہ داخل ہوتے وقت سلام کیا جائے، کیونکہ سلام امن و محبت
کی نشانی ہے۔
روایت
ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ جب کوئی لفظ بولتے تو اسے تین بار دہراتے تاکہ
سمجھ لیا جائے اور جب کسی قوم پر تشریف لاتے اور انہیں سلام فرماتے تو تین بار
سلام کرتے ۔(مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:1 , حدیث نمبر:208 )
2
: مجلس میں بیٹھنے والے افراد کے درمیان چپکے سے کان لگا کر سننا یا کسی کی بات کو
بغیر اجازت سنانا ممنوع ہے۔ حضور ﷺ نے سختی سے منع فرمایا ہے ۔
3
: اسی طرح مجلس میں بیٹھنے کے بعد دوسرے کو جگہ دینا۔حدیث شریف : عَنْ اَبِي سَعِيْدٍالْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
قَالَ:سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ:خَيْرُ
الْمَجَالِسِ اَوْسَعُهَا. ترجمہ : حضرت سَیِّدُناابو سعید
خُدری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ میں نے حضورنبی
کریم رَءُوْفٌ رحیم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو یہ
فرماتے سنا:”بہترین مجلس وہ ہے جو کشادہ ہو ۔“
تشریح
:مذکورہ حدیث پاک میں کُشادہ مجلس کو بہترین مجلس کہا گیا ہے اس کی وجہ بیان کرتے
ہوئے عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی فرماتے ہیں:”کشادہ مجلس کو بہترین مجلس اس لیے کہا گیا ہے کہ اس میں
بیٹھنے والے کو راحت ملتی ہے اور مجلس کی تنگی کی وجہ سے آپس میں بُعض و کینہ پیدا
نہیں ہوتا۔“ مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار
خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں:’’یعنی جب جلسہ مجلس وغیرہ کرو تو وسیع
زمین میں کرو تاکہ لوگوں کو بیٹھنے میں تنگی نہ ہو آرام سے کُھلے ہوئے بیٹھیں ایسی
مجلس بہت مبارک ہے۔‘‘ (فیضان ریاض الصالحین جلد:6 , حدیث نمبر:831)
4
: بات چیت میں نرمی اختیار کرنا، اور مذاق یا جھوٹ سے پرہیز کرنا بھی ضروری ہے۔
5
: اگر کوئی شخص بات کر رہا ہو تو بیچ میں مداخلت نہ کی جائے۔
6
: مجلس میں سے کسی شخص کو اٹھا کر اس کی جگہ بیٹھنے کی ممانعت ہے کہ یہ فعل ادب کے
خلاف ہے ۔
7
:مجلس کے آخر دعا کر کے مجلس ختم کرنی چاہئے ۔
عَنْ أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ
اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: بِأَخَرَةٍ إِذَا أَرَادَ أَنْ
يَقُومَ مِنَ الْمَجْلِسِ:سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا
إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ
اللَّهِ، إِنَّكَ لَتَقُولُ قَوْلًا مَا كُنْتَ تَقُولُهُ فِيمَا مَضَى، فَقَالَ: كَفَّارَةٌ
لِمَا يَكُونُ فِي الْمَجْلِسِ.
ترجمہ
:حضرت سَیِّدُناابو برزہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں:حضور نبی اکرم
صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنی عمر
کے آخری ایام میں جب کسی مجلس سے اٹھنے کا ارادہ فرماتے تو یہ الفاظ کہتے:” سُبْحَانَكَ اللّٰهُمَّ وَبِحَمْدِكَ اَشْهَدُ اَنْ
لَّا اِلٰهَ اِلَّا اَنْتَ اَسْتَغْفِرُكَ وَاَتُوْبُ اِلَيْكَیعنی
اے اللہ ! تو پاک ہے،تیرے لئے حمد ہے اور
میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں، میں تجھ سے بخشش چاہتا ہوں اور تیری
طرف توبہ کرتا ہوں۔“ایک شخص نے عرض کی: یارسولَ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!اس سے پہلے آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمیہ الفاظ نہیں فرمایا کرتے تھےآپ
صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:یہ
الفاظ مجلس میں ہونے والی فضول باتوں کا کفارہ ہیں ۔ (فیضان ریاض الصالحین جلد:6 ,
حدیث نمبر:833 )
Dawateislami