انسان کی زندگی مختلف تعلقات اور اجتماعی معاملات پر قائم ہے۔ جب لوگ ایک جگہ جمع ہوتے ہیں تو وہ محفل یا مجلس کہلاتی ہے۔ اسلام نے نہ صرف انفرادی زندگی کے لیے اصول دیے ہیں بلکہ اجتماعی زندگی کے بھی مکمل آداب اور حقوق مقرر فرمائے ہیں۔ مجلس ان مقامات میں سے ہے جہاں انسان کے اخلاق، تربیت اور شرافت کا امتحان ہوتا ہے۔ اسی لیے شریعت نے ہمیں یہ سکھایا کہ مجلس میں بیٹھنے، بولنے، سننے اور اٹھنے کے بھی کچھ حقوق اور آداب ہیں جن کی پاسداری سے مجلس خیر و برکت کا ذریعہ بن جاتی ہے، اور جنہیں پامال کرنے سے یہ مجلس وبالِ جان بھی بن سکتی ہے۔قران مجید میں بھی مجلس کے حقوق کے متعلق آیت مبارکہ نازل ہوئی ہیں جو کہ درج ذیل ہیں۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قِیْلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوْا فِی الْمَجٰلِسِ فَافْسَحُوْا یَفْسَحِ اللّٰهُ لَكُمْۚ-وَ اِذَا قِیْلَ انْشُزُوْا فَانْشُزُوْا یَرْفَعِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْۙ-وَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍؕ-وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ(۱۱)

ترجمہ (کنز الایمان): اے ایمان والو جب تم سے کہا جائے مجلسوں میں جگہ دو تو جگہ دو اللہ تمہیں جگہ دے گا اور جب کہا جائے اٹھ کھڑے ہو تو اُٹھ کھڑے ہو اللہ تمہارے ایمان والوں کے اور ان کے جن کو علم دیا گیا درجے بلند فرمائے گا اور اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے۔( سورۃ المجادلہ 11)

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَدْخُلُوْا بُیُوْتًا غَیْرَ بُیُوْتِكُمْ حَتّٰى تَسْتَاْنِسُوْا وَ تُسَلِّمُوْا عَلٰۤى اَهْلِهَاؕ

ترجمہ (کنز الایمان): اے ایمان والو اپنے گھروں کے سوا اور گھروں میں نہ جاؤ جب تک اجازت نہ لے لو اور اُن کے ساکِنوں پر سلام نہ کرلو۔ سورۃ النور (27)

تفسیر (صراط الجنان):یہ آیت بتاتی ہے کہ مجلس یا کسی کے گھر میں بغیر اجازت داخل ہونا جائز نہیں۔ اسلام نے ادب و تہذیب کی تعلیم دی ہے۔

اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَةٌ

ترجمہ (کنز الایمان):بیشک سب مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ سورۃ الحجرات (10)

تفسیر (صراط الجنان):مجالس کے آداب اور حقوق اسی اخوت و بھائی چارے پر قائم ہیں۔ ہر ایک دوسرے کی عزت کرے اور خیرخواہی کرے۔

جیسا کہ حضور پاک صلی اللہ تعال علیہ وسلم کی زندگی تمام امت مسلمہ کے لیے ایک بہترین نمونہ ہے تو حضور پاک ﷺ نے اپنی زندگی مبارکہ میں مجلس کے حقوق کے متعلق بھی احادیث مبارکہ بیان فرمائی ہیں جو کہ درج ذیل ہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جب تین آدمی بیٹھیں تو دو شخص تیسرے کو چھوڑ کر سرگوشی نہ کریں، کیونکہ اس سے اسے تکلیف ہوگی۔" (صحیح بخاری، حدیث: 6290)

آپ ﷺ نے فرمایا:"کسی مجلس میں جب کوئی بیٹھے تو سلام کرے، اور جب اٹھے تو بھی سلام کرے۔"(ترمذی، حدیث: 2706)

حضرت محمد مصطفی ﷺ نے فرمایا:"لوگوں کی مجلسں امانت ہیں، سوائے اس مجلس کے جس میں گناہ یا ظلم کی بات ہو۔"(ابوداؤد، حدیث: 4869)

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ:ایک مرتبہ مجلس میں داخل ہونے والے کو جگہ دینے کے لیے خود آگے بڑھے اور فرمایا: "یہی قرآن کا حکم ہے کہ دوسروں کے لیے جگہ کشادہ کرو۔"(تفسیر ابن کثیر، سورۃ المجادلہ، 11)

حضرت سفیان ثوری رحمہ اللہ:فرماتے ہیں: "اچھی مجلس وہ ہے جس میں اللہ کا ذکر ہو اور برے کلمات نہ ہوں۔" (حلیۃ الاولیاء، ج7، ص16)

مجلس کے حقوق:

سلام کے ساتھ آغاز کرنا: جب مجلس میں داخل ہو تو سب سے پہلے سلام کہنا چاہیے، کیونکہ سلام امن و محبت کا پیغام ہے۔

بیٹھنے کی اجازت لینا: بلااجازت کسی کی مخصوص جگہ پر نہ بیٹھے، بلکہ جہاں جگہ ملے ادب کے ساتھ بیٹھ جائے۔

بیچ میں سے نہ گزرنا: اگر لوگ بیٹھے ہوں تو ان کے درمیان سے گزرنے سے اجتناب کرنا چاہیے، یہ خلافِ ادب ہے۔

خاموشی اور توجہ: مجلس میں غیرضروری باتیں یا شور شرابہ نہ کرے، بلکہ موضوع پر توجہ رکھے۔

کسی کو تنگ نہ کرنا: بیٹھنے، بولنے یا کسی حرکت سے دوسروں کو اذیت دینا سخت منع ہے۔

کسی کی غیبت نہ کرنا: مجلس کو گناہوں سے پاک رکھنے کے لیے غیبت، بہتان یا دل آزاری سے بچنا ضروری ہے۔

علم یا نصیحت کو قبول کرنا: اگر مجلس علمی یا دینی ہو تو سنجیدگی اور انہماک کے ساتھ سننا چاہیے۔

کسی کو حقیر نہ سمجھنا: ہر شریکِ مجلس کو عزت دینا، اس کی بات کو توجہ سے سننا اور اسے کمتر نہ سمجھنا مجلس کا حق ہے۔

مجلس کو ذکر و خیر سے مزین کرنا: مجلس میں قرآن و حدیث یا اچھی باتوں کا تذکرہ ہونا چاہیے تاکہ وہ رحمت کی مجلس بن جائے۔

اُٹھتے وقت دعا کرنا: مجلس کے اختتام پر استغفار اور دعا پڑھنا مسنون ہے، تاکہ کوتاہی معاف ہو اور برکت حاصل ہو۔

حدیثِ پاک میں ہے:"جب لوگ کسی مجلس میں بیٹھتے ہیں اور اس میں اللہ کا ذکر نہیں کرتے تو وہ مجلس ان کے لیے قیامت کے دن حسرت و ندامت کا باعث ہوگی۔"(سنن ابوداؤد، حدیث: 4214)

خلاصہ :اسلام نے مجلس کو بھی ایک تربیت گاہ بنایا ہے۔ مجلس میں ادب، سلام، دوسروں کو جگہ دینا، سرگوشی سے بچنا اور اللہ کا ذکر کرنا یہ سب حقوق ہیں۔ اگر ہم ان اصولوں کو اپنائیں تو ہماری محفلیں محبت، سکون اور برکت کا ذریعہ بنیں گی۔