مجلس اسلامی معاشرے کا ایک اہم جز ہے جو افراد کے باہمی روابط، علم و حکمت کی ترویج، دینی شعور کی بیداری اور روحانی تربیت کا ذریعہ بنتی ہےآیات وروایات سے یہ بھی معلوم ہوتا کہ ہمارا دین ہمیں عقیدے اور عبادات کے ساتھ  معاشرتی زندگی اور مجالس کے آداب بھی سکھاتا ہےمجلس کے ذریعے نہ صرف سیرتِ نبوی ﷺ کو عام کیا جاتا ہے بلکہ اُمت کے مسائل پر غور و فکر بھی کیا جاتا ہے۔ ایسی مجلسوں میں بیٹھنے کے کچھ آداب اور شرعی و اخلاقی حقوق ہوتے ہیں جن کا لحاظ رکھنا ہر شریکِ مجلس پر لازم ہے۔

(1)گمراہی والی مجلس سے کنارہ کشی: ترجمۂ کنزالایمان: اور بے شک اللہ تم پر کتاب میں اتار چکا کہ جب تم اللہ کی آیتوں کو سنو کہ ان کا انکا رکیا جاتا اور ان کی ہنسی بنائی جاتی ہے تو ان لوگوں کے ساتھ نہ بیٹھو جب تک وہ اور بات میں مشغول نہ ہوں ورنہ تم بھی انہیں جیسے ہو بے شک اللہ کافروں اورمنافقوں سب کو جہنم میں اکٹھا کرے گا ۔ (سورۃ النساء آیت140)

(3)کسی کو نہ اٹھانا:حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کو اس جگہ سے نہ اٹھائے کہ پھر اس کی جگہ پر بیٹھ جائے۔“ (سالم نے کہا) حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کا یہ طریقہ تھا کہ کوئی شخص ان کے لیے (خود بھی) اپنی جگہ سے اٹھتا تو وہ اس کی جگہ پر نہ بیٹھتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب السلام/ باب تحريم إقامة الإنسان من موضعه المباح الذي سبق إليه:حدیث: 5686]

(4)سرگوشی نہ کرنا:رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم تین لوگ (ایک ساتھ) ہو تو ایک کو چھوڑ کر دو آدمی باہم سرگوشی نہ کریں، یہاں تک کہ تم بہت سے لوگوں میں مل جاؤ، کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ (دو کی سرگوشی) اسے غم زدہ کر دے۔“ [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5696]

(5)اختتام مجلس کی دعا:حضرت سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ سرکارِ مدینہ صلَّی اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَالِهِ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: جو کسی مجلس میں بیٹھا، پھر اس نے کثیر گفتگو کی ، تو اس مجلس سے اٹھنے سے پہلے کہے : سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ أَشْهَدُ أَنْ لَّا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ (سنن أبی داود، جلد 7 صفحہ 224-223، مطبوعه دار الرسالہ العالیہ)

یقیناً مجلس صرف بات چیت کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک عظیم امانت ہے۔ اس کے حقوق میں رازداری، سچائی، ادب، دینی لحاظ، دوسروں کے وقت کی قدر اور فتنہ انگیزی سے اجتناب شامل ہے۔ جو لوگ ان حقوق کا پاس رکھتے ہیں، وہ اخوت، شعور، اور دین کی سربلندی میں حصہ لیتے ہیں۔ اس لیے ہر مسلمان کو چاہیے کہ مجلس کے تقدس کو پہچانے، اس کے آداب کا خیال رکھے اور اسے اصلاحِ نفس اور فلاحِ امت کا ذریعہ بنائے۔