اسد علی (درجہ رابعہ جامعۃ المدینہ فیضانِ ابو عطار ملیر کراچی، پاکستان)
انسان
کی شخصیت کا سب سے نمایاں پہلو اس کا اندازِ گفتگو اور مجلس کا طرز عمل ہے۔ جو شخص
دوسروں کا احترام کرتا ہے، ان کے لیے جگہ بناتا ہے اور خوش اخلاقی سے پیش آتا ہے،
وہ اللہ اور بندوں دونوں کا محبوب بن جاتا ہے۔ اسلام نے ہمیں سکھایا ہے کہ مجلس وہ
مقام ہے جہاں دل جُڑتے ہیں اور تعلقات مضبوط ہوتے ہیں، اس لیے اس کے اصولوں پر عمل
کرنا ہر مسلمان پر لازم ہے۔
وَ قُوْلُوْا لِلنَّاسِ حُسْنًا
ترجمہ:
اور لوگوں سے اچھی بات کہو ۔(سورۃ البقرۃ: آیت 83)
مفہوم:
مجلس میں گفتگو ہمیشہ شائستہ اور خوش اخلاقی پر مبنی ہونی چاہیے۔
إِذَا دَخَلْتُمْ فِي مَجْلِسٍ فَسَلِّمُوا
ترجمہ:
جب مجلس میں داخل ہو تو سلام کرو۔ (سنن ترمذی، کتاب الاستئذان، حدیث: 2706)
لَا يُحِلُّ لِرَجُلٍ أَنْ يُفَرِّقَ بَيْنَ اثْنَيْنِ
إِلَّا بِإِذْنِهِمَاترجمہ: کسی کے لیے جائز نہیں کہ دو آدمیوں کو جدا کرے
مگر ان کی اجازت سے۔( سنن ابی داود، کتاب الادب، حدیث: 4845)
خَيْرُ الْمَجَالِسِ أَوْسَعُهَا ترجمہ:
بہترین مجلس وہ ہے جو زیادہ کشادہ ہو۔( سنن ابی
داود، کتاب الادب، حدیث: 4827)
مجالس
میں حسن اخلاق اور نرمی کا رویہ اپنانا ہی اسلام کی اصل روح ہے۔ مسلمان اگر اس پر
عمل کریں تو دلوں میں محبت بڑھے گی اور معاشرہ خوشیوں اور امن سے بھرا ہوگا۔
Dawateislami