اسلام ہی وہ واحد مذہب ہے جس کی پناہ میں آنے والا ہر شخص اپنی جان و مال ، اہل و عیال بلکہ اپنی سب اَشیاء کو محفوظ کر لیتاہے ۔ دِین اِسلام ہر مسلمان کو حقوق کی ادائیگی کا حکم دیتا ہے ۔ دامنِ اِسلام میں آنے والے ہر شخص کی جان و مال اوراَولاد و عزت بلکہ اُس کی ہر شے محفوظ ہو جاتی ہے ۔ اِسلام نے اپنے ماننے والے ہر شخص پر اُس کے متعلقین کے حقوق کی ادائیگی لازم فرمائی ہے ، چاہے وہ باپ ہو یا بیٹا ، شوہر ہو یا بیوی ، غلام ہو یا آقا ، مالک ہو یا خادِم ، امیر ہو یا غریب ، سب پر حسب حال ایک دوسرے کے حقوق لازم فرمائے بلکہ یہ تو وہ پیارا مذہب ہے کہ جس نے جانوروں کے حقوق کی حفاظت کا بھی حکم دیا اور اُن بے زبانوں پر ظلم کرنے والوں کو سزا کا مستحق ٹھہرایا۔ غلام جن کے حقوق کی پامالی اوراُن پر ظلم وستم کو لوگ اپنا حق سمجھتے تھے اِسلام نے اُن مظلوموں پر شفقت ومہربانی کا حکم دیا اُن کے ساتھ حسن سلوک پر دنیا اورآخرت میں اِنعامات کی بشارت دی ۔

اسی طرح اسلام نے مجلس کے حقوق بھی سکھائیں ہیں۔ حضور علیہ الصلوة والسلام صحابہ کو مجلس کے آداب بھی بتاتے رہتے ۔ لہذا مجلس کے چند حقوق و آداب جو اسلام نے اپنے متبعین کو سکھائے ہیں بیان کیے جاتے ہیں:

ذکر اللہ اور درود پاک پڑھنا:پیارے اسلامی بھائیو! مجلس کے حقوق میں سے ایک اہم حق یہ بھی ہے کہ اس میں ذکراللہ اور درود ضرور کیا جائے زبان پر ہر وقت اللہ عَزَّوَجَلَّ کا ذِکر جاری رکھنا یہ اللہ والوں کی صفت ہے کہ وہ کسی بھی حال میں ذِکرُ اللہ سے غافل نہیں رہتے،درود شریف ذِکْرُاﷲ کی بہترین قسم ہے ۔احادیث میں بھی اپنی مجلسوں میں ذکر اللہ کرنے اور درود پاک پڑھنے کی ترغیب اور نہ پڑھنے کی وعیدیں بھی آئی ہیں ۔

چنانچہ ایک حدیث شریف میں ہے کہ:مجھ پر درود شریف پڑھ کر اپنی مجالس کو آراستہ کرو کہ تمہارا درود پاک پڑھنا بروز قیامت تمہارے لیے نور ہوگا۔(فردوس الاخبار ج1 ص 422 حدیث 3149)

اور حضرت سَیِّدُناابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:”جو قوم کسی مجلس میں بیٹھتی ہےاور اس میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کا ذکرنہیں کرتی اور نبی پاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر درود پاک نہیں پڑھتی تو یہ مجلس ان کے لیے ندامت کا باعث ہوگی، اگر اللہ عَزَّوَجَلَّ چاہے تو انہیں عذاب دے اور چاہے تو معاف فرما دے۔“(فیضان ریاض الصالحین جلد:6 , حدیث نمبر:836)

لہذا ہمیں ہر وقت ہر جگہ ذکراللہ کرنے اور درود پڑھنے کی عادت بنانی چاہئے کوئی مجلس ایسی نہیں ہونی چاہئے جس میں اس سے محروم رہ جائیں۔

فضول گوئی سے بچنا:مجلس کا حق یہ بھی ہے کہ فضول باتوں سے بچا جائے کامل مومنین کی شان میں قرآن میں بھی ہے کہ وَ اِذَا مَرُّوْا بِاللَّغْوِ مَرُّوْا كِرَامًا(۷۲) ترجمہ کنزالعرفان:اور جب کسی بیہودہ بات کے پاس سے گزرتے ہیں تواپنی عزت سنبھالتے ہوئے گزر جاتے ہیں ۔ (الفرقان72)

تفسیر صراط الجنان میں ہے کہ جب وہ کسی لغو اور باطل کام میں مصروف لوگوں کے پاس سے گزرتے ہیں تواپنی عزت سنبھالتے ہوئے وہاں سے گزر جاتے ہیں ۔ اپنے آپ کو لہو و باطل سے مُلَوَّث نہیں ہونے دیتے اور ایسی مجالس سے اِعراض کرتے ہیں ۔( مدارک، الفرقان، تحت الآیۃ: 72، ص811)

بے فائدہ باتوں سے بچنا اسلام کی اہم ترین خوبی ہے جیسا کہ حدیث میں ہے کہ:حضرتِ سَیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ سے مروی ہے کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : بے فائدہ باتوں کو چھوڑ دینا آدمی کے اسلام کی خوبیوں میں سے ہے ۔(ترمذی، کتاب الزھد، باب ماجاء من تکلم بالکلمۃ لیضحک الناس،142 /2 حدیث:2334)

فضول گوئی کے بہت نقصان ہیں:فضول گَوئی کرنے والے کا گناہوں بھری گفتگو سے بچنا مشکل ہے، فضول گوئی اکثر گناہوں کی طرف لے جاتی ہے۔فضول گوئی کرنے والا لوگوں کے سامنے بے وُقعت ہو جاتا ہے۔

فضول گوئی کرنے والے کو بروز قیامت مخلوق کے سامنے شرمندگی و مَلامت کا سامنا کرنا پڑے گا۔

مجلس میں سرگوشی نہ کرنا:روایت ہے حضرت عبدالله ابن مسعود سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جب تم تین ہو تو تیسرے کو چھوڑ کر سرگوشی نہ کرو حتی کہ تم لوگوں سے خلط ملط ہو جاؤ اس لیے کہ یہ بات اسے غمگین کرے گی۔(مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:6 , حدیث نمبر:4965)

خواہ کسی مجلس میں تین مسلمان ہوں یا کسی راستہ پرجاتے ہوئے تین شخص ہمراہ ہوں تو اگر تین ساتھیوں میں سے دو خفیہ سرگوشی کریں گے تو تیسرے کو اندیشہ ہوگا کہ کوئی بات میرے خلاف طے کی جائے گی،میرے خلاف مشورہ کررہے ہیں، جب تین سے زیادہ آدمی ہوں تو باقی کسی کو یہ خطرہ نہ ہوگا کہ میرے خلاف سازش ہو رہی ہے۔خیال رہے کہ یہ ممانعت وہاں ہے جہاں تیسرے کو اپنے متعلق یہ شبہ ہوسکتا ہو اگر یہ شبہ نہ ہو سکے تو بلاکراہت یہ عمل جائز ہے لہذا یہ حدیث اس حدیث کے خلاف نہیں کہ حضور صلی الله علیہ وسلم اپنے گھرمیں تشریف فرما تھے کہ فاطمہ زہرا حاضر ہوئیں حضور نے انہیں مرحبا کہا اور ان سے کچھ سرگوشی فرمائی۔

جہاں جگہ ملے وہیں بیٹھ جائے:مجلس میں آنے والا شخص وہاں بیٹھے جہاں مجلس ختم ہورہی ہو۔مجلس میں بیٹھے لوگوں کی گردنیں پھلانگ کر آگے جانا بُرا ہے۔حضورنبی پاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کوئی جگہ اپنے بیٹھنے کے لیے معین نہ فرماتےاور دوسروں کو بھی ایسا کرنے سے منع فرمایا کرتے۔ حضورنبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کسی قوم کی مجلس میں تشریف لے جاتے تو مجلس کے آخری حصے میں بیٹھ جاتے اور دوسروں کو بھی ایسا کرنے کی تلقین فرمایا کرتے چنانچہ:حضرت سَیِّدُناجابر بن سَمُرَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں:”ہم جب حضور تاجدارِ مدینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی مجلس میں جاتے توجہاں مجلس ختم ہوتی وہیں بیٹھ جاتے۔(فیضان ریاض الصالحین جلد:6 , حدیث نمبر:827)

دو کے درمیان بغیر اجازت نہ بیٹھے:دو آدمی بیٹھے ہوں تو تیسرا شخص بغیر اجازت ان کے درمیان آکر نہ بیٹھے۔جب دو اسلامی بھائی پہلے سے قریب قریب بیٹھے ہوں تو تیسرا آنے والا یوں نہ کرے کہ آتے ہی ان کی رضا مندی کے بغیر دونوں کے بیچ میں گھس کر بیٹھ جائے، اس طرح ہوسکتا ہے کہ ان کو ناگوار گزرے، یہ بھی تو ہوسکتا ہے کہ وہ دونوں کسی اہم موضوع پر گفتگو کررہے ہوں اور دو آدمی سرگوشی کررہے ہوں تو تیسرے شخص کو اُن کی سرگوشی سننے کی اجازت نہیں اور ہو سکتا ہے تیسرے کا بیچ میں گھس جانا ان کےلیے باعثِ تکلیف ہوجائے، لہٰذا دو اسلامی بھائی پہلے سے بیٹھے ہوں تو نو آنے والے کے لیے اس بات کی ممانعت ہے کہ وہ ان کے درمیان میں گھس کر دونوں کی علیحدگی کا سبب بنے جیسا کہ حدیث پاک ہے:

حضرت سَیِّدُناعَمر وبن شُعَیْب رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ اپنے والد سے اور ان کے والد اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسولِ پاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:”کسی کے لیے یہ حلال نہیں کہ دو آدمیوں کے درمیان ان کی اجازت کے بغیر بیٹھ جائے ۔(فیضان ریاض الصالحین جلد:6 , حدیث نمبر:829)

مجلس کے اختتام کی دعا پڑھنا:مجلس کے اختتام پر ایک دعا پڑھنے کی بھی حضور علیہ الصلوة والسلام نے ترغیب ارشاد فرمائی ہے روایت میں ہے کہ: حضرت سَیِّدُناابو برزہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں:حضور نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنی عمر کے آخری ایام میں جب کسی مجلس سے اٹھنے کا ارادہ فرماتے تو یہ الفاظ کہتے:” سُبْحَانَكَ اللّٰهُمَّ وَبِحَمْدِكَ اَشْهَدُ اَنْ لَّا اِلٰهَ اِلَّا اَنْتَ اَسْتَغْفِرُكَ وَاَتُوْبُ اِلَيْكَ یعنی اے اللہ ! تو پاک ہے،تیرے لئے حمد ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں، میں تجھ سے بخشش چاہتا ہوں اور تیری طرف توبہ کرتا ہوں۔“ ایک شخص نے عرض کی: یارسولَ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!اس سے پہلے آپ ﷺ یہ الفاظ نہیں فرمایا کرتے تھےآپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:یہ الفاظ مجلس میں ہونے والی فضول باتوں کا کفارہ ہیں ۔(فیضان ریاض الصالحین جلد:6 , حدیث نمبر:833)

پیارے اسلامی بھائیو! اگر کسی ایسی مجلس میں شرکت ہو کہ جس میں ایسی باتیں زیادہ ہوں جو آخرت کے لحاظ سے بے فائدہ ہوں تو مجلس کے اختتام پر حدیث پاک میں مذکور دعا پڑھ لینی چاہیے تاکہ اگر مجلس میں گناہ بھری یا فضول اور بے فائدہ گفتگو ہوئی ہو تو یہ دُعا اس کا کفارہ بن جائے ۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں مجلس کے آداب پر عمل کرنے اسلامی تعلیمات کے مطابق ہر چیز کے حقوق ادا کرنےکی توفیق عطا فرمائے اور دوسروں کو تکلیف دینے سے بچائے۔ آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ۔